تازہ ترین

چاپلوسی نفرت انگیز بُرائیوں کا مجموعہ

فکرو ادراک

تاریخ    30 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


قیصر محمود
چاپلوسی ایک ایسا فن ہے جس کے ذریعہ کوئی بھی چاپلوس اپنا مطلب آسانی سے پوری کر لیتا ہے ، کیونکہ ہر انسان اپنی تعریف سن کر خوش ہو تا ہے اور خاص طور پر اس وقت جب اس کی کوئی ایسی خوبی بیان کی جا ئے جو کہ اس میں سرے سے موجود ہی نہ ہو ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ چاپلوس یعنی خو شامد شیطان کی ایجاد ہے ، یہ بھی کہاجا تا ہے کہ جب شیطان کی تمام کوشیش نا کام ہو جا تی ہیں تو پھر وہ چاپلوسی کا حربہ استعمال کر تا ہے۔ تاریخ انسانی اس بات کی شاہد  ہے کہ بڑے سے بڑا کام جو طاقت کے بل بو تے پر نہ ہو سکا وہ چاپلوسی کے ذریعہ چند منٹوں میں طے پا گیا ۔ انسان کو خدائی کے دعویٰ کی ترغیب بھی شیطان ہی نے دی، انسانوں کو لڑایا بھی ان ہی چاپلوسیوں نے ، ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو بڑے بڑے سر براہان مملکت ہمیں چاپلوسیوں کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں اور سلسلہ آج بھی اسی زور و شور سے جا رہی ہے۔  حالانکہ چاپلوسی ایک مشکل فن ہے ، جس میں مستقل مزاجی ہی کی بدولت وہ اکھڑے سے اکھڑے اور بد مزاج شخص کو زیر دام لا سکتا ہے ، کئی ایسے لوگ ہیں جو پٹھے پر ہاتھ تک نہیں رکھنے دیتے لیکن مستقل مزاج چاپلوس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو جا تے ہیں اور براہ راست پوچھتے ہیں کہ ’’بتا تیری خواہش کیا ہے ؟ چاپلوسی کر نے والے کی دو قسمیں ہو تی ہیں ، ایک تو وہ بے ضرر ہوتا ہ ، بس اپنا کام نکالنے کے لئے چاپلوسی کرتا ہے لیکن تخریب اس کا مقصد نہیںہو تی ، صرف صاحبان اقتدار کی نگاہوں میں نمایا ں ہو کر اپنا مفاد حاصل کرنا ہو تا ہے، ایسے لوگ بعض اوقات دھتکار بھی دئیے جا تے ہیں ،لیکن دوسری قسم جسے آپ منافق بھی کہہ سکتے ہیں یہ نیاز مندی کی کئی تہیں جمار کھی ہوئی ہیں ، اپنے مفا د کے حصول کے ساتھ ساتھ دوسروں کے مفادات کی بھی ایسی تیسی کر نے میں بھی لگا رہتا ہے اور اپنے مفاد کے حصول یا صاحب اقتدار کی معزولی کے بعد کچھ اس طرح آنکھیں پھیرتا ہے کہ سب ہی حیران و پریشان رہ جا تے ہیں۔کچھ لوگ پیشہ و ر چاپلوس ہو تے ہیں ، جنھیں اپنے فن میں کمال ہو تا ہے ۔ ظاہر ہے یہ کمال برسوں کی ریاضت  کے بعد ہی حاصل ہو تا ہے ۔ قارئین کرام ! آپ نے دیکھا ہو گا جب بھی کسی کو اقتدار نصیب ہو تا ہے ، وہ سیاسی اقتدار ہی نہیں بلکہ مال و دولت کی فراوانی ، علم و ہنر کی مہارت کو بھی اسی زمرے میں ڈالا جا تا ہے تو اس کے گرد فوراََ خوشامدیو ں کا ایک گروہ اکٹھا ہو جا تاہے اور اس وقت تک اس کے ساتھ رہتا ہے جب تک کہ یہ سب چیزیں اس سے رخصت نہیں ہو جائیں ۔ کہتے ہیں کہ جب کسی کو اقتدار نصیب ہو تا ہے تو شیطان اس کے لئے پانچ کھونٹے بنوا کر لا تا ہے ، دو اس کی آنکھوں میں اور دو اس کے کانوں میں ٹھونک دیتا ہے جس سے اس کی دیکھنے اور سننے کی صلاحیتیں ختم نہیں تو  خطرناک حد تک کم ہو جا تی ہیں ،یوں وہ دیکھنے اور سننے کا کام چاپلوس گر وہ سے لیتا ہے جو کہ ظاہر ہے سب اچھا رپورٹ ہی ہو تی ہے ۔ جب حکمراں پوری طرح جھکڑا جا تا ہے تو اس وقت پانچواں اور آخری کھونٹا اس کی پیٹھ میں ٹھونک دیتا ہے ، جس کی وجہ سے اس کے چار گھونٹے نکل جا تے ہیں لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہو تی ہے اور اس کی مصنوعی آنکھیں اور کان جو سب اچھا رپورٹ دینے کو ہر دم تیار ہو تے تھے، نئے متوقع آقا کے ارد گرد پھیلانے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہو تے ہیں ۔چاپلوسی اکثر اعلیٰ حکام کی کی جا تی ہے لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض اوقات اپنے زیر نگیں افراد کی خوشامد کر نی پڑتی ہے ۔ مثلاََگھر کی فضا کو مکدر ہو نے سے بچانے کے لئے شوہر وں کو بیویوں کی چاپلوسی کر نی پڑتی ہے ۔ بعض اوقات روٹھے بچوں کو منانے کے لئے خوشامد کار گر ہتھیا رثابت ہو تا ہے ،ا س طرح بعض نالائق افسروں کا کام نکالنے کے لئے اپنے ماتحتوں کی چاپلوسی کر نی پڑتی ہے۔ الیکشن کے زمانے میں سیاسی لوگوں کو ایسے لوگوں کی بھی چاپلوسی کر نی پڑتی ہے کہ جن کا سلام وہ عام حالات میںبر وقت وصول کر تے ہیں ۔چاپلوسی مردوں کی جہاں کمزوری ہے وہیں عورتوں کی بھی یہ دکھتی رَگ ہے ، جہاں ذرا کسی نے ان کے سلیقے ، لباس ، اولاد یا شوہر کی تعریف کر دی نیاز مند ی ان کے چہرے سے فوراََ ٹپکنے لگتی ہے ۔ اکثر سامنے والے اور ٹھگ قسم کے لوگ ان کی اسی کمزوری کے باعث ان سے خاص رقم اینٹھ لیتے ہیں ۔ ہمارے خیال میں اس کائنات کا نظام ہی خو شامد کے ایک اصول یعنی عدم تشد دیر چل رہا ہے، خو شامد پسندی کا اندازہ آپ اپنی ذات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ ایک طرف ایک صاف گو کھرا اور دیانت دار شخص ہے اور دوسری طرف ایک چاپلوس ۔تو اس وقت پلڑا چاپلوس کا ہی بھاری ہو گا۔ آپ سوچیں گے کہ یہ صاف گو آدمی کسی اور موقع پر آپ کے لئے مشکلات پید ا کر سکتا ہے جبکہ چاپلوس اپنے مفاد اور آپ کی خوشنودی کو مد نظر رکھے گا ، یوں بادشاہوں ، حکومتوں ، عالمی اداروں کے عطا کر دہ القابات اور انعامات کی فہرست کا بغور جائزہ لیں تو ان میں بھی فن کی کار فرمایاں زیادہ نظر آئیں گی ۔  
موبائل : 8820551001