تازہ ترین

!! مسلمان اور مسلمان میں فرق | تم سبھی کچھ ہو بتائو مسلمان بھی ہو؟

روشنی

تاریخ    30 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


عبدالعزیز
مسلمانوں کی نوے پنچانوے فیصد آبادی یا مسلم ممالک بحیثیت مجموعی قولاً ایک حد تک مسلمان رہنا پسند کرتے ہیں مگر عملاً نہیں۔ عادتاً وہی سب کچھ کرتے ہیں جو مسلمان نہیں ہیں، یہ سب قانونی مسلمان تو ہو سکتے ہیں حقیقی مسلمان ہر گز نہیں ہوسکتے: ’’سچے مسلمان تو وہ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرزتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں، جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے ان میں سے ( ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کیلئے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں، قصوروں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے‘‘(سورہ انفال 2-4)۔ ہر شخص جو ایمان کا دعویدار ہے مذکورہ آیات کی روشنی میں آیات کا متن یا ترجمہ پڑھ کر آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ وہ حقیقی مسلمان ہے یا قانونی مسلمان۔
ایمان کے ایک خاص معنی ایقان کے بھی ہیں۔ قرآن مجید اس معنی میں اس لفظ کو ہمیشہ صیغۂ فعل کی صورت میں لاتا ہے اور اس کے ساتھ اس کے متعلق کو بھی ذکر کرتا ہے۔ مثلاً ’’ایمان لایا (یقین کیا) رسول اس چیز پر جو اس پر اتاری گئی اس کے رب کی جانب سے اور مومنین۔ ہر ایک ایمان لایا اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر،اور اس کے رسولوں پر، اور کہا ہم اللہ کے رسولوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور کہا (صمیم قلب سے) ہم نے سنا اور اطاعت کی‘‘ (بقرہ: 285)۔ 
قرآن مجید کے اس استعمال سے بعضوں کو خیال ہوا کہ ایمان معتبر و حقیقی یہی ایقان ہے۔ اور یہ ایک یقین محض کی حالت ہے۔ اس وجہ سے عمل سے اس میں جو کوئی کمی یا زیادتی نہیں ہوسکتی۔ یقین اور عمل دو بالکل الگ الگ چیزیں ہیں، پس عمل یقین کا جز کیسے ہوسکتا ہے، پھر ان لوگوں کو یہ خیال ہوا کہ یہی رائے ہے جو ایمان و عمل کے باب میں حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ نے بھی اختیار فرمائی ہے۔ اس سے ان لوگوں کے خیال کو مزید تقویت ہوئی اور نتیجہ یہ ہوا کہ ایک واضح مسئلہ میں تاویل و توحید کے نہایت دور ازکار پہلو اختیار کرلئے گئے۔ 
لیکن ہمارے نزدیک یہ مسئلہ بالکل علاحدہ نوعیت رکھتا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ نے اس مسئلہ کو بالکل اس نگاہ سے دیکھا ہے جس نگاہ سے ایک قاضی و فقیہ ان مسائل کو دیکھتا ہے یا جس نگاہ سے امیر اسلام وراثت و نکاح اور خراج و جزیہ وغیرہ کے معاملات اور سیاسی مسائل کے فیصلے کرتا ہے۔ یہ قانون و سیاست کی نگاہ ہے جو حکمت و فلسفہ کی نگاہ سے بالکل مختلف ہے۔ اس اعتبار سے ہر وہ شخص مومن ہوگا جو اقرار کرے کہ وہ مسلمانوں کی جماعت میں سے ہے، یا جو مسلمانوں کے شعار اور ان کے ظاہر حالات میں بالکل ان کے طریقہ پر ہو۔ ایسے اشخاص کے متعلق یہی حکم لگایا جائے گا کہ یہ مسلمان ہیں۔ ان میں صادق و کاذب اور متقی و فاجر کی تفریق نہیں کی جائے گی۔اس قانونی ایمان پر سب برابر ہوں گے۔ اس میں کمی بیشی نہیں واقع ہوتی؛ کیونکہ قانون اور سیاست کی نگاہ خدا اور بندہ کے درمیان باطنی احوال و معاملات کی جستجو نہیں کیا کرتی۔ یہ معاملات صرف قیامت کے دن بے نقاب ہوں گے۔ سورہ حدید کی ایک آیت سے اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے۔ 
’’اس دن جبکہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھوگے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا۔ (ان سے کہا جائے گا کہ) ’’آج بشارت ہے تمہارے لئے‘‘۔ جنتیں ہوں گی جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔ اس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں، مگر ان سے کہا جائے گا پیچھے ہٹ جاؤ، اپنا نور کہیں اور تلاش کرو۔ پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب۔ وہ مومنوں سے پکار پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ مومن جواب دیں گے ہاں؛ مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا، موقع پرستی کی، شک میں پڑے رہے اور جھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا۔ آخر وقت تک وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکا دیتا رہا، لہٰذا آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنھوں نے کھلا کھلا کفر کیا تھا۔ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے، وہی تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے اور یہ بدترین انجام ہے۔ کیا ایمان لانے والوں کیلئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اس کے نازل کردہ حق کے آگے جھکیں اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنھیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ایک لمبی مدت ان پر گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں؟ خوب جان لو کہ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے، ہم نے نشانیاں تم کو صاف صاف دکھا دی ہیں، شاید کہ تم عقل سے کام لو‘‘۔ 
اس سے معلوم ہوا کہ ایک جماعت ایسی ہے جو دنیا کی زندگی میں تو مومنین کے ساتھ ہے لیکن آخرت میں ان سے علاحدہ کردی جائے گی اور اس کا حشر کفار کے ساتھ ہوگا۔ ظاہر ہے کہ ایسا ہونا اسی صورت میں ممکن ہے جب میرا اسلام مسلمانوں کو اور ان لوگوں کو جو اگر چہ مسلمان نہیں ہیں لیکن زبان سے اسلام کا اظہار کرتے ہیں، معاملات میں بالکل یکساں درجہ دے۔ پس امام ابو حنیفہؒ نے اس بحث میں ایمان سے اس کے خاص مفہوم یعنی ایقان کو نہیں مراد لیا بلکہ مجرد اقرار و اظہار کو مراد لیا ہے یعنی ان کے سامنے سوال یہ تھا کہ ایمان قول و عمل دونوں کا نام ہے یا محض قول کا؟ یہ سوال نہ تھا کہ علم و عمل دونوں کا نام ہے یا محض علم کا۔ اگر سوال موخر الذکر صورت میں ہوتا تو اس کا جواب محض ایک ہی ہوتا؛ کیونکہ اس بارے میں دو رائیں نہیں ہوسکتیں کہ ایمان علم و عمل دونوں چیزوں کا مجموعہ ہے۔ 
اب غور کرو اس بارہ میں ایک جج کا نقطۂ نگاہ کیا ہونا چاہئے؟ ظاہر ہے کہ وہ ایمان کو صرف قول کے معنی میں لے گا اور وہ ایسا کرنے میں ہر گز کوئی غلط نہیں کر رہا ہے لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اپنی جگہ پر مسلم ہے کہ قول کسی کمی بیشی کا محل نہیں ہوسکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک قاضی کی نظر میں ایمان سے صرف وہ ایمان مراد ہوتا ہے جو ہماری عدالتوں میں احکام قضا کے اجراء و نفاذ کی بنیاد بن سکے۔ اس کو ایمان کی حقیقت، اس کے اجزاء ترکیبی اور اس کی ظاہری و باطنی خصوصیات سے کوئی بحث نہیں ہوا کرتی۔ اب اگر قرآن ایمان کی کمی اور زیادتی کی تصریح کرتا ہے تو اس تصریح کا اس مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ ایک بالکل دوسری چیز ہے اور قرآن ایمان کی کمی اور زیادتی کی تصریح کرتا ہے تو اس تصریح کا اس مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ ایک بالکل دوسری چیز ہے اور قرآن اس سے ایک بالکل ہی مختلف بات کہتا ہے۔ بلا شبہ قرآن سے یہی حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ایقان و عمل دونوںہر حالت میں یکساں نہیں رہتے بلکہ ان میں مختلف حالات کے ماتحت تغیر و تفاوت ہوتا رہتا ہے۔ یہ کبھی کم ہوتے ہیں کبھی زیادہ۔ عقل سلیم اس صداقت کی تائید کرتی ہے۔ 
مسلمان کسے کہتے ہیں؟ ہر مسلمان کو سب سے پہلے جو چیز جاننی چاہئے وہ یہ ہے کہ ’’مسلمان‘‘ کہتے کس کو ہیں اور ’’مسلم‘‘ کے معنی کیا ہیں۔ اگر انسان یہ نہ جانتا ہو کہ ’’انسانیت‘‘ کیا چیز ہے اور انسان و حیوان میں فرق کیا ہے تو وہ حیوانوں کی سی حرکات کرے گا اور اپنے آدمی ہونے کی قدر نہ کرسکے گا۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو یہ نہ معلوم ہو کہ مسلمان ہونے کے معنی کیا ہیں اور مسلم اور غیر مسلم میں امتیاز کس طرح ہوتا ہے تو وہ غیر مسلموں کی سی حرکات کرے گا اور اپنے مسلمان کی قدر نہ کرسکے گا، لہٰذا مسلمان کو اور مسلمان کے ہر بچے کو اس بات سے واقف ہونا چاہئے کہ وہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے تو اس کے معنی کیا ہیں، مسلمان ہونے کے ساتھ ہی آدمی کی حیثیت میں کیا فرق واقع ہوجاتا ہے، اس پر کیا ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے اور اسلام کے حدودکیا ہیں جن کے اندر رہنے سے آدمی مسلمان رہتا ہے اور جن کے باہر قدم رکھتے ہی وہ مسلمانیت سے خارج ہوجاتا ہے چاہے وہ زبان سے اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتا جائے۔ 
اسلام کے معنی: ’’اسلام‘‘ کے معنی ہیں خدا کی اطاعت اور فرماں برداری کے، اپنے آپ کو خدا کے سپرد کردینا ’’اسلام‘‘ ہے۔ خدا کے مقابلہ میں اپنی آزادی و خود مختاری سے دست بردار ہوجانا ’’اسلام‘‘ ہے۔ خدا کی بادشاہی و فرماں روائی کے آگے سر تسلیم خم کردینا ’’اسلام‘‘ ہے۔ جو شخص اپنے سارے معاملات کو خدا کے حوالہ کردے وہ مسلمان ہے اور جو اپنے معاملات کو اپنے ہاتھ میں رکھے یا خدا کے سوا کسی اور کے سپرد کردے وہ مسلمان نہیں ہے۔ خدا کے حوالہ کرنے یا خدا کے سپرد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے اپنی کتاب اور اپنے رسولؐ کے ذریعہ سے جو ہدایت بھیجی ہے اس کو قبول کیا جائے، اس میں چوں و چرا نہ کی جائے۔ اور زندگی میں جو معاملہ بھی پیش آئے اس میں صرف قرآن اور سنت رسولؐ کی پیروی کی جائے۔ جو شخص اپنی عقل اور دنیا کے دستور اور خدا کے سوا ہر ایک کی بات کو پیچھے رکھتا ہے اور ہر معاملہ میں خدا کی کتاب اور اس کے رسولؐ سے پوچھتا ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہئے اور کیا نہ کرنا چاہئے اور جو ہدایت وہاں سے ملے اس کو بے چوں و چرا مان لیتا ہے اور اس کے خلاف ہر چیز کو رد کردیتا ہے، وہ اور صرف وہی ’’مسلمان‘‘ ہے۔ اس لئے کہ اس نے اپنے آپ کو بالکل خدا کے سپرد کردیا اور اپنے کو خدا کے سپرد کرنا ہی ’’مسلمان‘‘ ہونا ہے۔ اس کے برخلاف جو شخص قرآن و سنت رسولؐ پر انحصار نہیں کرتا بلکہ اپنے دل کا کہا کرتا ہے یا باپ دادا سے جو کچھ ہوتا چلا آتا ہو اس کی پیروی کرتا ہے یا دنیا میں جو کچھ ہورہا ہو اس کے مطابق چلتا ہے اور اپنے معاملات میں قرآن اور سنت سے یہ دریافت کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتا کہ اسے کیا کرنا چاہئے یا اگر اسے معلوم ہوجائے کہ قرآن و سنت کی ہدایت یہ ہے اور پھر وہ اس کے جواب میں کہتا ہے کہ میری عقل اسے قبول نہیں کرتی اس لئے میں اس بات کو نہیں مانتا یا باپ دادا سے تو اس کے خلاف ہے لہٰذا میں اسی پر چلوں گا تو ایسا شخص ہرگز مسلمان نہیں ہے۔ وہ جھوٹ کہتا ہے اگر اپنے کو مسلمان کہتا ہے۔ 
مسلمان کے فرائض: آپ جس وقت کلمہ ’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ پڑھتے ہیں اور مسلمان ہونے کا اقرار کرتے ہیں اسی وقت گویا آپ اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ آپ کیلئے قانون صرف خدا کا قانون ہے، آپ کا حاکم صرف خدا ہے، آپ کو اطاعت صرف خدا کی کرنی اور آپ کے نزدیک حق صرف وہ ہے جو خدا کی کتاب اور اس کے رسولؐ کے ذریعہ سے معلوم ہو۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ مسلمان ہوتے ہی خدا کے حق میں اپنی آزادی سے دستبردار ہوگئے۔ اب آپ کو یہ کہنے کا حق ہی نہ رہا کہ میری رائے یہ ہے یا دنیا کا دستور یہ ہے یا خاندان کا رواج یہ ہے، یا فلاں حضرت یا فلاں بزرگ یہ فرماتے ہیں۔ خدا کے کلام اور اس کے رسولؐ کی سنت کے مقابلہ میں اب ان میں سے کوئی چیز بھی آپ نہیں کرسکتے۔ اب آپ کا کام یہ ہے کہ ہر چیز کو قرآن اور سنت کے سامنے پیش کریں جو کچھ اس کے مطابق ہو قبول کریں اور جو اس کے خلاف ہو اسے اٹھاکر پھینک دیں خواہ وہ کسی کی بات اور کسی کا طریقہ ہو۔ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہنا اور پھر قرآن و سنت کے مقابلہ میں اپنے خیال یا دنیا کے دستور یا کسی انسان کے قول یا عمل کو ترجیح دینا یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جس طرح کوئی اندھا اپنے آپ کو آنکھوں والا نہیں کہہ سکتا اور کوئی نکٹا اپنے آپ کو ناک والا نہیں کہہ سکتا، اسی طرح کوئی ایسا شخص اپنے آپ کو مسلمان بھی نہیں کہہ سکتا جو اپنی زندگی کے سارے معاملات کو قرآن اور سنت کا تابع بنانے سے انکار کرے اور خدا و رسولؐ کے مقابلہ میں اپنی عقل یا دنیا کے دستور یا کسی انسان کے قول و عمل کو پیش کرے۔ 
جو شخص مسلمان نہ رہنا چاہتا ہو اسے کوئی مسلمان رہنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ اسے اختیار ہے کہ جو مذہب چاہے اختیار کرے اور اپنا نام جو چاہے رکھ لے، مگر جب وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے تو اس کو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ وہ مسلمان اسی وقت تک رہ سکتا ہے جب تک وہ اسلام کی سرحد میں رہے۔ خدا کے کلام اور اس کے رسولؐ کی سنت کو حق اور صداقت کا معیار تسلیم کرنا اور اس کے خلاف ہر چیز کو باطل سمجھنا اسلام کی سرحد ہے۔ اس سرحد میں جو شخص رہے وہی مسلمان ہے، اس سے باہر قدم رکھتے ہی آدمی اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ اور اس کے بعد وہ اگر اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے اور مسلمان کہتا ہے تو خود وہ اپنے نفس کو بھی دھوکا دیتا ہے اور دنیا کو بھی۔ ’’اور جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہی کافر ہیں‘‘(المائدہ:44)۔
فون نمبر:9831439068
E-mail:azizabdul03@gmail.com
��������