تازہ ترین

خُودکشی ہمارے مسائل کا واحد حل ہے؟ | ایسے کام نہ کروکہ رُسوائی لازم ہوجائے

تلخ و شریں

تاریخ    29 جولائی 2021 (25 : 12 AM)   


سفیہ یوسف
 یہ زندگی اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا عظیم ترین تحفہ ہے جس کا شکر ہم جتنی بار ادا کریں کم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا پھر اس دنیائے فانی میں لایا۔ ہر انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا۔ اب کسی کو کم دولت دی تو کسی کو زیادہ ، کسی کو زیادہ خوبصورتی بخشی تو کسی کو کم لیکن ہر چیزمیں کچھ خامیاں میں رکھیںاوربہت ساری خوبیاں بھی۔ کسی میں ایک خوبی رکھی تو کسی میں دوسری۔ حالانکہ یہ دنیا بالکل فانی ہے اور انسان کی دنیاوی زندگی عارضی ہےتاہم اس زندگی کی حفاظت کرنا اسکو صحیح طریقے سے گزارنا ہمارا فرض ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پیارا وہی ہے، جو اس کےبتائے ہوئے طریقے پر چلے اور اُس کی آزمائشوں پر صبر سے کام لے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتے ہیں، اس لیے انکو اپنی آزمائشوں سے بھی گزارتا ہے۔ آزمائشوں کا سلسلہ آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے۔ انکو جنت دی گئی تو وہ بھی انکے لئے ایک آزمائش تھی۔ جس طرح حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہ وسلم کو جنت کے ذریعے آزمایا گیا، اُسی طرح ہر ایک پیغمبر کو مختلف آزمائشوں سے گزرنا پڑا اور انہی آزمائشوں پر صبر کرکے وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے بن گےاور اُس کا قرب حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کتنی آزمائشوں سے گزرنا پڑا، کتنے ہی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا، اس بات کا پتہ ہمیں سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرنے سےبخوبی پتہ چلتا ہے۔
  غرض ہر انسان کی زندگی میں آزمائشیں آتی رہتی ہیں کبھی مال کی صورت میں، کبھی صحت تو کبھی کسی اور صورت میں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتے رہتے ہیں اس لئےنہیں کہ وہ کمزور ہوکر زندگی کو چھوڑ کر موت کو گلے لگالے بلکہ اس لیے کہ اس کا ایمان اور زیادہ پختہ و مضبوط ہوجائے اور وہ اور زیادہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے بن جائے۔ جو لوگ ان آزمائشوں میں صبر اور شکرادا کرتے ہیں وہی لوگ دونوں جہانوں میں کامیاب ہوتے ہیں اور جو لوگ بے صبری اور ناشکری کرتے ہیں وہ دونوں جہانوں میں ناکام رہتے ہیں۔
    مشکلات، تکالیف، دکھ، درد یہ سب زندگی کا ایک حصہ ہے نہ کہ پوری زندگی۔ یہ سب چیزیں صرف وقتی ہیں ابدی نہیں۔ آج اگر مشکل ہے تو کل آسانی بھی ہوگی۔ جس طرح ہر رات کے بعد دن ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ مشکلات کے بعد آسانی بھی پیدا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ رحمٰن و رحیم ہے، وہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتےہیں اور اللہ تعالیٰ ایک بندے کو سب کچھ اسکی وسعت کے مطابق دیتا ہے، چاہے وہ خوشی ہو یا غم۔ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے اور وہ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ جس طرح آسمان میں ہمیشہ بادل نہیں رہتے ،اُسی طرح زندگی میں بھی ہمیشہ مشکلات نہیں رہتے ہیں۔ جس طرح ہر سوال کا جواب ڈھونڈنے سے ملتا ہے اسی طرح ہمارے ذہنوں میں پیدا شدہ سوالات کا جواب بھی ہمیں تلاش کرنے چاہئیں۔ اگر ہمیں کسی سوال کا جواب نہ ملے اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ سوال کو ہی مٹا دیا جائے۔ سوال کو مٹانا سوال کا حل نہیں بلکہ اس کا جواب تلاش کرنا ہی اسکا حل  ہے۔ اسی طرح زندگی میں آنے والی پریشانیوں کا حل تلاش کرنا چاہیے نہ کہ خودکشی کر کے زندگی کو ہی ختم کرنا چاہیے ،خودکشی کرنا ہمارے مسائل کا ہرگز حل نہیں۔
    اگر ہم دیکھیں گے تو آج کل کے دور میں ہر کوئی اپنے مستقبل کو لے کر فکر مند ہے۔ خاص کر ہمارے نوجوان جو اپنے مستقبل کو لے کر اتنے فکر مند ہیں کہ اب وہ ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ مستقبل کس کے ہاتھ میں ہے، مستقبل کا مالک کون ہے تو جو چیز ہمارے بس میں نہیں اسکے بارے میں پریشان ہونے سے کیا ملے گا؟ ہمارے مستقبل میں جو کچھ بھی ہے نہ ہم اسکو وقت سے پہلے دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس کو بدلنے کی طاقت ہم رکھتے ہیں۔ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ بس ایک انسان کو کوشش کرنی ہے اور اپنے ایمان کو مضبوط رکھنا ہے۔ کتنے ہی لوگوں نے صرف مستقبل کے بارے میں پریشان ہو کر زندگی کو چھوڑ کر موت کو گلے لگا لیا تو کیا اس سے انکا مستقبل سنور گیا ؟نہیں ،ہرگز نہیں!بلکہ اس سے وہ ہمیشہ کے لیے اندھیرے میں چلے گئے۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انکے مستقبل میں کچھ ایسا لکھا ہوتا، جس سے انکی پوری زندگی سنور جاتی۔ اگر ہم یہ سوچھ کر محنت کریں کہ مستقبل اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں میں ہے، وہ جو کریں گے بہترین کریں گے تو ہم کبھی زندگی سے ناامید نہیں ہونگے۔  
   ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ زندگی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور اس پر صرف اسی کا حق ہے۔ خودکشی کرنے والا شرک کرتا ہے اور مشرک کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اگر خودکشی کرنے والا ایک بار یہ بات ذہن میں لائے کہ اس دنیا کی اذیتوں سے کئی گناہ زیادہ اذیت ناک اُس دنیا کا عذاب ہوگا  جہاں بالآخر منتقل ہونا ہے۔اگر وہ ایک بار عذاب قبر کو یاد کرے گا، جہنم کے عذاب کو یاد کرے گا تو وہ کبھی مرنا نہیں چاہے گا۔ آج کل کے سماج میں خودکشی ایک کھیل بن گیا ہے، ہر کوئی مرنا چاہتا ہے لیکن موت کے بعد اسکے ساتھ کیا ہوگا اس بات سے وہ انجان بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ جو انسان اس دنیا کی ذرا سی تکلیف برداشت نہیں کر سکا وہ آخر قبر کی ہولناکیوں کو کیسے برداشت کر سکے گا، جہنم کی ان چنگاریوں کو کیسے برداشت کر پائے گا۔ وہاں تو موت کا سہارا بھی نہیں ہوگا نہ کوئی بچنے کا طریقہ ہوگا۔
   یہ بات بھی ہمیں یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا، ہمیں دماغ دیا سوچنے سمجھنے کے لئے اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔ اگر ہمارا کوئی بھائی کسی پریشانی میں مبتلا ہے تو اس کی مدد کرنی چاہیے نہ کہ اسکی پریشانی کی وجہ بنے۔ آج انسان ہی انسان کا سب سے بڑا دشمن بن گیا ہے اگر کسی انسان کی وجہ سے کوئی انسان اپنی زندگی ختم کرتاہے تو دوسرا بھی اسکے گناہ میں برابر کا حصہ دار ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہماری وجہ سے دوسروں کی زندگی سنور جائے نہ کہ ہم انکی موت کی وجہ بن جائیں۔ ہم آئے دن دیکھتے ہیں کہ ہر روز دو چار خودکشیاں ہوتی رہتی ہے اور وہ خودکشی کرنے والے کواَنپڑھ، جاہل لوگ نہیں بلکہ پڑھے لکھے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ آخر کیوں کس چیز کی کمی ہے ہمارے سماج میں؟ کمی ہے تو اخلاقی تعلیم کی، کمی ہے تو قرآن مجید اور سنتوں کو سمجھنے کی جن کو ہم نے پس پشت ڈال دیا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی اخلاقی تربیت میں کوئی کمی نہ رکھیں تاکہ انکا ایمان اللہ تعالیٰ پر مضبوط ہو اور انکو خودکشی جیسے سنگین گناہ کا سہارا نہ لینا پڑے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کی مشکلیں آسان فرمائے اور ہمارے ایمان کو بلندی بخشے اور ایمان والی وعزت والی موت دیں۔۔۔۔۔۔آمین
  طالبہ جامعتہ البنات۔
sofisufaya1999@gmail.com