تازہ ترین

برساتی پانی سے شہرپھر پانی پانی ہوگئے!

تاریخ    14 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


  جموںوکشمیر میں گزشتہ رات سے ہوئی بارشوں نے ایک بار پھردارالحکومتی شہروں سرینگر اور جموںمیں ناقص ڈرینج سسٹم کی قلعی کھول کررکھ دی ہے کیونکہ محض چند گھنٹوں کی بارش سے دونوں شہرپانی پانی ہو گیا۔بارشوں کے پانی سے نہ صرف سڑکیں اور گلی کوچے زیر آپ آگئے بلکہ جموںشہرسرینگر کے سیول لائنز اور بالائی حصے میں متعدد علاقوں میں پانی رہائشی مکانات اور تجارتی مراکز میں داخل ہو گیا۔ہر سو پانی جمع ہونے کے نتیجہ میں صورتحال اس قدر سنگین بن چکی تھی کہ کئی علاقوں میں عبور و مرور ناممکن بن چکا تھا۔ہر بار کی طرح اب کی بار بھی انتظامیہ کے اہلکاروں اور انجینئروں کو’’حالت جنگ میں خندق کھودنے ‘‘کے مصداق کئی مقامات پر ڈی واٹرنگ پمپ نصب کرتے ہوئے دیکھا گیا تاکہ ان شہروں کو پانی پانی ہوتے دیکھ کر خود پانی پانی ہونے سے بچ سکیں اور لوگوں کو یہ تاثر دیں کہ ’’قدرت‘‘کے سامنے بے بس وہ اپنی طرف سے لوگوں کو راحت دینے کے بھرپورجتن کررہے ہیںتاہم اپنی خامیوں پر پردہ ڈالنے کی خاطر لیپا پوتی کا یہ عمل قطعی طور کسی کو متاثر نہیں کرسکتا ہے کیونکہ اب یہ متعلقہ انتظامیہ کا معمول بن چکا ہے ۔ 1980میں ڈرینج سسٹم سے منسلک محکمہ ،جسے اربن اینوائرنمنٹل انجینئر نگ ڈیپارٹمنٹ ( UEED)پکا را جاتا ہے ،کے قیام کے ساتھ ہی اس محکمے نے جموں اور سرینگرشہروں میں ڈرینج سسٹم اور انتظام بدرو کیلئے ایک جامع پروجیکٹ رپورٹ تیار کرلیا جسے عملانے کیلئے حکومت کی منظوری بھی ملی تھی ۔118کروڑتخمینہ کے اس پروجیکٹ کو دس یا گیارہ سال میں مکمل ہونا تھا لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔21سال بعد یعنی2001میں حکومت نے اسی پروجیکٹ کوکئی گنا زیادہ اخراجات کے تخمینہ کے ساتھ اپ گریڈ کرکے اس کو عملانے کی منظوری دے دی ۔اس تجدید شدہ پروجیکٹ کے مطابق شہر سرینگر میں نقائص سے عاری ڈرینج سسٹم 2002-03تک مکمل ہونا تھاجبکہ انتظام بد رو کیلئے جون2010کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی ۔اس پروجیکٹ پر کتنا کام ہوا ،اس کا اندازہ سب کو حالیہ بارشوں سے ہوا ہوگا۔ 2005میں جموں اور سرینگر میونسپل کارپوریشن اور قصبہ جات میں میونسپل کونسلوں کے قیام کے بعد ڈرینج سیکٹر ان کارپوریشنوں اور کونسلوں کی تحویل میں دیا گیاجبکہ یو ای ای ڈی کے ذمہ صرف سیوریج کا کام رکھا گیا تاہم یہ دونوں محکمے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آں ہونے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں اور جواہر لعل نیشنل اربن رنیو ل مشن پروگرام کے تحت گریٹر سرینگر پروگرام کے تحت نکاسی آب اور انتظام بد رو کیلئے اربوں روپے صرف کرنے کے باوجود زمینی صورتحال بدلنے کانام نہیں لے رہی ہے ۔اب تو سرینگر کو سمارٹ سٹی بنانے کی باتیں ہورہی ہیں،رنگ روڈ بن رہے ہیں۔نیا ماسٹر پلان بھی آچکا ہے تاہم اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی کے مصداق ان دونوںشہروں کی حالت ہے کہ بدلنے کانام نہیں لے رہی ہے ۔آج بھی ان شہروں کی بالکل ویسی ہی حالت جیسی تیس برس قبل ہوا کرتی تھی۔گلی کوچوں اور سڑکوں کو کہیں کہیں کشادہ تو کیاگیا لیکن بدرو اور پانی کی نکاسی کا نظام ٹھیک ہونے کا نام نہیںلے رہا ہے اور اگر خدا خدا کرکے کبھی کوئی نکاسی آب کی سکیم مکمل بھی ہوجاتی ہے تو اگلے سال اس سکیم کو سڑکوںکی کشادگی یا مرمت کے نام پر دوبارہ غیر فعال بنایا جاتا ہے ،یوں پانی نکلتا ہے ،نہ بدرو اور اب حالت یہ ہے کہ پورے شہر ہی بدرو میں تبدیل ہوچکے ہیں ۔ایک زمانہ میں نالہ مارشہر سرینگر میں نکاسی کا بہترین ذریعہ ہوا کرتا تھا ۔اس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں بہنے والی چھوٹی چھوٹی قدرتی نہریں اور آب گاہیں بھی بارشوں کا پانی اپنے اندر سموتی تھیں لیکن شہر کاری کے اندھا دھند رجحان نے نہ صرف مار پلان ہم سے چھین لیا بلکہ وہ نہریں اور آب گاہیں بھی نابود ہوگئیں۔یہی حال جموں کا بھی ہوا جہاں برساتی نالوں پر قبضہ کرکے انہیں رہائشی علاقوں میں تبدیل کیاگیا ۔جب پانی کی نکاسی کا فطری نظام ختم ہوجائے تو گلی کوچوں اور سڑکوںکا لبالب ہونا فطری بات ہے۔اسی وقت نکاسی آب کا انسانی نظام کام آتا ہے جو بدقسمتی سے ہمارے یہاں مفلوج ہی ہے اور ہر بارش کے وقت شہر ایک طرح سے تالاب میں تبدیل ہوجاتے ہیںجہاں آپ کو ہر سو پانی ہی پانی ملے گا ۔نہ سرینگراور جموں کی میونسپل کارپوریشنیںان جڑواں شہروں کی حالت بدل سکیں اور نہ ہی شہری ترقی محکمہ کے نگراں دیگر محکمے لیکن اب حق گوئی سے کام لیاجائے تو تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان شہروں کی بہبود کے نام پر اپنائی گئی سکیموں کو مخصوص لوگوں کی جیبیں بھرنے کیلئے استعمال کیاگیاجبکہ لوگ بے نیل ومرام ہی رہے۔فرائض سے پہلو تہی اور عوامی مسائل سے آنکھیں چرانے کا سلسلہ اب بہت ہوچکا ہے ۔اب حکومت کو چاہئے کہ و ہ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے باہر آکر شہری آبادی کو درپیش مشکلات کے ازالہ کیلئے عملی اقدامات کرے تاکہ حکام کو ہر بار بارش کے وقت شہر وںکو پانی پانی ہوتا دیکھ کر خود بھی پانی پانی نہ ہونا پڑے۔