تازہ ترین

ماحولیاتی آلودگی کے سنگین نتائج

وادی ٔکشمیر میں گلوبل وارمنگ کی گرفت مضبوط ہورہی ہے

تاریخ    4 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


ملک منظور
صنعتی انقلاب نے جہاں انسانی زندگی میں بیش بہا سہولیات فراہم کیں وہیں بڑی بڑی فیکٹریوں کے وجود سے طرح طرح کے زہریلے فضلات اور ماحول سوز گیسوں کے اخراج سے ماحول کے توازن کو بگاڑ کے رکھ دیا ۔کاربن ڈائکسائیڈ جیسے گرین ہاؤس گیس کی شرح بڑھنے سے گرمی میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور گلوبل وارمنگ کی شروعات بھی ۔گلوبل وارمنگ  ایک ایسی آفت کی شکل اختیار کررہا ہے جس سے عالم انسانیت پر مضر ترین اثرات پڑ سکتے ہیں ۔گلوبل وارمنگ کے بارے میں اگر چہ ابھی بھی بحث جاری ہے تاہم اس کے مضر اور ماحول دشمن اثرات نمایاں ہورہے ہیں ۔پچھلے سو سالوں میں زمین کے اوسط درجہ حرارت میں جو اضافہ ہوا ہے اس میں زیادہ تر اضافہ پچھلے چالیس سال سے ہوا ہے ۔اس کی اہم وجہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج مانا جاتا ہے اور یہ گیس انسان کے اپنے نام اعمال جیسے جنگلات کا بے تحاشا کٹاؤ اور حجریہ ایندھن کی استعمال کا نتیجہ ہے  ۔آجکل دنیا کے ہر حصے میں اس بات پر شور برپا ہے کہ ماحولیاتی معیار میں دن بدن گراوٹ آرہی ہے اور آلودگی میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے ۔لیکن اس ضمن میں  خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ہیں ۔اٹھیں گے بھی کیسے ؟ ترقی یافتہ ممالک اپنی ترقی کو فروغ دینے میں لگے ہوئے ہیں اور یہ ترقی ماحول اور قدرتی وسائل کے استحصال پر مبنی ہے ۔آج بھی کوئلوں کا استعمال اتنا ہی ہورہا ہے جتنا پہلے ہوتا تھا ۔آج بھی پیٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں کا فضلہ ماحول میں بڑھ رہا ہے ۔آج بھی جنگلات کا کٹاؤ جاری ہے ۔نتیجتاً دنیا کو آج گلوبل وارمنگ جیسی آفت کا سامنا ہے۔
گلوبل وارمنگ کی وجوہات میں سے ایک وجہ گرین ہاؤس گیسز بھی ہیں گرین ہاؤس گیسز کاربن ڈائی آکسائیڑ ،نائیٹرس آکسائیڈ،میتھین اور کلوروفلورو کاربن پر مشتمل ہوتی ہیں۔ان گرین ہاؤس گیسز کے اخراج  کا 60 فیصد ذمہ داری انسانی سرگرمیوں پر عائد ہوتی ہے۔کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے جیسا کہ 2013میں اسکی مقدار 400ppmتھی،2017میں اسکی مقدار 410ppmتھی اور اب یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ 2035میں اسکی مقدار450ppmتک بڑھ جائیگی جو کہ گلوبل وارمنگ میں خطرناک حد تک اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے گلوبل وارمنگ میں شدید اضافہ ہو رہا ہے جیسا کہ کوئلہ تیل،گیس کے جلنے کی وجہ سے گرین ہاؤس گیسز میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
۔جنگلات کا کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے میں انتہائی اہم کردار ہے۔مگر روز بروز جنگلات کی کٹائی میں اضافے کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ میں بہت اضافہ ہو رہا ہے۔لائیو سٹاک فارمنگ کی وجہ سے میتھین گیس کا اخراج گلوبل وارمنگ میں اضافے کا سبب ہے۔فصلوں میں نائیٹروجن کھاد کے استعمال سے نائیٹرس آکسائیڈ میں اضافہ گلوبل وارمنگ کے اضافے کا بھی سبب ہے۔ دنیا میں ماحول دوست اقدامات اٹھانے پر زور تو دیا جاتا ہے لیکن عملانے پر نہیں ۔
جمو‌ں و کشمیر کی اگر ہم بات کریں گے تو ایشیا کے اس خطے میں تازہ پانی کے ماحولیاتی نظام کے تحت 6 فیصدی زمین ہے جس میں جموں کی منطقہ حارہ سے ملی جلی جھیل ،کشمیر کے سیلابی میدانی جھیل اور لداخ کی اونچائی والی جھیلیں ،سالہا سال بہنے والے دریائے سندھ کا نظام ،مختلف جسامت کی مرطوب زمین ،تالاب ،برف پر بہنے والی ندیاں ،چشمے اور دوسرے ذخائر قابل ذکر ہیں ۔ لیکن بدقسمتی سے دنیا کے مقابلے میں جموں و کشمیر ماحولیاتی آفتوں کا سب سے زیادہ شکار ہورہا ہے ۔یہاں کے گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں ۔گلیشروں کا دو تہائی موٹاپا بڑھتی گرمی کے رحجان سے پگھل کر ختم ہوگیا ہے ۔کولہائی گلیشر کا سولہ فیصدی پچھلے پنتالیس سالوں سے پگھل چکا ہے ۔خیال رہے یہ گلیشر وادی کے پینے کے پانی کا خاص ذریعہ ہے ۔ کم برف باری کے ساتھ ساتھ گلیشروں کے پگھلنے سے آبپاشی کے لئے مخصوص پانی میں واضح فرق آئی ہے نتیجتاً فصل کے پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس طرح موسمی تبدیلی کا اثر نہ صرف ماحول پر پڑتا ہے بلکہ ہمارے سماج پر بھی پڑتا ہے اور اقتصادی حالت پر بھی ۔اگر کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیات کی کھوج‌کے ابتدائی نتائج پر غور کیا جائے تو اکیسویں صدی کے آخر تک وادی میں دو سے تین ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوسکتا ہے وہ بھی اگر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج قابو میں رہا تو۔ جموں‌کشمیر میں اب برف باری کا کوئی مقرر وقت نہیں رہا ۔کبھی بھی ہوتی ہے ۔کچھ سال پہلے مئی میں ہوئی تھی اور اب نومبر میں بھی ہوتی ہے جبکہ برفباری کا موزوں وقت بیس دسمبر کےبعد ہے ۔لیکن اب کبھی جنوری کے بجائے مارچ میں بھی ہوتی ہے ۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ موسموں‌کی حد بندی میں بھی بدلاؤ آیا ہے ۔جو پھول اور کلیاں مارچ کے مہینے میں کھلنا شروع کرتے تھے وہ اب فروری کے مہینے میں ہی کھلتے ہیں ۔ موسم بہار اور موسم گرما میں زیادہ فرق نہیں رہا ۔گرمی کی شدت مارچ سے ہی بڑھنی شروع ہوتی ہے نتیجتاً برف تیزی سے پگھل جاتی ہے اور اب پہاڑی علاقوں میں بھی گرمی کی شدت محسوس کی جارہی ہے ۔وادی کشمیر کے اس بدلتے موسم کے پیش نظر مختلف قسم کے پرندے یا تو وادی میں ہی رہتے ہیں یا واپس ہی نہیں لوٹتے ہیں ۔کئی پرندے غائب ہوگئے ہیں ۔ہوائی طوفان اب اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ہوا کی تیز رفتاری سے کھڑی فصلیں برباد ہورہی ہیں ۔پکے ہوئے پھل وقت سے پہلے گرتے ہیں ۔مکانوں کے چھت اڑ جاتے ہیں ۔درخت اکھڑ جاتے ہیں اور حادثات میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ یہ سب زیادہ فیکٹریاں نہ ہونے کے باوجود ہورہا ہے ۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وادی کے اس معتدل آب ہوا پر دنیا بھر کی آلودگی کا اثر کافی تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ہمارے یہاں جو جنگلات کا بے تحاشا کٹاؤ ہورہا ہے بھی اس آفت کا باعث ہے ۔گلیشروں کے آس پاس بڑھ رہے نقل وحمل کا رحجان بھی گلیشروں کے پگھلنے کا ضامن ہے ۔
ہماری کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیات کے تحقیقات کے ابتدائی رحجانات کے مطابق اگر یونہی گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوتا رہا تو اکیسویں صدی کے آخر تک درجہ حرارت  میں دو ڈگری سینٹی گریڈ تک کا مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔اگر یہ پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی تو کشمیر کے بیشتر گلیشر ختم ہوجائیں گے ۔
موسمی تغیر کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں پانی اور زمینی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے ۔پلاسٹک اور پالتھیں کے بے تحاشا استعمال نے ہر گلی ،ندی نالی ،کھیت کلیان ،میدان اور صحت افزا مقامات کو بری طرح سے اپنی گرفت میں لے لیا ہے ۔یوں آلودگی نے وادی کشمیر کو ڈمپنگ سائیٹ میں تبدیل کیا ہے ۔ 
 ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنے طور طریقوں میں مناسب بدلاؤ لائیں اور ماحول کے بگڑتے توازن کی طرف سنجیدگی سے غور کریں اور ایسے اقدامات اٹھائیں جو ہمارے ماحول کی پاکیزگی اور شفافیت کو فروغ دیں ۔بصورت دیگر وہ دن دور نہیں جب ہمارے بچے کھچے گلیشر بھی  ختم ہوجائیں گے اور ہم پانی کی بوند بوند کو ترسیں گے۔
وقت پر بارشیں ہونا زراعت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ دنیا کے وہ علاقے جہاں پر زراعت کا مکمل انحصار بارشوں پر ہے وقت پر بارشیں نہ ہونا اس علاقے کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔روز بروز اسی گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں زمینی پانی کی سطح خطرناک حد تک گر رہی ہے۔جو کہ انسانی زندگی،پودوں اور جانوروں کے لیے انتہائی خطرناک ہےزراعت کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ماحولیاتی تبدیلیاں جیسا کہ گرمیوں میں سخت گرمی اور سردیوں میں سخت سردی اور بے ترتیب اور غیر موسمی بارشیں زراعت کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔گلوبل وارمنگ کی وجہ سے زراعت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔انسانوں اور جانوروں میں گلوبل وارمنگ مختلف قسم کی بیماریاں پیدا کرتی ہے۔جس کی وجہ صحت اور خوراک کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔جموں کشمیر میں یہ سب باتیں عیاں ہورہی ہیں اور گلوبل وارمنگ کی گرفت بھی بتدریج مضبوط ہورہی ہے ۔کچھ ہی سالوں میں ہمارے رنگارنگ جنگلات اور چراگاہیں سوکھ کر ویران ہوجائییں گے ۔قحط سالی سے فصلیں برباد ہونگی اور اقتصادی بحران برپا ہوگا ۔درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہوگا اور تپش سے جینا دشوار ہوگا ۔اسلئے نہ صرف سائینسدانوں اور حکومت کو اس بارے میں سوچنا ہوگا بلکہ لوگوں کو بھی ماحول دوست رویہ اپنانا ہوگا تاکہ آنیوالی نسلیں بھی کشمیر کا صحت افزا ماحول دیکھ سکیں ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم ایسے طریقہ کار اپنائیں  جن سے عالمی سطح پر گرمی میں اضافے کو کم کیا جا سکے۔چونکہ  پودے اور درخت کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرتے ہیں اور ماحول میں اس کی مقدار کا توازن برقرار رکھتے ہیں سو شجرکاری کو فروغ دینا ہوگا ۔
مختلف توانائیاں جو گلوبل وارمنگ کے باعث ہیں کے استعمال میں خاطرخواہ کمی کرنی ہوگی ۔ہیٹر اور ایئر کنڈشنروں کا استعمال کم کرنا ہوگا۔ حرارتی بلب کو انرجی سیور سے متبادل کیا جائے۔
معاشرے میں بیداری کہ مہم چلانی ہوگی۔ اس سے گلوبل وارمنگ پوری طرح ختم تو نہیں ہوگی لیکن کم از کم کوشش تو کی جاسکتی ہے۔ دوسروں کو آگاہی دینا اور ان کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا انتہائی اہم قدم ہے۔قابل تجدید توانائی کے استعمال پر زور دینا ہوگا  تاکہ گلوبل وارمنگ میں کمی ہوسکے ۔۔
جموں وکشمیر کی سرکار اور لوگوں کو اس بات کی طرف سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ورنہ جنت کشمیر کی صحت افزا ہوا آگ اگلے گی ، چشمے خشک ہوجائیں گے ۔چراگاہیں سوکھ کر ویران ہونگی ۔دریا اور جھیلوں میں پانی ختم ہوجائے گا۔  جنت کا  نام صرف تواریخ کے صفحات میں موجود رہے گا ۔
قصبہ کھُل کولگام
9906598163