تازہ ترین

زندگی کا مقصد

افسانہ

تاریخ    11 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


وردہ فاطمہ
سہ پہر کے چار بج چکے تھے۔ فضا تھکی ہاری، اپنے ننھے کاندھوں پر  بھاری بستے کا بوجھ اٹھائے اسکول سے واپس آ گئی۔ اندر داخل ہو کر بستہ نیچےرکھا ۔ منہ ہاتھ دھو کر چائے نوش کی اور باہر کھیلنے چلی گئی۔باہر فضا کبھی پھولوں اور ٹہنیوں کو جمع کر کے سبزی کی دکان سجاتی تو کبھی کھلونوں کی بازار۔ کبھی سر پر ڈوپٹہ اوڑھے اور ہاتھ میں چھڑی لئے بچپن کا مشہور ٹیچر۔ ٹیچر والا کھیل کھیلتی۔ غروب ہوتے سورج کی سنہری شعاعیں فضا کے سجے بازار کی زینت دوبالا کر رہی تھیں کہ شام کی تاریکی نمودار ہونے لگی۔ فضا اپنے بچپن کے حسین لمحات سے لطف اندوز ہو کرواپس گھرکے اندر چلی گئی۔ کچھ وقت کے بعد اس نے اپنا بستہ کھولا اور "ہوم ورک "شروع کیا۔ آج اردو کی استانی نے انہیں " میری زندگی کا مقصد" عنوان پر کچھ جملے لکھنے کو کہا تھا۔ یہ عنوان دیکھ کر فضاکے دل و دماغ میں الجھن سی پیدا ہوئی۔ اس کے دماغ میں کبھی ٹیچر، کبھی انجینئر، تو کبھی پائلٹ کا خیال آتا۔ کبھی تو اپنےارد گرد کے ماحول کی بناء پر ڈاکٹر کا خیال بھی سرزد ہوتا۔مختلف خیالات اس کے ذہن میں مختلف انداز پیش کر رہے تھے۔ وہ اسی سوچ میں گُم تھی کہ اتفاقاً اسی اثناء اس کے نانا جی آگئے۔ فضا کو کسی سوچ میں محو پا کر اس سے پوچھا، "فضا بیٹی کیا بات ہے؟ کیا ہوم ورک میں  کہیں کوئی مشکل پیش آ رہی ہے؟ "یہ سن کر فضا بولی، " نانا جی، ہماری اردو ٹیچر نے ہمیں عنوان میری زندگی کا مقصدپر کچھ جملے لکھنے کو کہا ہے۔ لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں کیا لکھوں کیونکہ میں تو کبھی ٹیچر، کبھی پائلٹ تو کبھی کچھ اور بننا چاہتی ہوں۔‘‘ یہ سن کر فضا کے نانا جی نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اورمسکرا کر کہنے لگے، فضا بیٹی، پائلٹ، انجینئر وغیرہ یہ سب تو زندگی کے شعبے ہیں  جو انسان کی زندگی کے بدلتے مراحل کے ساتھ بدلتے رہتےہیں۔ لیکن ایک انسان کی زندگی کا بنیادی مقصد تو "انسان" بننا ہونا چاہیئے۔اسی لئے توایک بشر کی تخلیق ہوئی ہے۔یہ سن کر نہایت ہی معصومیت سےلبریزفضا اپنے معصوم ہاتھوں کو منہ پر رکھ کر ہنسنے لگی اور ہنستے ہوئے بولی، " نانا جی،۔۔ انسان بننا۔۔۔ ہی ہی ہی۔۔۔۔ میں تو انسان ہی ہوں۔ میں تھوڑی کوئی پرندہ یا جانور ہوں جو مجھے انسان بننا چاہئے۔ فضا کے نانا جی نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ  انسان بننے کا مطلب صرف انسانی شکل اختیار کرنا نہیں بلکہ انسانی صفات سے مزین ہونا ہے۔ صحیح معنوں میں انسان کے اچّھے اخلاق، نیک سلوک اور انسانیت کا جذبہ اسے انسان بناتا ہے لیکن فضا اپنی معصومیت میں یہ سب باتیں سمجھ نہ پائی۔باوجودیہ جاننے کے کہ بزرگوں کی بات دانائی کا ثبوت پیش کرتی ہے اس بات کو سمجھنے سے قاصر رہی اور اس نے کسی اور شعبہ کا نام لکھ کر اپنا ہوم ورک مکمل کیا۔ یہ بات اس قدر وسیع اور ذی وقعت تھی کہ معصوم فضا ہی کیا بلکہ سماج میں شاید کچھ آٹے میں نمک کے برابر ہی ذی عقل و ذی شعورلوگ ہی اسے سمجھ پاتے۔اسی وجہ سے شاید فضا کو آج تک کسی نے یہ بات نہ کہی تھی۔ 
فضا کی زندگی لمحات سے ہوتے ہوئے دنوں میںاور دنوں سے گزرتے ہوئے مہینوں اور مہینوں سے برسوں میں گزرتی گئی۔فضا دن بہ دن زندگی کے مختلف مراحل طے کرتی گئی۔اسے ہر نئے موڑ پر نئے انسان اور نئے رویّے ملتے گئے۔ وہ اب اسکول سے ہائیر سکینڈری اور کالج سے یونیورسٹی تک کے مراحل طے کر چکی تھی۔ اس کی معصومیت رفتہ رفتہ عقل و شعور اورسوچ و فکر میں تبدیل ہو گئی تھی ۔اب فضا باتوں کا صحیح مفہوم سمجھتی۔ اپنے ارد گرد رونما ہونے والے واقعات پرتفکرو تجزیہ کرتی۔ حقوق اور فرائض کی کہانی کا خلاصہ ڈھونڈ تی۔ صحیح اور غلط میں فرق جانتی۔اچھّے اور برے میں تمیز کر پاتی۔ہر روز نئے سلوک اور نئے چہرے اسے نئی کہانیاں پیش کرتے۔ 
زندگی کے ان ہی مراحل سے گزر رفضا آج اپنے کمرے میں رکھی کتابیں سنبھال رہی تھی کہ اسے اچانک ایک  کتاب کے مضمون پر نظر پڑی۔ جس کا عنوان " میری زندگی کا مقصد "۔ یہ عنوان دیکھتے ہی فضا کو اپنے بچپن کی ہوم ورک والا واقعہ یاد آگیا۔ اسے نانا جی کی کہی بات بھی یاد آگئ جو اسے آج سُن کر گئی۔  وہ بات اور اپنی معصومیت سے لبریز ہنسی اس کے کانوں میں آج ایک مدّت کے بعد دوبارہ گونجنے لگی۔ وہ نیچے بیٹھ کر لفظ" انسان" کے معنی کی کھوج میں گم ہوگئی۔ اسے اپنے گرددرپیش ظلم و تشدّد، ناانصافی، احسان فراموشی، لالچ، بدکلامی، بغض و حسد اور نہ جانے کتنے فاحشانہ و ظالمانہ رویّے گشت کرتے نظر آئے۔ اسے "انسان" لفظ کا معنی بخیل، ظالم اور احسان فراموش جیسے لفظوں سے جڑا محسوس ہوا۔اسے ہمدردی، انسانیت، پیار و محبت، خلوص،تعاون کے لفظ دور دور تک اس لفظ سے جڑے محسوس نہیں ہوئے۔یہ سب سوچ کر وہ ششدرہ رہ گئی۔اس کھوج میں ڈوبی فضا کوآج نانا جی کی بات کا صحیح مطلب ذہن نشین ہوا۔اسے آج لفظ انسان کا صحیح معنی معلوم ہوا۔ آج اسے زندگی کے شعبے اور زندگی کے مقصد میں فرق معلوم ہوا۔ وہ یہ سمجھ گئی کہ  انسان بننے کے لئےانسانی شکل میں انسان  ہونا کافی نہیں ہے بلکہ انسانی صفت اور انسانی قلب کا  موجود ہونا لازمی  ہے۔ وہ سمجھ گئی کہ انسانیت ہمدردی، اور پیار و شفقت ہی انسان کو صحیح معنوں میں انسان بناتی ہے۔فضا نے آج  زندگی کا مقصد سمجھا۔ وہ اس بات سے آشنا ہوئی کہ صحیح معنوں میں انسان بن کر ہی انسان دنیا اور آخرت کی فلاح و بہبود پا سکتا ہے۔ اب فضااپنےآپ میں اور اپنے ارد گرد کی فضا میں انسانی صفت اجاگر ہونے کی خواہاں تھی۔ "اپنی زندگی کا مقصد " ایک با شعور انسان بن کر پورا کرنے کی خواہش نے اس کے قلب میں جنم لیا جسے پورا کرنے کی کوشش اس نے شروع کی۔ وہ اپنے اردگرد فضا میں ہر ایک کوانسان بن کے دیکھنا چاہتی تھی۔ ﷲتعالیٰ ہم سب کوانسانی صفت پہچاننے و اپنانے کی توفیق عطا فرمائےاور ہمیں صحیح و نیک انسان بنائے۔ آمین!
شَکلہِ چُھس اِنسان مَگر اِنسآنِیَت نِش بےخَبَر
(شکل سے انساں ہوں مگر انسانیت سے بے خبر)
ہیاوتَم مَتہٕ اِمتحان یَمہٕ شَکلہٕ مَتہٕ مَندچَھاوتَم
(امتحان مت لے اُس صورت میں کہ شرمندہ نہ کر)
���
سکواسٹ کشمیر (واڑورہ) 
ای میل؛wardahfatima71@gmail.com