تازہ ترین

قربانی اللہ تعالی کو پسند ہے؟

فکر و فہم

تاریخ    16 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


شہر بانو اعظمی
کیا قربانی اللہ تعالی کو پسند ہے؟جی ہاں! قربانی اللہ تعالی کو پسند ہے۔ کیسے؟ آئیے اس پر دینی اور دنیاوی دونوں جہت سے نظر ڈالتے ہیں۔مذہبی نکتۂ نظر:  اللہ نے اپنےبندوں کو سمجھ بوجھ دی، پھر بندوں کے دل میں اپنی محبت کو پختہ کرنے کے لئے کئی امتحان اور آزمائشیں بھی رکھیں تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ سارے انسان ایک ہی نوع کے نہیں ہوتے ، اس نے اپنے ایک بندے (حضرت ابراہیم علیہ السلام) سے کہا کہ میرے لیے اپنے بیٹے کے گلے پر چھری پھیر دو، یہ بہت بڑا امتحان تھا لیکن وہ بندہ تیار ہو گیا اور چھری چلا دی، بر وقت اللہ تعالی نے ایک دُنبہ بھیجا اور اس بچے کو ہٹا لیا،اللہ تعالی کو اپنے بندے کا یہ جذبہ اتنا پسند آیا کہ اسے ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔
 قربانی کا سب سے اچھا طریقہ یہی ہے کہ پالتو جانور ذبح کیا جائے تاکہ یہ ظاہر ہو جائے کہ بندہ اللہ کے لیے اپنی پیاری چیزوں کو بھی چھوڑ سکتا ہے۔۔ قربانی اس لیے بھی کی جاتی ہے کہ بندے کے دل میں یہ بیٹھ جائے کہ اللہ کا حکم سب سے بڑھ کر ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ بے زبان جانوروں کو مار ڈالنا غلط ہے تو آئیے اس پر معاشرتی نظر سے روشنی ڈالتے ہیں۔ سب سے پہلے جگدیش چندر بوس کے ذریعے پیش کی گئی اس تھیوری کو ذہن میں رکھیں، جس کا مفہوم یہ کہ پودوں میں بھی جان ہوتی ہے۔اب ہم یہ کہتے ہیں کہ جانوروں کو قربان کرنا اسی سسٹم کا ایک حصہ ہے، جس میں ہم سانس لے رہے ہیں۔۔
یہ جانور اسی لئے پیدا کئے گئے ہیں کہ ہمارے کام آئیں، ہماری کچھ ضرورتیں انھیں زندہ رکھ کر پوری ہوتی ہیں تو کچھ کے لیے ان کا مرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔اگر جانور کا مارنا اور گوشت کھانا نظام کے مخالف ہوتایا غلط ہوتا تو اب تک ہمارا وجود بھی نہ ہوتا کیوں کہ اس کا کچھ ثبوت ملتا ہے کہ گوشت انسانوں کی خوراک شروع سے رہا ہے جس کا تذکرہ مارٹا ژراسکا نے اپنی تصنیف میں کیا ہے،اگر جان لیناسسٹم کا حصہ نہ ہوتا تو ہر دن اَن گنت لوگ نہ مرتے اور نہ ہی خدا اپنے پیارے بندوں کو مارتا۔
اگر جان لینا سسٹم کے خلاف ہوتا تو ایسے جانور بھی نہ بنائے جاتے جن کی زندگی دوسرے جانداروں کو کھا کر ہی باقی رہتی ہے۔اگر ہم یہ سوچ کر جانوروں کو مارنا بند کر دیں کہ خدابےزبان جانوروں کو مارنے کا حکم کیوں دے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگاکہ ہمیں زمیں پر چلنا بند کرنا پڑےگا کہ کہیں پاؤں کے نیچے آکر کسی جاندار کی جان نہ چلی جائے۔ بلکہ گھاس پھوس پر بھی چلنے سے بچنا ہوگا کیو ں کہ ان میں بھی ایک طرح کی جان ہوتی ہے۔ہمیں کیڑے مکوڑوں کو مارنے کی دواؤں کا استعمال بھی بند کرنا ہوگا۔(خیال رہے کہ وائرس بھی جاندار ہی ہوتے ہیں)چمڑے کی صنعت بند کرنی پڑے گی، جس کی سالانہ تجارت تقریباً 100 ملین ڈالر ہے۔جانوروں کی کثرت ہوگی تووہ ہمارے لیے نقصاندہ بن جائینگے۔دواؤں اور آرائشی مصنوعات کی تجارت و صنعت متاثر ہوگی، ان نکات سے یہی پتہ چلتا ہے کہ جانوروں کی قربانی غیر انسانی، بے رحمی اور کوئی گھناونا فعل نہیںبلکہ فطرت کا حصہ ہے۔
 جب اتنی بات واضح ہو گئی کہ قربانی نظام حیات کے خلاف نہیں تو ہم یہ کہتے ہیں کہ جانداروں کی الگ الگ قسمیں ہیں، ان میں سب سے اہم انسان ہے، پھر چوپائے اور پرندے پھر کیڑے مکوڑے اور پھر پیڑ پودے۔ان میں ایک ہی نوع کے جاندار کا آپس میں ایک دوسرے کی جان لینا غیر فطری ہے۔ خاص طور سے انسانوں میں۔ (چند کا استثنا ہے) اسی طرح بلا ضرورت کسی کی جان لینا بھی غیر فطری ہے۔اس کے علاوہ کی صورتیں حیات و کائنات کی بقا کے لیے ضروری ہیں۔