تازہ ترین

خودکشی بزدلی ہے

حالات سے لڑنا حقیقی بندگی کا نام ہے

تاریخ    23 جون 2021 (00 : 01 AM)   


بلال احمد پرے
اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بناکر اس سے بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں ہے ۔ زندگی بذات خود ایک بہتریں انمول نعمت ہے۔ سورۃ الرحمٰن کے اندر اللہ رب العالمیین نے متعدد آیات میں "اور تم اللہ تعالٰی کی کون کون سی نعمت کو جٹھلاؤ گے" کا نزول فرما کر انسان کو بار بار عطا کی ہوئی نعمتوں کی طرف تدبر و تفکر کرنے کی دعوت دی ہے - زندگی مالکِ حقیقی کی دی ہوئی ایک امانت ہے - یہ ہماری اپنی ذاتی ملکیت تو نہیں کہ جب چاہئے، جہاں چاہئے صرف کریں بلکہ اس سے اپنے مقررہ وقت پر رب الزوجلال کو واپس لوٹا دینا ہے اور اس امانت میں ذرا بھر خیانت کی گنجائش موجود نہیں ۔ عین اسی طرح جس طرح ایک مقروض کو اپنا قرض ادا کرنا پڑتا ہے - یہ کام دانا و شکر گزار بندے ہی بجا لاتے ہیں اور اِس عظیم نعمت کی قدر تو اہلِ دانش ہی کرتے ہیں۔
 زندگی موت وحیات کے بیچوں بیچ اس کشمکش کا نام ہے جس سے طِفل، شباب اور بزرگی جیسے تین اہم بڑے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان مراحل کو طے کرنے میں صحت و مرض، راحت و تکلیف، خوشی و غم، عروج و زوال، ثروت و غربت، خیر و شر جیسے مختلف موڑ ساتھ ساتھ آتے ہیں۔ زندگی بخشنے والے رب نے زندگی کو وجود میں لانے سے پہلے ہی اس کی تقدیر تحریر فرمائی ہے ۔ اِنسان ایک اعتبار سے مختار اور دوسرے اعتبار سے مجبور ہے-
خودکشی یعنی اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی جان لینا ایک اخلاقی اور سماجی برائی ہے جو صرف ایک بزدلانہ حرکت ہے - مختلف علاقوں میں اس کے اسباب مختلف ہو سکتے ہیں - ایک تحقیق کے مطابق شہری اور دیہی علاقوں میں اُناسی (79) فی صد آبادی ذہنی تناؤ ( Depression ) کی شکار ہیں - بین الاقوامی تنظیم میڈیسن سائنس فرنٹیئرز (MSF)  کی ایک تحقیق کے مطابق وادئ کشمیر میں پنتالیس (45) فی صد آبادی نفسیاتی پریشانی میں مبتلا ہے۔ وادئ کشمیر کے ماہرِ نفسیات (Psychiatrist) کا ماننا ہے کہ ذہنی تناؤ (Depression ) ، جسمانی دباؤ (Stress) اور منشیات کی بُری عادت (Drug Abuse ) کا لگنا خودکشی کے بنیادی اسباب ہیں - اس کے علاوہ ریاست میں نوے کی دہائی سے چل رہی مسلح تصّادم آرائی ( Armed conflict ) جیسی صورتحال کے ہونے سے یہ تناسب مزید بڑھ چکا ہے - کورونا وائرس سے پیدا شدہ عالمی معاشی بحران کی تنزلی اور سماجی روابط پر عائد پابندی سے بھی حالات مزید خراب ہوگئے ہیں - جس سے خودکشی کے واقعات رونما ہونے میں مزید اضافہ ہوا ہے - قومی کرائم ریکارڈ بیوریو کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں سنہ ۲۰۱۷ء میں خودکشی کے 287 واقعات رونما ہوئے ہیں جب کہ سنہ ۲۰۱۸ء میں 330 اور سنہ ۲۰۱۹ء میں 284 واقعات پائے گئے ہیں - اور اب یہ واقعات اڑھائی فی صدی سے بڑھتے ہوئے تین فی صدی تک ہو چکے ہیں - اس طرح کی تشویشناک خبریں آئے روز اخباروں میں دیکھنے کو ملتی ہیں-
اِنسان دنیا میں تھوڑی سی کش مکش کرنے کے فورً بعد ناکامی کا منہ لگنے پر ہی اِس نعمت کی خیانت کرنے لگتے ہیں - جو سراسر اپنے اوپر ظلم کرنے کے برابر ہے - غربت و افلاس کی زندگی کا ہونا، مہلک بیماریوں میں گرفتار ہونا، حصولِ روزگار کا نہ ملنا، پڑھائی میں ناکام ہونا ، عشق مجوسی میں گرفتاری، محبت میں بے وفائی، تجارت میں خسارہ، گھریلو تشّدد کے شکار، طلاق کی نوبت، غلط تعلقات کا ہونا وغیرہ جیسے دیگر اہم مسائل خودکشی کا اقدام اٹھانے کے اسباب ہیں -
آج کل آئے روز اس گلزار میں کئی رنگیں مہکتے پھولوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ مرجھے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ کہیں خام ٹہنی سمجھ کر معصومہ اپنی جان لی جاتی ہے، کہیں زہر کھا کر اپنے آپ کو خاموش کیا جاتا ہے، کہیں تیل چھڑک کر آگ کے حوالے کیا جاتا ہے ، کہیں پھانسی کا پھندہ گردن میں ڈال کر لٹکایا جاتا ہے ، کہیں تیز ترین آلے سے اپنی حسین و جمیل شکل و صورت کو بگاڑ کے رکھ دیا جاتا ہے، کہیں گولی سے اِس نرم جسم کو چھلنی کیا جاتا ہے، کہیں پتھر سے مار کر ظلم و جبر کی نئے انتہا حرکت کا مزہ لیا جاتا ہے، کہیں بے خوف و خطر ہو کر دریا پر بنے پُلوں سے چھلانگ مار کر غرقِ آب کیا جاتا ہے ۔ کہیں آپسی تنازعات کے شکار بن کر تو کہیں کھیل تماشا کرکے ڈرامائی انداز میں ہمیشہ کے لئے ابدی نیند سُلا دیا جاتا ہے۔ غرض جاہ جاہ چمن کے مختلف گوشوں میں رنگین پھولوں کو اس حسین و جمیل باغ سے جُدا کیا جاتا ہے ۔
اسلام نے جسم و جاں کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے تمام افرادِ معاشرہ کو اس امر کا پابند کیا ہے کہ وہ بہرصورت زندگی کی حفاظت کریں۔ اسلام کسی انسان کو خود اپنی جان تلف کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ہے - بلکہ یہ باور کراتا ہے کہ زندگی اور موت کا مالکِ صرف ﷲ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ ’’ اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور صاحبانِ اِحسان بنو، بے شک ﷲ اِحسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے "- (البقرة؛ 195)
ایک اور مقام پر ﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ اور اپنی جانوں کو ہلاک مت کرو، بے شک ﷲ تم پر مہربان ہے- اور جو کوئی تعدِّی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ ﷲ پر بالکل آسان ہے -" (النساء ؛ 29 تا 30)
احادیث مبارکہ میں بھی خود کشی کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ اللہ کے آخری نبی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے۔‘‘ ( البخاری ، کتاب الصوم، رقم: 1874)
مذکورہ احکام واضح طور پر اپنے جسم و جان اور تمام اعضاء کی حفاظت اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتے ہیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کشی جیسے بھیانک اور حرام فعل کے مرتکب کو " وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا" فرما کر دردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے- حالانکہ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں کو بھی مصیبت و آلام سے گزرنا پڑا ہو - حضرت ابراہیم ؑ، حضرت ایوبؑ، حضرت یوسفؑ، حضرت موسی علیہ السلام کی حیات مبارک دیکھیے- آپ علیہ السلام کی زندگیوں میں بھی مختلف مصیبت و آلام آئے ہیں لیکن ان سب پیغمبروں نے اس پر صبر کیا اور اللہ رب العالمیین کی رضا کے مستحق ہو گئے - اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اٹھا کے دیکھیے- کیا آپ ﷺ کو مصیبت و آلام پیش نہیں آئے- بلکہ رسالت کے بعد مکی دور کے تیرہ سالوں میں آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کے جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بے انتہا مصیبت و آلام دیکھنے پڑے ہیں - ہر طرف ظلم و جوار کے پہاڑ توڑ دیے گئے - شعیب ابی طالب کی گھاٹی کسی قید خانے سے کم نہیں تھی - لیکن آپ ﷺ کا بے انتہا صبر، برداشت،  تحمل عفو و درگزر اس بات کی دلیل ہے کہ ایک امتی کو اس قسم کی نازک گھڑی میں صبر کا سہارا لینا چاہیے - 
دنیا میں ہر ایک چیز کا فنا ہونا واقعی ہے - زندگی قیمتی ہے اس سے ضائع ہونے نہ دیں - شیطان انسان کو پہلے اس سنگین گناہ کی طرف ورغلاتا ہے پھر اُس کی اِس عمل پہ ہنستا ہے - یہ ہمارے لئے ایک المیہ ہے جس پر اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو نتائج بیانک ہو سکتے ہیں ۔ یہ چند روزہ کا گلستان آخر کار خزان کے قریب پہنچ کر زرد پڑ جانے والا ہے ۔ اس دنیا کے اندر بڑے سے بڑے تکلیف کو بھی چند روز کا سمجھ کر برداشت کیا کریں اور اِس کے بعد آنے والی نئی زندگی ابدی ہے جہاں کے عیش و آرام بھی دائمی ہیں۔ اِس لئے سمجھدار انسان وہی ہے جو اس گلستان میں زندگی کی قدر کرنا سیکھیں ۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس حرام فعل سے کیسے بچ سکتے ہیں -  سب سے پہلے اس انتہائی اقدام کے خلاف والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پہ خاص نظر بنائے رکھیں - دوم اساتذہ اور امام و خطیب حضرات بھی اپنا مثبت کردار ادا کریں- پریشانیوں میں مبتلا ہر ایک فرد پہ نظر بنائے رکھیں - انہیں قبل از وقت صحیح طور پر صلح و مشورہ سے مستفید کریں اور مناسب مداخلت (Proper Intervention) کر کے قیمتی جان بچانے کی کوشش کریں - ماہر نفسیات کی طرف رجوع کر کے ذہنی تناؤ اور دباؤ کو دور کرنے کی کوشش کریں- زندگی جینے کا صحیح ڈھنگ (Lifestyle) سیکھیں - ہر شہر، قصبہ، گاؤں اور محلوں میں فعال اور منظم طریقے کے فلاحی ادارے قائم کریں- نجی سطح پر دستیاب نفسیات کی سند حاصل کرنے والوں کی خدمات حاصل کریں - مستقل طور پر جسمانی اور ذہنی ورزش کیا کریں - اس کے مزید اسلامی تعلیمات کی طرف اپنا دھیان دیں اور بے قرار دل کو قرآن کی تلاوت سے چین و سکون دیں -
الغرض خلاصہ کلام یہی ہے کہ ہم یہاں چند روزہ زندگی کے ساتھ ساتھ اپنے دائمی و ابدی گلستان کو ویران بنانے سے بچائیں اور اپنے کُھلے دشمن یعنی شیطان کے اشاروں پر ناچنے سے پرہیز کیا کریں - تب جا کے ہم اپنے دونوں جہانوں کو گلزار بنا پائیں گے ۔
ہاری پاری گام ترال
رابطہ - 9858109109