تازہ ترین

مرکز کے تعاون کی یقین دہانیاں باعث اطمینان

تاریخ    4 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


 لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے گزشتہ روز نئی دہلی میں تعلیم اور دیہی ترقی و پنچایتی راج محکموں کے مرکزی وزیروں سے دھرمندرا پردھان اور گری راج سنگھ سے الگ الگ ملاقاتیں کرکے جہاں جموںوکشمیر میں قومی تعلیمی پالیسی2020کی عمل آوری اور تعلیمی شعبہ میں انقلابی تبدیلیوں پر گفتگو کی وہیں انہوںنے وزیراعظم دیہی سڑک یوجنا اور دیہی روابط کو مستحکم بنانے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔وزیرتعلیم سے گفتگو کے دوران لیفٹیننٹ گورنر کہا کہ یوٹی انتظامیہ نے قومی تعلیمی پالیسی کے تحت وضع کردہ اہداف کے حصول کی خاطر تعلیمی نظام کو یکسر تبدیل کرنے کیلئے ایک مضبوط نیو رکھی ہے اور طالب علموں کی شخصیت کے ہمہ جہت پہلوئوںکو صحیح سمت دینے اور انہیں ہنر مند بنانے کیلئے بیک وقت کئی منصوبوںپر کام جاری ہے ۔منوج نے ان سبھی اقدامات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے مرکزی حکومت کا فراخدلانہ تعاون طلب کیا جس کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ۔اسی طرح دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر گری راج سِنگھ سے ملاقات کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے پی ایم جی ایس وائی سے متعلق اہم اَمور پر تبادلہ خیال کیا تاکہ جموں و کشمیر میں دیہی روابط کو مستحکم بنایا جاسکے اور جو مختلف اقدامات یوٹی حکومت کی جانب سے دیہی علاقوں میں معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے اْٹھائے گئے ہیں۔ میٹنگ نتیجہ خیز ثابت ہوئی اور مرکزی وزیر نے جموں و کشمیر کی دیہی ترقی اور خوشحالی کیلئے یو ٹی حکومت کی کوششوں میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔لیفٹیننٹ گورنر اور مرکزی وزیر نے جموں وکشمیرمیں پنچایتی راج نظام کو بااِختیار بنانے کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔اْنہوں نے کہا کہ پی ایم جی ایس وائی کے تحت حاصل کی گئی کامیابیوں کے لحاظ سے جموںوکشمیر سر فہرست ہے ۔دیہی آبادی کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنے کے لئے یو ٹی حکومت کے ایکشن پلان پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان دونوں ملاقاتوں میں لیفٹیننٹ گورنر نے جس طرح یوٹی کا کیس سامنے رکھا ،وہ قابل تحسین تھا اور جس انداز میں یوٹی حکومت کی حصولیابیوں کو اجاگر کیا ،وہ اس حقیقت کا گماز ہے کہ جموںوکشمیر دیہی ترقی اور تعلیم کے منظر نامہ میں آگے بڑھ رہا ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ابھی بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ تعلیم کے شعبہ میں انقلابی تبدیلیاں لائی گئیں اور مسلسل لائی جارہی ہیں جبکہ قومی تعلیمی پالیسی کی عمل آوری بھی جاری ہے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بچوںکو گھروں کی دہلیز پر بنیادی ،ثانوی اور تحتانوی تعلیم کی فراہمی کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں جس کیلئے اب تحصیل سطحوں پر کالج اور بلاک سطحوںپر آئی ٹی آئی قائم ہوچکے ہیں جبکہ سکولوں کا گائوںگائوں جال بچھا کر اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ایک بچے کو بنیادی سے لیکر تحتانوی تعلیم کیلئے وسائل کی کمی سے دوچار نہ ہونا پڑے بلکہ اس کو اپنے ہی گھر اور علاقہ میں یہ ساری سہولیات میسر ہوں تاکہ وہ سماج کا ہنر مند اور پیشہ ور شہری بن کر نہ صرف اپنا معیار زندگی بہتر بناسکے بلکہ سماج کو بھی واپس کچھ دے سکے ۔اس کے علاوہ صلاحیت سازی ،ہنر سازی او ر پیشہ واریت پر مسلسل توجہ مرکوز کی جارہی ہے جس کا واحد مقصد ہماری نوخیز نسل کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنے روزگار کا بندو بست خود کرکے اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکیں۔وضائف کی ایک طویل فہرست ہے جو بنیادی سے لیکر تحتانوی تعلیم کے سفر تک ہمار ے بچوں اور نوجونواں کو فراہم کی جارہی ہے تاکہ وہ مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم اور پیشہ وررانہ کورسز سے محروم نہ رہ سکیں۔یہ اقدامات واقعی لائق تحسین ہے تاہم جہاں ہم گائوں گائوں تعلیم کا ڈھانچہ کھڑا کررہے ہیں وہیں ہمیں اس بات کو بھی یقینی بنا نا ہے کہ یہ ادارے محض عمارات تک محدود نہ ہوں بلکہ ان میں سبھی سہولیات میسر ہوں تاکہ وہ خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے جس کیلئے زر کثیر خرچ کرکے یہ ڈھانچہ کھڑا کیاگیا ہے ۔انسانی وسائل کے فروغ کیلئے افرادی قوت اور دیگر درکار ضروری سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے اور جس طرح اس ملاقات میں مرکز کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے تو امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے وقت میں مر کز کی فراخدلانہ امداد سے تعلیم کے ڈھانچہ کو وسعت دیکر انہیں حقیقی معنوںمیں علم و آگہی کے مراکز بنایا جائے گا۔اب جہاںتک دیہی ترقی کا تعلق ہے تو یہ ملک و قوم کی مجموعی ترقی کیلئے انتہائی ناگزیر ہے کیونکہ بھارت اور جموںوکشمیر کی ستر فیصد آبادی ابھی بھی دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہے اور جب دیہی آبادی کا معیار حیات بلند ہوگا کیونکہ مجموعی طور خوشحالی آنے سے کوئی روک نہیںسکتا ہے ۔جب دیہات میں ترقی و خوشحالی کادور دورہ ہوگا تو سماج کا خوشحال ہونا طے ہے ۔جب تک دیہات کے لوگ ترقی کے ثمرات سے مستفید نہیں ہونگے،اُس وقت مجموعی ترقی کا خواب خواب ہی رہے گا۔یہی وجہ ہے کہ دیہات سدھار کی جانب خصوصی توجہ دی جارہی ہے اور حکومت کی مسلسل کوشش ہے کہ محکمہ دیہی ترقی کے ذریعے دیہات کا نقشہ بدلا جائے ۔اس ضمن میں وزیراعظم دیہی سڑک یوجنا واقعتا ایک انقلابی سکیم ہے جس نے دیہات کو سڑک رابطوں سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔سڑکیں ترقی کی شاہرائیں کہلائی جاتی ہیں اور حقیقی معنوں میں ترقی سڑکوں سے ہی سفر کرتی ہے ۔گزشتہ دو ایک دہائیوں کے دوران جس طرح اس سکیم کے ذریعے ہزاروں دیہات کو سڑک رابطوں سے جوڑا گیا ،اُس سے ان دیہات میں خوشحالی اور ترقی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہوچکا ہے اور یہ دیہات مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہیں جبکہ مسلسل باقی بچے دیہات کو بھی اس سکیم کے ذریعے سڑک رابطہ سے جوڑنے کا عمل جاری ہے ۔امید کی جاسکتی ہے کہ جس طرح گری راج سنگھ نے لیفٹیننٹ گورنر کو اس اہم ملاقات میں مکمل تعاون کا یقین دلایا تو آنے والے وقت میں دیہی ترقی کاخواب شرمندہ تعبیر کرنے میں وسائل آڑے نہیں آئیں گے بلکہ مرکز کے فراخدلانہ امداد سے ترقی کا یہ سفر جاری وساری رہے گا اور ایک دن آئے گا جب جموںوکشمیر ترقی و خوشحالی کے سبھی عشاریوں میں آگے ہوگا۔