تازہ ترین

مظفرایرجؔ۔ جہانِ شعر کا گوہرِ نایاب

کچھ یادیں کچھ باتیں

تاریخ    3 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر اشرف ؔآثاری
مرے حریف ہیں اک دوسرے سے صف آرا 
کسی کو زخم لگا میری آنکھ بھر آئی
میری وضع بھی الگ اور میری خو بھی جدا 
نہ دل سے ہرزہ سرا ہوں نہ سر سے سودائی
ان ِاور انِ جیسے لاتعداد بے لوث خلوص ومحبت اور ایثار و ہمدردی سے بھرے اشعار کے خالق شاعر مظفر ایرجؔ اب ہم میں نہیں ہیں اور مظفر ایرج بھی ۔۔۔۔۔۔؟
ہمیں اپنے بزرگوں اپنے اسلاف کے تئیں جو عزت ومحبت، خلاص و احترام ہو نا چاہئے تھا، اس سے ہم روز بروز محروم ہوتے جارہے ہیں اور ہمارے دلوں سے ہمدردی ،رواداری ، محبت وشفقت اور جذبہ مروت غائب و مفقود ہوتا جارہاہے ۔ خاص طور پر جب وہ اس دارِ فانی سے کوچ کرجاتے ہیں ۔جن اسلاف کا خون ہماری رگوں میں محوِ گردش ہوتا ہے، جن کے اثاثوں کے ہم وارث کہلائے جاتے ہیں ،جن کی سخت مشقت،جان فشانی اور خون پسینے کی محنت سے ہم کسی مقام ومنصب تک پہنچ جاتے ہیں اور جنہوں نے اپنے رات دن کی کوششوں اور کاوشوں سے ہمارے لئے آرام و آسائشیں پیدا کی ہوتی ہیں ۔ان کے یہاں سے جانے کے بعد ہی ،ہم انہیں رسمی طور پر چنددنوں یا ایک قلیل وقت تک یاد کرکے یکسر بھول جاتے ہیں اور ان کی تمام تر قربانیوں اور ان کی نوازشوں کوفراموش کرکے نہ صرف انہیں نظر انداز کرتے ہیں بلکہ احسان فراموشی کی مثال بھی قائم کرتے ہیں، کہ بندوں کی بندوں سے احسان فراموشی تو خالقِ کل کو بھی پسند نہیں ہے، خدا کی احسان فراموشی کی تو بات ہی الگ ہے۔جو بے لوث محبت اور خلوص ہمیں اپنے بزرگوں، اپنے اسلاف سے ملتا ہے، ہم میں سے اکثر لوگوں کو وہ یاد نہیں رہتا،نہ ہم اسے کسی شمار میں لاتے ہیں۔ بہت کم لوگ ہیں جو برملا اس کا اعتراف کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں، خاص طور پر جب وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے ہوں تو انہیں کوئی پوچھتا تک نہیں ،جو لوگ زندگی میں اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے ان کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے منڈلاتے پھرتے رہتے ہیں وہی انہیں حرفِ غلط کی طرح بھلادیتے ہیں، کسی قسم کے خراجِ تحسین کر نے میں یا پھر ان کے مشکور وممنوع رہنے کی بات ہی نہیں اور پھر یہی حشراُن کابھی ہوتا ہے۔
پچھلے چند برسوں میں کئی نامی گرامی اور مشاہیرقلمکار ہم سے رخصت ہوگئے اور کشمیر کی علمی اور ادبی کہکشاں کئی چمکتے دمکتے ہوئے ستاروں سے خالی اور محروم ہوگئی۔ جو علم و ادب کے نیر تاباں ہی نہیں، درخشاں ستارے بھی تھے اور اپنی ذات میں ایک کائنات اورایک انجمن سے کم نہیں تھیٍ۔کس کس کا نام لیجئے گا اللہ رب العزت سب کو اپنی خاص رحمت ،مغفرت اور عنایت سے نوازے۔ ملکِ عدم کی طرف روانہ ہونے والے ان مجاہدینِ قلم میں بطورِ خاص میں پروفیسر حامدی کاشمیری،پروفیسر مرغوب بانہالی،رشید امجدؔ اور اپنے محترم اور قریبی دوست مرحوم مظفر ایرج ؔ کا نام لوں گا ، اللہ تعالی سے ان سب حضرات کے لئے دعا گو ہوں ،یہ دنیا کسی کی جاگیر نہیں ہے۔ ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور اسی طرح یہاں سے رخصت ہونا ہے ،فنا ہونا ہے اور ایک نئی دنیا میں جانا ہے، جو قرآن واحادیث کی رو سے، یہاں کی دنیا سے بہت بہتر بھی ہے اور بہت افضل ودائمی بھی ۔ ہماری شومئی قسمت کہ ہم اس دنیا سے غافل اور بے خبر رہتے ہیں ، یہاں تک کہ ہم بھی انا للہ و ان الیہ راجعون ہوجاتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں اصل حقائق کا شعور دے اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق دے اور ہمت و حوصلہ بھی اورہم سے بچھڑنے والے ہمارے عزیز و اقارب اور دوست و احباب کی مغفرت بھی فرمائے آمین ثمہ آمین۔غالباً یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مرحوم رشید امجدؔ ،انتظار حسین کے بعد اردو زبان کے سب سے بڑے افسانہ نگار تھے اور کشمیری تھے ۔۱۹۴۰میں سری نگر سے ہجرت کرکے راولپنڈی اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کر گئے تھے اور آخری دم تک وہیں پر مقیم رہے، درس و تدریس سے وابستہ رہے اور قابلِ قدر عہدوں پر فائز تھے۔اپنے آبائی وطن سے بے پناہ محبت ،ان کی فکر انگیز کہانیوں میں ہرجگہ نظر آتی ہے۔ 
۱۴؍جولائی ۲۰۲۱ کو دورانِ شب ، مظفر ایرجؔ مالک ِ حقیقی سے جا ملے اور اس سے ایک دو ماہ قبل ان کی اہلیہ محترمہ حمیدہؔ مظفر کا بھی انتقال ہوچکا ہے ۔’’ دل کتاب‘‘ مجموعے کو مظفر ایرجؔ نے ان الفاظ کے ساتھ اپنی اہلیہ مرحومہ کے نام منسوب کیا ہے۔
’ ُاپنی رفیقئہ حیات حمیدہ ؔمظفر کے لئے ،جو چار برس کی عمر میں میری منکوحہ بن گئی، دس سال بعد رخصت ہوکر آگئی ،پچھلے پنتالیس برس سے بڑی خوش ا سلوبی کے ساتھ ایک دوسرے کو بھگت رہے ہیں۔‘‘ مرحومہ ،مظفر ایرجؔ کی نسبت ،تندرست وصحت مند اور فعال تھی،انتہائی سلیقہ مند،ملنسار ،مہمان نواز اور منکسر المزاج خاتون تھی ،اللہ رب العزت دونوں کی مغفرت فرمائے آمین ۔جبکہ مظفر ایرجؔ ایک عرصہ سے ذیابیطس شکری،پراسٹیٹ کی پریشانی،بلند فشاردم اور قلبی امراض میں مبتلا تھے اور گزرنے والے ایک ایک لمحے کی بھاری قیمت چکا کر زندگی گذار رہے تھے۔
مجھے ڈرائے گی کس طرح وقت کی افتاد
گذار آیا ہوں صدیاں میں سخت جانی میں
مظفر ایرجؔ نے واقعی اپنی پوری زندگی سخت جانی میں ہی گذاردی، وقت کی افتاد نے مختلف شکلوں اور صورتوں میں زندگی کی آخری سانس تک ان کا پیچھا کیا ،خواہ وہ غمِ روزگار ہو، دوست احباب کی بے رخی یا لاتعلقی ہو یا پھر ایک لمبے عرصے تک سائے کی طرح ساتھ چلنے والی اور نڈھال کردینے والی بیماریاں ہوں، اور ان سب سے بڑھ کر سچ بولنے کی ان کی عادت ہو۔
میری خطا ہے میں سچ بولتا ہوں کل یگ میں
سکون گھر میں ہے مجھ کو نہ چین دفتر میں
’’مظفر ایرج کا شمار نہ صرف کشمیر کے اہم شاعروں میں ہوتا ہے بلکہ وہ اردو کے ایک ممتاز جدید شاعر تسلیم کئے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ان کے کلام میں کچھ ایسی باتیں اور خصوصیات نظر آتی ہیں جنہیں ہم مقامی رنگ یا’’مقامی اثرات کا عکس ‘‘ کہہ سکتے ہیں۔پھر انہیں ’’کشمیر رنگ‘‘ کا نام بھی دیا جاسکتا ہے۔ان کے کلام میں جو حسن پایا جاتا ہے وہ ان کے خلوص اور ان کی صداقت کا مظہر ہے۔کیونکہ بقول کیٹس(Keats)’’حسن صداقت ہے اورصداقت حسن ہے‘‘انِ کے اشعار میںجذبے کی سچائی بھی اور خلوص کی شدت بھی سمٹ آئی ہے۔انِ کے لہجے کی انفرادیت یعنی ان کے مخصوص شاعرانہ لہجے کی وجہ بقولِ بشرؔ نواز ان کی خود شناسی ہے۔سعئی خودشناسی نے ان کی شاعری  میں عجب رنگ اور اثر پیدا کردیا ہے۔ان کی خودشناسی کا یہ سفر ذات تک محدود نہیں بلکہ یہ ذات سے کائنات کا سفر ہے۔ان کی خود شناسی انہیں حقیقت شناسی بلکہ حق شناسی کی منزل تک لے آئی۔وہ اس خود شناسی کی طفیل نہ صرف اپنی ذات کا گیان حاصل کرتے ہیں بلکہ اس کے وسیلے سے کائنات اور ذاتِ خداوندی کا عرفان بھی حاصل کرلیتے ہیں وہ اس طرح انسانی عظمت کا اعتراف بھی کرتے ہیں اور ان کا یہ ذہنی سفرنئے امکانات کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے اور انہیں وجوہات کے سبب سعید شیابؔ نے ان کی شاعری کو جدیدیت اور تصوف کا امتزاج کہا ہے۔۔۔‘‘     افتخار اجمل شاہینؔ (ماہنامہ صریر کراچی)
ہاں جو کچھ اندر محسوس کرتے تھے، جسے زبان پرلانا ممکن نہ ہوتا، اسے شاعری میں کہہ دیتے تھے۔ غالباً یہ بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے کہ مرحوم کی شاعری میں اس طرح کی صورت ِ حال کا جابجا مشاہدہ ہوتا ہے اور ان لوگوں سے تعارف بھی ہوتا ہے جو بلندیوں تک پہنچنے کے لئے دوسروں کو زینہ بناتے ہیں اور احسان فراموشی کے تمام حدود کو پار کرکے مثال قائم کردیتے ہیں، ایسے لوگوں کے خمیر میں ہی خود غرضی ،خود نمائی اوربزنسمین شپ ہوتی ہے جو چوبیس گھنٹے ان کی حرکات و سکنات اور تکلم وتفکر سے ظاہر ہوتی رہتی ہے اور سب لوگ اس کے شاہد بھی ہوتے ہیں۔ لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون ڈالے کے بمصداق سب خاموش رہنے میں ہی اپنی عافیت و خیریت سمجھتے ہیں۔ مظفر ایرجؔاپنے کلام میں ان جیسے دوستوں کو ایسے یاد کرتے ہیں ۔
کرم ہمیں تو رفیقوں نے ڈس لیا ایرجؔ 
ستم کہ کاٹے کو مرہم لگانے بیٹھے ہیں
جدا ہوا ہے وہ عادت سے اپنی ہے مجبور 
ہمارے دل نے شکایت مگر نہ کی اب کے 
نہ دوست ہے نہ ستمگر نہ مال ہے بھائی
میں کس سہارے ہوں زندہ کمال ہے بھائی   
مظفر ایرجؔ کے اب تک پانچ شعری مجموعے ’’ابجد‘‘انکسار‘‘’’ثبات‘‘’’دل کتاب‘‘اور ’’ہوا ،دشت، دیار‘‘ منظرِ عام پر آچکے ہیں ۔جن پر ہند و پاک کے مشاہیر قلمکاروں نے لکھا ہے جن میں وزیر آغاؔ،شمس الرحمان فاروقی، مظفر ؔحنفی ،نشترؔ خانقاہی ،ابنِ فرید،انور سدیدؔ،مظہرؔ امام ،مصورؔ سبزواری ،عتیق احمدعتیقؔ ،مسعود منور، پروین کماراشکؔ ،ساحل احمد،سلطان شاہدؔ،سعید شبابؔ،سرور عثمانی،افتخار امام صدیقی،حمید سہروردی،بشر نواز،ڈاکٹر ارتکاز افضل،رشید نثار،سہیل اختر ،ڈاکٹر اشرف آثاری قابلِ ذکرہیں اور ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کا بھرپور تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے اور ان کے فنی اور فکری محاسن کی نشاندہی کی ہے، کئی معیاری ادبی اردو رسائل و جرائد نے ان پر تفصیلی گوشے اور ضمیمے بھی شائع کئے ہیں۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ جونہی کسی ادبی رسالے میں ان کے گوشے یا ضمیمے کی بات چلتی تو مجھ سے فوراً ہی مضمون کی فرمائش کرتے ،میں بھی تمام تر مصروفیات ترک کر کے اپنی اولین فرصت میں ،سب سے پہلے وہی کام انجام دے دیتا تھا۔غالباً یہی ایک وجہ ہے کہ جس جس رسالے میں ان کاضمیمہ یا گوشہ شائع ہوا ہے، اس میں میرا ،مرحوم کی شخصیت یا شاعری کے کسی نہ کسی پہلو پر مضمون بھی ضرور شامل ہے۔مضمون پڑھ کر اپنی رائے اور حوصلہ افزائی سے ضرورنوازتے تھے اوراللہ کا کرم ہے کہ مرحوم اور لوگوں کی طرح نہ احسان فراموش ہی تھے اور نہ مصلحت اندیش کاروباری ذہن رکھنے والے ہی کہ ہمیشہ صرف اپنے ہی فائدے اور خسارے کے بارے میں سوچنے والے اور ذاتی مقصد کے لئے دوسروں کی عزتِ نفس سے کھیلنے والے،دوسروں کی خیر خواہی ، ہمدردی اور ایثار کا احساس بھی کرتے تھے اور احترام بھی۔ 
مظفر ایرجؔ سے میرے تعلقات ایک لمبے عرصے پر محیط ہیں۔لگ بھگ پانچ دہائیوں سے بھی زیادہ پرانے،ابھی ہم نوجوان ہی تھے کہ ریڈیو کشمیر سے ’یوواوانی‘ سروس کا آغاز ہوگیا اور اسی کے تحت اردو ادبی پروگراموں ،خاص طورپراردو مشاعروں میں ہماری شمولیت ہوتی رہتی تھی دو بدو ملاقات کے مواقع بھی ملتے رہتے تھے۔ ان مشاعروں میں ہماری عمر کے دیگر ہمارے ہمعمر اور ہمعصر شعراء بھی شامل رہتے تھے جن میں، بطور خاص رفیق رازؔ،اقبال فہیمؔ،قاسم سجاد،،جاوید آزرؔ، ایازرسول نازکی ؔ،زاہدؔ مختاروغیرہ بھی تھے۔ بعد میں جب زبیر ؔرضوی یہاںدہلی سے ٹرانسفر ہوکر آئے ،جو دورانِ تعلیم دہلی کی انجمن ترقی اردو کے ساتھ وابستہ ظفر ؔادیب کے شاگردرہ چکے تھے اور مجھے وہیں سے جانتے تھے، ظفر ؔادیب استاذی عشرتؔ کرتپوری مرحوم کے پیر بھائی(شاعر مزدور احسان دانشؔکے شاگرد)رہ چکے تھے اور ہمارے ہاں بھی آچکے تھے ،زبیرؔ رضوی نے ہی مجھے ریڈیو کشمیر کی جنرل سروس کے مشاعروں میں بلانا شروع کردیا اور میں نے پہلا مشاعرہ پروفیسر حامدی ؔؔکاشمیری کے ساتھ، ان ہی کی ردیف وقافیہ میں کہی گئی ایک غزل ،ان کے نام منسوب کرکے پڑھا ۔ یہ وہی ایام تھے جب مظفر ایرجؔ بھی جنرل سروس کے مشاعروں میں آنے لگے تھے ۔
مظفر ایرجؔ مرحوم نے بحیثیت اردو شاعر کے نام کمایا وہ بھی کسی کی بیساکھیوں کے سہارے نہیں، اپنی محنت و مشقت اور قابلیت سے، دوسروں کو بڑی خاموشی سے ،عمر بھر فیض پہنچاتے رہے اور اپنی تمامتر کوششوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اور اپنا قیمتی وقت دے کر، کبھی کسی سے نہ اس کا معاوضہ طلب کیا اور نہ احسان ہی جتا یا ۔
مظفر ایرجؔ کے تعلقات ہندو پاک کے معروف ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ تھے جنہوں نے مرحوم کی شخصیت اور فن پر قلم اٹھایا ہے اور کھل کر اپنی آراء کا اظہار کیا ہے۔ ان کے بصیرت افروز مضامین وقتاً فوقتاً مختلف معیاری رسائل و جرائد میں شائع ہوچکے ہیں اور قارئینِ اردو ادب سے دا دِ تحسین بھی حاصل کرچکے ہیں۔ان کے پانچوں مجموعوں میں قابلِ قدر حصہ ان کی سادہ اور سلیس زبان و بیان میں کہی گئی فکر انگیز غزلوں کا ہے جبکہ نظمیں بھی انہوں نے اچھی تعداد میں کہی ہیں۔ بیچ میں مظہر امام ؔ کی آزاد نظموں کے طرز پر انہوں نے آزاد غزلوں پر بھی ایک مجموعہ شائع کرایا تھا۔ لیکن مظہر امامؔ کی متعارف کردہ یہ صنفِ سخن ،ادبی حلقوں، خاص طور پر کہنہ مشق اردو شعراء میں مقبول نہ ہوسکی ۔جس کی وجہ سے اس کو مطلوبہ پزیرائی نہ مل سکی اور یہ صنف سخن ،اس کے موجد اور اس کو فروغ دینے والوں جیسے مناظر عاشق ؔہرگانوی وغیرہ کی زندگیوں میں ہی دم توڑ گئی ۔مظفر ایرجؔ نے بھی اس غیر معروف صنفِ سخن سے جلد ہی ہاتھ کھینچ لیا  اور کنارہ کشی اختیار کی۔
مظفر ایرجؔ مرحوم کو ان کی حق گوئی، سادہ لوحی،بے لوث خلوص ومحبت،نرم مزاجی اورایثار و شفقت کے لئے یاد کیا جائے گا  جو ایک باد صبا کے جھونکے کی طرح ہی آئے اور چلے بھی گئے اور اپنے پیچھے لاتعداد یادیں چھوڑ کر رخصت ہوئے۔ایسے خاموش طبع ،کم گفتار اورملنسار اشحاص ملنے بہت مشکل ہوتے ہیں ،احقر کی لاتعداد یادیں مرحوم کے ساتھ وابستہ ہیں اس ابتدائی دور کی بھی جب ہماری جان پہچان ریڈیو کشمیر سے یوواوانی سروس شروع ہوتے ہی اردو مشاعروں میں شرکت سے ہوئی اور پھر دوبارہ جب اردو اکادمی کی جانب سے ۱۰؍اگست ۲۰۱۴؁ کو ہوٹل شہنشاہ پیلس میں ایک ادبی تقریب ہوئی، جس میں وحشیؔ سعید کی کتب کی رسم رونمائی پروفیسر حامدیؔ کاشمیری کے ہاتھوں ہوئی، اسی تقریب میں’ نگینہ‘ کی ازسرِ نو دوبارہ اشاعت کے ذریعے پہلے شمارے کی رسم رونمائی بھی ہوئی تھی جس میں ،میں مرحوم کے کہنے پر ہی شامل ہوا ہوں۔   
ڈاکٹر اشرف آثاری صدرہ بل‘حضرت بل سرینگر
E.mail:-   dr.ashraf.asari@gmail.com 
Mob:-9419017246 
�����