تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    11 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


جب بھی پکارتا ہے کوئی رُوبہ رُو مجھے
کرتا ہے اپنے فیض سے وہ مُشکبو مجھے
 
پیری میں پلٹ آگیا پھر سے شباب و شوق
بھانے لگی ہے یار کی پھر گفتگو مجھے
 
رہتا خیال پھر نہ مجھے اپنے آپ کا
پھر کوستا ہے آخرش یہ من و تُومجھے
 
یخ بستہ میری سوچ کا ساگر ہوا تو کیا
بہنے کو اب بھی رُود سی ہے جُستجو مجھے
 
ماحول میں ایسے مِیاں نالہ بہ لب ہو کیوں
بھاتا نہیں ہے آپ کا یہ ہائو ہُو مُجھے
 
اِس عُمر میں عُشاقؔ پھر یہ ذوقِ تجسّس
یہ راز ہائے شوق تُو سمجھا کبھوُ مُجھے
 
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اُردو(ہند) شاخ کشتواڑ
موبائل نمبر؛9697524469
 
 
 
محبت کی فضا ہے اور میں ہوں
نیا  یہ  راستہ  ہے  اور  میں ہوں
ہنسی میرے لبوں پر کھیلتی ہے
عجب یہ سلسلہ ہے اور میں ہوں
محو ہے چاند کس کی آرزو میں
یہ کس کا تذکرہ ہے اور میں ہوں
وہ جس کو خواب میں دیکھا تھا اکثر
وہی جلوہ نما ہے اور میں ہوں
وہ جس کی یاد میں پل پل گزاروں
سرِ دامن کھڑا ہے اور میں ہوں
چمن کی کیاریوں میں دھیمے سُر میں
کوئی نغمہ سرا ہے اور میں ہوں
’’ ابھی کچھ دیر رُکیے گا یہیں پر‘‘
کسی  کی  التجا  ہے اور میں ہوں
اشاروں میں وہ دل کی بات کہنا
انہی کا حوصلہ ہے اور میں ہوں
یہ آنکھیں رات بھر اب جاگتی ہیں
محبت کی سزا ہے اور میں ہوں
کسی کو سونپ کر دل کا سفینہ
سمندر جھومتا ہے اور میں ہوں
شفائیؔ گِرد تیرے حسرتوں کا
بڑا اک دائرہ ہے اور میں ہوں
 
ڈاکٹر شکیل شفائی ؔ
بمنہ، سرینگر، کشمیر
 
 
جب بھی وہ کھل کے مسکراتی ہے
دیر تک کائنات گاتی ہے
اس سے ملنا قریب ہے شاید
دل میں آہٹ سی کوئی آتی ہے
پہلے رہتی تھی بس خیالوں میں
اب میری روح میں  سماتی ہے
شام ڈھلتے ہی اپنی پلکوں پہ
دیپ یادوں کے وہ جلاتی ہے
میری غزلوں سے عشق ہے اسکو
اس کی روداد مجھ کو بھاتی ہے
جاگتی ہے وہ، سن کے میری بھی
نیند آنکھوں سے روٹھ جاتی ہے
اس کی آنکھوں میں ڈوب کر عارفؔ
ہر قسم میری ٹوٹ جاتی ہے
 
عرفان عارف
صدر شعبہ اردو
ایس.پی.ایم.آر کالج آف کامرس، جموں
9682698032/9858225560
 
 
مری فرحت کا دریا آنسوں میں  ڈھل نہیں سکتا
تجھے پلکوں پہ رکھا ہے میں آنکھیں مل نہیں سکتا
بُرا گولے کو کیونکر کہہ رہے ہو اے بھلے لوگو
نہ جب تک آدمی اسکو چلائے چل نہیں سکتا
سرِ محشر مجھے رسوا نہ کرنا اے مرے اللہ
میں تیرا  کلمہ گو  بندہ ہوں ہرگز جل نہیں سکتا
مداوا کرنے والے تو مداوا کر تو لے لیکن
بجز دیدارِ جاناں کے مرا غم ٹل نہیں سکتا
نکالو اس کو ہانڈی سے اے خانساماں یہ لازم ہے
کہ کنکر دال کے دانوں میں مل کر گل نہیں سکتا
جگر آفاقؔ کا شبیرؑ کی خاطر کشادہ ہے
بِنا ان کے کسی کا درد اس میں پل نہیں سکتا
 
آفاقؔ دلنوی
دلنہ بارہمولہ کشمیر
موبائل نمبر؛ 7006087267
 
 
نہ کتابِ دل کبھی پڑھ سکے، نہ خیالِ آہ و فغاں ہوا
جو عیاں ہوا غمِ بے کراں، دمِ تیغ فخرِ بتاں ہوا
 
تری نیم باز نگاہوں نے کیے وار قلب پہ پے بہ پے
کہ حواس پر پڑیں بجلیاں، تو لہو جگر کا رواں ہوا
 
نہ تکلفِ سرِ بزم ہے، نہ ہی پاسِ عہدِ وفا اسے
وہ کرم، وہ لطف بھی اب نہیں کہ بدل کے حرفِ زباں ہوا
 
وہ خیالِ وصل کی آس ہیں، وہ بہارِ دل کی سبیل بھی
دروبست رہ گئے اس قدر کہ نصیب یوں ہی اماں ہوا
 
یہ کشش، یہ جاذبیت تری، کہ ہر ایک پیکرِ گل میں تو
گلِ تر نظر میں سما گیا، تو ہمیں ترا ہی گماں ہوا
 
وہ تو آج بھی ہیں خفا خفا، یہ ستم بھی کیسا ہے ناگہاں
جو بہا دیا شبِ ہجر کو، وہ لہو جگر کا زیاں ہوا
 
نہ شکایتیں نہ گلے مجھے کہ کسک ہی رہ گئی دل کی اب
نہ رہا مرا جو کبھی تھا دل ، کہ یہ اب ترا ہی مکاں ہوا
 
ڈاکٹر مظفر منظور
اسلام آباد کشمیر،موبائل نمبر؛9469839393
 
 
یہ مری زندگی امتحاں امتحاں
کوئی سمجھے اسے داستاں داستاں 
 
ہم ترے ظلم کو ہنس کے سہتے گئے
لوگ سمجھے ہمیں بے زباں بے زباں
 
تم نے ہم کو ہر اک در سے رسوا کیا
تجھ کو کہتے رہے جانِ جاں جانِ جاں
 
درمیاں جو ہو تم دیکھتے کیوں نہیں
دیکھتے کیوں ہو تم آسماں آسماں
 
تجھ کو دیکھا تو دل اور جاں سے گئے
لُٹ چکی شہر میں بستیاں بستیاں
 
غیر کا ہاتھ تم نے جو تھاما ہے یوں
سوچ میں پڑھ گیا ہر گماں ہر گماں
 
کس سے پوچھیں گے ہم اپنے گھر کا پتا
تھک گئے ڈھونڈتے کارواں کارواں
 
عاقب اللہ ہمرازؔ
صورہ سرینگر، 
متعلم جامعیہ ملیہ اسلامیہ، نئی دلی
موبائل نمبر؛ 7006655470