تازہ ترین

چین کا خلائی پروگرام- ایک نیا عالمی خطرہ

ندائے حق

تاریخ    3 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


اسد مرزا
جولائی 2021کے دوران دو بڑے سرمایہ کاروں کی خلائی پرواز نے خلا میں سفر کرنے کو عام انسانوں کے لیے حقیقت میں بدل دیا ۔ ان دونوں سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ بہت جلد ہی تجارتی طور پر خلا میں پرواز یں شروع کردیں گے۔ یہ تو خلائی سفر اور تحقیق کا ایک پہلو ہے لیکن اس کا دوسرا تشویش ناک پہلو چینی حکومت کا دفاعی اور صنعتی خلائی پروگرام ہے۔
یوں تو روس اور امریکہ سمیت دنیا کے ہر بڑے ملک کا اپنا خلائی پروگرام موجود ہے لیکن 1991میں روس اور امریکہ کے درمیان START معاہدے کے بعد ان خلائی پروگراموں کے ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لیے استعمال اور خلائی جنگ شروع کرنے پر عالمی پابندی عائد ہوگئی تھی۔ تاہم اب تک جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق چین کا خلائی پروگرام اپنے ملک کی دعاتی طاقت کو بڑھانے کے علاوہ اس کا منفی استعمال کرنے کے فراق میں بھی ہے۔
اگر ہم یہ کہیں کہ چین کا خلائی پروگرام صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے باعث تشویش ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ امریکی دفاعی تجزیہ نگاروں کے بقول مستقبل قریب میں چینی خلائی پروگرام امریکی دفاعی تقاضوں کو سب سے بڑا خطرہ پیش کرسکتا ہے۔
چینی عزائم
مارچ2013میں چینی صدر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد ذی جین پنگ نے چین کے خلائی عزائم کو ان الفاظ کے ساتھ بہت واضح کردیا تھا کہ چین اپنے خلائی مشن کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ اس خواب کو عملی جامہ پہنا کر اسے شرمندہ تعبیر کیا جاسکے، کیونکہ ایک خلائی طاقت بننے کے بعد چین اور زیادہ طاقتور ملک بن جائے گا۔
چین کا منصوبہ ہے کہ سن2045تک وہ دنیا کی خلائی طاقتوں کی رہنمائی کرنے کے قابل ہوجائے۔ China Daily  اخبار نے سن2017میں اپنے ایک اداریہ میں تحریر کیا تھا کہ چینی قائدین یہ امید کرتے ہیں کہ بہت جلد چین خلائی سازوسامان اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرکے صفحہ اول کے ملکوں میں شامل ہوجائے گا اور ساتھ ہی وہ اپنے خلائی مشن کو اتنا فروغ دے سکے گا کہ وہ انسان اور کمپیوٹر کے اشتراک سے خلائی ریسرچ اور غیر معروف خلائی تحقیق میں سب ملکوں سے آگے نکل سکتا ہے۔
امریکہ-چین معاشی اور سیکوریٹی کمیشن نے اپنی2019کی سالانہ رپورٹ میں امریکی کانگریس کو آگاہ کیا تھا کہ چین ایسے اقدامات کررہا ہے جس کے ذریعہ وہ خلائی راکٹ اور سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے میں مغربی ممالک سے آگے نکل جاسکتا ہے  اور ایسا اس لیے ممکن ہے کہ اس پروگرام کے لیے چینی حکومت خاطر خواہ سرمایہ لگارہی ہے اور پیسہ خرچ کررہی ہے جس کا مقابلہ مغربی نجی ادارے کسی بھی حال میں نہیں کرسکتے ہیں، کیونکہ ان کو حکومت کی امداد بہت کم مہیا کرائی جاتی ہے۔
امریکی وزیر دفاع لایڈ اسٹن نے سال کے شروع میں اپنے منصب کا حلف لینے سے پہلے کہا تھا کہ چین اور روس کے خلائی مشن، امریکی دفاعی مفادات کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ یہ دونوں ہی ملک یہ مانتے ہیں کہ مستقبل میں ہونے والی کوئی بھی جنگ جیتنے کے لیے خلائی برتری ہونا لازمی ہے  اور ان کے خلائی مشن کا اصل محور اس کا دفاعی استعمال ہے۔
چین کے اصل عزائم کا اندازہ اس جانکاری سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ چین کے خلائی مشن کا ایک اہم حصہ Beidou Navigation Satellite یعنی BDSیا بی ڈی ایس کو طاقتور بنانا ہے جس کے بعد وہ عالمی سمت شناسی، ڈاٹا مواصلات اور راستوں کےNavigation System کے  استعمال میں خود کفیل ہوجائے گا اور اسے مغربی GPSکے استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور اس طرح اس کی فوج، طیاروں کی پرواز یں اور خلائی راکٹوں کی پرواز یں یعنی کہ سب ہی کچھ مغربی دنیا سے پوشیدہ رہیں گے۔ امریکہ کی جیمس ٹاؤن فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق یوں تو چین ظاہری طور پر یہ کہتا ہے کہ بی ڈی ایس کا استعمال سول شعبے یا عام شہری کے لیے کیا جائے گا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد چینی فوج کی زیر نگرانی ہورہا ہے اور خفیہ طریقے سے ہورہا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بی ڈی ایس کو ہم ’خلائی سلک روڈ‘ بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہ چین کے زمینی سلک روڈ یا بحریہ سلکی روڈ جو کہ زمینی اور سمندری راستوں پر چینی اجارہ داری قائم کرنے کے منصوبے ہیں، ان کے استعمال سے چین نے کافی بڑی تعداد میں عالمی تجارت پر اپنا قبضہ جما لیا ہے، اسی طرح مستقبل  میں خلا میں بھی بی ڈی ایس کے ذریعہ اپنی سبقت اور اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
دراصل چین کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ غریب ممالک کو اپنے خلائی سلک روڈ کی افادیت بتاتے ہوئے ان کے ساتھ معاہدے کرے گا، جس کا نتیجہ یہ سامنے آئے گا کہ اکثر ممالک چین کے زیر سایہ آجائیں گے کیونکہ چین ان کی معاشی ترقی کے لیے انھیں قرض دے کر اس پروگرام میں شامل ہونے کی ترغیب دے گا اور جب ان ملکوں کا چینی ٹیکنالوجی پر انحصار بڑھ جائے گا تب چین ان کے اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت کرسکتا ہے یا ان کی پالیسی اور ترجیحات تبدیل کرانے کے لیے ان پر اثر انداز ہوسکتا ہے یا پوری طرح انھیں اپنے قبضے میں لے سکتا ہے جیسا کہ زمینی اور بحری سلک روڈ منصوبوں کے ذریعہ سری لنکا اور کئی دیگر جنوب امریکی ممالک میں دیکھنے میں آیا ہے۔
چین کی اس تشویشناک پہل کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ خلائی ٹکنالوجی اور کاروبار پر اس کا پورا قبضہ ہوجائے۔ اس کے لیے وہ دوسرے ممالک کے سیارچے کم قیمت پر خلا میں روانہ کررہا ہے اور اس طرح امریکی اور یوروپی ممالک کی برتری کو ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
چین کا مشن چاند
چینی کمیونسٹ پارٹی کے اخبار چائنہ ڈیلی نے سن2019کے اپنے ایک اداریہ میں تحریر کیا تھا کہ چین کے خلائی پروگرام کا ہدف چاند پر ایک پائیدار اور مضبوط بیس اسٹیشن بنانا ہے تاکہ چینی سائنس داں وہاں مستقل طور پر رہ کر چاند سے آگے کے خلائی مشن بھیج سکیں۔ اس کے علاوہ مریخ تک انسانی خلائی پرواز کرانا بھی اس پروگرام کے اہداف میں شامل ہے۔
مزید براں اس پروگرام کا دوسرا تشویش نا ک پہلو ہے چین اور روس کے درمیان ٹیکنالوجی اور تحقیق کے ضمن میں بڑھتا ہوا اشتراک۔ گزشتہ مارچ میں دونوں ملکوں نے خلائی اشتراک کے ضمن میں ایک معاہدہ قرار دیا تھا جس کے مطابق دونوں ملک چاند پر تحقیق کے علاوہ اس کا صنعتی  یا کاروبای فائدہ حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔
چین اور امریکی افواج
اگر چین اور امریکہ کی دفاعی طاقت کا موازنہ کیا جائے تو ظاہر ہوجائے گا کہ ایک عام اندازے کے برخلاف چین کی دفاعی طاقت امریکہ سے کہیں زیادہ ہے۔ سن2020کی پینٹاگن کی ایک رپورٹ اور Armedforces.euنامی دفاعی ویب سائٹ کے مطابق چین کے پاس350بحری جنگی جہاز ہیں اور 130سے زائد جنگی آبدوز ہیں، جبکہ امریکہ کے پاس صرف 293بحری جنگی جہاز اور 71 جنگی آبدوز ہیں۔ چین کے پاس 1250سے زائد زمین سے مارکرنے والے بلاسٹک میزائل ہیں جس میں زمین سے مار کرنے والے کروز میزائل بھی شامل ہیں اور ان میزائلوں کی مار 500 سے5500کلومیٹر تک ہوسکتی ہے یعنی کہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے پر ان کے ذریعے حملہ کرسکتا ہے۔ جبکہ امریکہ کے بلاسٹک میزائل صرف 70سے 300کلومیٹر تک ہی مار کرسکتے ہیں۔ اگر فضائیہ کی بات کریں تو امریکہ کے پاس 12508 طیارے موجود ہیں تاہم چین کے پاس یہ تعداد گو کہ کم ہے لیکن اس کے نجی طیاروں کی تعداد امریکہ کے مقابلے تین گنا زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ پوری دنیا میں زمین سے ہوا میں مار کرنے والے راکٹوں کا سب سے بڑا ذخیرہ چین کے پاس موجودہے۔
مجموعی طور پر یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جس طرح چین پوشیدہ طریقے سے ہر کام کرتا ہے اسی طرح اس کا خلائی پروگرام بھی مکمل طور پر پوشیدہ اور واضح اہداف منظرِ عام پر لائے بغیر جاری ہے۔یہاں یہ باور کرانا بھی غلط نہیں ہوگا کہ سائنس دانوں کے بقول آج سے دس یا بیس سال کے بعد لڑی جانے والی  جنگیں اپنے فوجی دوسروں ملکوں میں بھیجے بغیر خلائی اور فضائیہ ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے لڑی جائیں گی، جس میں کہ چین سبقت حاصل کرنے کی کوششیں تیز کرتا چلا جارہا ہے۔
 اس پس منظر میں حال ہی میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے امریکہ کے دفاعی بجٹ میں کٹوتی کے فیصلہ سے دفاعی ماہرین حیران ہیں کیونکہ ان کے بقول اگر امریکہ کا دفاعی بجٹ کم ہوتا ہے تو چینی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے  مشکلیں پیش آسکتی ہیں جو کہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔)
www.asad-mirza.blogspot.com
��������