تازہ ترین

دھوکا

افسانہ

تاریخ    1 اگست 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر عقیلہ
  امنگوں آرزؤں کی کونپلیں پھوٹنے لگیں۔ بہار کا موسم جیسے آ ہی گیا ہو۔ ہزاروں ارمانوں و خواہشات کے ساتھ نسیم بھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکا تھا۔
بیٹا اللہ نے ہمارے سارے دکھ درد دور کرکے ہمیں نعمتوں سے نوازا ہے اور اب تو تمہاری نوکری بھی لگ گئی ہے۔ ماں نے دپٹے کے کونے سے اپنے آنسوؤں کو پونچھتے ہوئے کہا۔
اُف اَمی آپ رو رہی ہیں۔ مجھے اچھا نہیں لگتا۔
نہیں پگلے یہ تو خوشی کے آنسوہیں۔ اللہ نے مجھے اتنے خدمت گذار بیٹے سے نوازا ہے۔ بس بیٹا میری ایک آخری خواہش ہے؟
وہ کیا اَمی؟
میں اپنے پوتے کو کھلانا چاہتی ہوں۔ بیٹا تم اب شادی کرلو ۔ مجھے بہو لادو۔
دیکھو بیٹا! اگر تمہاری نظر میں کوئی لڑکی ہو تو بتاؤ ؟ ورنہ گُڈن کی اماں تمہارے لئے رشتہ لیکر آئی تھی۔
لڑکی کی یہ تصویر بھی دیکر گئی ہے۔ تم دیکھ لو۔ 
امی نے تصویر کو میز پر رکھتے ہوئے کہا۔
امی! میری کوئی پسند نہیں ہے۔ آپ کو جو پسند ہے وہ مجھے بھی پسند ہے۔
ٹھیک ہے بیٹا! تو پھر میں رشتہ کے لئے ہاں کر دوں۔
جیسا آپ ٹھیک سمجھیں۔
گھر میں شادی کی شہنائیاں گونجنے لگیں۔ ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا۔ امی بہو کو دیکھ کر بہت خوش تھیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ان کی زبان تھک نہیں رہی تھی۔ کبھی بہو کی بلیئاں لیتی اور کبھی اسکی نظر اُتارتی تو کبھی اسے دعاؤں سے نوازتیں۔ دودھو نہاؤ پوتو پھلوں۔
رات کافی ہو چکی تھی۔ سبھی مہمان بھی واپس گھر جا چکے تھے۔ بیٹا! اب تم بھی اپنے کمرے میں جاؤ بہو انتظار کر رہی ہوگی۔
نسیم کمرے میں داخل ہوا اور دروازہ بند کرکے کرن کے نزدیک بیڈ پر بیٹھ گیا۔ 
ما شاء اللہ ! کرن تم بہت خوبصورت ہو۔ لیکن سنو! میں تم سے ایک بات ابھی صاف طور پر کہہ دینا چاہتا ہوں۔ دنیا میں میری امی میرے لئے سب کچھ ہے۔ ابو کے انتقال کے بعد امی نے بہت محنت مشققت سے مجھے پال پوس کر بڑا کیا اورمجھے پڑھایا لکھایا۔میں اپنی امی سے بہت محبت کرتا ہوں۔ کرن اسلئے میں چاہتا ہوں کہ امی کو کبھی بھی کوئی تکلیف نہ ہو۔ لیکن سنو! تم بھی میرے لئے بہت معنی رکھتی ہو۔ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔
دروازے پر دستک ہوئی۔ ارے بیٹا صبح ہوگئی۔ تم دونوں کے لئے چائے لائی ہوں۔
کرن نے کمرے کا دروازہ کھولا۔ السلام علیکم امی!
وعلیکم السلام  جیتی رہو بیٹی۔ امی نے بڑی شفقت سے کرن کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
تم دونوں تیار ہو جاؤ میں تمہارے لئے ناشتہ تیار کرتی ہوں۔
تھوڑی ہی دیر میں امی نے ناشتہ ڈائنگ ٹیبل پر لگا کر بچوں کو آواز لگائی۔ 
ارے یہ کیا بیٹا! تم آج آفس جا رہے ہو؟
ہاں امی !
ناشتے کے بعد نسیم نے امی سے اجازت لی اور آفس کے لئے روانہ ہوگیا۔
کرن یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔
شام کو نسیم آفس سے لوٹتا تو پہلے امی کے کمرے میں داخل ہوتا۔ امی کی خیریت معلوم کرکے اوپر کرن کے پاس گیا۔
سنو ! آج ہم کہیں گھومنے چلیں گے۔ کرن نے کہا۔
ٹھیک ہے تم تیار ہو جاؤ میں ذرا امی سے اجازت لیکر آتا ہوں۔ 
اُف! آپ ہر وقت امی امی کیوں کرتے رہتے ہیں؟ کیا ہر چھوٹی بات کے لئے امی سے اجازت لینا ضروری ہے؟
میں تو تنگ آگئی۔ کرن نے غصے میں کہا۔
کرن! یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟ امی منع تھوڑی ہی کر دیں گی۔امی سے اجازت لینے میں کیا بُرائی ہے؟
مجھے ایسی باتیں بالکل پسند نہیں ہے۔ میں نے تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا۔مجھے امی کے خلاف کوئی بات پسند نہیں۔
تو ٹھیک ہے۔ اگر تمہارے لئے میری کوئی اہمیت نہیں ہے تومیں اپنے میکے واپس جا رہی ہوں۔
کرن! میں نے تمہیں پہلے ہی بتا دیا تھاکہ میں امی سے بہت محبت کرتا ہوں۔ میں تم سے بھی بہت محبت کرتا ہوں ۔ بس میں امی کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔  اگر پھر بھی تم میکے جانا چاہتی ہو تو پھر تمہاری مرضی۔
ٹھیک ہے میںاس گھر میں ایک منٹ بھی نہیں رہ سکتی جہاں میری کوئی قدر نہ ہو ۔ کرن نے بیگ اٹھایا اور کمرے کا دروازہ زور سے پٹکتے ہوئے باہر نکل گئی۔ امی نے کرن کو روکنے کی بہت کوشش کی مگر کرن ایک نہ مانی اور ٹیکسی میں بیٹھکرگھر کی طرف لوٹ گئی۔
ارے کرن تم اچانک کیسے آگئیں۔ داماد جی کہاں ہیں؟ سب خیریت تو ہے نا؟کرن کی ممی نے پوچھا۔
میں وہ گھر ہمیشہ کے لئے چھوڑ آئی ہوں۔
لیکن کیوں؟ کیا ہوا؟ مجھے بتا؟
کرن نے ماں کو سارا قصہ کہہ سنایا۔
کرن کی ماں نے سارا قصہ سننے کے بعد کچھ دیر سوچا اور اپنی شیطانی دماغ سے  سوچا اور بیٹی کو سب سمجھا دیا۔
سمجھ گئی بیٹی! ٹھیک ہے امی! یو آر جینیس!
میں نے نسیم کو فون کر دیا ہے اور وہ تجھے لینے آرہا ہے لیکن خیال رہے چال ایسی چلنا کہ سانپ بھی مر جائے اورلاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ سمجھ گئی بیٹی!
جی ممی!
اور یاد رہے اگر ذرا بھی چُوک ہوئی تو بڑھیا کے لئے نسیم کے دل میں محبت اور بڑھ جائے گی اور نسیم تجھ سے ہمیشہ کے لئے دور ہو جائے گا۔ کیا تو ایسا چاہتی ہے؟
نہیں ممی! آپ جیسا کہیں گی میں ویسا ہی کروں گی۔
دروازے پر کار کا ہارن بجنے لگا۔ کرن کی ماں نے کمرے کی کھڑکی کا پردہ  ہٹاتے ہوئے باہر دیکھا کار میں نسیم بیٹھا کرن کا انتظار کر رہا تھا۔ کرن کی ماں نے کہا ڈرامہ شروع کرو۔
کرن ہاتھ میں بیگ لئے واپس نسیم کے ساتھ ہولی۔ گھر جاکر کرن نے نسیم سے معافی مانگی۔ نسیم نے کرن کے پچھتاوے کے آنسو دیکھ کر اُسے گلے لگا لیا۔
مجھے معاف کر دیجئے نسیم پلیز۔
ارے پگلی! نسیم نے کرن کے آنسو پوچھتے ہوئے کہا۔
نہیں نسیم آپ مجھے کہہ لینے دیجئے۔ مجھ سے غلطی ہو گئی۔ میں تمہاری امی کو اب سے اپنی ماں سمجھوں گی۔ مجھے پلیز معاف کر دیجئے۔ٹھیک ہے نسیم نے کہا۔
نیچے سے امی کی آواز آئی ! نسیم بیٹا!
آپ رکیئے میں جاتی ہوں۔
کرن نے امی سے بھی معافی مانگی۔ امی آپ مجھے معاف کر دیجئے ! مجھ سے غلطی ہوگئی۔
امی نے بہو کو گلے سے لگا لیا۔
کرن امی کی بڑھ چڑھ کر خدمت کرنے لگی۔ کبھی ان کا سر دباتی تو کبھی ان کے پیر دباتی۔ سارا سارا دن امی کی خدمت میں گذارتی۔ 
یہ لو تمہاری تنخواہ! اب تمہیں اور کام پر آنے کی ضرورت نہیں۔ کرن نے نوکرانی کا حساب کرتے ہوئے کہااور جاکر کیچن میں امی کے لئے سوپ بنانے لگی۔ نسیم شام کو آفس سے تھکاہارا  آیا  اور اس نے کرن کو چائے بنانے کے لئے کہا۔
کرن ! میرے لئے ذرا چائے بنادو میرے سر میں کچھ درد ہو رہا ہے۔
سنو نسیم! کبڈ میں وِکس رکھی ہے لگا لو اور خود چائے بنالو۔ مجھے امی کے سر میں تیل لگانا ہے شام سے امی کے سر میں کچھ درد تھا۔یہ کہہ کر کرن امی کے کمرے کی طرف چلی گئی۔
رات زیادہ ہوگئی تھی ۔ نسیم کرن کا انتظار کرتا رہا لیکن کرن کمرے میں نہیں آئی۔ نسیم کمرے سے نکلا اور امی کے کمرے میں جھانک کر دیکھا تو کرن امی کے پاس سوئی ہوئی تھی۔ 
کرن! کرن!  نسیم نے دبی ہوئی آواز میں کرن کو جگایا اور کہا چلو اپنے بیڈ روم میں چلو۔
کرن نیند سے فورا اٹھ بیٹھی اور ہونٹ پر انگلی رکھتے ہوے کہا!شو۔۔۔ امی ابھی سوئیں ہیں۔ آپ جاکر سو جائیے میں امی کو چھوڑ کر نہیں آسکتی۔ معلوم ہے آپ کو دن بھر امی کو کتنا بخار تھا۔ ابھی بس تھوڑی آنکھ لگی ہے۔ آپ چلیں آرام کریں میں یہیں امی کے پاس ہوں ۔ کیا معلوم امی کو کب کس چیز کی ضرورت پڑ جائے۔
نسیم مایوسی اپنے بیڈروم میں چلا گیا۔ کروٹ بدلتے بدلتے نہ جانے کب اسکی آنکھ لگ گئی۔ صبح زور زور سے الارم بجنے لگا۔ نسیم ہڑبڑا کر جلدی جلدی اٹھااور ٹائم دیکھا تو آفس کے لئے دیر ہو رہی تھی۔ جلدی سے واش روم سے باہر آیا اور الماری میں شرٹ تلاش کرنے لگا۔ 
کرن! کرن! جلدی آؤ۔
کیا ہے؟ 
تم دن بھر کرتی کیا ہو؟  مجھے آج تم نے آفس کے لئے اٹھایا بھی نہیں اور اب ایک بھی شرٹ نہ تو دھلی ہے اور نہ پریس کرکے ہے۔ اب میں کیا پہن کر آفس جاؤں گا؟ بولو۔
میں دن بھر کوئی خالی نہیں بیٹھی رہتی۔ دن بھر امی کی دیکھ بھال کرتی ہوں۔ مجھے فرصت نہیں تمہارے کاموں کی اور آج کل سردی کی وجہ سے امی کو کھانسی اور بخاررہتا ہے۔ امی کو ہسپتال ڈاکٹر کے پاس لے گئی تھی۔ اور۔۔۔۔۔
بس کرو ۔ میں نے دن بھر کے کاموں کا حساب تم سے نہیں مانگاہے۔ میں آفس کیا پہن کر جاؤں۔ نسیم نے کہا۔
دیکھو جی آپ خودپریس کر لیجئے۔ امی کی دوائی کا ٹائم ہوگیاہے میں جاتی ہوں۔
اُف! نسیم نے پریس کو زمیں پر غصہ میں پٹک دیا اور امی سے ملے بغیر بیگ لیکر بغیر ناشتے کے آفس کے لئے نکل گیا۔
شام کو آفس نسیم لوٹا تو دیکھا کرن امی کے پاس بیٹھی کوئی کتاب پڑھکر سنا رہی تھی۔ یہاں تک کہ اسے نسیم کے آنے کی خبر بھی نہ ہوئی۔ 
نسیم نے کافی دیر کے بعد کرن کو پھر آواز دی۔ 
آپ آفس سے کب آئے ؟ مجھے معلوم ہی نہیں ہوا۔
ابھی آیا۔ تم امی کے پاس بیٹی تھیں۔
ہاں! وہ میں امی کو کتاب پڑھکر سنا رہی تھی۔ امی کا دل بہل جاتا ہے اور معلوم ہے آج کیا ہوا۔ امی نے۔۔۔۔
بس کرو کرن! ہر وقت امی امی کرتی رہتی ہو کبھی تم نے سوچا ہے ؟ میں کتنا اکیلا رہ گیا ہوں۔ بس اب اور نہیں۔
یہ کیا کہہ رہے ہو تم۔امی کے لئے کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ 
میں ٹھیک کہہ رہا  ہوں۔ تم مجھے بالکل بھول چکی ہو۔ ہر وقت امی کے پاس رہتی ہو۔
کیوں نہ رہوں۔ آخر تمہاری امی میری ماں جیسی ہیں اور ماں کی خدمت کرنا میرا فرض ہے۔ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہوتی ہے۔ معلوم ہے نا؟
ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہوتی ہے تو تم میری زندگی کیوں جہنم بنا رہی ہو۔ نسیم نے بہت غصے میں کہا۔
بس اب اور نہیں ۔ میں نے امی کا انتظام کر دیا ہے۔
کیا انتظام؟ کرن گھبراتے ہوئے پوچھا۔
اچانک دروازے پر ایک وین آکر رُکی۔
یہ گاڑی آپ نے کیوں بلائی ہے 
یہ گاڑی اولڈ ایج ہوم سے آئی ہے۔ نسیم نے جواب دیا۔
لیکن یہ کس لئے؟
اب امی ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتیں۔ انھیں میں اولڈ ایج ہوم بھیج رہا ہوں۔
مگر کیوں؟ وہاں ان کی دیکھ بھال کون کریگا؟
اسکی تم فکر مت کرو۔  وہاں اور لوگ بھی رہتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کے لئے ملازم ہوتے ہیں۔ امی وہاں زیادہ خوش رہیں گی اور ہم بھی
مگر۔۔۔ کرن نے کچھ بولنا چاہا۔ تو نسیم نے انگلی دِکھا کر اسے چپ کرا دیا۔
نسیم کے سامنے ڈرامہ کرتے ہوئے کرن روتے ہوئے گھر کے اندر چلی گئی۔
کچھ دیر بعد فون کی گھنٹی بجی۔
ٹرن ٹرن! ہیلو! دوسری طرف سے آواز آئی۔
مبارک ہو ممی! آپ کی چال کامیاب رہی۔ بڑھیا ہمارے پلان کے مطابق اولڈ ایج ہوم جا چکی ہے۔ بڑھیا کی خدمت کرتے کرتے تو میرے ہاتھ پیر تھک گئے۔ لیکن ممی آپ کا پلان واقعہ سولڈ تھا۔ اب اتنے بڑے گھر کی میں اکیلی رانی ہوں۔ اب صرف میرا ہی حکم چلے گا۔ ورنہ وہ بڑھیا تو میری آنکھ میں کانٹے طرح چبھتی تھی۔
ممی! آپ نے اس بڑھیا کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال دیا۔ میں نسیم کی نظروں میں خدمت گذار بہو ثابت ہوئی اور وہ بے وقوف ہماری چال کو سمجھ بھی نہ سکا۔ آپ نے سہی کہا تھاممی! سانپ بھی مرگیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی۔
اور زور زور سے کرن اور اسکی ماں ہنسنے لگیں۔
���
اسسٹنٹ پروفیسر بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
موبائل نمبر؛7006979242