تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    25 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


 
 
غزلیات
وہ شخص اپنی زات میں گہرا بہت لگا
لہجہ اگرچہ تلخ تھا سچا بہت لگا
یاروں نے یاسیت  کا کیا دائمی مریض
اس انتخاب میں ہمیں دھوکا بہت لگا
اس شہرِ نامراد کی صورت عجیب ہے
 ہر فرد اپنے آپ میں اُلجھا بہت لگا
اک انجمن کے روپ میں ملتا تو تھا مجھے
دیکھا قریب سے تو وہ تنہا بہت لگا
تھاسحر ایسا اُسکی شناسائی میں نہاں
"مغرور ہی سہی مجھے اچھا بہت لگا"
بیزار و بیقرار تھے بستی کے لوگ سب
یہ اور بات ہر کوئی ہنستابہت لگا
اپنا امیرِکارواں شہرت کے نام پر
مشہور تو نہیں مجھے رُسوا بہت لگا
یہ گُلشنِ حیات بھی بسملؔ عجیب ہے
اس کا ہر ایک پھل مجھے پھیکا بہت لگا
 
خورشید بسملؔ
تھنہ منڈی راجوری
موبائل نمبر؛9622045323
 
 
وارثانِ حجاب آتے ہیں 
پردے میں آفتاب آتے ہیں
اہلیانِ شباب آتے ہیں 
ماہتاب آفتاب آتے ہیں  
زخم جب پھول دینے لگتے ہیں 
تب کہیں انقلاب آتے ہیں 
زندگی میں حسین لوگ ملے 
دشت میں ہی سراب آتے ہیں 
شب کے پچھلے پہر مجھے اکثر 
شعر بھی لاجواب آتے ہیں 
کون ہمدرد ہے  یہاں کس کا 
کس کو کارِ ثواب آتے ہیں
بزم عادلؔ میں آج کل صاحب
لوگ بھی لاجواب آتے ہیں 
 
اشرف عادلؔ 
کشمیر یونیورسٹی حضرت بل 
سرینگر کشمیر 
مبائل نمبر؛7780806455
 
 
یہ کیسے لوگ ہیں کیسا نگر ہے
یہاں نا آشنا ہر اک بشر ہے
کبھی دن رات تھا جو ساتھ میرے
مرے دن رات سے اب بے خبر ہے 
کبھی جو پیار آنکھوں میں اُدھر تھا 
وہی اک درد بن کر اب اِدھر ہے
جو منزل ہے وہی رستہ ہے یارو
بہت لمبا محبت کا سفر ہے
بہت درکار ہے منزل مجھے بھی
ابھی تقدیر میں حکمِ سفر ہے
میں تجھ سے دور ہوں غافل نہیں ہوں
تری ہر سانس پر میری نظر ہے
شبِ غم یہ تیرا احساں ہے مجھ پر
تیرے ہونے سے اُمیدِ سحر ہے
میں اس کی قید سے نکلوں تو کیسے
وہی صیاد میرا چارہ گر ہے
تجھے عرفان ہو عرفانؔ کیسے 
اگر سچ مچ تو خود سے بے خبر ہے
کبھی عرفان ؔعارف سے ملے ہو
سُنا ہے آدمی وہ معتبر ہے
 
عرفان عارفؔ
ایس.پی.ایم.آر کالج آف کامرس، جموں
9682698032/9858225560
 
 
شکایت کی باتیں، محبت کی باتیں     
سبھی ہو رہی ہیں، ضرورت کی باتیں
 
غرض  اپنی  اپنی، ہنر اپنا  اپنا 
قیادت کی باتیں، حماقت کی باتیں 
 
ضرورت میں بِکتے ہیں ایمان سب کے
سبھی سچ نہیں ہیں،عدالت کی باتیں 
 
نہ مندر سے اُلفت،نہ مسجد سے رغبت
سیاست ہوئی ہیں، عبادت کی باتیں
 
رئیسؔ، ایک لڑکی نے ہم سے بھی کی تھیں
مُروت کی باتیں، محبت کی باتیں
 
رئیس ؔ صِدّیقی  
دوردرشن و آکاشوانی کے سابق آئی بی ایس آفیسر
rais.siddiqui.ibs@gmail.com
موبائل نمبر؛9810141528
 
 
عشق میں بھرپور ہیں چاند سورج اور وہ
 اس لئے مسرور ہیں چاند سورج اور وہ
شہرۂ آفاق میں تین ہی بدنام ہیں 
تین ہی مشہور ہیں چاند سورج اور وہ
میں اندھیرا ہر طرف پا رہا ہوں دوستو 
یعنی مجھ سے دور ہیں چاند سورج اور وہ
رات ہے یا دن ہے کچھ بھی نہیں معلوم ہے
 ان دنوں کافور ہیں چاند سورج اور وہ
کون کہتا ہے بیک وقت مل سکتے نہیں
 اتنے کیا مجبور ہیں چاند سورج اور وہ
چہرۂ انور پہ اک دن جو پڑی تھی اک نظر
 اب تلک مخمور ہیں چاند سورج اور وہ
دیکھ کر مایوس کُن حضرتِ بسمل ؔکا دل
 ہو گئے رنجور ہیں چاند سورج اور وہ
 
سید مرتضیٰ بسمل
پیر محلہ شانگس اننت ناگ
موبائل نمبر؛6005901367
 
 
جب ہونا وہی سب کچھ ہے تو پھر یہ مچلنا کیسا ہے 
ہر ساز میں دم خم  پورا ہے تو پھر یہ سرکنا کیسا ہے
آس لگائے  بیٹھے ہیں ، کچھ خواب  سجائے بیٹھے  ہیں
گر قدرت کا سب کرنا  ہے تو پھر  یہ تڑپنا کیسا ہے
اک آن طلاطم خیزی ہے، اک آن صبا کی پُروا ہے
یہ زیست اگر ہے بندِ قفس تو پھر یہ پُھدکنا کیسا ہے
زاہد ہوئے کچھ عامل ہیں، شامل بنے سب بیٹھے ہیں
اب کن سےپوچھتےجائیں ہم توپھریہ بھٹکنا کیسا ہے 
میں حاضر خدمت ہوکر بھی سمجھا نہ گیا ہوں ظاہر ہے
کچھ خاص اداؤں کے چلتے ، تو پھر یہ بِلکنا کیسا ہے
اس محفل یاراں کے صدقے کچھ راز کھلیں، کچھ بات بنے
ہو ایسی شکستہ ناؤ پڑی ، تو پھر یہ سنبھلنا کیسا ہے
شاید ہو اثر تسلیم ؔ تمہیں یا فال تیرا کوئی اور پڑھے
دنیائے ابد ہے زیر نظر ، تو پھر یہ سِسَکنا کیسا ہے
 
فردوس تسلیم رحمانی
باغِ ماہ تاب۔سرینگر
 
 
آدمی کو ہر گھڑی ہشیار رہنا چاہئے
موت آئے کب کہاں تیار رہنا چاہئے
 
بُزدلوں کی زندگی بھی زندگی کوئی ہے یار
زندگی سے بر سرِ پیکار رہنا چاہئے
 
جسم کالا ہو کسی کا یا کہ میلا ہو لباس
آدمی کا صاف بس کردار رہنا چاہئے
 
چند روزہ یہ جہاں ،ہر شے ہے اسکی بے ثبات
پھر کسی سے کس لئے بیزار رہنا چاہئے
 
خاک ہیں ہم خاک میں ہی مل کے ہو جائینگے خاک
کس لئے پھر فردِ استکبار رہنا چاہئے
 
ہو امیری یا غریبی یاد طارقؔ رکھ سدا
خُلق کا اعلیٰ مگرمعیار رہنا چاہئے
 
ابو ضحى طارق
اونتی پورہ، پلوامہ،موبائل نمبر؛8825016854
bhattariq2776@gmail.com
 
 
اوس، کلیاں، پھول، سبزہ، سب ہوئے ہیں پُر فتن
ہاتھ مَلتی بلبلیں ہیں دیکھ کر رنگِ چمن
 
 اُن کو دیکھے بن سراسیمہ طبیعت ہے مری
ہے سماں ایسا لگا ہوچاند کو جیسے گہن
 
گر لہو سے پیرہن سارا ہوا ہے تر بہ تر
پر مہکتا ہے تمہارا آج خوشبو سے بدن
 
خاک کے جُز تک نہ ہوں گے، میل کی کیا بات ہے!  
روزِ محشر بھی اگر دیکھا گیا اُن کا کفن
 
کیوں نظر آئے گی ان کو داستانِ دردِ دل
چشم ان کی دیکھتی ہیں بس بدن پر پیرہن
 
زندگی تاریکیوں میں گھِر چکی ہے یاس کی
کب چُھٹیں گے کالے بادل، صاف ہوگا کب گگن
 
کیوں توقع ہو کسی سے، رہنما کوئی ہو کیوں
ہر تصوّر بس زیاں ہے، ہر نظر ہے دل شکن
 
ڈاکٹر مظفر منظور
اسلام آباد کشمیر
موبائل نمبر؛9469839393
 
 
 
 
ہم کو تم سے کیا غرض ہم میں ہمارا دل نہیں
کس سے پوچھیں راستہ قائم کوئی منزل نہیں
ہم تری چاہت کا حق کیسے ادا کر سکتے ہیں
تم کو پا کر جانِ جاں کچھ بھی مجھے حاصل نہیں
تیرے دل میں ڈوب کر ہم کو ملی ہے یہ خبر 
یہ وہی دریا ہے جس کا کوئی بھی ساحل نہیں
اس نے ٹھکرائی وفا ہم کرتے ہیں آہ و بقا
میری قسمت میں خوشی کا تو کوئی بھی پَل نہیں
تم کو جب یاد آئینگے تُو نے کئے ہیں کیا ستم 
میرا داماں چاک ہے اور رخ پہ کوئی بَل نہیں
اب تو اُس سے کیا کہیں کیسے سنائیں حالِ دل
وہ محبت لُٹ چکی ہے کوئی بھی محفل نہیں
ہم نے خود کو جیسے بھی سمجھا لیا ہے جانِ جاں
تم کو یوں بھی بھول جانا اتنا تو مشکل نہیں
 
عاقب اللہ ہمرازؔ
موبائل نمبر؛7006655470
صورہ سرینگر
متعلم جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دلی