تازہ ترین

کشتواڑ میں تیسرے روز کی کارروائی بھی ناکام| 17افراد ہنوز لاپتہ

کپوارہ،گاندربل اور ترال میں بادل پھٹے،3چھوٹے بڑے پل تباہ، کنال میں شگاف پڑنے سے کئی بستیاں زیر آب

تاریخ    31 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


عاصف بٹ +اشرف چراغ +ارشاد احمد +سید اعجاز
 کشتواڑ +کپوارہ +گاندربل +ترال // ہونزڈ دچھن کشتواڑ میں بادل پھٹنے کے قیر انگیز واقعہ کے دوران لاپتہ 19افراد کی تلاش تیسری روز بھی جاری رہی لیکن بچائو کارروائیوں کے دوران تیسرے روز بھی کوئی لاش بر آمد نہیں کی جاسکی۔اس دوران جمعہ کی دوپہر خمریال کپوارہ، نونر گاندربل اور لام ترال کے نالوں میں طغیانی آگئی اور پانی کے ریلوں نے کئی رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ 3 پلوں کو تباہ کردیا جبکہ ایک کنال میں شگاف پڑنے سے کئی بستیاں زیر آب آگئیں اور سینکڑوں کنال اراضی ڈھہ گئی۔

کشتواڑ

کشتواڑ میں بچائو کارروائیوں میں شامل ہونے کیلئے جموں اور سرینگر سے این ڈی آر ایف کی جو 30اراکین پر مشتمل ٹیم جمعرات کو کشتواڑ پہنچی تھی وہ خراب موسم کے باعث دچھن علاقے میں نہیں جاسکی جس کے بعد ٹیم نے پیدل چل کر متاثرہ گائوں کی طرف رخ کیا۔ آئی جی پی جموں کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر جمعہ کو ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔اس میں مزید کہا گیا ’’اے ڈی جی پی جموں مکیش سنگھ گزشتہ دو دنوں سے ہونزڈ دچھن میں خیمہ زن ہیں۔ وہ پولیس کی جانب سے ضلع انتظامیہ، فوج اور ایس ڈی آر ایف کے اشتراک سے شروع کئے جانے والے ریسکیو/سرچ آپریشن کی نگرانی/ قیادت کر رہے ہیں۔

کپوارہ

 خمریال کپوارہ میں بارشوں کے پانی نے تباہی مچا دی،  بادل پھٹنے سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے سے متعدد مکانات ،کھڑی فصلو ں اور پلوں کو نقصان پہنچا۔ کلاروس لولاب علاقہ میں بادل پھٹنے کے بعد نالہ کلاروس پر واقع کلاروس اور خمریال کے درمیان رابطہ پل نواب بازار  کے مقام پرڈھہ گیا۔اس نالے میں طغیانی آگئی جس کی وجہ سے خمریال لولاب علاقہ میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ۔سیلابی ریلے نے علاقہ میں دھان کی فصل کے علاوہ دیگر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچایا ۔اس دوران سیلابی پانی کے نتیجے میں ایک ٹپر بھی بہہ گیا۔سیلابی پانی رہائشی مکانو ں میں دا خل ہو گیا جس کی وجہ سے لوگ گھرو ں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔مقامی لوگو ں کے مطا بق سلہ کو ٹ ہائین ،ایز گنڈ ،گنڈ مانچھر ،گوس اور کاشیرہ میں بھی سیلاب نے تباہی مچادی جبکہ کئی سڑکیں سیلابی پانی کی وجہ سے زیر آب آگئیں۔سیلابی صورتحال کے بعد ضلع ترقیاتی کمشنر کپوارہ نے علاقہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا ۔انہو ں نے انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ لوگو ں کے جان و مال کو بچانے کے لئے فوری طور اقدامات اٹھائیں ۔

گاندربل 

گاندربل کے نونر علاقے میں جمعہ کی سہ پہر پادشاہی کنال کا ایک حصہ ڈھہ جانے سے ڈل بستی، ژپر گنڈ،نونر بی، سہہ پورہ سمیت دیگر بستیوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ۔ گوٹلی باغ علاقہ سے پادشاہی کنال گزرتی ہے ۔جمعہ صبح سے ہی موسلادھار بارشوں کا سلسلہ جاری تھا جس کی وجہ سے پادشاہی کنال کا ایک حفاظتی باندھ ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے نچلے علاقہ نونر کی متعدد بستیوں میں پانی گھس گیا۔درجنوں مکانات ،گائوخانے اور دکانوں کو نقصان پہنچاہے۔پانی کے تیز بہاو میں سرینگر لیہہ شاہراہ بھی پوری طرح زیر آب آگئی۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ نماز جمعہ کے بعد موسلادھار بارشوں میں اضافہ ہونے سے گوٹلی باغ علاقہ میں گزرنی والی پادشاہی کنال میں تغیانی آگئی جس کی وجہ سے ڈل بستی ،نونر بی، سہہ پورہ، بنک کالونی، ژپر گنڈ میں درجنوں رہائشی مکانات، گاوخانے ،دکانیں اور زرعی اراضی کو شدید نقصان پہنچا۔اس موقع پر این ڈی آر ایف کی ٹیم، پولیس اور ضلع انتظامیہ کی جانب سے بچائو کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

ترال

 ترال کے تحصیل آری پل کے کئی بڑے نالوں میں جمعہ کے روز اچانک طغیانی آگئی جس نے درختوں کے ساتھ ساتھ لام اور گٹنگو نالوں پر قائم عارضی پلوں کو اپنے ساتھ بہا لیا ۔اس کی وجہ سے کئی علاقوں کا آپس میں رابط منقطع ہوا ہے ۔ جمعہ کے روز سہ پہر قریب ساڑے چار بجے  لوگ گھروں بیٹھے تھے جس دوران موسم بھی ٹھیک تھا اور اچانک یہاں نالوں میں پانی کی سطح بڑھنے لگی اوراس نے درختوں ،اور پلوں کو اپنے ساتھ بہا لیا ۔سیلابی پانی نے نالہ لام پر دیدار پورہ اور جواہر پورہ کو جوڑنے والے عارضی پل کو بھی اپنے ساتھ بہا لیا ۔گوجر بستی بنگڈار کو باقی علاقوں سے جوڑنے والا پل بھی تیز بہائو والے پانی کے لہروں میں گم ہوا ۔مقامی لوگوںنے بتایا پانی آنے کے وقت بستی کے بیشتر لوگ گائوں سے باہر گئے ۔
 
 

۔5 روز بعد خاتون لاش بر آمد

 خاوند اور 2بیٹے ہنوز لاپتہ

محمد تسکین
 
بانہال//جموں کے رام بن علاقے میں5روز قبل پیش آئے المناک سڑک حادثے میں ریلوے پولیس سب انسپکٹر کی اہلیہ کی لاش دریائے چناب سے بر آمد کی گئی۔ تاہم دو معصوم  بچوں اور سب انسپکٹر کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ یہ واقعہ 26جولائی کو منکی موڑ رام بن کے نزدیک دن کے ایک بجے اس وقت پیش آیا تھا جب شمالی ریلوے میں تعینات انسپکٹر کا کنبہ اپنی نجی گاڑی میں سرینگر سے جموں کی طرف جارہا تھا۔گاڑی لڑھک کر دریائے چناب میں جاگری اور پورا کنبہ دریا برد ہوگیا۔ حادثے میں سب انسپکٹر راکیش کمار ولد مہندر ناتھ ، اہلیہ آشا رانی اور دو بیٹے سچت بھگت اور مہر بھگت دریائے چناب میںجا گرے اور  پانی کی اونچی لہروں میں گم ہوگئے۔ پانچ روز بعد ریلوے پولیس اہلکار کی اہلیہ کی نعش ریاسی کے مقام پر بر آمد کر لی گئی ہے جبکہ سب انسپکٹر اور اس کے دو بچوں کی نعشیں ابھی تک بر آمد نہیں ہو سکی ہے اور ان کی تلاش بڑے پیمانے پر جاری ہے ۔