تازہ ترین

بہت دور

تاریخ    4 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


شاہینہ یوسف
کیسے کیسے لوگ اس دہر میں بستے ہیں۔ کوئی کسی کے لیے اپنی جان دیتا ہے تو کوئی کسی کی جان لینے کے فراق میں رہتا ہے۔کوئی ہاتھ سے کسی کو مارتا ہے تو کوئی باتوں سے یا جذبات سے کسی کو روندھ ڈالتا ہے ۔عافیہ یہ الفاظ روز کی طرح اپنے من ہی من میں بڑبڑا رہی تھی۔
’’ کیوں کیا ہوا کسے طعنے دے رہی ہو؟‘‘
’’کچھ نہیں کچھ نہیں ڈاکٹر صاحب وہ میں یوں ہی کچھ یاد کر رہی تھی۔‘‘
عافیہ اور ڈاکٹر صاحب کے خاندان میں یوں تو ظاہری اعتبار سے کسی بھی چیز کی کمی نہ تھی لیکن ان کے گھر میں جس چیز کا فقدان تھا وہ ان افرادِ خانہ کے سوا شاید کسی کو بھی معلوم نہ تھا۔ڈاکٹر صاحب کی دوڑ گھر سے لیکر اسپتا ل اور اسپتال سے لے کر گھر تک ہوتی۔
ڈاکٹر صاحب ہمیشہ اپنی بیوی سے جیسے ناراض رہتے لیکن اللہ جانے اب ان کا چہرہ ہی ایسا بن گیا تھا یا یہ سچ میں عافیہ سے خفا رہتے۔عافیہ نے بہت بار چاہا کہ اس بھید کو جان سکے لیکن وہ اس میں کامیاب نہ رہی۔حامیہ اور کامیہ بھی زیادہ تر اپنی والدہ سے ہی لگاؤ رکھتی تھیں۔دونوں کی عمر میں دو سال کا تفاوت تھا لیکن دونوں ہم عمر لگتی تھیں۔
’’کب تم دونوں کا لڑنا بند ہوجائے گا ‘‘
’’ماں وہ نا سب سے پہلے حامیہ نے مجھے بُرا بھلا کہا ،نہیں نہیں ماں وہ کامیہ نے ہی کہا،کب تم دونوں بہنوں کو عقل آئے گی،آنے دو ابوکو، آج میں اُن سے شکایت لگاؤں گی۔ارے ماں نہیں ایسا نہیں کرنا ،ہم اب کبھی لڑائی نہیں کریں گی۔چلو چلو ٹھیک ہے۔‘‘دیکھ لینا میرے لیے میری زندگی میں ایک ایسا شخص آئے گا جو مجھے تجھ سے دور لے جائے گا ،پھر دیکھنا تُو جومجھ سے یہ لڑتی ہے نا پھر تُو میری شکل و صورت دیکھنے کو بھی ترس جائے گی۔حامیہ بھی کہاں پیچھے رہنے والوں میں تھی،میرا شہزادہ گھوڑے پر بٹھا کر مجھے تجھ سے دور لے کے جائے گااور مجھے ایک ایسی دنیا کی سیر کرائے گا جس کی تصویر میں نے اپنے من میں بنائی ہے۔عافیہ کو ان دونوں کی گفتگو سے اپنے جوانی کے دن یاد آئے۔
 ’’دیکھ نا اماں میں نا راج کمار سے شادی کروں گی جو مجھے ایک ایسی دنیا کی سیر کرائے گا جہاں جا کر میں سب غم و الم بھول جاؤں گی۔بیٹا یہ خیالی باتیں صرف کتابوں میں ہی اچھی لگتی ہیں ،حقیقی زندگی میں ایسا بالکل بھی ممکن نہیں ۔کیا اماں آپ بھی نا۔۔۔ آپ دیکھ لینا ـ‘‘۔
دروازے کی گھنٹی زور سے بج گئی کہ عافیہ بیگم کا جیسے واقعی خواب ہی ٹوٹ گیا۔یہ دن کیوں اتنی جلدی نکل جاتا ہے اور یہ رات بھی اتنی جلدی ،تمام آرزؤں اور تمناؤں کو اپنے دامن میں چھپانے کے لیے کیوں آجاتی ہے۔
خیر وہ رات ہی نہیں جس کی کوئی صبح نہ ہو۔صبح معمول کے مطابق عافیہ اپنی بیٹیوں کو بیدار کرنے کے لیے گئیں۔چلو اٹھو کالج بھی تو جانا ہے۔ ہاں ہاں ماں ہم بس اٹھنے ہی والی تھیں۔دونوں بہنیں اٹھ کر کالج کے لیے تیار ہوگئیں ۔کالج میں داخل ہو کر حامیہ کے دوستوں نے اس کے لیے اس کے جنم دن کی پارٹی رکھی تھی۔
 دیدی پتہ ہے ۔ 
آپ کے ساتھیوں نے آپ کے لیے کیک بھی لایا ہے ۔
دراصل کامیہ مجھے تو اپنا جنم دن یاد تھا لیکن میں نے سوچا اب ہر دن اپنی گھٹتی ہوئی عمر کی خوشی منانا ٹھیک نہیں ،چلو دیدی مجھے بھی اپنے Seniors  نے اس پارٹی میں شریک ہونے کی دعوت دی ہےاور ہاں انہیں یہ سب نہ پتہ چلے کہ میں نے آپ کو بتا کر اُن کا پلان خراب کر دیا ۔ارے نہیں کہوں گی میری ماں۔
واقعی جب کوئی چیز بن مانگے مل جاتی ہے تو انسان کو واقعی ایک عجیب طرح کی خوشی مل جاتی ہے ۔جنم دن منا کر سب باغ باغ ہوگئے ،واقعی دیدی آج کا دن بہت اچھا رہا ۔جوں ہی وہ دونوں گھر پہنچیں تو ماں کی آواز اُن کے کانوں سے ٹکرائی۔ 
ارے کہاں تھیں تم اتنی دیر سے ،ماں وہ ہم نا جنم دن منا رہے تھے ،حامیہ نے جلدی سے جواب دیا ،لڑکیوں کو اس طرح گھر سے دور رہنا شبوبھا نہیں دیتا ویسا بھی کہیں جاؤ تو بتا کر گھر سے باہر جاتے ہیں ،لیکن کب تم لوگ یہ سمجھ جاؤ گے۔ماں ہمیں اب گھر میں آکے بھی کرنا کیا تھا ،جو اب یہاں اتنی جلدی آئیں ۔کامیہ نے بہن کو کُہنی مار کر جواب دیااور دونوں اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ 
واقعی کامیہ ہمیں ماں کو فون کر کے بتا دینا چاہئے تھا کہ کالج میں دیر تک رکنا ہے۔ارے دیدی ابھی تک آپ اُسی بات کو لے کر پریشان ہو ،کوئی بات نہیں ،ماں اپنے زمانے میں جی رہی ہے ،اُ سے کیا خبر آج کے زمانے کی۔وہ دراصل اپنی صدی میں ہمیں بھی لے جانا چاہتی ہے۔وہ ابھی تک ابو سے مل جل کے بات نہیں کر پا رہی ہے ۔
ابو اُس سے کس قدربے اعتنائی برت رہے ہیں لیکن وہ ہے کہ ابھی تک اس بے اعتنائی کو پہچان ہی نہیں پا رہی ۔ 
وہ ابو کے ساتھ ہو کر بھی ان سے الگ ہے 
کیا آپ نے دیدی انہیں کبھی باتیں کرتے دیکھا ہے ،اُن کا رشتہ صرف نکاح نامے تک ہی محدود ہےزیادہ باتیں نہیں کرتے کامیہ ،حامیہ نے بہن کو روک کر جواب دیا۔
عافیہ بیگم نے یہ سب باتیں اپنے جگر میں پیوست ہو کر محسوس کیں ۔اُس نے کہے بغیر ان بچیوں کو اس بات کا احساس دلایا کہ وہ ان کی باتیں سن چکی ہے ۔آج پہلی بارعافیہ بیگم اپنے شوہر کی جی حضوری نہ کر پائی۔پوری رات وہ اسی بات کی طرفٖ غور کرتی رہی کہ واقعی
’’ میرا اور ڈاکٹر صاحب کا رشتہ آخر ۔۔۔کیا رشتہ ہے،ڈاکٹر صاحب نے کبھی مجھ سے دل سے بات نہیں کی، ہاں،ہوں،اور ،نہیں ۔۔سے ہمارا رشتہ کبھی آخر آگے بڑھا ہی نہیں۔
صبح کالج نکلنے سے پہلے آج پہلی بار عافیہ بیگم اپنی لڑکیوں کے کمرے میں نہیں آئی۔ڈاکڑصاحب اسپتال کے لیے بھی نکل گئے تھے ۔رسوئی گھر میں جاتے وقت ماں کو نہ پا کر دونوں لڑکیاں پہلی بار ڈر سی گئیں۔
’’ماں کہاں ہیں آپ ،ہمیں کالج کے لیے دیر ہو رہی ہے۔فرج کے اوپر پڑے کاغذ کی طرف حامیہ کی جب نظر پڑی تو اُس نے وہ کاغذ پڑھنے کے لیے نیچے اُتا را۔
’’کامیہ کی باتیں واقعی کل میرے جگر میں پیوست ہوگئیں ،میں نے پہلی بار تم دونوں بہنوں کی باتیں چوری چھپے سنیں،کامیہ نے مجھے اس بات کا احساس دلا یا کہ آخر میں کس رشتے میں بندھی ہوں ،جس کے ہونے کا احساس بھی مجھے نہیں ہو رہا لیکن ہر چیز بدلنے کا کوئی وقت ہوتا ہے اور شاید ہمارے رشتے کو بدلنے کا وقت اب ختم ہوگیا ہے۔تم دونوں بہنیں خوش رہنا اور اپنی زندگی اچھے سے گزارنا۔میں اب ایسی زندگی گزارنا چاہتی ہوں جس میں۔۔ میں خوش رہ سکوں ،مجھے ڈھونڈنے کی کوشش نہ کرنا میں تم لوگوں سے بہت دور جا رہی ہوں ۔‘‘
دونوں بہنیں بے تحاشا رونے لگیں،شاید قدرت بھی آج ان کی والدہ کی آزادی کے حق میں تھی،ڈاکٹر صاحب کو فون پر یہ اطلاع دیتے ہوئے کامیہ نے گھر آنے کو بولا۔
’’کہاں گئی عافیہ آتے ہی ڈاکٹر نے سوال کیا۔‘‘
شاید آپ سے بہت دور ابو۔آج پہلی بار ڈاکٹر صاحب کو لگا کہ جیسے کسی نے اس کے گھمنڈی سر کو کاٹ کر زمین پر رکھ ڈالا ہو،شاید مما ایک ایسے رشتے کو سنبھالتے سنبھالتے تھک گئی تھی ابو ،تبھی شاید وہ مجبور ہو کر یہاں سے دور چلی گئی۔پہلی بار ڈاکٹر کی پلکوں سے آنسو نکل پڑے اور وہ عالم بے ہوشی میں چلا گیا۔۔۔۔وہ شاید آج عافیہ کے کندھے پر سر رکھ کے رونا چاہتا تھا ۔۔لیکن آج عافیہ اُس سے دور اور بہت دور تھی۔۔۔۔۔۔
���
 بارہ مولہ کشمیر ,ریسیرچ اسکالر شعبہ اردو سینٹرل یونی ورسٹی آف کشمیر
shaheenayusuf44@gmail.com