تازہ ترین

وادی میں گیلاس کے بعد آلو بخارہ کا سیزن جوبن پر

۔1339ہیکٹر باغات سے سالانہ 900میٹرک ٹن پیدوار حاصل ، رواں سال 10فیصد کا اضافہ ہوا :ڈائریکٹر جنرل

تاریخ    2 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر // وادی کشمیرمیں آلو بخارہ کا سیزن اس وقت جوبن پر ہے اور مارکیٹ میں ہر جگہ اس کی خرید فروخت ہو رہی ہے۔اس سال اس کی پیداوار میں10 فیصد کا اضافہ بھی ہوا ہے ۔ وادی میں آلو بخارہ کے باغات 1339ہیکٹر اراضی پر پھیلے ہوئے ہیں اور ان سے سالانہ اوسطاّ9000 میٹرک ٹن پیداوار ہوتی ہے۔ سرینگر میں 1100میٹرک ٹن ،گاندربل میں 1700 ،بڈگام میں 2800، بارہمولہ میں 900، پلوامہ میں 800 کے علاوہ شوپیاں اور کولگام میں 400 چار سومیٹرک ٹن پیداوار ہوتی ہے۔کپوارہ، بانڈی پورہ اور اننت ناگ ایسے 3اضلاع ہیں جہاں اس میوہ کی پیداوار نہیں ہوتی ہے۔وادی میں آلو بخارہ کی 10اقسام کاشت کی جاتی ہیں اور یہ رسیلا پھل بازاروں میں میں صرف دو مہینوں جولائی اور اگست میں دستیاب رہتا ہے ۔محکمہ باغبانی کا کہنا ہے کہ اس میوہ کو منڈیوں تک پہنچانے اور خریدو وفروخت کےلئے کسانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ آلو بخارہ ایک ایسا میوہ ہے جو مختلف امراض کےلئے بھی مفید ہے ۔معالجین کا کہنا ہے کہ سال 2010میں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کے استعمال سے خون میں کولسٹرال کی مقدار موزون رہتی ہے اور اس میں وٹامن ، کاپر ، پوٹاشیم ، کوینک ،ایسڈاور سوربی ٹول کی بھرپور مقدار ہوتی ہے جو کہ معدے اور انتڑیوں کو مضبوط کرتا ہے۔
اس کے استعمال سے ذیبابیطس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے اور اس کی وجہ سے قبض جیسی بیماری سے بھی نجات مل سکتی ہے ۔معلوم رہے کہ ہارٹیکلچر سیکٹر جموں کشمیر کی اقتصادیات میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہوئے کم وبیش33لاکھ آبادی کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ہارٹیکلچر سیکٹر کے ساتھ جموں کشمیرکے33 لاکھ گھرانے بلواسطہ یا بلا واسطہ طور پر ج±ڑے ہوئے ہیں اور مکمل طور اسی پر منحصر ہیں۔یہ سیکٹر اب جموں کشمیرکے جی ڈی پی کا ایک اہم حصہ ہے جو اس حقیقت سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ1972-73میں اس کی کل پیداوار1.83میٹرک ٹن تھی لیکن 2015-16میں اس کی آمدن 6ہزار کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ وادی کشمیر میں پیدا ہونے والے سیب،بادام،اخروٹ،ناشپاتی،گلاس اور خوبانی نے مقامی و بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنا ایک اہم اور الگ نام کمایا ہے۔
محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل اعجاز احمد بٹ نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سال کا موسم ابھی تک باغبانی شعبہ کےلئے کافی موافق رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس سال خوبانی، گلاس اور آلو بخارہ کےلئے موسم کافی سازگاررہا ،صرف آلو بخارہ کی پیداوار ہی نہیں بلکہ خوبانی کی بھی 1500میٹرک ٹن پیداوار ہوئی ہے ۔اعجاز احمد بٹ نے کہا کہ وادی میں آلو بخارہ کی پیداور 9ہزار میٹرک ٹن ہوتی ہے ،لیکن اس سال اس میں 10فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کی کوشش ہے کہ پیدوار کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ہم لوگوں کو معیاری میوہ جات فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ آلو بخارہ کا جام بھی بنتا ہے اور محکمہ کی کوشش ہے کہ اس کےلئے بعض کمپنیوں سے رابطہ کیا جائے تاکہ کسانوں کو زیادہ سے زیادہ فائردہ مل سکے، جس سے اسکی پیداوار میں بھی اضافہ کرنے کی ترغیب مل جائے گی۔