تازہ ترین

سروس رُولز میں ترمیم

شروعات جل شکتی سے کی جائے

تاریخ    31 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


عبدالقیوم شاہ
جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے 19 جولائی کے روز ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں محکمہ جل شکتی کے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے فوری ہدایات جاری کرتے ہوئے محکمہ کے ذمہ داروں سے کہا کہ جموں کشمیر کے تمام ہسپتالوں، آنگن واڑی مراکز اور سکولوں کو پانی فراہم کرنے سے متعلق جاری کاموں کو 15 اگست تک مکمل کیا جائے۔شہروں، قصبون اور دیہات میں پینے کے پانی کی سخت قلّت کا نوٹس لیتے ہوئے ایل جی سنہا نے صاح اور محفوظ پانی کو بنیادی انسانی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا، ’’کسی بھی فرد یا گاوٴں کو پینے کے صاف پانی سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیئے۔‘‘ ایل جی موصوف نے مزید کہا کہ جل جیون مِشن مرکزی حکومت اور جموں کشمیر انتظامیہ کی اوّلین ترجیح ہے لہذا متعلقہ افسران اس معاملے میں غفلت شعاری سے کام نہیں لے سکتے۔ 
اس سے قبل 17 جولائی کو گورنر انتظامیہ نے ایک تازہ سرکیولر جاری کیا جسکے مطابق حکومت جموں کشمیر کے سروِس رُولز کی دفعہ 226 شق دوم میں ترمیم کرکے اعلان کردیا کہ جن سرکاری ملازمین کی کل مدّتِ کار 22 سال یا عمر 48 سال ہوچکی ہو اُنہیں ناقص کاکردگی کی پاداش میں فوراً سبکدوش کیا جائے گا۔ سرکیولر میں انتظامی سیکریٹریوں سے کہا گیا ہے کہ ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ملازمین کی نشاندہی کرکے اُن کی فہرست بنائی جائے تاکہ یہ فہرست محاذ اتھارٹی کے پاس بھیج کر مناسب کاروائی کی جاسکے۔ 
ایل جی سنہا کے یہ دونوں اقدامات قابل تعریف ہیں۔ اگر ان پر واقعی عمل ہوتا ہے تو یقیناً یہ شفاف اور فعال انتظامیہ کی فراہمی میں ایک انقلابی پہل ہوگی۔ چونکہ ایل جی موصوف نے خود ایک ہنگامی میٹنگ طلب کرکے  لاپرواہی اور سہل انگاری برتنے والے محکہ جل شکتی کے افسران کو لتاڈا ہے، لہذا اس سے قبل جاری کیا گیا جبری سبکدوشی کا حکم نامہ محکمہ جل شکتی کی موجودہ کارکردگی کے حوالے سے بروقت معلوم ہوتا ہے۔ 
قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے صحت عامہ کے حوالے سے پینے کے پانی اور صفائی و ستھرائی سے متعلق بعض انقلابی سیکیمیں جاری کی ہیں۔ جل جیون مِشن ان ہی سکیموں میں سے ایک ہے۔ اس سکیم پر براہ راست 50 ہزار کروڑ روپے اور پنچایتی اداروں کے ذریہ 26 ہزار کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی جارہی ہے۔ 
یہی وجہ ہے کہ21/2020 کے مالی سال کے لئے جموں کشمیر کے محکمہ جل شکتی کی خاطر 6346 کروڑ روپے کے بجٹ مصارف منظور کئے گئے۔ پارلیمنٹ میں اس بات کا اعلان کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے بتایا کہ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے لئے منطور کی گئی رقم سے 5102 کروڑ روپے زیادہ ہے۔ ظاہر ہے اس رقم میں محکمہ جل شکتی کے ملازمین کی تنخواہ، پینشن، گاڑیوں اور دیگر اثاثوں کے رکھ رکھاوٴ کا خرچہ شامل ہے، لیکن بجٹ میں اضافہ کا مطلب ہےکہ مرکزی حکومت جل جیون مِشن کے بارے میں نہایت سنجیدہ ہے۔ اس کا اعادہ ایل جی سنہا نے حالیہ میٹنگ میں افسران کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے بھی کیا۔ 
دو سال قبل  مرکزی حکومت نے پورے ملک میں ہر گھر تک پانی پہنچانے کے لئے ’’ہر گھر جل‘‘ نام کی مہم چھیڑ دی اور اعلان کیا کہ 2024 تک شہری، دیہی اور مضافاتی آبادیوں کے لئے پینے کا صاف پانی لوگوں کے گھروں میں موجود نل کے ذریعہ پہنچ جائے گا۔ لیکن ستم یہ ہے کہ جموں کشمیر میں محکمہ جل شکتی کے افسروں نے خوشامد کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے مرکزی حکومت کو بتایا کہ جموں کشمیر میں یہ ہدف اپریل 2021 میں ہی مکمل ہوجائے گا۔ ظاہر ہے حکومت ہند خوش ہوگئی، کہ جموں کشمیر ایک ریکارڈ بنانے جارہا ہے۔ اپریل تو گزر چکا ، کیا یہ ریکارڈ بن پایا؟ اس ضمن میں محکمہ جل شکتی کے اعلیٰ حکام سے چند سوالات کرتے ہیں: 
پارلیمنٹ میں جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق جموں کشمیرمیں 18 لاکھ 16 ہزار رجسٹرڈ گھرانے ہیں جن میں سے صرف دس لاکھ گھرانوں کو نل کے ذریعہ پینے کا صاف پانی مہیا ہے۔ محکمے نے مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ چیف سیکریٹری مسٹر سبرامنیم کو بار بار یقین دلایا ہے کہ مزید 4.90 لاکھ گھرانوں کو ’’ہر گھر جل‘‘ سیکم کے ساتھ اسی سال اپریل تک جوڑا جائے گا۔ اُس وعدے کا کیا ہوا؟ ۔
جون 2018 میں جل جیون مشن سے متعلق جموں میں ایک سیمینار منعقد ہوا۔ اس میں مرکزی جل جیون سکیم کے ڈائریکٹر بھرت لعل کے ساتھ ساتھ پینے کےپانی اور صفائی کی مرکزی وزارت کے اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔ ہمارے افسروں نے وعدہ کیا کہ جل جیون مشن کا پہلا مرحلہ جون 2020 میں مکمل ہوگا۔ اُس وعدے کا کیا ہوا؟ ۔
محکمہ جل شکتی کی ناقص کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے 31 مرکزی وزراٴ پر مشتمل پارلیمنٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی نے اس سال مارچ میں ایک ویڈیوکانفرنس کے ذریعہ محکمہ کے غافل افسروں کی سرزنش کی۔ کانفرنس کے دوران معلوم ہوا کہ جل جیون مشن کے تحت جموں کشمیر کے لئے 681.71 کروڑ روپے منظور کئے گئے ہیں جس میں سے محکمہ کو 53.72 کروڑ روپے پہلے ہی واگذار کئے جاچکے ہیں۔ مرکزی حکام نے پوچھا تو ہمارے افسروں نے جواب دیا کہ صرف 14.4 کروڑ خرچ ہوئے، یعنی واگذار رقم کا فقط 7 فی صد۔ ایسا کیوں؟ ظاہر ہے اس ضمن میں2019 کے حالات اور لاک ڈاوٴن کا بہانہ پیش کیا جائے گا۔ لیکن اسی کانفرنس میں معلوم ہوا کہ مالی سال 19/2018  میں 35.24 کروڑ روپے خرچ نہیں کئے گئے اور 20/2019 میں یہ رقم 148.92 کروڑ روپے تک پہنچ گئی تھی۔ محکمہ جل شکتی اس بات کا جواب عوام کے سامنے رکھے۔ 
ان سوالات کی روشنی میں پینے کے پانی سے متعلق موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو ایک عام شہری یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ اگر سروِس رُولز میں ترمیم کا مقصد واقعی انتظامیہ کو شفاف اور عوامی سہولات کو یقینی بنانا ہے تو اس کی شروعات محکمہ جل شکتی سے کی جائے۔ جائزہ میٹنگ میں ایل جی سہنا کی طرف سے ناراضگی کا اظہار اس بات کا برملاٴ ثبوت ہے کہ محکمہ ہر سطح پر ناکام ہے۔ ہر بڑے حاکم کے ساتھ محکمہ جل شکتی کے افسر مہنگے سوٹ اور ٹائی پہن کر ایک نیا وعدہ کرتے ہیں۔ جنوری میں جب اُسوقت کے چیف سیکریریٹری مسٹر سبرامنیم نے ایک ہنگامی میٹنگ بلائی تو اُنہیں بتایا گیا کہ اپریل تک سرینگر اور گاندربل کو ’’ہرگھر جل‘‘ مہم کے تحت ماڈل ڈسٹرکٹ بنایا جائے گا، ستم یہ ہے کہ اس سال سرینگر اور گاندربل میں ہی پینے کے پانی کا زیادہ بحران پیدا ہوگیا ہے۔ ریکارڈ کے لئے میں یہاں چیف انجینئیر جل شکتی کا وہ جملہ نقل کرتا ہوں جو وہ ہر بار دہراتے ہیں جب کوئی پوچھتا ہے کہ کشمیر میں پینے کے پانی کا بحران کیوں ہے؟ ۔
چیف صاحب کا جواب: ’’جی نہیں بحران نہیں ہے، ہمارے ٹینکر پانی پہنچا رہے ہیں۔‘‘ حد ہے، اُدھر وزیراعظم جل جیون مشن کی تکمیل کے لئے کوشاں ہیں، ایل جی منوج سہنا اس پر عمل کے لئے بے چین ہیں اور اِدھر صاحب ٹینکر دوڑا کر خوش ہیں کہ بحران ختم ہوگیا۔ ایسے سسٹم کا خدا ہی حافظ ہے۔ ایل جی سنہا کو محکمہ جل شکتی کے قصوروار افسروں کی لِسٹ جاری کرکے اس اہم اقدام پر عوامی قبولیت کی مہر ثبت کرنا ہوگی، ورنہ یہ تاثر مزید مستحکم ہوجائے گا کہ یہاں سبھی اعلانات اخبارات پر سُرخی جمانے کے لئے ہوتے ہیں اور بعد میں لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔  
رابطہ ( 9469679449, 7780882411 abdulaqayoomshah57@gmail.com) 
�������