تازہ ترین

جانئے اسلام کو ،جگایئے ایمان کو | حُسن ،سِنگار کے بغیر دل موہ لیتا ہے

اہم معلومات

تاریخ    29 جولائی 2021 (25 : 12 AM)   


نورہ بانوطالبؔ سوپوری
چند سال قبل میں اپنے علاج و معالجے کی خاطر آل انڈیا بترا انسٹی چیوٹ کی طرف جارہی تھی ،میں نے حوض رانی گاندھی پارک کے متصل لوگوں کے جمگٹے میں اُردو زبان میں شائع کئے گئے چند پمفلٹ کی مُفت میں تقسیم کاری دیکھی۔میرا بھی جی للچایا اور آگے بڑھنے سے قبل آٹو ڈرائیور کو رُکنے کے لئے کہا ۔میری سیمابی کیفیت تاڑ کر چند بچے آگے آکر دوچار پمفلٹ (Pamflet)میرے ہاتھوں میں تھماکر مجھے رخصت کیا اور میں نے بھی ممنون نگاہوں سے اُن کا شکریہ ادا کرکے یہ مسودہ کھولا ۔اسلامِک ریسرچ سینٹر نئی دہلی سے اس کی دلپذیر اشاعت ہوگئی تھی ۔صفحہ ٔ قرطاس پر ’’جانیے اسلام کو ،جگایئے ایمان کو‘‘ان کا موضوع ِ خاص مشتہر کیا گیا تھا ۔اس عنوان کو دیکھ کر میں نے بھی دل ہی دل میں یہ ارادہ کرلیا کہ میں گھر آکر اس پمفلٹ کی ہزار دو ہزار کاپیاں بناکر قوم کی معصوم بچیوں کے نام وقف کردوں،تاکہ میں بھی کماحقہ ثواب دارین حاصل کرسکوں اور میری بچیاں اور بہنیں بھی غفلت کے پردے سے اوٹ ہوکر ،اپنی نگاہیں وا کرکے مذہب اسلام کی باریک بینیوں سے آشنا ہوکرآئندہ آنے والی غلطیوں سے باز رہ جائیں۔مانا کہ یہ اُن کی دانستہ غلطیاں نہیں ۔اول تو ناپختہ کاری،دوئم شعور کی پستی ،سیوم والدین کی عدم توجہ کا مظاہرہ۔ شومئے قسمت!یہ پمفلٹ سیلاب کی نذر ہوگیا ،میری بات میرے من میں ہی رہی۔کاش یہ چنداوراق پر مشتمل مسودہ میرے پاس ہوتا اور اس میں سے اقتسابات اپنے قارئین کی نظر نوازکرسکتی تو واقعی میری بے قراریوں کو قرا آجاتا اور خصوصاً میرے گِرتے معاشرے کی بچیاں اور بہنیں ان انفارمیٹیو نکات کو بروئے کار لانے میں (گو فخر نہیں)اپنی کاوشیں ملحوظ ِنظر رکھتیں۔
آمدم برسر مطلب ! یہ پمفلٹ اسلامک ریسرچ سینٹر نئی دہلی کے مصنف ڈاکٹر امجد خان نے اُمتِ مسلمہ کو بیدار ہونے کے ساتھ ساتھ ،حلال و حرام میں تمیز کرنے کے اشارات ،اپنے خوردونوش کے سامان میں احتیاط برتنا ،اپنے روز مرہ کے حوائج لازم و ملزوم رکھنا ،بازاری اشیاء کے استعمال میں ڈاکٹر موصوف نے چند نکات کی طرف واضح ارشاد فرمایا ہے کہ آج کی نسل جس ذلت و انحطاط کی پستی میں گِر چکی ہے اور کُفر و باطل کے ذرائع ابلاغ نے ہمارے خوردونوش کا اہتمام ،ثقافت و کلچر کے خوشنما لیبل کے لپیٹ کر ،اُمت مسلمہ کے سامنے پیش کررکھا ہے ۔یہ بازار سے منگائے ہوئے خوشنما لفافے دیکھ کر ہی ہمارے مُنہ میں پانی آتا ہے۔۔۔۔ہم ان مکروہ چیزوں کی طر ف اپنی تمام تر توجہ مبذول کرکے ان لفافوں کی طرف جھپٹ پڑتی ہیں گویا ہم نے ابھی تک کچھ کھایا بھی نہیں ہوتا۔
ملٹی لیول کمپنیوں کے بڑھتے اقدامات نے اُمت ِ مسلمہ کا ایمان کمزور کرنے کی خاطر ’’حرام غذائے اجناس‘‘کی طرف راغب کرنے کے لئے اپنے خوشنما بند لفافوں پر ''E-Code"کااستعمال کرنا شروع کیا ہے۔ہم ڈاکٹر امجد خان صاحب کے مرہون منت ہیں جنہوں نے اپنے اعلیٰ ریسرچ سینٹر میں تحقیق کیا ہے ۔ان کمپنیوں کے غیر مسلم مالکان نے اپنے منافع کی خاطر کھانے پینے کے اشیاء پر E-Codeلگاکر بازاروں میں دھوم مچا رکھی ہے اور اس خریداری میں ہم مسلمان ہی مصروف ِ کار نظر آتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے تحقیقی مطالعے میں اُمت ِ مسلمہ کو تاکید فرمایا ہے کہ اشیائے خوردونوش کے لفافوں پر E-100سےE-904تک کوئی بھی کوڈ درج ہو،تو اُسے ہر حال میں خریدنے سے احتیاط کریں۔یہ بسکیٹ ،چاکلیٹ ،آیس کریم کے علاوہ تمام ڈبہ نبد غذائوں کے پیکٹوں پر حیوانی چربی (Animal Fats)لکھنا اب بند کردیا ہے اور ان غیر مسلم مالکان نےE-Codeکا بے تحاشا استعمال کیا ہے تاکہ مسلم اُمہ کا ایمان کمزور ہوجائے ۔یہ سراسر خنزیر کی چربی ہے ،جس کے استعمال میں مذہب ِ اسلام نے پندرہ سو سال قبل ممانعت روا رکھی ہے۔
میری اسلامی بچیو! اس طویل تمہید کا مقصد صرف آپ سے مخاطب ہونے کو جی چاہتا ہے ۔یہ جو آپ اپنی مصنوعی خوبصورتی کو چار چاند لگانے کی خاطر بازار سے زینت و زیبائش کا سامان خریدتے وقت ،رنگ برنگے لِپ اسٹِک کی چھڑی اپنے معصوم پاکیزہ ہونٹوں پر گھماکر ،بازاروں ،کالجوں ،شاپنگ مالوں میں جاکر اپنے حُسن ِ فانی کا مظاہرہ کرتی ہیں ،یہ کیا ہے؟خالص سور کی چربی سے بنی ہے۔جسے آپ گاہے گاہے اپنے کھانے پینے کے ساتھ معدے میں پناہ دے کر ہضم بھی کردیتی ہیں۔اللہ کا شکر بجا لاتی ہوں کہ اگر میں کہیں محفل نسواں میں شرکت کرتی ہوں تو میں اُنہیں اس ظاہری میک اَپ سے متنفر کرکے ہی متاثر کردیتی ہوں۔بہت ساری دوست و احباب نے اس نجس چیز کے استعمال کو متروک کردیا ہے۔میں بھی اپنے ماضی بعید میں کریم صابون کا مصنوعی حُسن کے لئے روُپے بارہ آنے کا فضول مصرف کرتی تھی پھر ہوش سنبھالا اور ترکِ اصراف کیا۔
اسلامی بچیو! ابھی تسلی نہ ہوئی ،ابھی آپ سے اس مخلصانہ اپیل کرنے کو جی چاہتا ہے ۔اگر آپ میری ساری باتوں کی طرف توجہ مبذول نہ کرسکیں تو بھی اپنے نوزائد معصوم بچوں کو جانسن کمپنی کے صابون ،تیل ،شیمپو ،ڈائیپر اور لورئیل کمپنی کے صابون ،شیمپو "Dove"جیسے مصنوعات سے اُن کے پاکیزہ جسم اور بالوں کو بچاکے رکھیں۔یہ دشمنان ِ قوم کے بنائے ہوئے ’’پراڈکٹس ‘‘ہماری پاکیزگی اور سادہ لوحی کو متاثر کئے بغیر رہ نہ سکیں گی۔حلال و حرام کی نشاندہی کرنے میں اور قوم کی فلاح و بہبود کے غم میںلگے افراد آج بھی دنیا میں زندہ ہیں،جو ہماری رہنمائی اور رہبری میں ہمہ وقت محو کار نظر آتے ہیں۔اگر موبائیل فون دن بھر ہاتھوں میں گھمانے کے علاوہ مولانا طارق جمیل صاحب کے کسی ایک بیان پر عمل پیرا ہوجائیں تو باطل کے محلات چُور چُور ہوجائیں گے اور حق کی پرستار بیٹیاں دین ِ اسلام کو چار چاند لگانے میں اپنی فرصت کے لمحات صرف کرکے یک گونہ مسرت ہی حاصل کریں گی ۔   ؎
مانو نہ مانو جان ِ جہاں تُم کو اختیار
ہم نیک و بَد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں
رابطہ نمبر:9858770000
ہائیگام سوپور 
������