تازہ ترین

زندہ ماتم

افسانہ

تاریخ    11 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر مشتاق احمد وانی
سجاول شیدا نے پہلی بار خندہ جبیں کو اپنے دوست کی برات میں اُس وقت دیکھا تھا جب وہ اپنی سہیلیوںاور دُلہے کی ساس کے ساتھ شادی کے منڈپ میں دلہے کو دیکھنے آئی تھی ۔وہ اور اُس کی سہیلیاں دُلہے اور براتیوں کے سامنے ایک قوس کی صورت میں آکے بیٹھ گئی تھیں ۔سجاول شیدا کے دوست کی ساس نے دُلہے کے دائیں ہاتھ کی اُنگلی میں سونے کی انگوٹھی اور گلے میں سونے کی چین پہنائی تھی ۔اُس کے بعد ہاتھ سے گھی میں شکر ملاکر اُس کے مُنہ میں لقمہ رکھا تھا ۔پھر کچھ ہنسی مذاق کی باتیں ہوئی تھیں ۔خندہ جبیں نے ململ کا ست رنگی سُوٹ زیب تن کیا ہوا تھا ۔سہیلیوں کے جھرمٹ میں وہ انتہائی خوب صورت نظر آرہی تھی ۔ اُس کاگول چہرہ،بھرے بھرے رُخسار ،گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹ ،سیاہ آنکھوں میں کاجل،کانوں میں کرن پُھول،میانہ قد،صراحی دار گردن،سڈول جسم،لمبے گھنیرے سیاہ سر کے بال،مخروطی انگلیاں،موتیوں کی طرح چمکیلے دانت ،دل کو موہ لینے والی مسکان اور اُس کی باتیں اُس کی متانت کو ظاہر کرتی تھیں۔اُس کی رفتار وگفتار ،نازوادا اور بل کھاتے ہوئے پری پیکر وجود کو دیکھ کر سجاول شیدا پہلی ہی نظر میں اُس پہ فریفتہ ہوگیا تھا۔اِدھر سجاول شیدا کی وضع قطع بھی بڑی پُر کشش تھی۔وہ مونگیا رنگ کی پینٹ،کوٹ،ٹائی پہنے ہوئے تھا ۔اُس کی چمکیلی آنکھیں ،کلین شیو،گھنگریالے بال اور اُس کے پورے جسم میں پُھرتیلا پن یہ ظاہر کررہا تھا کہ وہ کسی بھی لڑکی کو اپنی جانب مائل کرسکتا ہے۔اُس کے دل ودماغ میں پہلی ہی نظر میں خندہ جبیں کا عکس جمیل اُتر گیا تھا۔وہ دیر تک اُس کی طرف ٹکٹکی لگائے دیکھتا ہی رہ گیا تھا۔اتفاق کی بات یہ کہ خندہ جبیں کے در ِدل پر بھی سجاول شیدا کا خوب صورت سراپا دستک دے گیا تھا۔سجاول شیدا نے چاہا تھاکہ وہ لمحہ بھر کے لئے خندہ جبیں کے قریب جاکر اُس سے باتیں کرے ۔اُس کا موبائل نمبر حاصل کرے ،اُس کو اپنا موبائل نمبر لکھائے۔ابھی وہ یہی باتیں سوچ رہا تھا کہ تب تک خندہ جبیں کی سہیلیاں اُٹھ کھڑی ہوئیں اور دلہن کے پاس اندر چلی گئیں تھیں۔آگ اور پانی اپنا راستہ خود بنالیتے ہیں ۔سجاول شیداسے رہا نہیں گیاتھا ۔اُس کے دل کی اضطرابی کیفیت بڑھتی جارہی تھی ۔وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔وہ خندہ جبیں کو قریب سے دیکھنے ،اُس سے باتیں کرنے ،اُس کے خاندان کے بارے میں واقفیت حاصل کرنے کی چاہت میں دلہن کے گھر کے آس پاس بھونرے کی طرح ،اِدھر اُدھر پھرنے لگاتھا۔اتفاقاً اسی دوران خندہ جبیں بھی دلہن کے کمرے سے باہر آگئی تھی۔دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں تھیں ،دونوں کے چہروں پر جوانی کا خمار اُبھر آیاتھا۔پھر دونوں اپنے ہونٹوں پہ مسکان لیے لمحہ بھر کے لئے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہ گئے  تھے۔اس سکوت کو توڑنے میں سجاول شیدا نے پہل کی تھی۔اُس نے خندہ جبیں سے پوچھا تھا
’’کہاں رہتی ہو؟ نام کیا ہے؟‘‘
’’میرا نام خندہ جبیں ہے ۔اسی شہر کی رہنے والی ہوں ۔آپ کانام ؟کہاں کے رہنے والے ہیں؟‘‘اُس نے بھی سجاول شیدا کا تعارف چاہاتھا۔
’’ہاں مجھے سجاول شیدا کہتے ہیں ۔دل فروش نگر کا رہنے والا ہوں۔آپ کیا کرتی ہیں ؟آپ کی تعلیمی قابلیت؟کیا کوئی جاب بھی کرتی ہیں؟‘‘
’’ہاں میں زُولوجی میں ایم ایس سی ہوں۔ایک ہائر اسکنڈری اسکول میں لیکچرار ہوں‘‘
خندہ جبیں نے بھی سجاول شیدا سے پوچھا تھا
’’آپ کی تعلیم اور پیشہ؟‘‘
’’میں ماحولیاتی سائنس میں ایم ایس سی کرچکا ہوں ۔نوکری کی تلاش میں ہوں‘‘
خندہ جبیں نے پوچھا تھا
’’دُلہے کے ساتھ آپ کا کیا رشتہ ہے؟‘‘
’’ہم دونوں کلاس فیلو رہ چکے ہیں ‘‘خندہ جبیں یہ سُن کے کسی حد تک مسکرااُٹھی تھی ۔کہنے لگی تھی
’’اور دُلہن میری کلاس فیلو رہ چکی ہے‘‘
دونوں کے چہروں سے یہ عیاں ہورہا تھا کہ اجنبیت کی دیوار اُن کے درمیان حائل نہیں ہے ،جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔سجاول شیدا نے اُس کا موبائل نمبر معلوم کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی اُس نے پوچھا تھا
’’کیا میں آپ کا موبائل نمبر سیو کرسکتا ہوں؟‘‘
’’جی کیوں نہیں‘‘خندہ جبیں نے بے خوف ہوکر اپنا موبائل نمبر لکھوایا تھا لیکن اُس نے سجاول شیدا سے اُس کا نمبر نہیں مانگا تھا۔
BAراتی کھانا کھا چکے تھے ۔دُلہن کی رُخصتی ہونے والی تھی۔ سجاول شیدا اور خندہ جبیں نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو خدا حافظ کہنے پر مجبور ہوگئے تھے لیکن جوانی،پیار،تمنّااور ناز وادا کے دن آدمی کو آرام سے سونے نہیں دیتے ۔جب سجاول شیدا واپس اپنے گھر پہنچا تو اُس نے دوسرے ہی دن خندہ جبیں کو فون کرنا چاہا تھا۔اُس نے ڈرتے ہوئے اُس کا نمبر ڈائل کیا تھا۔تین رنگیں جانے کے بعد خندہ جبیں نے فون اٹھایا تھا ۔بغیر نام کے نمبر دیکھنے کے بعد جب اُس نے ہیلو کہا تھا تو آگے سے سجاول شیدا کہنے لگا تھا
’’جی میں سجاول شیدا بول رہا ہوں ۔سنایئے کیسی ہیں؟‘‘
’’ہاں میں اچھی ہوں۔آپ کیسے ہیں؟‘‘
اُس کے پوچھنے پر سجاول شیدا نے ہمت جٹاتے ہوئے کہہ دیا تھا
’’بس جب  سے میں نے آپ کو دیکھا ہے تب سے میرا دل بے قرار ہے ۔نیند نہیں آتی‘‘
خندہ جبیں نے بھی بطور مذاق کہہ دیا تھا
’’نیند کی ٹکیا کھا کے سوجایا کریں‘‘
’’نیند ایک طبعی اور فطری عمل ہے ۔آخر کب تک نیند کی ٹکیا کھاکر سویا کروں گا؟‘‘
پھر سجاول شیدا نے شرم وحیا کے خول سے باہر نکل کر بغیر جھجھک کے اپنی تمنّا کا اظہار کردیا تھا۔اُس نے کہا تھا
’’میری تمنّا اور آرزو یہ ہے کہ تُم میری زندگی میں بہار بن کے آؤ یعنی ہم بنیں اک دوجے کے لئے!‘‘
خندہ جبیں نے سجاول شیدا کی آرزو سُن کر کہا تھا
’’اس سلسلے میں اگر آپ میری ایک شرط پوری کریں گے تو میں آپ کی زندگی میں بہار بن کے آجاؤں گی‘‘
سجاول شیدا نے بڑی بے تابی سے پوچھا تھا
’’ہاں بتایئے شرط کیا ہے ‘‘؟
’’ وہ یہ کہ پہلے آ پ سر کاری ملازمت حاصل کرلیں‘‘
سجاول شیدا نے شرط سُننے کے بعد دلیل پیش کی تھی ۔اُس نے کہا تھا
’’محبت اور ملازمت کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں ہوتا ہے۔ملازمت اپنی جگہ اور محبت اپنی جگہ ۔بس مجھے آپ سے محبت ہوگئی ہے ۔محبت کی بنیاد پر آپ کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں‘‘
خندہ جبیں نے کہا
’’یہ تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ شادی ذمہ داریوں کو نبھانے کا نام ہے ۔میں نے سماج میں پیار ومحبت کی بنیاد پر ازدواجی رشتے بنتے بگڑتے دیکھے ہیں ۔آج کل کے دور میں کالجوں ،یونیورسٹیوں کے لڑکے ،لڑکیاں پیار ومحبت کے نشے میں پہلے تو ایک دوسرے کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالتے ہیں اور جب شادی ہوجاتی ہے تو سال دوسال کے بعد ایک دوسرے کے گلے میں پاپوشوں کے ہار ڈالنے لگتے ہیں‘‘
خندہ جبیں کی تلخ باتیں سُن کر سجاول شیدا کا عشق وقتی طور پر ہرن ہوگیا تھا ۔وہ لمحہ بھر کے لئے خاموش ہوگیا تھا ۔خندہ جبیں نے اُس سے پوچھا تھا
’’اب بتایئے آپ اس بارے میں کیا کہنا چاہتے ہیں ؟‘‘
سجاول شیدا نے احساس ندامت کے ساتھ کہا تھا
’’دیکھئے مجھے اگر سرکاری ملازمت مل جائے تو بہتر ہے ورنہ تجارت کروں گا اور لاکھوں کماؤں گا۔تُم کو اپنی شریک حیات بناکر ہر طرح سے خوش رکھوں گا‘‘
خندہ جبیں نے کہا تھا
’’آپ اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائیے ۔شادی کوئی بڑا مسٔلہ نہیں ہے ۔ آپ کے والدین اور بھائی ،بہنیں کیا کرتے ہیں؟‘‘
’’میرے والد صاحب رٹائرڈ تحصیلدار ہیں ۔میری امّاں گھر میں ہی کام کرتی ہیں ۔ہم دو بھائی ہیں ۔میں سب سے بڑا ہوں۔مجھ سے چھوٹی ایک بہن ہے وہ گریجویشن کررہی ہے۔ مجھ سے چھوٹا بھائی میٹرک میں پڑھ رہا ہے‘‘
خندہ جبیں نے کہا تھا
’’چلئے بہر حال آپ سرکاری ملازمت حاصل کرنے کی کوشش کریں ‘‘۔یہ کہتے ہوئے اُس نے فون کاٹ دیا تھا۔سجاول شیدا ہونقوں کی طرح کھڑا یہ سوچتا رہ گیا تھا کہ محبت اب تجارت بن گئی ہے۔اس کے باوجود اُس نے خندہ جبیں کو حاصل کرنے میں کوئی بھی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔اب وہ اُس کے ساتھ ویڈیو کال پر بھی باتیں کرنے لگا تھا ۔وہ اپنے چہرے اور بالوںکو خوب سجاتا ۔خندہ جبیں اُسے کبھی چڑاتی،کبھی ہنساتی،کبھی باتوں ہی باتوں میں اُس کا امتحان لیتی ۔سجاول شیدا اُسے اس بات کا یقین دلاتا تھا کہ میں تمہیں اتنا پیار دوں گا کہ سنسار میں آج تک اُتنا پیار کسی شوہر نے اپنی بیوی کو نہیں دیا ہوگا ۔ایک رات دس بجے جب سجاول شیدا نے خندہ جبیں کو ویڈیو کال کی تو وہ اپنے کمرے میں اکیلی موبائل پہ مصروف تھی ۔سجاول شیدا کا حسین چہرہ دیکھ کے وہ دل ہی دل میں بہت خوش ہوگئی تھی ۔اُسے دیکھتے ہی وہ مسکرائی تھی ۔پھر اُسے پوچھنے لگی تھی
’’کیاحال ہے آپ کا؟‘‘
سجاول شیدا نے شاعرانہ انداز میں جواب دیا تھا
’’کبھی اُف کبھی ہائے کبھی فریاد کرتے ہیں…نہ جانے کیوں نہیں ملتے جنہیں ہم یاد کرتے ہیں‘‘
خندہ جبیں نے داد وتحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا
’’ واہ ! واہ!گویا آپ میرے عشق میں شاعری کرنے لگے ہیں۔بہت خوب‘‘
سجاول شیدا کو اُس کی باتیں سُن کر حوصلہ ملا تھا ۔تب اُس نے کہا تھا 
’’سُنیے! مجھے آپ کی محبت اور عشق کی آگ میں جلتے ہوئے کافی وقت ہوچکا ہے ۔اگر تُم مجھے اسی طرح ستاتی رہو گی ،میرے صبر کا امتحان لیتی رہوگی تو میں پولیس اور اپنے گھر والوں کے نام ایک رُقعہ لکھ کر خود کشی کرلوں گاجس میں اس بات کا ذکر ہوگا کہ میری موت کی ذمہ دار خندہ جبیں ہے‘‘
سجاول شیدا کی یہ دھمکی آمیز باتیں سُن کر خندہ جبیں تشویش میں پڑ گئی تھی۔اُس کا دل دھک سے رہ گیاتھا۔اُس نے کہاتھا
’’آپ اپنے والدین کومیرا رشتہ مانگنے میرے والدین کے پاس بھیج دیںتاکہ آپ کی تمنّا پوری ہوسکے ۔خود کشی نہ کیجیے ۔خود کشی اسلام میں حرام ہے‘‘
خندہ جبیں کی باتیں سُن کر سجاول شیدا کی جان میں جان آگئی تھی۔اُس نے اپنے والدین کو اپنی پسند کی لڑکی کے ساتھ شادی کرنے پر راضی کرلیا تھا۔چند دنوں کے بعد سجاول شیدا کے ساتھ خندہ جبیں کا رشتہ طے ہوگیا تھا۔تین ماہ کے بعد سجاول شیدا دُلہا بنا تھا ۔ڈھول باجا،ناچ گانا سب کچھ ہوا تھا۔ برات میں کوئی زیادہ لوگ نہیں تھے ۔خندہ جبیں کی تمام سہیلیوں نے اُسے سجانے ،سنوارنے اور دُلہن رُوپ دینے میں کوئی کسر اُٹھائے نہیں رکھی تھی۔خندہ جبیں نے اتنا قیمتی لباس پہنا تھا کہ جو آنکھوں کو خیرہ کردیتا تھا۔اُس کے جسم کے مناسب حصوں پر زیوارت،مہندی سے رچے ہاتھ،چوڑیوں کی کھنک اور پازیب کی جھنکار سے اک نغمگی سی پیدا ہوجاتی تھی۔دُلہن وہی جو پیا من بھاے۔ویڈیو بنانے والے اور فوٹوگرافر نے دُلہے اور دُلہن کو مختلف پوز میں محفوظ کردیا تھا۔نکاح خوانی سے لے کر دُلہن کی وداعی تک ہرادا اور مقام ومنظر کی ویڈیو بنائی گئی تھی۔خندہ جبیں روتی ہوئی اپنے والدین اوربھائی بہنوں سے لپٹ لپٹ کر رخصت ہوئی تھی۔
دوسرے دن ایک بہت بڑے شادی والے ہال میں دعوت ولیمہ ہوئی تھی۔ سجاول شیدا اور خندہ جبیں چبوترہ نُما جگہ پہ اونچی خوب صورت کرسیوں پہ ایک ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔اُن دونوں کی خوشی کا ایک دن بیت گیا تھا۔پھر ہر برس کے چار موسموں کے ساتھ اُن کے پیار کے کئی موسم بیت گئے تھے۔ڈیڑھ سال کے بعد سجاول شیدا ایک بیٹی کا باپ بن گیا ۔دادا،دای نے اُس کا نام نازلی رکھا ۔اب سجاول شیدا ملازمت کی تلاش میں ادھر اُدھر بھٹکنے لگا لیکن کہیں بھی ملازمت کے امکانات نظر نہیں آرہے تھے۔آخر کار اُس کے باپ نے اُسے گھر سے کافی دُور بازار میں کرایے پر دُکان لے کردی جہاں وہ موبائل سیٹ بیچنے کا کاروبار کرنے لگا۔دوسال کے بعد خندہ جبیں نے ایک اور بیٹی کو جنم دیا ۔اُس کا نام آسیہ رکھا گیا۔گھر میں رحمتوں کی آمد شروع ہوگئی تھی ۔اب سجاول شیدا کو دوسری بیٹی کی بھی فکر سوار ہوئی ۔خندہ جبیں کا حُسن دھیرے دھیرے ماند پڑنے لگا ۔اُسے اپنی ڈیوٹی کی فکر ،بچّیوں کی فکر ،ساس سسر کی خدمت اور سب سے بڑی فکر اپنے شریک حیات کی کہ جس کے مزاج میں بچّیوں کی پیدائش کے بعد چڑچڑ ا پن پیدا ہوگیا تھا ۔پانچ سال کے بعد سجاول شیدا کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ۔گھر میں خوشی کی اک لہر سی دوڑ گئی ۔بیٹے کانام باقر رکھا گیا۔ڈھائی سال کے بعد خندہ جبیں نے ایک اور بیٹے کو جنم دیا ۔اُس کانام منشور رکھا گیا ۔اب سجاول شیدا چار بچّوں کا باپ بن چکا تھا ۔اُس کی سرکاری ملازمت حاصل کرنے کی عمر ختم ہوچکی تھی ۔دُکان داری اُسے بے کاری معلوم ہورہی تھی ۔وہ گھریلو ذمہ داریوں کے احساس سے عاری ،ملازمت نہ ملنے کا غم اور اپنے آپ کو حسین وجمیل رکھنے کی فکر میں بُرے لوگوں کی صحبت میں اُٹھنے بیٹھنے لگا۔اُنھوں نے اُسے پہلے سیگریٹ نوشی کی عادت ڈالی اور پھر آہستہ آہستہ شراب پینا سکھا دیا ۔اُس کی بُری عادتیں بڑھتی چلی گئیں جوں جوں وہ اُن کا عادی ہوتا چلا گیا۔پھر ایک دن خندہ جبیں پر اُس وقت غشی طاری ہوئی جب اُسے یہ معلوم ہوا کہ اُس کا شریک حیات سجاول شیدا کالج میں پڑھنے والی کسی لڑکی کو اپنے دام فریب میں پھنسا کر کہیں بھاگ گیا ہے اور پولیس اُن دونوں کوتلاش کررہی ہے!
 
���
موبائل نمبر؛7889952532
صدر شعبۂ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری