تازہ ترین

تیونِس کے صدر نے وزیر اعظم و پارلیمنٹ کومعطل کردیا

تاریخ    27 جولائی 2021 (00 : 12 AM)   


یو این آئی
تیونس سٹی // تیونس میں پْرتشدد مظاہروں کے بعد تیونسی صدر نے وزیر اعظم کو معزول اور پارلیمنٹ کو معطل کردیا ہے۔ کوویڈ19 معاملات میں بڑے پیمانے پر حکومت کی طرف سے انتظامات نے ملک کے معاشی اور معاشرتی انتشار اور بدامنی میں اضافہ کیا ہے جس پر عوام نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا تھا۔ تاہم اب صدر کی جانب سے وزیر اعظم کو معزول اور پارلیمنٹ کو معطل کرنے پر عوام سڑکوں پر جشن منانے کیلئے نکل آئے ہیں۔2019 میں منتخب ہونے والے صدر قیص سعید نے اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں۔عوام کی اکثریت صدارتی فیصلے کی حامی ہے جبکہ دوسری جانب ارکانِ پارلیمنٹ اسے جمہوریت پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔اتوار کو ہزاروں افراد نے وزیر اعظم ہیچیم میچیچی اور ان کی اعتدال پسند اسلامی حکمران جماعت اینہڈا کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھا ، ‘‘نکل جاؤ!’’۔صدر نے کہا کہ یہ فیصلہ اس وقت تک قائم رہے گا جب تک کہ تیونس میں معاشرتی امن واپس نہیں آتا اور جب تک ریاست مستحکم نہیں ہوجاتی۔پارلیمنٹ کے سپیکر اور اسلامی تحریک النہضہ کے سربراہ پروفیسر راشد الغنوشی نے اسے ’آئین اور (عرب بہار) انقلاب کے خلاف بغاوت قرار دیا ہے۔‘قیس سعید نے وزیراعظم ہشام مشیشی کو برطرف کرتے ہوئے سڑکوں پر غم و غصہ بھرے احتجاج کے بعد ہدایت کی تھی کہ پارلیمنٹ کو 30 روز کے لیے بند کر دیا جائے۔پیر کی صبح سے ہی فوجیوں نے اسمبلی کی عمارت  کو بند کر دیا تھا جب کہ باہر صدر کے حامیوں کی جانب سے النہضہ کے ان حامیوں پر پتھراؤ کیا گیا جو عمارت میں داخلے سے روکے جانے پر احتجاج کر رہے تھے ۔
 

 الجزیرہ کے دفتر پر چھاپہ

تیونس سٹی // تیونسی سیکیورٹی فورسز نے ملک میں موجود قطری نیوز چینل الجزیرہ کے دفتر پر دھاوا بول دیا اور عملے کو باہر نکال دیا۔الجزیرہ نے اپنی ویب سائٹ پر کہا کہ چھاپے میں شامل سیکیورٹی فورسز نے کہا کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل پیرا ہیں اور تمام صحافیوں کو وہاں سے چلے جانے کو کہا۔خیال رہے کہ یہ اقدام تیونسی صدر قیص سید کے وزیر اعظم کو معزول کیے جانے اور پارلیمنٹ کو معطل کیے جانے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔فوج نے پارلیمنٹ کے اسپیکر راشد غنوچی کو بھی پارلیمنٹ میں داخلے سے روک دیا ہے۔راشد کا کہنا تھا کہ میں پارلیمنٹ کا اسپیکر ہوں اور مرے ساتھ منتخب ارکان پارلیمنٹ ہیں۔ ہمیں اپنے قانون سازی کے اختیار پر عمل کرنے سے روکا جارہا ہے اور جمہوریت کا دروازہ بند کیا جارہا ہے۔ ہم حیران ہیں کہ فوج کو اس کام کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔