تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    27 جون 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
گُماں ہی گُماں
 کھو رہا ہے میرا وجود مجھے
تھام لے کوئی رُوح کو میری
میں کہاں جم گیا نہیں معلوم
پر سِمٹ کر بِکھر رہا ہوں میں
 
کون ہوں میں؟ کہاں رہا ہوں میں؟
 
ایسے ہوں چند ہی سوال ترے
تو بتا میں جواب کیوں کر دوں
 
جبکہ میں اک گُماں ہوں فقط اک گُماں
میرا کوئی مثالیہ ہی نہیں
 
احمد پاشاؔ جی
بڈکوٹ ہندوارہ
اے۔پی شعبۂ اردو ڈگری کالج ہندوارہ
 
 
 
 
غزلیات
مشکلوں کے بیچ ساری زندگی!
کب ملی ہے اختیاری زندگی ؟
چھوڑ کر دامن تمہارا کیا ملا ؟
پھر رہی ہے ماری ماری زندگی!
پاس رشتوں کا ،  نہ کچھ کردار کا 
ہو گئی ہے کاروباری زندگی!
شاخِ گُل پر قطرہء تیزاب سی 
دوستو ، ہم نے گذاری زندگی!
اس سے بڑھ کر وقت کیا ہوگا بُرا ؟ 
عیب ہے اب وضع داری زندگی!
 رُخ پہ ہیں اِخلاص کی آرائشیں 
ہو چکی ہے اِشتہاری زندگی!
کاٹ دی ہم نے بھی کچھ ایسے رئیسـؔ
جیسے ہو، کوئی اُدھاری زندگی!
 
رئیسؔ  صِدّیقی 
دوردرشن و آکاشوانی کے سابق آئی بی ایس آفیسر
ais.siddiqui.ibs@gmail.com
موبائل نمبر؛9810141528
 
 
 
 
کب تک جبیں سے چُوم لوں اُس سنگِ در کومیں
اے بے بسی میری لے اُٹھاتا ہوں سر کو میں
ساقی شراب تیز عطا کر مجھے کہ آج
اک گھونٹ میں انڈیل دوں شام و سحر کو میں
یہ شوقِ ملاقات یہ رحیلِ کارواں
اے کاش روک پاؤں وقت کے سفر کو میں
دیکھے کوئی ستم اُس تغافل شعار کا
ہوں کوستا ظالم کبھی اپنی نظر کو میں
معلوم تھا وہ آج بھی آئے گا تو نہیں
تکتا رہا ہوں کس لئے پھر رہگزر کو میں
عمر ساری کٹ گئی صحرا و دشت میں
اب تھک گیا تو ڈھونڈتا ہوں اپنے گھر کو میں
تیرا شفائیؔ جب نہیں ظالم کو کچھ خیال
پھر کیا کروں گا لے کے دعا میں اثر کو میں
 
ڈاکٹر شکیل شفائیؔ
بمنہ، سرینگر، کشمیر
 
 
غم تو میرے پاس بہت ہے 
اب خوشیوں کی آس بہت ہے
 
بر آئیںکیسے یہ اُمید یں
دِل میں میرے یاس بہت ہے
 
کیا  ہوتا ہے دردِ جُدائی
اِس کا مجھے احساس بہت ہے
 
بہتا ہے نزدیک سمندر
پھر بھی مجھ کو پیاس بہت ہے 
 
عشق کی باتیں جانے منی ؔ بھی 
اِس میں ہوتا ناس بہت ہے
 
 ہریش کمار منیؔ بھدرواہی
بھدرواہ، جموں کشمیر 
موبائل نمبر؛959688843
 
 
 
 
وہاں دیکھوں جہاں دیکھا نہ جائے 
جدائی کا سماں دیکھا نہ جائے
 
 دل و جاں سے تجھے رخصت کیا تھا
 تمہیں یوں بے زباں دیکھا نہ جائے
 
مری آنکھوں نے دیکھے تیرے جلوے 
زمین و آسماں دیکھا نہ جائے 
 
ترے دل کی لگی نے دل جلایا
 یہ ارماں کا دھواں دیکھا نہ جائے
 
وہ کرتا ہے  شکایت میری مجھ سے
ستم گر کو عیاں دیکھا نہ جائے 
 
وہی تھا اور وہی باقی ہے ہمراز ؔ
یہ دشمن آسماں دیکھا نہ جائے
 
عاقب اللہ ہمراز
صورہ، سرینگر
موبائل نمبر؛7006655470
hraaz7633@gmail.com
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
غزلیات
داستانِ مختصر یوں بولتا ہوں ہوں
سوکھے پتے کی طرح اب ڈولتا ہوں میں
 
زندگی دل کش بہت تھی ابتداء میں جو
اب بھیانک انتہا ہے دیکھتا ہوں میں
 
کوئی رنجش ناکسی کو ہوکسی سے یاں 
ایسی دنیا کو تو تنہا سوچتا ہوں میں
 
اُن کو تو احساس مرے درد کا نہیں 
جن کی خاطر مشکلوں کو ٹالتا ہوں میں
 
دان اپنی جان مُقلّد نے کی سعیدؔ
بیچ دی رہبر نے یہ کیا دیکھتا ہوں میں
 
سعید احمد سعیدؔ
احمد نگر، سرینگر
موبائل نمبر؛9906355293
 
 
کچھ بھی تو کر گزرنے کو تیار ہوگئے
اے زیست مگر تجھ سے اب بے زار ہوگئے
 
تُو تھا تو ہم بھی مثلِ شجرِ پُربہار تھے
جانے سے ترے بے برگ و بار ہوگئے
 
کل تک بھلے ہی رشکِ گلستان تھے جو گُل
اب ٹوٹ کر وہ گرد اور غبار ہوگئے
 
چرچا نہ نیکیوں کا مری ہوگیا کبھی
چُوکے ذرا تو سرخیٔ اخبار ہوگئے
 
مدت سے دیکھنے کی طلب تھی تجھے بہت
شب خواب میں صورتؔ ترے دیدار ہوگئے
 
صورت سنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9622304549
 
 
 
 
مصرعہ طرح (ندا فاضلی) 
"جو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں جاتا"
 
پچھتاوا اگر ہے تو سُدھر کیوں نہیں جاتا
اپنی انا کو مار کے گھر کیوں نہیں جاتا
جو تری انا کے سبھی بت توڑ گیا ہے
دہلیز سے اس کی بھی گزر کیوں نہیں جاتا
محبوب کے آنے کی ہی تو دیر ہے اے دوست! 
صادق ہے اگر تو، تو ٹھہر کیوں نہیں جاتا
جس نے وفا کے دائرے سب توڑ دئے ہیں
وہ خوفِ خدا سے کبھی مر کیوں نہیں جاتا
برسوں سے محبت میں گرفتار ہوں اسکی
"جو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں جاتا"
تقدیر سے منھ لگ کے کبھی کچھ نہیں ملتا
اس جستجو سے تو بھی مکر کیوں نہیں جاتا
عذرا تجھے اس دل سے عقیدت نہیں تو پھر
اس دل کا ترے دل سے اثر کیوں نہیں جاتا
 
 
 
عذرا ؔحکاک
سرینگر، کشمیر
bintegulzaar@gmail.com
 
 
کچھ تو بولو جواب کے دن ہیں 
کیسے میرے عذاب کے دن ہیں
موج دریا میں بے کلی تھی کیا
گم کہاں وہ شباب کے دن ہیں
بات تو انتظار میں کچھ تھی
آئے میرے حساب کے دن ہیں
خار زاروں کا حال پوچھو مت
شاخچوں پر حساب کے دن ہیں
چشم تر کا اثر بھی گہرا ہے
عشق کی رُت عتاب کے دن ہیں
لطف کیا ہے زبان شیریں میں 
سُر کی راتیںرباب کی دن ہیں
حرفِ تر میں ہے گُم سمندربھی
رُت قلم کی کتاب کے دن ہیں
 
یاسمینہ اقبال
شوپیان، کشمیر
khanyasmeena141141@gmail.com
 
 
نظر جب پڑےگی تری پیار سے
کِھلے گا مرا چہرہ دیدار سے
مرے دل میں انبارِ حسرت ہے دیکھ
دعا ہر قبول ہوگی اقرار سے
ہوتا ہے کیا  یہ مرض عشق کا
یہ پوچھو کسی دل کے بیمار سے
دشوار راہیں، دُکھی ہم سفر
ملا ہے یہی کچھ مرے یار سے
رقیبوں کی سازش نہ کام آئے گی
معانیٔ دل پوچھ دلدار سے
ہوا ہے خِفا تُو عمل سے مرے
تو ہوگا میرا میرے اصرار سے
وہاں کیسے غازی گرے منہ کے بل
ہٹا پردہ جب چہرہ گلنار سے
تجھے ہے طلب جسکی راشدؔ میاں
ملے گا نہ دنیا کے بازار سے
 
راشدؔ اشرف 
کرالہ پورہ سرینگر
موبائل نمبر؛9622667105