تازہ ترین

وقف بورڈ

اپنی ذمہ داریوں سے کوسوں دور

تاریخ    23 جون 2021 (00 : 01 AM)   


عُبید اَحمد آخون
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت 
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
کچھ دن قبل شاردہ شریف میں جو واقعہ پیش آیا وہ قابلِ مذمت ہیں. ویسے تو صنفِ نازک کا اس طرح کے کاموں میں شامل ہونا ہی جائز نہیں، فحش طریقے سے ناچ گانا گا کر ویڈیو اُٹھانا اور پھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر اپلوڈ کرنا ایک غیر شرعی فعال ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، اگرچہ لڑکیوں نے معافی بھی مانگ لی پر یہ ایک حساس معاملہ ہے ۔سرزمین کشمیر اولیاء کرام کی سرزمین ہے، دینِ حق کو فروغ دینے کے لیے اللہ کے نیک بندوں نے کشمیر کا انتخاب کیا،  اسی لئے آپ کو یہاں بہت سے بزرگانِ دین کے آستان نظر آتے ہے جنہوں نے دین کو حق ہم تک پہنچانے میں بیش بہا قربانیاں دی ہے۔
 آستانوں اور زائرین کی بڈھتی ہوئی تعداد و جذبات دیکھتے ہوے شیخ محمد عبد اللہ نے بحثیت صدر ادارہ اوقاف اسلامیہ کے نام سے ایک تنظیم تشکیل دی تھی اور بیشتر مزارات ، مساجد اور دیگر وقف املاک بشمول حضرت بل آستان اس کے کنٹرول میں لائے۔ ایک ایسا دستور تیار کیا گیا جس میں مجلس عظمیٰ جمہوری کام کے لئے مجلس عزاء (جنرل کونسل) کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ (جنرل کونسل) کو بطور سپریم اتھارٹی اور  ادارے سے منسلک مزارات ، مساجد اور دیگر املاک کے تحفظ ، اور انتظام کے لئے مجلس انتظامیہ (ورکنگ کمیٹی) کے قیام کا اہتمام کیا گیا تھا ۔
١٩٧٣ میں مجلس عظمیٰ نے مسلم وقفوں ، خانقاہوں ، مساجد ، زیارت خانوں  و دیگر مذہبی مقامات اور اداروں اور اس سے منسلک جائدادوں کی بڑھتی ہوئی نشستوں کے عمومی فلاح و بہبود اور موثر انتظام کے لئے تنظیم کو ٹرسٹ میں تبدیل کرنا نا گزیر بن گیا تھا  3١ اگست ١٩٧٣ کو حضرت بل  میں مسلمانوں کے ایک بہت بڑے اجتماع میں یہ عزم کیا گیا کہ "ادارہ اوقاف اسلامیہ کو"  اب "آل جموں و کشمیر مسلم اوقاف ٹرسٹ" کے نام سے ایک ٹرسٹ میں تبدیل کیا جائے گا اور پھر مرحوم شیخ محمد عبد اللہ کو بطور اولین ٹرسٹی اور چیئرمین تاحیات بنایا گیا۔  اس ضمن میں باضابطہ ایک Trust Deed ٢٣ستمبر ١٩٧٣ کو تیار کی گئی، شیخ محمد عبداللہ  کے انتقال کے بعد ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے چیئرمین اور منیجنگ ٹرسٹی کے عہدے سے ٨ ستمبر ١٩٨٢ کو اس کا اطلاق کیا۔
وقف بورڈ کی کارکردگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ ادارہ خوابِ غفلت سے ابھی جاگ نہیں پایا ہے اور آنکھیں کھولنے کی اور اپنی زمہ داریاں نبھانے کی ابھی تک کوئی جستجو نہیں کر رہا، آستانوں کے لئے قائم کی گئی کمیٹیاں ہر سطح پر ناکام ہوگئی ہے ۔اوقاف میں کام کر رہے ملازمین اگر وہاں موجود ہوتے تو یہ واقعہ پیش نہ آتا اور لاکھوں فرزندان توحید کے جذبات یوں مجروح نہ ہوتے، بے پردہ لڑکیوں کو کیوں نہیں entry point پر ہی روکا گیا ،کیوں وقف بورڈ نے زائرین کے لئے  شرائط داخلہ مخصوص نہیںرکھے ہیں؟ یہ ایسے سوال ہیں، جن کے جوابات دینے سے اوقاف انتظامیہ قاصر ہے ۔ویسے بھی ادارے نے آج تک کوئی ایسا کام کیا نہیں جس پر ہم فخر کیا جاسکے، خانیار سرینگر میں آستان عالیہ کے سانحہ کی لاپرواہی کا درد اب تک کشمیری قوم بھول نہیں پائے ہیں۔گرچہ آستان تو نیا بنا لیا، پر وہ عظیم شہکاریت اور وہ روحانیت مسخ زدہ ہوکر رکھ دی گئی۔ قوم کو آج تک لاپرواہی کے اسباب سے بھی بے خبر رکھا گیا ہے اور نا ہی ہم اُمید رکھتےہیںکہ اُس لاپرواہی کا جواب کبھی مل پائے گا۔، وقف بورڈ کی آمدنی کا تخمینہ لگانا میرا مقصد نہیں پر عوام کو راحت پہچانے میں یہ ادارہ ماتا و شنو دیوی شرائن بورڈ کا مقابلہ ہرگزنہیں کر سکتی،جس نے کم وقت میں اسپتال، کالج، یونیورسٹی بنا کر قوم کے نام وقف کی اور بہت ساری غریب بیٹیوں اور پسماندہ لوگوں کی مدد میں یہ ادارہ پیشی پیش ہے۔ ہم وقف بورڈ کے حکام سے یہ سب نہیں چاہتے آپ کی اپنی ضروریات بہت زیادہ ہے پر خدارا  اپنا کام خوش اسلوبی سے کریں۔
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے اَبلہِ مسجد ہُوں، نہ تہذیب کا فرزند
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہَلاہِل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
ساکنہ۔ پاندریٹھن سرینگر حال اومپورہ ہاؤسنگ کالونی 
9205000010