تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    2 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی

موبائل اپلیکیشن پر لاٹری اور جوا، انعام میں حاصل شدہ رقم حرام

سوال:آج کل موبایل فون پر کئی سارے ایپلیکیشن چل رہے ہیں،جن میں کھیلنے پر پیسہ ملتا ہے۔ان ایپلیکشن میں پیسہ کمانے کاسسٹم یہ ہے کہ کسی بھی کھیل کے مختلف مقابلے لگتے ہیں جن کی کچھ فیس ہوتی ہے اور اس مقابلہ میں بہت سارے لوگ شامل ہوتے ہیں ،جس میں ہرکسی کی اپنی ایک ٹیم ہوتی ہے پھر جس کی ٹیم کے کھیلنے والے زیادہ اچھا کھیلتے ہیں اُس کو زیادہ Pointsملتے ہیںاور اس حساب سے ان کو پوزیشن Positionsملتی ہے ،پہلی اور دوسری ۔اور اس طرح ہر پوزیشن کا انعام طے ہوتا ہے۔کچھ لوگ پوائنٹس کم لینے کی وجہ سے کوئی پوزیشن حاصل نہیں کرتے ،انہیں کوئی پیسہ نہیں ملتا بلکہ ان کی فیس کی رقم چلی جاتی ہے۔تو کیا اس طرح کی ایپلیکیشن Applications )) سے پیسہ کمانا جائز ہوگا یا نہیں۔جو پیسہ انعام کے طور پر دیا جاتا ہے وہ لوگوں سے ہی لیا ہوا پیسہ ہوتا ہے اور چونکہ ہر کوئی تو جیت نہیں پاتا تو اس طرح کمپنی والوں کا ہی زیادہ فائدہ ہوتا ہے ۔لہٰذا آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ اس پورے سسٹم کو دیکھ کر شریعت کا حکم کیا ہوگا ۔شریعت کے لحاظ سے یہ جائز ہوگا یا نہیں؟
عاطف یاسین وزیر باغ سرینگر
جواب : ایپلیکیشن کے اس پورے سسٹم کے متعلق معلومات کرنے اور اس کی تمام تفصیلات کو جاننے کے بعد اس کا شرعی حکم لکھا جارہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا سسٹم لاٹری اور جوا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ فیس دینے والے فیس دیتے ہیں اور اُن کو یہ اُمید ہوتی ہے کہ اُن کی ٹیم اچھا کھیلے گی تو اُن کو پوائنٹس ملیں گے پھر اگر یہ پوائنٹس اتنے زیادہ ہوئے کہ اُن کو پوزیشن بھی مل گئی تو پھر اُن کو انعام ملے گا۔اس طرح پہلی اور دوسری پوزیشن والوں کو انعام ملنے کی امید رہتی ہے اس لئے وہ اس میں شامل ہوتے ہیںاور اس کے لئے فیس بھی دیتے ہیں۔اب کمپنی والے چند پوزیشن لینے والوں کو انعام دیتے ہیں ،وہ دراصل سارے فیس دینے والوں نے جتنی فیس دی تھی اُس کا کچھ حصہ پوزیشن لینے والوں کو بطور انعام دیا گیا اور باقی ساری رقم کمپنی والوں نے خود رکھ لی اور دوسرے جن لوگوں نے فیس دی تھی اُن کو کچھ نہ ملا ۔یہی جوا ہے اور اسی طرح لاٹری بھی ڈالی جاتی ہے۔جو ا میں پیسہ لگانے والا اس توقع پر پیسہ لگاتا ہے کہ اگر میرے نام پر لاٹری نکل گئی تو پہلا دوسرا یا تیسرا انعام ملے گا اور وہ بڑی رقم ہوگی۔اگر میرے نام پر لاٹری نہ نکلی تو میری ٹکٹ کے بہت کم روپے کا مجھے نقصان اٹھانا پڑے گا ۔شریعت اسلامیہ میں اس کوقِمار اور مَسیر کہا گیا اور قرآن کریم نے شراب نوشی اور جوا بازی کو شیطانی کام قرار دے کر اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔اس لئے اس ایپلیکیشن کے سسٹم سے جڑ جانا ہی ناجائز ہے اور پھر اگر اس کے ذریعہ کسی کو پوائنٹس پھر پوزیشن ملی اور پھر اس کو کوئی انعام ملا تو یہ انعام لینا حرام ہے ۔بلا شبہ حقیقت یہی ہے کہ کمپنی ہم سے ہی رقم جمع کرتی ہے پھر بہت تھوڑی رقم انعام کی صورت میں چند افراد کو دیتی ہے وہ افراد بھی ہم میں سے ہوتے ہیںاور اُن کو جو انعام ملتا ہے وہ بھی ہمارا ہی پیسہ ہوتا ہے ۔تھوڑی رقم انعام میں دے کر زیادہ رقم یا رقم کا ایک بڑا حصہ کمپنی خود رکھ لیتی ہے ۔بس کمپنی کا یہی مقصد ہوتا ہے ۔لاٹری ڈالنے والی کمپنی کا سارا سسٹم بھی یہی ہوتا ہے۔خلاصہ اس سسٹم میں جو ائِن کرنا بھی ناجائز اور اس کا انعام لینا حرام ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بغیر وضو قران کریم کو چھونا درست نہیں

تلاوت کی گنجائش موجود

سوال :قرآن شریف پڑھنے کے لئے با وضو ہونا ضروری ہے یا نہیں۔قرآن شریف کی تلاوت کبھی زبانی ہوتی ہے ۔اس کے لئے کیا حکم ہے اور اگر ہاتھ میں لے کر قرآن شریف کی تلاوت ہو تو کیا حکم ہے؟
عبدالرشید خان ۔حاجن
جواب :قرآن کریم کی تلاوت کی دو صورتیں ہیں ۔ایک صورت یہ ہے کہ تلاوت کرنے والا زبانی تلاوت کرے اور قرآن کریم کا صحیفہ ٔ مبارک ہاتھ میں نہ ہو۔اس صورت میں باوضو ہوکر تلاوت کرنا افضل اور بہت اہم ادب ِ تلاوت ہے۔لیکن اگر بغیر وضو کے تلاوت کی جائے تو اس کی گنجائش ہے ،یعنی زبانی تلاوت کے لئے وضو لازم نہیں۔اگر بغیر وضو کے تلاوت کی جائے توگناہ نہ ہوگا ۔
دوسری صورت یہ ہے کہ صحیفۂ قرآنی ہاتھ میں لے کر تلاوت کی جائے اس صورت میں وضو لازم ہے۔بغیر وضو کے ہاتھ میں قرآن لینا ہرگز جائز نہیں۔ترمذی شریف میں حدیث ہے َ(ترجمہ) صحیفۂ مبارک میں تلاوت اُس وقت کی جائے جب باوضو ہو۔ احادیث کی کتابوں میں موطاء امام مالک ،مصنف عبدالرزاق صحیح ابن حبان ،مستدرک حاکم میں بھی حدیث ہے ۔جس کا مفہوم یہی ہے کہ بغیر وضو کے قرآن کریم کو چھونا درست نہیں۔لہٰذا اگر صحیفۂ مبارک ہاتھ میں لے کر تلاوت کرنی ہو تو بلا وضو ہرگز قرآن کریم کوہاتھ میں نہ لیا جائے۔علامہ جلال الدین سیوطی ؒ نے اپنی کتاب الاتقان میں لکھا ہے کہ جمہورِ اُمت اس بات پر متفق ہیں کہ بغیر وضو قرآن کریم کو مس کرنا جائز نہیںہے۔
دنیا میں اور تمام مذاہب کی تاریخ میں صرف قرآن وہ کتاب مقدس ہے کہ جس کو دیکھنا بھی عبادت ،پڑھنا بھی عبادت اور سمجھنا بھی عبادت ہے اور جس کو بغیر وضو چھونا گناہ ہے۔اس کی طرف پیر پھیلانا ،اس کی طرف پیٹھ رکھنا بے ادبی ہے اور اس کو توہین کے ساتھ نیچے پھینکنا کفر ہے ۔
اس لئے بغیر وضو کے قرآن کریم کو مس کرنا ہرگز جائز نہیں ،چاہے تلاوت کے لئے چھونا ہو یا کسی اور مقصد کے لئے ۔مثلاً ایک جگہ سے اٹھاکر دوسری جگہ رکھنا ہو یا قرآن کریم سے صرف حوالہ نقل کرنا ہو تو کبھی بغیر وضو مس کرنا درست نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عیبوں کی پردہ پوشی کرنا رسول مقبولؐ کا فرمان 

سوال :میرے خاندان کی ایک لڑکی غلط راستے پر پڑگئی ہے ۔اس کے گھروالوں کو اس بارے میں اب تک کچھ پتہ نہیں ہے ۔ اب کبھی مجھے خیال آتاہے کہ میں تمام لوگوں کو بتادوں ،شاید اس سے وہ غلط راستہ چھوڑ دے ۔مجھے کیا کرناچاہئے ؟
مسرت حسین شاہ……سرینگر
جواب : حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے جرم پر پردہ کرے اللہ تعالیٰ اس کا دنیاوآخرت میں پردہ کریں گے ۔ یہ حدیث بخاری ومسلم میں ہے ۔ اس لئے اس مسلمان بیٹی کے متعلق تمام لوگوں کو یہ ساری صورتحال بتانا اس حدیث کے خلاف ہے ۔لہٰذا پہلے مرحلے پر کسی کو ہرگز نہ بتائیں اور عیب پوشی کریں ۔
اس کے بعد قرآن کریم کا حکم ہے کہ نہی عن المنکر کرو۔ اس لئے اس بُرے اور غیر شرعی راستے اور حرام تعلقات سے اُسے روکنا لازم ہے ۔لہٰذا نہی عن المنکر کے حکم قرآنی پر عمل کرنے کے لئے نہایت ہمدردی اور شفقت سے اُسے بتائیں کہ اس غلط تعلق کو ختم کریں ۔متعدد مرتبہ حکمت، دعوت کے مشفقانہ جذبہ اور رحمدلی ودلسوزی کے ساتھ سمجھائیں۔ اس کے باوجود اگر وہ اپنے آپ کو سدھار پر نہ لائے تو اخیر میں مجبور ہوکر صرف اُس کے والدین کو بہت دکھ ،حسرت اور افسوس کے ساتھ ہمدردانہ لہجہ میں بیٹی کی صورتحال ایک مرتبہ بتادیں ، طعن وطنز وتشنیع سے بچ کر یہ کہنے کے بعد آپ بری ہوجائیں گے ۔   lll
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:- اگرکسی ماں باپ کی اولاد،خاص کر بالغ بیٹا یا بیٹی ، نافرمانی کے سبب ان کی بدنامی کا باعث بن جائے تو والدین کو کیا کرنا چاہئے؟
عمرمختار…سرینگر 

اولاد نافرمان ہوجائے تو والدین کیا کریں 

جواب:-نافرمان اور بدنامی کا باعث بننے والی اولاد کی اصلاح کی ہر ممکن کوشش کی جائے ۔ اُن کو دیندارصالح اور بااخلاق بنانے کی سعی کرنے کے ساتھ بُری صحبت سے دور رکھا جائے ۔ یہ لڑکا ہو تو دعوت کے کام کے ساتھ جوڑ ا جائے تاکہ اُس میں اطاعت والدین کی فرمان برداری کا مزاج پیدا ہو ۔
کوئی بھی انتقامی کارروائی اُس کی خرابی کی اصلاح نہیں بلکہ اُس کے مزید خراب ہونے کا سبب بن سکتی ہے ۔ اصلاحی کتابیں پڑھانے کا اہتمام بھی مفید ہے ۔مثلاً ’’مثالی نوجوان‘‘ ،’’نوجوان تباہی کے راستے پر‘‘ ، ’’عمل سے زندگی بنتی ہے‘‘ اور’’ حیا وپاکدامنی ‘‘ایسے نوجوانوں کے لئے مفید ہیں۔ lll
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسجد اور مقبرہ وقفِ عام، خانہ داماد کو تدفین کا پورا حق

سوال :صورت ِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے زید کو بطورِ خانہ داماد گھر میں لایا ،اُس کی شادی اپنی بیٹی سے کرلی اور اُس کو حصۂ وراثت سے بھی نوازا اور زید کے بچے بھی ہوئے۔چنانچہ زید اس علاقہ کا پشتینی باشندہ نہیں تھا ،جہاں وہ خانہ داماد لایا گیا ۔اب پوری زندگی دوسرے علاقہ میں گذارنے کے بعد زید وفات پاگیا۔حل طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا زید کو اپنے سُسر کے قبرستان میں دفن کرنے کا شرعی جواز ہے یا نہیں؟کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اس کو یہاں قبرستان نہیں ملے گا بلکہ زید وہاں ہی دفن ہوگا جہاں کا وہ پشتینی باشندہ تھا اور نہ ہی زید کے بچوں کو نانا کے قبرستان میں دفن ہونے کا حق ہے۔
براہِ کرم اس مسئلہ پر تفصیلاً روشنی ڈالیں تاکہ یہ اختلاف ہمیشہ کے لئے پوری وادی بالعموم شہر سرینگر میں ختم ہوجائے گا ۔
طارق احمد ملہ۔نور باغ سرینگر 
جواب :مقبرہ جب بستی کے تمام باشندگان کے لئے وقف ہو اور تمام باشندے اس میں اپنے مُردے دفن کرتے آئے ہیں تو اب اس بستی یا محلہ میں جو بھی آباد ہوجائے ،اُس کو اِس میں دفن ہونے کا حق ہے اور کسی مسلمان کے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ اُسے اس حق سے محروم کرے۔حقِ تدفین بلا تخصیص سب کا حق ہے ،لہٰذا وہ شخص جو خانہ داماد بن کر،اپنے گائوں کو چھوڑ کر دوسری بستی میں یا اپنے محلے کو چھوڑ کر دوسرے محلے میں رہائش پذیر ہوگیا ،اُسے اس نئی جگہ کے مقبرہ میں دفن ہونے کا پورا حق حاصل ہے اور یہ شرعی حق ہے۔جیسے اس شخص کو مسجد میں آنے کا حق ہے ایسے ہی مقبرہ بھی وقف ِعام ہوتا ہے۔ہاں! اگر کوئی مقبرہ کسی خاص قوم ،ذات یا طبقہ کے لئے پہلے سے مخصوص ہو تو اُس کا حکم الگ ہے۔
جو شخص خانہ داماد بن کر اپنے سُسرال میں رہائش پذیر ہوا،اگر بالفرض یہ مرد نہیں عورت ہوتی اور وہ خاتون جو اس کے نکاح میں آئی وہ مرد ہوتا ،مثلاً شفیق احمد اگر شفیقہ بیگم اور عارفہ بیگم اگر محمد عارف ہوتا ،تو پھر اس خاتون کو اپنے سُسرال کے مقبرہ میں دفن ہونے کا پورا حق ہوتا ،اسی طرح اس داماد کو بھی اپنے سُسرال میں دفن ہونے کا پورا حق ہے۔۔۔۔،یعنی یہ خانہ داماد اگر بہو بن کر آئے تو حق ِ دفن حاصل ہے ۔ایسے اس میں بھی ہے۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ خانہ داماد کو اپنے پشتینی مقبرہ میں ہی دفن ہونے کا حق ہے کیا وہ یہ ہمت کرسکتے ہیں کہ ہر گھر میں آنے والی بہو کو بھی یہ کہیں کہ اس کو پشتینی مقبرہ میں دفن ہونے کا حق ہے اور ہم اپنے مقبرے میں دفن ہونے کی اجازت نہیں دیں گے ؟ہرگز نہیں۔یاد رکھیں ! مقبرہ کے لئے پشتینی باشندہ یا نئے باشندہ ہونے کی کوئی تقسیم اسلام میں نہیں ہے۔غور کیا جائے کہ :حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام خلفائے راشدین اور تمام مہاجرصحابہ، مدینہ منورہ کے پشتینی باشندے نہیں تھے،یہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تھے اور جب ،جس وقت یہ دنیا سے رخصت ہوئے ،اُس وقت سارا مکہ مسلمان تھا اور مکہ مکرمہ کا مقبرہ جس کا نام ـ’’ـجنت المعلیٰ‘‘ہے ،میں بہت سارے صحابہ اور حضرت خدیجتہ الکبریٰؓ بھی مدفون تھیں۔۔۔کیا اہلِ مدینہ حضرات مہاجر صحابہ کو کہہ سکتے تھے کہ آپ کا پشتینی مقبرہ مدینہ میں نہیںبلکہ مکہ شریف میں ہے ،لہٰذا مدینہ میں دفن کرنے کا حق نہیں۔پھر اسی مدینہ کے مشہو ر مقبرہ ’’جنت البقیع‘‘ میں آج تک اور آج بھی وہ تمام مسلمان دفن ہوتے ہیں جو مدینہ میں فوت ہوتے ہیں۔لہٰذا ہر خانہ داماد کو بلکہ محلہ کے ہر باشندے کو اس محلے کے مقبرہ میں دفن ہونے کا برابر حق ہے ۔محلہ کا قدیم باشندہ اور نیا باشندہ اس حق میں مساوی درجہ کا شریک ہے ۔وقفِ عام مقبرہ کا یہ حکم دنیا بھر کے تمام مقبروں کے لئے ہے اور پوری اسلامی تاریخ میں ہمیشہ اسی پر عمل رہا ،کوئی بھی وہ مسلمان جو دوسری جگہ فوت ہوتا ہے وہ اس جگہ کے مقبرہ میں غیر پشتینی ہونے کے باوجود دفن ہوتا ہے ،یہی اخوت اسلامی ہے۔