تازہ ترین

ناگہ بیرن مارسر ترال میں5روز بعد معرکہ آرائی| جیش جنگجوساتھی سمیت جاں بحق

لیتہ پورہ خودکش حملہ ملوثین میں شامل، 4سال سے سرگرم اور مسعود اظہر کے خاندان سے تعلق تھا: فوج/پولیس

تاریخ    1 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


سید اعجاز +بلال فرقانی

 مہلوکین میں فدائین حملہ آور کا چچا زاد بھائی بھی شامل

 
ترال +سرینگر// ضلع پلوامہ کے تحت آنے والے مشہور صحت افزاء مقام ترال کے تارسر جنگلات میں5روز کے آپریشن کے بعد فوج کیساتھ جھڑپ کے دوران دو جنگجو جاں بحق ہوئے ۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے ایک جیش محمد کا سرکردہ کمانڈر تھا جس کی پولیس کو پچھلے 4سال سے تلاش تھی ، جو جیش سربراہ مسعود اظہر کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا اورجولیتہ پورہ خود کش حملے کی منصوبہ سازی میں ملوث تھا جو اس حملے کو انجام دینے تک خود کش عادل ڈار کے ساتھ تھا ۔پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد سوشل میڈیا پر فدائین کی جو ویڈیو وائرل کی گئی تھی اس میں اسی جنگجو کی آواز تھی۔دوسرے جنگجو کی شناخت سمیر احمد ڈار ساکن گنڈ باغ کاکہ پورہ پلوامہ کے بطور کی گئی ہے۔ سمیر احمد ڈار اور سیف اللہ کیخلاف این آئی اے نے چارج شیٹ بھی پیش کیا تھا اور یہ دونوں مفرور تھے۔سمیر احمد ڈار، لیتہ پورہ خود کش فدائین عادل احمد ڈار کا چچیرا بھائی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ سمیر 2018سے سرگرم تھا۔ 2018میں سمیر احمد گھر سے کشمیر یونیورسٹی کیلئے نکلا اور واپس نہیں آیا۔ اسکے بعد اسکے اہل خانہ نے گمشدگی رپورٹ بھی درج کرائی تھی۔اسکی رائفل کیساتھ تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
 

علاقے کا محل وقوع

جس مقام پر یہ جھڑپ ہوئی وہ ناگہ بیرن ترال کا علاقہ کہلاتا ہے۔پولیس کے مطابق ناگہ بیرن اور داچھی گام ہارون کی درمیانی جگہ’ مارسر‘  جنگلات میں یہ معرکہ آرائی ہوئی۔پولیس کے مطابق یہاں تک پہنچنے کیلئے داچھی گام ، ترال اور کھریو سے تین راستے جا تے ہیں اور چوتھا راستہ انتہائی دشوار گزار ہے جوآرڑو پہلگام سے بھی جاتا ہے۔ترال ہیڈکوارٹر سے یہاں تک کی مسافت قریب 60کلو میٹر ہے لیکن صرف 25کلو میٹر حاجی ناڑ پہاڑی علاقے تک ہی سڑک بنی ہوئی ہے اسکے بعد 35کلو میٹر کا راستہ پیدل سفر کرکے طے کیا جاسکتا ہے۔ناگہ بیرن انتہائی خوبصورت علاقہ ہے جہاں مقامی لوگ جاتے ہیں۔یہاں عام طور پر ٹریکنگ کے شوقین لوگ ہی جاسکتے ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ5روز سے2پیرا فوجی دستے اس جنگلاتی علاقے میں گھوم رہے تھے۔لیکن جمعہ کی صبح یہاں آپریشن وسیع کیا گیا ۔

فوج و پولیس کا بیان

 فوج نے داچھی گام کے بالائی و گھنے جنگلاتی علاقے تارسر کے نزدیک جھڑپ میں ہلاک ہونے والے جیش محمد سے تعلق رکھنے والے جنگجو سیف اللہ عرف لمبو کو بارودی سرنگوںکا ماہر اور لیتہ پورہ فدائین حملے کا ایک ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔ فوج کے بادامی باغ سرینگر میں قائم 15 ویںکور ہیڈ کوارٹر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چنار کور کے کمانڈر دیوندر پرتاپ پانڈے ، آئی جی پی کشمیر وجے کمار اور جی او سی وکٹر فورس نے سیف اللہ عرف عدنان عرف لمبو کی ساتھی سمیت ہلاکت کو فورسز کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لمبوجنوبی کشمیر میں پچھلے کچھ برسوں سے سرگرم تھا۔ جنرل پانڈے نے کہا کہ پولیس کی جانب سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر ، وکٹر فورس کے اہلکاروں نے 27 جولائی کو داچھی گام کے گھنے جنگلوں میں آپریشن شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ کی صبح جنگجوئوں سے آمنا سامنا ہوا اور اس کے بعد ہونے والے مقابلے میں جیش کا بارودی سرنگ تیار کرنے والا ماہر ، جو کہ ایک اعلیٰ تربیت یافتہ جنگجو بھی تھا ، اپنے ساتھی سمیت مارا گیا۔انہوں نے کہا’’وہ کئی حملوں ، نوجوان لڑکوں کو بھرتی کرنے اور انکا نظریہ تبدیل کرنے (برئن واشنگ)کے لیے ذمہ دار رہا ہے جبکہ وہ نئے بھرتی ہونے والوں کو ہتھیار اور تربیت بھی دیتا تھا۔ پانڈے کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول اور اندرونی علاقوں میں صورتحال قابو میں ہے اور اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ حد متارکہ اور اندرونی علاقوں میں امن قائم رکھا جائے تاکہ لوگ اچھے ماحول میں اپنا کام کرسکے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے کہا کہ لمبو عرف عدنان عرف سیف اللہ جیش سربراہ مسعود اظہر کا رشتہ دار تھا اور اس نے 2017 میں کشمیرکا رخ کیا تھا۔ آئی جی پی نے کہا کہ وہ 14 فروری 2019 کو لیتہ پورہ فدائین حملے کے مجموعی طور پر ملوث19 ملزمان میں شامل تھا،جن میں 7 کو گرفتار کیا گیا اور7ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ پانچ ابھی تک مفرور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چارج سیٹ میں قومی تفتیشی ایجنسی(این آئی اے) نے سیف اللہ عرف لمبوکا نام بھی شامل کیا تھا۔آئی جی پی نے کہا کہ لمبو حال ہی میں ترال میں ایس پی او فیاض احمد ، اس کی بیوی اور بیٹی کے قتل میں ملوث تھا۔ جنوبی کشمیر میں مقیم وکٹر فورس کے جی او سی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سیف اللہ عرف لمبوشہریوں کا فائدہ اٹھا کر محاصروں سے فرار ہوتا تھا اور آج کی کارروائی میں بھی اس نے دو خواتین کو ڈھال بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا ’’ وکٹر فورس کے اہلکاروں نے پیشہ ورانہ انداز میں اس کو گھیرے میں لیا اور اسے ساتھی سمیت صرف3 منٹ میں کسی بھی شہری کو خراش پہنچائے بغیرہلاک کر دیا۔انہوں نے بتایا کہ لمبو سے ایک ایم4کاربائن ، ایک گلوک پستول ، ایک چینی ساخت کاپستول اور ایک  اے کے47 رائفل برآمد ہوئی ہے۔ وکٹر فورس کے جی ائو سی نے کہا کہ گلاک پستول ایک نیم خودکار پستول ہے اور اسے سب ساتھ نہیں رکھتے۔
 
 

بگتور گریز میں شہری کی ہلاکت

 حادثاتی طور پر نالے میں گرا: فوج

عازم جان
 
بانڈی پورہ //بانڈی پورہ کے سرحدی علاقے بگتور گریز میں ایک 52 سالہ شخص کی لاش فورسز کیمپ کے باہر پائی گئی۔ لاش کو بعد میں داور سب ضلع اسپتال لایاگیا جہاں اسکے لواحقین نے الزام لگایا کہ عبداللہ حجام ولد عبدالرحمن کو جمعہ کی شام فوج نے بگتورکے ازمرگ گا ئوں میں بلایا تھا جہاں اسکی موت ہوئی اور اسککی لاش کیمپ کے باہر پھینک دی گئی۔ موصوف اپنے پیچھے پانچ بچوں کو چھوڑگئے ہیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ بظاہر احتجاج یا 'غلط معلومات'  روکنے کیلئے گا ئوں کیلئے انٹرنیٹ اور فون سروس ، جو لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہے ، ہفتہ کی صبح سے بند تھی ۔اس واقعہ کے بارے میں فوج نے سنیچر کی شام ایک بیان میں کہا کہ  مذکورہ شخص مشتبہ افراد کوڈھونڈنے کے دوران فوج کی مدد کررہا تھا، جس کے دوران وہ پائوں پھسلنے سے  نیچے گر گیا اور اسکی موت واقع ہوئی۔فوج نے کہا کہ تھر بل بگتور کے عبداللہ حجام نے جنگلاتی علاقے میں کچھ مشتبہ حرکات دیکھیں تھیں، جس کے فوراً بعد اس نے فوج کو مطلع کیا اور فوج کی تلاشی پارٹی اسکے ساتھ جنگل کی طرف نکلی۔بیان میں کہا گیا کہ تلاشی پارٹی دشوار گذار راستے سے جارہی تھی لیکن بدقسمتی سے حجام نیچے نالے میں جا گرا۔تاہم فوج نے اس وہاں سے بچایا اور فوجی ڈاکٹر کے پاس لے آئے جس نے اسکا علاج و معالجہ کیا لیکن سنیچر کی صبح 8بجے وہ دم توڑ بیٹھا۔فوج نے مزید کہا ہے کہ کنبے کی ہر ممکن امداد دی جارہی ہے اور لاش کا پوسٹ مارٹم کر کے اسے لواحقین کے حوالے کی گئی۔
 
 

 راجوری ،پونچھ شاہراہ پر

۔  3 کلو وزنی بارودی سرنگ برآمد

نیوز ڈیسک
 
راجوری //پولیس اورفورسزنے اُسوقت ایک بڑا ممکنہ خطرہ ٹال دیا،جب راجوری پونچھ شاہراہ پر نصب بارودی سرنگ برآمد کرکے اسے بروقت ناکارہ بنایاگیا۔ سیکورٹی فورسز کی ایک گشتی پارٹی نے سنیچر کی صبح شاہراہ پر بٹھونی اور ڈلوگرہ کے درمیان 3 کلو وزنی ایک بارودی سرنگ کو دودھ کے ایک برتن میں چھپائے ہوئے دیکھا جس کے پیش نظر شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل کو احتیاطی طور پر روک دیا گیا۔ بم ناکارہ بنانے والی ایک ٹیم کو جائے موقع پر طلب کیا گیا جنہوں اس کو بغیر کوئی نقصان پہنچائے ناکارہ بنا دیا۔ فوج اور پولیس نے ان علاقوں میں ہفتے کی صبح تلاشی آپریشن بھی کیا۔