تازہ ترین

گُـونج

افسانہ

تاریخ    18 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


نواب دین کسانہ
دریائے رُددّ پہاڑی سلسلوں سے نکل کرشہری علاقوں کوچھُوتاہواندیڑریلوے سٹیشن سے کوئی دوکلومیٹرجاکرشمال کی جانب مُڑجاتاتھا ۔یہاں سے دریاشمال کی جانب مُڑتا ہے اور عین وہیں سے مغرب کی جانب چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کاایک طویل سلسلہ شُروع ہوجاتاتھا۔ان  پہاڑیوں کے دامن میں یہاں ایک طرف گہرے جنگلات ،ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے تودوسری طرف صحرائی علاقے بھی تھے جن میں چھ سات کلومیٹر چل کرپینے کاپانی بمشکل نصیب  ہوتاتھا۔ان پہاڑی سلسلوں کے درمیان بہت ساری چھوٹی چھوٹی بستیاں تھیں۔ان بستیوں میں خیرپورکی بستی کومرکزی مقام حاصل تھا۔خیرپورمیں میاں رحمت بڑانام تھا۔خیرپورسے اُنکی تواُن سے خیرپورکی شناخت تھی۔مال ومتاع کے ساتھ ساتھ قُدرت نے اُنہیں فصاحت وبلاغت کی خوبیوں سے بھی بڑی فیاضی سے نوازاتھا۔ان پڑھ سہی مگرتھے بلاکے صاحب ِ زبان ۔ عام سی بات بھی اسطرح کرتے کہ اچھے خاصے عالم لگتے تھے۔ اپنی اِس ظاہری برتری کوبنائے رکھنے کیلئے وہ انواع واقسام کے پاپڑبیلتے رہتے تھے۔خاص کرروزمرّہ کاتازہ اخبارکبھی ہاتھ میں رکھنانہ بھولتے تھے۔جاڑوں میں جب شدّت کی سردی کے ساتھ دھُوپ نکلتی تویہ بڑی شان سے باہرلان میں کرسی اورٹیبل لگانے کااہتمام کرتے ۔پھرچائے کی چُسکیوں کے ساتھ سامنے ٹیبل پراخبار پھیلاکراِسطرح کرسی پربراجمان ہوتے گویاکہ خبروں کی دُنیا میں کھوگئے ہوں۔ انہیں دوسروں کے خیالات کُریدکُریدکرنکالنے اور اپنے استعمال میں لانے کے معاملے میں کمال حاصل تھا ۔جب وہ ان کااظہارفرماتے توسننے والوں کولگتاگویایہ انہی کے اپنے تھے ۔اِس کے علاوہ ریڈیو سے خبریں بھی بڑے غورسے سماعت فرماتے تھے۔سچ تویہ ہے کہ وہ سنی سُنائی سے کام چلانے میں خاص مہارت رکھتے تھے۔جدیدعلُوم سے انہیں چِڑسی تھی۔ وہ انہیں تمام سماجی اوراخلاقی بُرائیوں کی جڑسمجھتے تھے ۔اگرانکے سامنے کوئی جدید علوم کی بات کرتا تواسکی بات کوغیر ضروری ثابت کرنے کیلئے وہ لمبی ساسانس کھینچ کربڑے کرب بھرے اندازمیں فرماتے، 
’’یہ چاردن کی زندگی توکسی نہ کسی طرح گذرہی جائے گی مگراصل کام توآخر ت کی تیاری کاہے۔آخرت کی تیاری دُنیاداری سے نہیں دین داری سے ہوتی ہے۔ دین داری کیلئے دُنیاوی نہیں دینی علُو م ضروری ہیں۔دُنیاوی علُوم تومحض پیٹ بھرئی کاذریعہ ہیں۔ جن علوم کامقصد نوکر ،کاروباری اورتکراری پیداکرناہووہ کسی طرح بھی آخرت کی تیاری میں معاون نہیں ہوسکتے‘‘۔
مگراصل میں میاں رحمت کے کہنے اورکرنے میں بڑافرق تھا۔ جوکچھ اُن کے دِل میں ہوتاوہ لبوں پرنہیں آتاتھا اورجولبوں پرہوتا وہ دِل میں نہیں ہوتاتھا۔وہ بُری طرح دُنیا کی محبت میں گرفتارتھے۔ دین کے بجائے دُنیاان کی فکرکی رہنماتھی۔ یہ بُری طرح ان کے اعصاب پرسوارتھی۔ جہاں دینداری حصول مقاصدکے راستے میں رکاوٹ بنتی وہ بڑی آسانی سے اِسے کنارے رکھ کر دُنیاداری کا دامن تھام لیتے تھے ۔اُن کے ہاں دین اُس ڈھول کی طرح تھا جوبجتاتوخوب ہے مگر اندرسے خالی ہوتاہے۔اُن کی زندگی کاکمل عمل کی خوُشبوسے خالی تھا۔اُنہوں نے قرآن وحدیث پرعمل پیراہونے کے بجائے مقامی رسم ورواج کی کھچڑی سی تیارکررکھی تھی ۔اِس کھچڑی کودیکھ کراکثرایسے لگتاجیسے کہ دین کے دائرے میں اُنہوں نے کوئی من مرضی کادین تراش رکھاہو۔اُن کے رویے سے اندازہ ہوتاتھاجیسے کہ وہ دینداری کے پردے میں لوگوں کوماڈرن تعلیم سے دوررکھنے کی کوشش میں ہوں۔وہ اکثرکہابھی کرتے، 
’’ابھی ایک حمیداہی قابونہیں آتااور جس دن سبھی اِس کی مانندپڑھ گئے تو خیرپور کا خداہی حافظ ہے ‘‘۔
حمیدخیرپورکاواحد اچھاپڑھالکھا نوجوان تھا۔دینی اوردُنیاوی علُوم پراُسکی گہری نگاہ تھی ۔اُس کاکہناتھاکہ دین اوردُنیادونوں ایک دوسرے کیلئے لازم وملزُوم ہیں ۔وہ اکثرکہتادین کے بغیر دُنیاحیوانیت ہی حیوانیت ہے ۔ دُنیانہیں تو دین کس کے لئے ۔دین نہیں تودُنیاکس کے لئے۔وہ جب بھی ایسی باتیں کرتامیاں رحمت فوراً اُسے درمیان میں ٹوک دیتے۔دین کی سطحی باتیں بتاکراسکی باتوں کو بے اثربنانے کی کوشش کرتے ۔ ایسے مواقع پرحمید اُن سے بڑی شائستگی سے پوچھ بیٹھتا،
’’چچاّ!قیامت وآخرت سے کسے انکارہے بلکہ ان پریقین توایمان کاحِصّہ ہے۔ ان پریقین نہیں توایمان ایمان ہی نہیں۔دینداری اوردنیاداری ساتھ ساتھ نہیں چلتے۔ دینداری دُنیاداری کے رنگ میں رنگی ہوئی نہیں ہونی چاہیئے بلکہ دُنیاداری دینداری کے تابع ہونی چاہیئے۔ دین کے نام پردین کی خالی اداکاری قیامت کی کیاری کوویران کردیتی ہے۔دین کااصل تقاضایہ ہے کہ آدمی پورے کاپورااسلام میں داخل ہوجائے۔یہ دین نہیں کہ آدمی آدھااِدھرتوآدھاکہیں اوررہے۔ دین کے نام پرخودساختہ رسم ورواج کی پاسداری دین کے ساتھ مذاق ہے ۔آخرت کی تیاری کیلئے ہمیں جھوٹ، منافقت ،نفرت ،عداوت اوردکھاوے جیسی بُری خصلتوں کوچھوڑناہوگا۔مسلمان ہیں توبرادری کلچرکے بجائے اسلامی کلچراپناناہوگا۔من کی آواز پر لبیک کہنے کے بجائے قرآن وحدیث کاکہناسُننااورمانناہوگا‘‘۔
جواں سال حمیدکانٹے کی طرح میاں رحمت کی آنکھوں میں کھٹکتاتھا۔اُسے لگتاجیسے کوئی اسکی چودھراہٹ کی جڑیں کاٹ رہاہو۔وہ سچی اورکھری باتیں سُن کربھڑک اُٹھتا۔ کہتا،
’’میں توکوئی یوں ہی نہیں کہتازیادہ تعلیم بھی دماغ خراب کردیتی ہے۔عِلم کی کثرت پردہ بن جاتی ہے اورایک وقت آتاہے کہ آدمی کواِس پردے کے آگے کچھ نظرنہیں آتا۔یہ لڑکاحمید بھی اسی مرض کاشکارہے ۔سچ تویہ ہے کہ یہ ہمیں بنے بنائے راستے سے ہٹانا چاہتاہے۔ہماری توڑکر اپنی سِرے چڑھاناچاہتاہے ۔مگرآخرہم بھی توہم ہیں۔جیتے جی اس کی سرے چڑھنے نہیں دیں گے ۔جویہ کہتاہے ہونے نہیں دیں گے؟۔
جہالت بدترین اندھیراہے ۔اس میں جس کوکچھ بھی نظرنہیں آتا وہ بھی صاف صاف نظرآنے کادعویٰ کرتاہے ۔بہت سارے صاحب ِ علم اپنی بے عملی کی اصلاح کرنے کے بجائے علم کے بھرم میں گرفتاررہتے ہیں۔ لوگ میاں رحمت کی سنتے تو عش عش کراُٹھتے مگرسچ تویہ ہے کہ ان کی اپنی کوئی سوچ تھی ہی نہیں ۔ان کی حالت اُن جانوروں سے مختلف نہیں تھی جوفقط چرواہے کی ہانک سُننے اوراِس کے ساتھ ساتھ چلنے کے عادی ہوتے ہیں ۔وہ آوازتوسنتے ہیں لیکن آوازکامطلب نہیں سمجھتے۔ 
ایک دن حمیدکا گُزرمیاں رحمت کے گھرکے پاس سے ہوا۔ جاڑوں کے دِن تھے۔وقت کوئی دس گیارہ بجے کاتھا۔ دُھوپ اچھی خاصی نکل آئی تھی ۔دُھوپ اورہلکی ہلکی سردی کی آمیزش نے ماحول کواوربھی خوشگواربنادیاتھا۔رحمت میاں ٹیبل کے سامنے کرسی پربیٹھے تھے۔ ٹیبل پرچائے کی کیٹلی ، کپ اورایک ریڈیورکھاہواتھا۔وہ دُنیاومافیا سے بے نیازانگریزی خبریں سننے میں مصروف تھے ۔ حمیدنے یہ سب دیکھاتوبڑاحیران ہوا۔گواس نے میاں رحمت کواِس سے پہلے بھی کئی دفعہ خبریں سنتے دیکھاتھا مگر وہ تونہ انگریزی پڑھاتھا اورنہ کبھی انگریزی بولنے والوں کی صحبت میں رہاتھا توپھر وہ انگریزی سمجھ کیسے سکتاتھا ۔اُس سے رہانہیں گیا۔پوچھ ہی لیا،
’’کیاسماعت ہورہاہے چچاّمحترم ‘‘وہ انہیں احتراماً چچا کہتاتھا۔
’’خبریں سُن رہاہوں ۔دِکھتانہیں کیا۔آنکھیں جواب دے گئی ہیں کیا‘‘ ۔میاں رحمت قدرے تلخ لہجے میں بولے۔
’’چچاّ خبریں توانگریزی میں ہورہی ہیں ‘‘حمیدنے پھرنرمی سے پوچھا۔
اِسی لیے توسُن رہاہوں۔ خبرتوخبرہوتی ہے۔ انگریزی میں ہوکہ اُردومیں ہو‘‘۔ میاں رحمت چِڑکربولے۔
’’چچامحترم آپ بلاوجہ ناراض ہورہے ہیں۔ میرامقصدآپکوپریشان کرنانہیں تھا۔میرے پوچھنے کامقصدتوبس اتناتھا کہ اگرآپ نہ توانگریزی پڑھ سکتے ہیں اورنہ ہی بول سکتے ہیں توپھراِسے سمجھ کیسے لیتے ہیں ۔حمیدنے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا۔
’’ارے پگلے سمجھنے کے لئے کون سن رہاہے ۔میں فقط سننے کے لئے سُنتاہوں۔ سُنی سُنائی سے کام چل جائے توکوئی کیوں بلاوجہ سمجھنے کاعذاب مول لیناچاہے گا۔آپ جیسے چند سرپھرے نوجوانوں کامسئلہ یہ ہے کہ آپ نون میں سے نکتہ نکالتے ہیں ۔نکتہ نکالنے سے نون بیچاری تونون رہتی نہیں مگرتنہانکتہ بھی بے وقعت ہوجاتاہے۔آپ ہربات میں تحقیق چاہتے ہیں۔بال کی کھال اِس طرح اُتارتے ہیں کہ نہ توبال اورنہ ہی کھال آپ کے ہاتھ آتی ہے ۔آپ کے پاس نہ عقل ہے نہ نقل کی صلاحیت۔ تم کوئی بے مصلحتی لوگ ہو۔ اب اسی بات کو لو۔کب سے فضُول میراسرکھائے جارہے ہو۔مگرسادہ سی بات دماغ میں اُتارے نہیں اُترتی۔زمانے کازمانہ بڑے سکون سے سُنی سُنائی کے دھارے میں بہتاچلاجارہاہے مگرنہ جانے کیوں آپ سمجھوسمجھائی کے کنکرمارکرطلاطم پیداکرنے پرتُلے  ہیں۔میراآپ کومشورہ ہے کہ زمانے کے ساتھ چلو۔ نہیں توپِٹ جائو گے ۔سقراط کی طرح نشان ِ عبرت بن جائوگے ‘‘،
 میاں رحمت غصّے میں دھاڑے۔
’’مگرچچّاتحقیق توکوئی بُری بات نہیں ۔ یہ میں نہیں قرآن کہتاہے کہ جس بات کے بارے میں تمہیں پوراعلم نہ ہواُسے بلاتحقیق بیان مت کرو۔ جس بات کی آپکو سرے سے سمجھ ہی نہیں اُسکی سمجھ کی اداکاری کرنے کی ضرورت ہی کیا۔ خبرسُننے کااصل مقصد توخبردارہونا اورخبردارکرناہے ۔نہ سمجھوگے توسمجھائوگے کیا؟۔یہ اداکاری کسی مکاری سے کم نہیں ۔یہ مکاری قوم کے حق میں خواری ہے ۔خواری‘‘۔حمیدنے جذباتی ہوتے ہوئے کہا۔اب میاں رحمت سے کچھ بن نہیں پارہاتھا ۔وہ کچھ دیررُکے اورپھرنرم لہجے میں بولے ،
’’بیٹے قرآن کافرمانا میرے سرماتھے مگرمصلحت نام کی بھی توکوئی چیز ہوتی ہے۔مصلحت کاتقاضہ یہ ہے کہ نئے راستے تراشنے کے بجائے بنے بنائے راستوں پرچلاجائے کیونکہ ان پرچلناکہیں زیادہ محفوظ ہے۔ دُنیاسُنی سنائی میں رہتی ہے تورہنے دو۔ جوجس حال میں جیتاہے جینے دو۔کوئی بے خبری کوخبرکہتاہے توکہنے دو۔ تمہارابگڑتابھی کیاہے ۔بنے بنائے راستوں میں روڑابننے کی کوشش مت کرو۔ ان روڑوں پرہتھوڑے پڑتے بھی دیرنہیں لگتی ‘‘۔ میاں رحمت دھمکی آمیزلہجے میں بولے۔
’’کون سی مصلحت ؟۔کیسی مصلحت ؟ من مرضی اورخودغرضی کی مصلحت اللہ کے فرمان سے بڑھ کرنہیں۔
بات دین کی کرتے ہوتویہ پوری طرح دین میں داخل ہونے سے ہی بنتی ہے ۔بے یقینی بے دینی کی جڑ ہے۔جہاں یقین نہیں ہوتاوہاں ایمان نہیں ہوتا۔ جہاں ایمان نہیں وہاںشیطان غالب ہوتاہے ۔ محض نام رحمت رکھنے سے توکوئی رحمت نہیں ہوجاتا۔رحمت کہلانے کیلئے کام بھی تو رحمتی چاہیں۔ کام رحمتی نہ ہوں تونام کارحمت بھی بدترین زحمت بن جاتاہے ‘‘۔
حمیدنے قدرے غصّے سے کہا۔میاں رحمت نے یہ سُناتو پھرنرم لہجے میں بولے،
’’ارے لڑکے تم بھی بات کابتنگڑ بنارہے ہو۔ بات خبرکی ہورہی تھی ۔یہ دین بیچ میں کہاں سے آگیا ۔خیرآپ کی دینداری آپ کومبارک لیکن آج کل آپکی وہ ماڈرن تعلیم کی باتیں کہاں ہیں جس طرح آپ نے یہ دین دین کی رٹ لگارکھی ہے لگتاہے اب آپ بھی میرے راستے پرآگئے ہیں‘‘۔
’’چچاّ‘‘ محترم آپ کا راستہ آپکومبارک ۔میں اب بھی وہیں ہوں یہاں تھا ۔آپ نے بات ہی ایسی کی تھی جس کے جواب میں دین کے علاوہ کوئی اوربات کرنانہ بنتی نہ جچتی تھی۔ رہی بات علم کی توعلُوم جدید ہوں کہ قدیم، دینی ہوں کہ دُنیاوی ،انہیں الگ الگ خانوں میں رکھ کرنہ سمجھاجاسکتاہے نہ سمجھایاجاسکتاہے۔عِلم توعِلم ہوتاہے۔عِلم برانہیں ہوتالیکن بُرابنایاجاسکتاہے ۔آگ کاکام جلانااورحرارت دیناہے ۔اس سے کھاناپکانایاہاتھ جلاناآگ کے اپنے اختیارمیں نہیں بلکہ آگ جلانے والے کے اختیارمیں ہے ۔اس کائنات میں ایسی بے شمارچیزیں ہیں جوآدمی کے فائدے کی ہیں لیکن اُسے ان کاعلم نہیں۔ دین آدمی کوان کے حصول سے روکنے کے بجائے ان کے حصول کی ترغیب دیتاہے ۔جدیدعلوم اگر اسرارِ کائنات سے پردہ اُٹھانے کاذریعہ ہیں تودین بلاشبہ ایسے ذرائع کارہنماہے ۔جدیدعلوم اگردین کے تابع ہوں تو انسانیت کے حق میں رحمت بن جاتے ہیں اوراگریہ دین کواپنے تابع بنانے کی کوشش میں ہوں توابن ِ آدم کے حق میں زحمت بن جاتے ہیں۔قرآن کہتاہے کہ خدانے تمہارے فائدے کیلئے بہت ساری ایسی چیزیں بنائی ہیں جن کاتمہیں عِلم تک نہیں۔ ماڈرن تعلیم یادُنیاوی علم اپنے آپ میں کوئی الگ علم نہیں بلکہ جن چیزوں کاعلم آدمی کونہیں ان چیزوں کے حاصل شدہ علم یا ان کے بارے میں علم حاصل کرنے کی کوششوں کانام علم ِجدید ہے ۔ان کوششوں سے ہی آدمی کی فکری طاقتیں حرکت میں رہتی ہیں ۔جہاں ایسی حرکت رُک جاتی ہے وہاں قوموں پرجمُودچھاجاتاہے۔جس دورمیں ایساجمود قوموں کواپنے پنجوں میں جکڑلیتاہے وہ دورقوموں کی تاریخ میں تاریک دورکہلاتاہے ۔علمی کوششوں کے نتیجے میں فکری طاقتوں کی ہونے والی تگ ودو بڑی بابرکت ہوتی ہے ۔ان ہی سے قوموں کے نشاۃ ِ ثانیہ کاآغازعبارت ہے ۔میری نظرمیں اِن علوم کی مخالفت دین کی حمایت نہیں بلکہ بدترین جہالت ہے ۔علم روشنی تو جہالت اندھیرا ہے ۔چچاّ محترم کیاانسانیت کے حق میں یہ بہترنہیں ہوگا کہ آپ اندھیروں کے بجائے روشنی کی وکالت کریں ‘‘
 حمیدنے جذباتی انداز میں اپنی تقریر ختم کرتے ہوئے کہا،
اب میاں رحمت کے پاس حمید کاکوئی توڑنہیں تھا ۔اُس کادِل توگواہی دے رہاتھا کہ سچ تووہی ہے جویہ نوجوان کہہ رہاہے مگراِس کی اَنااُسے یہ ماننے نہیں دیتی تھی ۔وہ جیسے ہی اِس جانب آمادہ ہوتاتواندر کی اناکہتی، 
’’تُوبڑاتووہ بہت چھوٹا ہے ۔بڑوں کی عقل بھی توبڑی ہوتی ہے۔چھوٹوں کی عقل بھی چھوٹی ہوتی ہے ۔تُوچھوٹے کی بات مان کرچھوٹے سے بھی چھوٹا ہوناچاہتاہے توشوق سے ہو مگرمیں توا س سے مجروح ہوتی ہوں‘‘۔
وہ اندرکی یہ سنتا تواُس کے بڑھتے قدم رُک جاتے۔ وہ ایک ہڑبڑاہٹ کاشکارہوجاتا۔اِسی ہڑبڑاہٹ میں اُس نے حمیدسے کہا،
’’میں وہی سُنتا ہوں جوسنناچاہتاہوں ۔وہی سن کرآگے سناتاہوں جوسناناچاہوں۔ جائوجوکرناہے کرتے رہو۔میں نہیں سنتاآپکو۔آپ میرے لیے گونگے کے گونگے اورمیں آپ کے لیے بہرے کابہراہوں‘‘۔
حمیدنے یہ سُناتو اُس پرایک سکتہ طاری ہوگیا۔ یہ کسی الہڑنوجوان کے خیالات نہیں بلکہ ایک منجھے ہوئے ادھیڑعمرشخص کے تھے ۔نوعیت کے اعتبار سے اگرچہ یہ ایک بہت چھوٹا ساواقعہ تھا مگر اِس نے اِسے اندرہی اندرہلاکررکھ دیاتھا۔اُسے فکریہ نہیں تھی کہ لوگ اُسے نہیں سُن رہے بلکہ اُس کی فکریہ تھی لوگ اُس شخص کی سمجھ کے قائل تھے جواپناسُناہوابھی نہیں سمجھتاتھا۔ وہ بے خبرکوخبردارسمجھ رہے تھے ۔وہ خبرداری کے نشے میں بے خبری کے اندھیروں میں بھٹک رہے تھے ۔مگرانہیں اِس کااحساس تک نہیں تھا۔ ان کے لیے ناسمجھی ایسی خوشنماچیزبن گئی تھی کہ اُنہیں اس میں کچھ بھی بُرائی نظرنہیں آتی تھی۔ اُس نے سمجھانے اورسیدھاراستہ دکھانے کی بہت کوشش کی مگراہل ِ خیر پورپراس کاکچھ بھی اثرنہیںتھا ۔لمحہ بھرکیلئے اُس کے اندریہ خیال انگڑائیاں لینے لگاکہ شائد اُس کے اپنے اعمال میں ہی کچھ ایساکھوٹ ہے کہ لوگ نہ اُسکی سُنتے اورنہ مانتے ہیں۔اس خیال کاآناتھاکہ اُس پرمایوسیوں کے گہرے بادل چھاگئے۔اُسے ایسے لگنے لگاجیسے کہ زندگی بھی اُسے جہاں میں لاکے اُس سے تنگ پڑگئی ہواوراب اس کے مرجانے کے حیلوں بہانوں کی تلاش میں ہو۔ابھی وہ مایوسیوں کے انہی اندھیروں میں بھٹک رہاتھاکہ اُسے اچانک محسوس ہواجیسے ذہن کے بنددریچوں میں سے کوئی اک ادھ دریچہ کھل گیاہو۔اس کے کھلنے کے ساتھ ہی اُسے ایک رُوح پرورسی گونج سُنائی دی۔ اس کاسنناتھاکہ مایوسیوں کے بادل چھٹ گئے اورنگاہوں کے سامنے دوردورتک اُمیدوں کے چراغ روشن ہوگئے ۔یہ گونج کچھ اسطرح تھی،
ؔ’مایوسی چھوڑدو۔یہی توعین کفرہے ۔اکثریت سے مرعوب کیوں ہو۔یہ تومحض گمان کے پُجاری ہیں۔ گمان پرچلتے ہیں اور اللہ کی راہ سے بھٹکاتے ہیں۔ نبی ؐ کے ایک سچّے اُمتی کاکام یہ ہے کہ وہ اُن پراللہ کی جانب سے اُتری ہوئی ہدایت کوزیادہ سے زیادہ آگے پہنچائے ،پھیلائے اورسُنائے ۔ کوئی نہ مانے تومنوانااُس کاکام نہیں۔ منوانے کاکام تواللہ کاہے ۔ اللہ جس کوبھٹکادیتاہے پھراُسے ہدایت نہیں دیاکرتا اوراس طرح کے لوگوں کی کوئی مددنہیں کرسکتا۔  خیرپورہی کوئی آخر بستی نہیں اوربھی بستیاں ہیں ۔کہیں اورنکل جائو۔بھٹکے ہوئوں کی کثرت دیکھ کرہدایت کاراستہ نہ چھوڑو ۔کثرت کے جھانسے میں آئوگے تو بھٹک جائو گے۔کثرت کے جھانسے اندھیرے ہی اندھیرے ہوتے ہیں ۔ان اندھیروں سے نہ گبھرائو۔یہ توبڑے بے حقیقت ہوتے ہیں۔ان کابھوت نکالنے کیلئے کسی کوہِ نور کی ضرورت ہی کیا۔ روشنی کی ایک کرن بھی کافی ہے ‘‘۔
���
 اودہمپور، جموں
موبائل نمبر؛9419166320