تازہ ترین

بسوں کے روٹوں میں ہیرپھیر،مسافروں اور ٹرانسپورٹروں کےلئے سوہان روح

بٹہ مالوسے بٹہ وارہ کاسفر30منٹ کے بجائے 1 گھنٹے میں بھی نامکمل،دیگرروٹوں کا بھی یہی حال

تاریخ    2 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


 سرینگر// شہر میں مسافر بردار گاڑیوں کا رُخ موڑنے سے بٹوارہ سے ڈلگیٹ تک زبردست ٹریفک جام کے نتیجے میں عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،جبکہ سفر کے اوقات میں بھی صد فیصد اضافہ ہوا ہے۔ شہر میں ٹریفک جام سے نپٹنے کیلئے جہاں ٹریفک پولیس اور متعلقہ ایجنسیاں متحرک ہےں وہی حالیہ ایام میں بٹہ مالو سے چھوٹی مسافربردار گاڑیوں کو لل دید اسپتال کی جانب سے موڑنے کی وجہ سے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ گاڑیوں کا رخ اس جانب موڑنے سے صبح و شام کے وقت بٹوارہ سے ٹی آر سی اور ڈلگیٹ تک جہاں ٹریفک جام کے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں اور سفر کے مکمل ہونے کاوقت بھی دو گناہ ہوگیا ہے ،وہیں لالچوک میں مسافروں کو ہری سنگھ ہائی اسٹرئٹ تک پیدل سفر کرکے گاڑیوں میں بیٹھنا پڑتا ہے۔ شبیر احمد نامی ایک ملازم نے کہا کہ اس کو اب لالچوک سے بٹوارہ گاڑی نہیں ملتی بلکہ بٹہ مالو سے گاڑیاں چلنے کے بعد ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ اور بعد میں عبداللہ برج کے راستے سے ڈلگیٹ پہنچتی ہےں اور پھر ڈلگیٹ سے ہوکر بٹوارہ جاتی ہےں۔شبیر کا کہنا تھا کہ لالچوک سے بٹوارہ تک کا سفر جہاں صرف4کلو میٹر ہے وہی اب یہ صفر8 کلو میٹروں میں تبدیل ہوگیا ہے اور اب آدھ گھنٹے کے بجائے ایک گھنٹہ گھر پہنچنے میں لگ جاتا ہے۔ جاوید احمد ساکن پلہ پورہ سونہ وار نامی ایک دکاندار نے بھی اسی طرح کی روئیداد بیان کرتے ہوئے کہا کہ گاڑیوں کا رُخ موڑنے سے ان کیلئے ایک نئی مصیبت کھڑی ہوگئی ہے اور اب جہاں انہیں گاڑیوں کیلئے کافی انتظار کرنا پڑتا ہے،وہی لالچوک سے گرمیوں کے ان موسم میں ایک کلو میٹر کا سفر بھی پیدل ہی طے کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح کی صورتحال پائین شہر اور صورہ جانے والی گاڑیوں کیلئے بھی پیدا ہوگئی ہے،اور انکا رخ موڑنے سے بھی مسافروں کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ محمد اسلم نامی ایک ڈرائیور نے بتایا کہ 4کلو میٹر کے سفر کو د وگناہ کرکے8کلو میٹر بنایا گیا، جس سے ان کے ایندھن کی کھپت بھی زیادہ ہوتی ہے،اور کرایہ وہی کا وہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ایام میں ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہے، اور وہ مشکل سے اپنا گزارہ کر رہے تھے،مگر اب نئے فرمان کی وجہ سے انہیں آمدنی کے بجائے نقصان کا سامنا ہی کرنا پڑتا ہے۔ ٹرانسپوٹروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ2برسوں کے حالات کی وجہ سے پہلے ہی یہ صنعت دم توڑ چکی ہے،اور اس پر اب نئے سرکیولروں نے ان کا جینا حرام کردیا ہے۔انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں تاکہ ٹرانسپوٹروں کے علاوہ مسافروں کو بھی راحت پہنچے۔