تازہ ترین

جی ہاں! یہ صرف آیورویدک کمیشن ہے!!

طب ِیونانی کو صحیح مقام دینےمیں تاخیر کیوں؟

تاریخ    23 جون 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر خالد اختر علیگ
بالآخر رواں ماہ کی ۱۱ ؍تاریخ کو حکومت ہند نے گزٹ شائع کرکے نیشنل کمیشن فا ر انڈین سسٹم آف میڈیسن یعنی NCISMکے قیام کا اعلان کردیا ۔جس کے بعد ہندوستانی طب یعنی آیوروید،یونانی ،یوگا،سدھا کے تعلیمی اداروں کو منظم کرنے اورمعالجین کے اندرا ج کرنے کے لئے ۱۹۷۰ء میں پارلیمنٹ کے ایک قانون کے تحت قائم کی جانے والی سابقہ سنٹرل کونسل فار انڈین میڈیسن کو تحلیل کردیا گیا ۔۲۰۱۴ء میں جب سے مرکز میں بھاجپا اقتدار میں آئی ہے تب ہی سے ہندوستانی یا دیسی طریقہ علاج کی ترقی کی طرف خاصی توجہ دی جا رہی ہے ۔نیشنل کمیشن فا ر انڈین سسٹم آف میڈیسن بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔اس سے قبل۲۰۱۴ء میںحکومت نے اس کی ترویج کے لئے ایک علیحدہ وزارت آیوش(AYUSH) قائم کی جو آیورید،یوگاو نیچروپیتھی،یونانی،سدھااور ہومیوپیتھی کا مخفف ہے۔۲۰۱۷ء میں حکومت ہند نے کسی بیوروکریٹ کے بجائے وید راجیش کوٹیچا سابق وائس چانسلرجام نگر آیوروید یونیورسٹی کو وزارت آیوش کا سکریٹری بنایا جو تاحال اس عہدے پر قائم ہیں ۔وزارت کے قیام کے اصل مقاصد میں ہندوستانی طب یعنی آیورید،یوگاو نیچروپیتھی،یونانی،سدھااور ہومیوپیتھی کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانا،امراض اور ان کا شافی علاج مذکورہ طریقہ علاج میں دریافت کرنے کے لئے تحقیق اور اس کی عوامی افادیت میں اضافہ کرنے  جیسے اقدامات شامل ہیں لیکن  حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت دیگر پیتھیوں کے مقابلے آیورویداور یوگا کی ترقی اور اشاعت پر زیادہ زور دے رہی ہے ۔یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ وزارت آیوش، تمام دیسی طریقہ علاج کے فروغ کے لیے قائم کی گئی تھی لیکن حکومت نے انہیں نظر انداز کردیا ہے اور آیوروید پر اس کی خاص عنایت ہوتی رہی ہے۔ اسی طرح سے نو تشکیل شدہ نیشنل کمیشن فا ر انڈین سسٹم آف میڈیسن  میںیونانی طب کو ایک گوشے میں محدود کردیا گیا ہے ۔آیوروید کے بعد سب سے زیادہ مقبول پیتھی یونانی طب کو اس کمیشن میں ذرہ برابر اہمیت دینے کی کوشش نہیں کی گئی ہے ۔جو معمولی نمائندگی نظر آتی ہے وہ صرف مجبور ی میں دی گئی ہے ۔اس کمیشن کی صدارت کرناٹک سے تعلق رکھنے والے آیوروید کے ماہر ڈاکٹر سری نواساپرساد بدرو کو سپرد کی گئی ہے ۔جہاںاس کمیشن میں آیوروید کے لئے علیحدہ بورڈ کی تشکیل کی گئی ہے وہیں طب یونانی کو سدھا اورسوا رگپا کے ساتھ ایک علیحدہ بورڈ میں شامل کیا گیا ہے ۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ پورے ملک میں صدیوں سے ملک کے تقریباً ہر حصے میں اپنا وجود رکھنے والی طب یونانی جس کے ملک کے طول وعرض میں ۱۰۰ اسپتال ،۱۵۰۰ ڈسپنسریاں اور ۶۰ طبیہ کالج موجود ہیں جہاں گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح پر تعلیم ہوتی ہے ۔اس کو صرف تامل ناڈوتک محدود سدھا پیتھی جس کے صرف ۹ کالج ہیں کے ماہرکیرالا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کے جگناتھن کی تحویل میں دے دیا گیا ہے جب کہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آیوروید کی طرح ہی یونانی بورڈ بنایا جاتا ۔ ۱۵ رکنی کمیشن میں ۱۰ اراکین بشمول صدر کا تعلق آیوروید سے ہے ۔ کمیشن سے وابستہ ہندوستانی طب کی طبی درجہ بندی اور معیار طے کرنے والے بورڈ  اور  انڈین سسٹم آف میڈیسن ایتھکس اینڈ رجسٹریشن بورڈکی صدارت بھی آیوروید کے ماہرین کے سپرد کی گئی ہے ۔حکومت کو یونانی طب کے ماہرین میں ایسا کوئی بھی شخص نہیں دکھائی دیا جو اس کمیشن کے بااختیار بورڈوں کی قیادت کرسکے ۔ہمارے ملک میں جہاں ہر چیز کو مذہب کی عینک سے دیکھنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے ایسے میں آیوروید کو ہندو تہذیب و ثقافت سے جو ڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ جبکہ یونانی طریقہ علاج کو مسلمانوں سے منسوب کردیا گیا ہے ۔ کہنے کو تو نیشنل کمیشن فا ر انڈین سسٹم آف میڈیسن  ہندوستانی طبوں کا مشترکہ ادارہ ہے لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے اور یہ صرف آیوروید کا ہی ادارہ بن کر سامنے آیاہے۔ یونانی طب ہندوستان میں کم و بیش ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ سے موجود ہے اور یہ آیوروید کی طرح ہی عوام میں مقبول رہی ہے ۔آزادی سے قبل جب انگریز حکومت نے ہندوستانی طبوں کو ختم کرنے کی کوشش کی تو اس وقت مشہور یونانی معالج حکیم اجمل خاں ایک ایسے سیاستداں تھے جنہوں نے یونانی کے ساتھ آیورویدکے بقا کی بھی جنگ لڑی جس کے نتیجے میں انگریز حکومت ہندوستانی طبوں کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئی۔یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد حکومت ہند کی وزارت صحت و خاندانی بہبود اور بعد ازاں آیوش وزارت کے تحت جو بھی سہولیات آیوروید کے معالجین کو حاصل تھی وہ سب سہولیات یونانی معالجین کو بھی حاصل رہی۔چاہے وہ پرائیویٹ پریکٹس کا معاملہ ہو، میڈیکل افسر ہوں یا دیگر سرکاری مراعات سب کچھ یونانی و آیوروید دونوں یکساں رہے ہیں۔پورے ملک میں سرکاری وپرائیویٹ طبیہ کالجز کی تعداد بھی خاصی ہے۔طبیہ کالج اور آیورویک کالج و ان کا تعلیمی نصاب سابقہ سی سی آئی ایم (سینٹرل کونسل آف انڈین میڈیسن ) کے زیر کنٹرول تھا جو کہ اب آیوش وزارت کے تحت ہو گیا ہے ۔کمیشن کو مکمل طور پر آیوروید کے ماہرین کے حوالے کرنے کے خطرناک نتائج آنے والے دنوں میں صاف طور پر نظر آئیں گے یونانی نصاب پر بھی نظر ثانی ہوسکتی ہے اور اسے مقبول بنانے کے نام پر اردو سے آزاد بھی کرایا جاسکتا ہے تاکہ ایک مخصوص طبقہ کے افراد کی اجارہ داری کو ختم کیا جاسکے ۔جیسا کہ پورے ملک میں مختلف شعبوں میں مسلمانوں کی نائندگی کم کرنے کی گزشتہ سات سالوں میں کوشش کی گئی ہے ویسے ہی اب طب یونانی کو ایک طبقہ کی بتا کر اس کی حیثیت کو کم کرنے کی حتی المقدور کوشش کی جائے گی اور یونانی میں پریکٹس کرنا بھی آسان نہیں ہوگا ۔
لیکن یونانی طب کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کوئی نئی نہیں ہے بلکہ اس پر کافی زمانے سے کام کیا جارہا ہے ۔ایک عرصہ سے آیوش معالجین ایلوپیتھ دواؤں کے استعمال کی اجازت مانگتے رہے ہیںلیکن حکومت دبے پاؤں صرف آیوروید معالجین کو ہی یہ اجازت دینے کی خواہاںرہی ہے جس کی نظیرگذشتہ سال سامنے آئی جب سرجری سے متعلق   آیوروید کے سرجری میں ڈگری یافتہ معالجین کو سرجری کرنے کی اجازت دے دی گئی ۔ جب کہ یونانی میں بھی سرجری میں پوسٹ گریجویٹ کورس ایم ایس(ماہر جراحت)ہوتا ہے لیکن ’آیوش‘ کا حصہ ہونے کے باوجود اسے اس نوٹیفکیشن سے الگ رکھا گیا ۔ اسی طرح گذشتہ سال مرکزی حکومت کے ملازمین کی صحت خدمات کے لئے قائم سی جی ایچ ایس کے ذریعہ آیوروید ،یوگا اور نیچروپیتھی کے نجی مر اکز پر ڈے کئر کی سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن یونانی کو اس سہولت سے باہر رکھا گیا ہے۔اسی طرح ۲۰۱۶ء میں ایمس نئی دہلی میںانٹگریٹیو میڈیسن سنٹرکا قیام عمل میں آیا تھا جس میں صرف آیوروید اور یوگا کو ہی شامل کیا گیا تھا جبکہ دوسری پیتھیوں کو یکسر نظر انداز کردیاگیا تھا،اب وہی سنٹر ایک باضابطہ ادارے کی شکل میں پروان چڑھنے والا ہے۔
بلا شبہ یونانی طب کے ساتھ سوتیلے سلوک کا الزام جہاں کافی حد تک صحیح ہے وہیں دیسی طبوں کو کنٹرول کرنے والی وزارت آیوش اور سابقہ سی سی آئی ایم جیسے اداروں میں یونانی طب کی نمائندگی کرنے والے افراد کی سرد مہری اور مہر بہ لب اند از نے بھی یونانی طب کوکمتربنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے جس کا نتیجہ ہمارے سامنے اب دھیرے دھیرے آرہا ہے ۔واقعہ یہ ہے کہ طب یونانی کے ماہرین کی حیثیت سے حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ نہیں چاہتے کہ طب یونانی کو اس کا صحیح مقام مل سکے ۔ جب مورخ ہندوستان میں طب یونانی کے خاتمہ کے باب میں حکومت کی بداعمالیوں کے بارے میں لکھے گا اس وقت وہ اعلیٰ کرسیوں پر براجمان یونانی ماہرین کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے گا۔
نگار معالج اور آزاد کالم نویس ہے )
mkahashmi.alig@gmail.com