تازہ ترین

حد بندی کے بعد انتخابات

ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے وعدہ بند،حدبندی عمل تیزکرنیکی وزیر اعظم کی یقین دہانی

تاریخ    25 جون 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک

ہر ایک نے جمہوریت اور آئین سے وابستگی کا اظہار کیا: امیت شاہ

 
نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز کہا کہ جموں و کشمیر میں جاری حد بندی مشق کو تیزی سے ہونا ہے تاکہ ایک منتخب حکومت کے قیام کیلئے انتخابات ہوسکیں جو جموں کشمیر کی ترقی کے راستے کو تقویت بخشنے کا موجب بن سکتی ہے۔ جموں وکشمیر کے 14 سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساڑھے تین گھنٹے طویل ملاقات کے بعد سماجی رابطہ گاہ ٹویٹر پر سلسلہ وار ٹویٹس میں مودی نے کہا ’’ یہ بات چیت ایک ترقی یافتہ اور ترقی پسند جموں و کشمیر کی طرف جاری کوششوں میں ایک اہم قدم ہے جہاں زمینی سطح پر ترقی کو مزید تقویت ملے گی ‘‘۔انہوں نے کہا ، "ہماری ترجیح جموں و کشمیر میں نچلی سطح کی جمہوریت کو مستحکم کرنا ہے، حد بندی کو تیز رفتار ی سے ہونا ہے تاکہ انتخابات ہوسکیں اور جموں و کشمیر کو ایک منتخب حکومت ملے جو جموں و کشمیر کی ترقی کے راستے کو تقویت بخشے‘‘۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ہندوستانی جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت ہے کہ لوگ ایک میز پر بیٹھ سکتے ہیں اور اپنے خیالات کا تبادلہ کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا ، "میں نے جموں و کشمیر کے رہنماؤں سے کہا کہ یہ عوام ، خاص طور پر نوجوانوں کو جموں و کشمیر کو سیاسی قیادت فراہم کرنا ہوگی اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ان کی خواہشات کو پورا کیا جائے۔"وزیر اعظم نے یہاں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر اجلاس کی صدارت کی۔سرکاری ذرائع کے مطابق اجلاس کی اصل توجہ جمہوری عمل کو مستحکم کرنا تھا اور وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اس کے لئے پوری طرح پرعزم ہے۔ذرائع نے بتایا کہ مودی نے زور دیا کہ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کونسل انتخابات کے کامیاب انعقاد کی طرح ہی اسمبلی انتخابات کا انعقاد بھی ایک ترجیح ہے اور پولنگ حد بندی سے متعلق مشق کے فورا بعد ہی ہوسکتے ہیں۔ ، ذرائع نے مزید کہا کہ زیادہ تر شرکاء نے اس پر رضامندی کا اظہار کیا۔وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ جموں و کشمیر میں معاشرے کے تمام طبقات کے لئے حفاظت اور سلامتی کی فضا کو یقینی بنائے جانے کی ضرورت ہے اور وہ 'دلی کی دْوری نیز' دل کی دْوری '(دہلی سے دوری کے ساتھ ساتھ فاصلے) کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں)۔مرکزی قیادت اور مرکزی دھارے میں شامل جماعتوں کے مابین 5 اگست 2019 کے بعد یہ پہلا رابطہ ہے ، جب مرکز نے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو کالعدم قرار دے کر جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکزی علاقوں میں تقسیم کیا۔ریاست کے چار سابق وزرائے اعلیٰ، جنہوں نے ان مباحثوں میں حصہ لیا ، میں فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ ، کانگریس کے غلام نبی آزاد اور پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی شامل تھے۔چار سابق نائب وزرائے اعلیٰ بھی اس میں شریک تھے۔ کانگریس کے تارا چند ، پیپلز کانفرنس کے رہنما مظفر حسین بیگ اور بی جے پی کے نرمل سنگھ اور کوویندر گپتا۔سی پی آئی کے رہنما محمد یوسف تاریگامی ، جموں و کشمیر آپ پارٹی (جے کے اے پی) کے سربراہ الطاف بخاری ، پیپلز کانفرنس کے سجاد لون ، جے کے کانگریس کے سربراہ جی اے میر ، بی جے پی کے رویندر رائنا اور پینتھرس پارٹی کے رہنما بھیم سنگھ نے بھی وفد کا حصہ تھے۔ادھرمرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جمعرات کے روز کہا کہ پارلیمنٹ میں وعدے کے مطابق جموں و کشمیر میں حد بندی مشق اور پرامن انتخابات کا انعقاد اہم سنگ میل ہیں۔ وزیر داخلہ کے یہ بیانات وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے جموں و کشمیر کے 14 سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساڑھے تین گھنٹے طویل ملاقات کے بعد آئے جن میں چار سابق وزرائے اعلیٰ شامل ہیں۔شاہ نے ایک ٹویٹ میں کہا ، "ہم جموں و کشمیر کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہیں، جموں و کشمیر کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا گیا اور پارلیمنٹ میں وعدے کے مطابق ، ریاست کی بحالی کے سلسلے میں حد بندی مشق اور پرامن انتخابات اہم سنگ میل ہیں۔"انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر سے متعلق جمعرات کی میٹنگ انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ شاہ نے ٹویٹ میں کہا ، "ہر ایک نے جمہوریت اور آئین سے وابستگی کا اظہار کیا، جموں وکشمیر میں جمہوری عمل کو مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔"