تازہ ترین

حالات وواقعات کا عکاس

مظفر ایرجؔ کاشمیری

تاریخ    3 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر مشتاق عالم
کشمیراُردو شعرو ادب کے حوالے سے دور رفتہ میں ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ کشمیر میںاُردو زبان کی ابتدا سے موجودہ دور تک بے شمار ادباء اور شعراء پیدا ہوئے ہیںجنہوں نے اُردوزبان کو وسیلہ اظہار بنا کر اُردو شعر و ادب کی خوب خدمت کی ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ اس دوران مختلف ادوار میں مختلف شعراء اور ادباء نے اپنی انفرادیت قائم کر نے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ اس سلسلے میںجب ہم کشمیر میں۱۹۶۰ء کے بعد اُردو شاعری خاص طور پر اُردو غزل کی وادی میں سیر کرنے والے شعراء کو تلاش کرتے ہیں اور ہماری نظر جن نمائندہ شعراء پر ٹھہرتی ہے ان میں ،حکیم منظور ‘ حامدی کاشمیری ‘ فاروق نازکی ‘ ہمدم کاشمیری ،رفیق رازکے ساتھ ساتھ مظفر ایرج کا اسم گرامی بھی کئی اعتبار سے قابل ذکر ہیں ۔
محمد مظفر نقشبندی المتخلص بہ مظفر ایرج یکم اگست ۱۹۴۴؁ء کو سرینگر کے محلہ صفا کدل میں پیدا ہوئے۔یہ علاقہ دریائے جہلم کے کنارے پر آباد ہے۔اسلامیہ ہائی اسکول سے میٹرک اور ایس پی کالج سرینگر سے ایف ایس سی کرنے کے بعد بنارس سے ہینڈلوم ٹیکنالوجی میں ڈگر ی حاصل کرنے کے بعدمحکمہ ہینڈ لوم ڈیولپمنٹ کارپوریشن حکومت جموں کشمیر میں مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔گزشتہ کچھ عرصہ سے موصوف کی طبیعت ناساز تھی اور ۱۳ جولائی ۲۰۲۱ء کو بہشت کے سفر پر روانہ ہوئے۔اللہ پاک مغفرت فرمائے آمین۔ 
گزشتہ صدی کے ستر کے عشرے میںشعری سفر کا آغاز کرنے والے شاعر مظفر ایرج کشمیر کے ان اہم غزل گو شعراء میں سے ہیں جنہیں اپنی فنی صلاحیتوں کے بنا پر ریاست کے ساتھ ساتھ ملکی سطح پر خوب سراہا گیا ہے۔وہ اردو شاعری خاص طور سے اردو غزل سے بڑی دلچسپی رکھتے ہیں۔اردو شاعری کی دنیا میںان کی پہلی باقاعدہ دستک ’’ابجد‘‘ ۱۹۸۳؁ء نام کے شعری مجموعے سے سنی گئی۔یہ ان کا پہلا شعری مجموعہ ہے ،جس کو ادبی حلقوں میں خوب پزیرائی ملی۔اس کے بعد’’انکسار‘‘ ۱۹۸۸؁ء  میںمنظر عام پر آیا۔اس کو بھی قارئین نے پسند کیا۔اس بیچ موصوف کی طبیعت خراب ہوگئی تھی اور وہ لکھنے پڑھنے سے کچھ عرصے کے لئے دور ہوگئے تھے۔لیکن صحت یاب ہونے کے بعد وہ اپنے شعری سفر پر پھر سے گامزن ہوئےاور ۲۰۰۷؁ء میں خوبصورت شعری مجموعہ’’ثبات‘‘ لے کر آئے۔ثبات کے بعد ۲۰۰۹؁ء میں’’ دل کتاب‘‘ ۲۰۱۰؁ء میں’’ہوادشت دیار‘‘ اور  ۲۰۱۲؁ء میں ’’سخن آئینہ‘‘ جیسے شعری مجموعے منصئہ شہود پر آتے گئے۔جو ایرج کے ادبی تشخص کو مستحکم کرنے اور اردو شاعری میں ان کو انفرادیت عطا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔مذکورہ شعری مجموعوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مظفر ایرج کے اندر ایک بیکراں سمندر مسلسل موجزن رہتا ہے۔ان کے پاس خیالات و تجربات کا ایک وسیع کارواں ہے جو ان کو قلم اُٹھانے پر اُکساتا رہتا ہے۔جسکی بدولت وہ اردو شاعری کو اپنے مخصوص انداز میں اپنے تجربات اور محسوسات سے نئے نئے مضامین وموضوعات پر مشتمل اشعار و افکار سے مالا مال کرتے رہتے ہیں۔
مظفر ایرج کا کلام روایتی فکر کے ساتھ ساتھ جدید حسیت اور عصری آگہی کا بہترین عکاس ہے۔انہوں نے روایات کی احسن پاس داری بھی کی ہے اور جدیدیت کی نمائندگی بھی بلکہ انہوں نے قدیم اور جدید شعری تخلیقات کا بغور مطالعہ کیا ہے اور دونوں کے امتزاج سے ایک نیا اور دلکش اندازِ بیان ایجاد کیا ہے۔جو ان کا اپنا ہے۔جس میں روایتی محبوب کے ناز ونخرے بھی نظر آتے ہیں اور دورِجدید کے انسان کی محرومی ،بے بسی اور لاچاری بھی دکھائی دیتی ہے۔مظفر ایرج کی غزلوں میں جدت اور ندرت اور قدیم و جدید شعری تفکرات کے دلکش امتزاج سے جو شعری منظر نامہ وجود میں آتا ہے اس میں ایک طرح کا نیا پن،تازگی اور اعتدال نظر آتا ہے۔
دیگر موضوعات کے ساتھ ساتھ مظفر ایرج کی غزلوں میں کشمیر کے پُر آشوب حالات کی بھر پور عکاسی بھی ملتی ہے۔وہ اپنے وطن میں رونما ہونے والے حالات سے باخبر ہیں۔دیگر ہمعصر شعراء کی طرح مظفر ایرج بھی ان پُردردحالات اور انسانیت سوز واقعات کی پیش کش اپنی شاعری میں کرتے ہیں۔موصوف اپنے ہم وطنوںکی لاچاری،عدم تحفظ ،خوف و دہشت،ظلم و ذیادتی،انتشار ،انسانی حقوق کی پامالی کو دیکھ کر جھنجھوڑجاتے ہیں۔انہوں نے وہ دور بھی دیکھا تھا جب ہر طرف خوشی اور شادمانی تھی لیکن وقت نے ایک دم رُخ بدلا اور افراتفری ،گولی بارود ،قتل و غارت گری اور نفسا نفسی کا عالم ہر طرف پیدا ہو گیا۔ ایسی صورت حال میں مظفر ایرج اپنے مجروح جذبات کی عکاسی علامتی پیرائے میں کچھ اس طرح کرتے ہیں   ؎
میری بستی میں بھی آکر دیکھئے 
حشر سے پہلے ہی محشر دیکھئے
سب کے ہاتھوں میں کھلونے موت کے 
سب کی آنکھوں میں یہی ڈر دیکھئے
ایرج صاحب سانج سہمے بارود پہ آکے بیٹھے ہیں
آگے کھائی پیچھے دشمن گھات لگاکے بیٹھے ہیں
زخموں سے تار تار پڑے ہیں ہزاروں جسم
عفریت اب کے بیٹھ گئے پہرہ ڈال کر
جسموں میں تپش ہے نہ ہی سانسوں میں حرارت
اس شہر میں اک شخص بھی زندہ نہیں لگتا
جانے یہ آگ کس نے لگائی میرے گھر میں
کھڑکی نہ ہی دیوار  نہ ہی در ہے سلامت
بس ہاتھ آیا دھواں راکھ ادھ جلی لاشیں 
بھلا زمانے میں کی خون کی بوائی کیوں
میں اپنے جسم پر بارود باندھے 
تمہاری راہ میں کب سے کھڑا ہوں 
مذکورہ اشعار کی قرات سے کشمیر میں رونما ہونے والے حالات و واقعات کی روح فرسا تصویر نظر نواز ہوتی ہے۔جہاںحشر  سے پہلے ہی محشر کا سماں قائم کیا گیا ہے۔جہاں کھیل کود اور سیر تماشے ہونے چاہیے وہاں بم اور بارود کی گن گرج سنائی دیتی ہے۔جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہوں اور معصوموں کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہےاور ہر سو لاشیں ہی لاشیں دکھائی دیتی ہیں۔آئے دن ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ گھروں کے گھر چشم زدن میں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کیے جاتے ہیں۔لوگوں کو زندہ جلایا جاتا ہے ۔ہر طرف دھواں اور ادھ جلی لاشیں اور خون ہی خون کا نظارہ دکھائی دیتا ہے۔اس ماحول میں رہنے والا ہر شخص عدم تحفظ کا شکار ہے۔لوٹ مار اور قتل وغارت گری کا انسانیت سوز نظارہ دیکھتے وقت مظفر ایرج کا دل کس طرح تڑپتا ہے۔اس کا اظہار وہ یوں اپنے اشعار میں کرتے ہیں    ؎
ہر سو آگ،دھواں،لاشیں،بارود کی بو
دل رودادِ سخنور کوئی کیوں کر لکھے
اس کو کاٹا،اس کو مارا،اپنا بھی گھر لوٹ لیا
ہم ہی درندوں نے بچوں کے منہ کا فیڈر لوٹ لیا
کیسی بستی ہے یہ کس طرح کے باسی ہیں یہاں
جو ملا اس کے دل وجاں میں ڈر دیکھا ہے
کس کس نے دفنائے پھولوں جیسے لوگ
کس کس نے بارود کو پوجا دھرتی پر
دورِ فرعونی ہے‘ ہیں بچوں کی جانیں داو پر
ماں بہا دینا ابھی جہلم کے دھارے پر مجھے
مظفر ایرج کی غزلوں میں وادی کی کربناک صورت حال کی خوبصورت پیش کش کے ضمن میں دیپک بدکی لکھتے ہیں:
’’ مظفر ایرج جس یگ میں جی رہے ہیں اس میں بارود کی بوہے،دھواں ہے،یورش عفریت ہے اور ہر سو ویرانی ہی ویرانی ہے۔اس کے شہرمیں عدم تحفظ کے باعث ہر شخص ڈرا سہما رہتا ہے۔ظاہر ہے کہ کشمیر کے موجودہ حالات نے شاعر کے دل ودماغ کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے اور یہی درد و کرب ان کی شاعری میں بار بار اُبھر آتا ہے۔‘‘ 
مظفر ایرج کے کلام کو برصغیر کے معتبر ناقدین اور دانشوروں نے خوب سراہا ہے۔اس حوالے سے چند مشاہر کی آرا کا نچوڑ پیش کرتا ہوں۔ڈاکٹر جمیل جالبی کے مطابق ایرج کی شاعری پراثر،تازگی،متنوع اور ندرت بیان سے پُر ہے۔شمس الرحمٰن فاروقی کو موصوف کی غزل کے لہجے میں طمانیت نظر آتی ہے۔بشیر نواز کو مظفر ایرج کی غزلوں میں زندگی کی کشمکش کا عکس دکھائی دیتا ہے۔سید شباب کے نزدیک مظفر ایرج کی غزل کا اہم وصف ان کے اسلوب کی تازگی اور لہجے کی ہمواری میں مضمر ہے۔رئیس الدین رئیس ان کی غزل کو معاشرتی حالات ورجحانات کی عکاس ٹھہراتے ہیں۔سلمیٰ حجاب کا ماننا ہے کہ مظفر ایرج کی غزل جدید کاری کی زندہ مثال ہے۔حکیم منظور کے نزدیک ایرج کے کلام کی اساس ان کی مخصوص فکر پر ہے۔ساحل احمد کا کہنا ہے کہ مظفر ایرج کی غزلوں کی سب سے اہم خوبی تہہ داری اور دل پزیری ہے۔بہر کیف ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مظفر ایرج اردو غزل کے ایک ایسے شاعر ہیں جن کے یہاں لہجے کی متانت اور طمانیت بھی ہے اور فکر وفن کی تازگی بھی۔زبان وبیان میں ندرت اور تازہ کاری بھی ہے اور اظہار خیال کی سادگی بھی۔موضوع ومضامین میں تنویت بھی ہے اور الفاظ وتراکیب کی فراوانی بھی۔موصوف اپنی انہی خوبیوں کی بدولت ملک ِکشمیر کے شعری افق پر ایک روشن ستارے کے مانند درخشاندہ رہیں گے۔
 (سامبورہ پانپور،پلوامہ کشمیر)
موبائل نمبر:7006402409 
dr.ashraf.asari@gmail.com