تازہ ترین

جوبائیڈن کا دورہ ٔ یورپ

ندائے حق

تاریخ    23 جون 2021 (00 : 01 AM)   


اسد مرزا
امریکی صدر جوبائیڈن نے گزشتہ جنوری میں امریکہ کے صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے یورپی دورے کے دوران مختلف سیاسی رہنماؤں اور قائدین کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ جس میں ایک اہم ملاقات برطانیہ کی ملکہ الزبیتھ کے ساتھ تقریباً ۲۰ سال کے وقفہ کے بعد ہوئی۔
جوبائیڈن کے دورے کا پہلا قیام برطانیہ کے ساحلی شہر Carbis Bayمیں ہوا۔ جہاں جی- ۷ ملکوں کا سربراہی اجلاس منعقد ہونا تھا۔ اجلاس سے قبل یہ تصور کیا جارہا تھا کہ صدر بائیڈن اس اجلاس کے ذریعہ جو پیغام مغربی دنیا اور ملکوں کو دینا چاہ رہے ہیں وہ ہے America is Back، یعنی کہ اب امریکہ ایک مرتبہ پھر عالمی پیمانے پر سیاسی اور ثالثی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ جو کہ ان کے پیشرو ڈونالڈ ٹرمہ نے America Firstمیں تبدیل کردیا تھا اورجس کا منفی اثر ہر عالمی ادارے اور مختلف ملکوں کے ساتھ امریکہ کے باہمی رشتوں پر صاف نظر آرہا تھا۔
اس کے علاوہ صدر بائیڈن نے جی-۷ کے اجلاس کے دوران 3Cیعنی   Covid, Climate Change and Chinaیعنی کرونا، ماحولیاتی تبدیلی اور چین جیسے تین اہم موضوعات پر اپنی پالیسیوں کو واضح کیا اور ان پر ایک عالمی اور ترقی یافتہ مغربی ممالک کی حکمت عملی وضع کرنا چاہتے تھے۔
کرونا کے معاملے پر مغربی ممالک کے درمیان اس کے خلاف ایک منصوبہ بند طریقے سے جامع حکمت عملی طے کرنے اور غریب ممالک کو ٹیکے مہیا کرانے کی بابت تو ایک مشترکہ سوچ نظر آئی، تاہم اس کے عملی پہلو پر یعنی کے اس کے لیے پیسہ کرانے اور غریب ممالک کو فری ٹیکے مہیا کرانے پر مغربی اتحاد ناکام ہوتا نظر آیا۔ اجلاس سے قبل غریب ملکوں کو ۱۰ کروڑ فری ٹیکے مہیا کرانے کی بات سامنے آرہی تھی۔ لیکن جب عملی طور پر حساب کیا گیا تو یہ تعداد گھٹ کر تقریباً ۶۲ لاکھ ٹیکوں پر ہی محیط رہ گئی۔ تاہم مغربی رہنماؤں نے اس وبا کے شروع ہونے کی وجوہات جاننے کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کرنے پر اپنی رضا مندی کا اظہار کیا۔
اس کے ساتھ ہی کرونا ٹیکوں کے ذریعہ صدر بائیڈن نے امریکہ کے پرانے حریف یعنی کہ روس اور چین پر نشانہ سادھنے پر کامیاب نظر آئے۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکوں کی تقسیم بلا کسی تفریق کے کی جانی چاہیے، ناکہ اس کے ذریعہ اپنے  ـلیے کوئی بالادستی یا فائدہ حاصل کرنے کے لیے۔
چین:
اجلاس کے دوسرے دن صدر بائیڈن نے چین کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کی ایک نئی تجویز پیش کی۔ Build Back Better Worldیا B3Wنامی اس تجویز کے ذریعہ صدر بائیڈن نے چین کے Belt and Road Intiativeیا BRI کا مقابلہ کرنے کے عالمی سطح پر چھوٹے ملکوں کے ساتھ ترقی یافتہ منصوبوں کو شروع کرنے کا خاکہ پیش کیا، لیکن مجموعی طور پر مغربی رہنماؤں نے اس تجویز کی زیادہ ہمت افزائی نہیں کی۔ جرمنی کی صدر انجیلا مارکل کے بقول ہمیں ایسے کسی بھی منصوبے کو شروع کرنے سے پہلے چین اور دیگر ملکوں اور بالخصوص چین اور مغربی ممالک کے باہمی تجارتی تعلقات کو بھی زیر غور رکھنا چاہیے۔ آج کے دور میں ہر مغربی ملک اپنی بیشتر مصنوعات بنوانے کے لیے چین پر منحصر ہے۔ فرانس کے صدر میکرون کے مطابق جی-۷ کوئی چین مخالف محاذ قائم کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ کیونکہ ایسا کوئی بھی فیصلہ کرنا جی -۷ کے اصولوں میں شامل نہیں ہے۔ اور نا ہی جی-۷ کوئی چین مخالف کلب ہے۔ چین نے اس تجویز پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مضحکہ خیز منصوبہ ہے اور چند ایک ملک اس طریقے کا کوئی فیصلہ نہیں لے سکتے۔
ماحولیاتی تبدیلی
اس موضوع پر صدر بائیڈن نے امریکہ کے اس فیصلہ کی وضاحت کی، جس کے تحت اب امریکہ میں کوئلے سے توانائی پیدا کرنے والی صنعتوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے، اور نا ہی امریکہ ترقی پذیر ملکوں کو  کسی ایسی نئی صنعت شروع کرنے کے لیے قرضہ دے گا جس میں کوئلے کا استعمال ہونا ہو۔ تاہم ماحولیاتی تنظیموں کے کارکنان نے ماحولیات سے متعلق جی-۷ کے فیصلوں کو ناکافی قرار دیا اور کہا کہ جب تک ترقی یافتہ ممالک Paris Agreementکے تحت ۱۰۰ کروڑ ڈالر طے ہونے والی رقم جمع اور خرچ نہیں کرتے تب تک، زہریلی گیسوں کے اخراج اور دیگر منفی طریقوں کی روک تھام کے لیے کوئی نئی حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکتی۔
بائیڈن - اردگان ملاقات
اپنے دورے کے دوسرے حصے میں صدر بائیڈن نے برسلز میں NATOکے سربراہی اجلاس میں شرکت کی اور تنظیم کے ساتھ امریکہ کے تعلقات قائم اور جاری رکھنے کا اعادہ کیا جو کہ ان کے پیشرو تقریباً ختم کرچکے تھے۔ NATOسربراہی اجلاس کے آخر میں جاری اعلامیہ میں چین کے خلاف محاذ کافی سخت دکھائی دیا جو کہ جی-۷ کے اعلامیہ سے تقریباً غائب تھا۔
برسیلز میں صدر بائیڈن کی جس ملاقات کو سب سے زیادہ اہمیت دی جارہی تھی، وہ تھی ترکی کے صدر رجب اردگان کے ساتھ۔ ماضی میں دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات زیادہ اچھے نہیں رہے ہیں اور دو ایک مرتبہ صدر بائیڈن، صدر اردگان کی نکتہ چینی بھی کرچکے ہیں۔ تاہم ملاقات سے قبل دونوں وفود کی جانب سے دیے جانے والے اشارے کافی مثبت نظر آرہے تھے۔ ملاقات سے قبل دونوںرہنماؤں نے اکیلے میں ذاتی بات چیت بھی کی۔ مذاکرات کی تفصیل دونوں ملکوںنے عام نہیں کی۔ تاہم دونوں رہنماؤں نے مذاکرات کو مثبت اور سرد مہری ختم کرنے سے تعبیر کیا۔ اور کہا کہ مذاکرات کا اگلا دور دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام کے درمیان جاری رہے گا۔مجموعی طور پر اس ملاقات کو مثبت قرار دیا جاسکتا ہے اور امید کی جاسکتی  ہے کہ اس ملاقات سے عالمی اور علاقائی کشیدگی میں کمی واقع ہوگی۔ ملاقات کے بعد اردگان نے افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد کابل کے حفاظتی انتظامات کی ذمہ داری ترک فوجیوں کو دینے کا ارادہ ظاہر کیا جس کے معاملے میں زیادہ تر مغربی رہنما فکر مند تھے۔
بائیڈن- پتن ملاقات
دنیا کے دو مختلف نظریاتی نظام کے سربراہی کرنے والے دو سربراہوں کے درمیان جینوا میں ہونے والی سربراہی ملاقات کے تئیں کافی پیش آرائیں کی جارہی تھیں۔ لیکن صدر پتن کی جانب سے ملاقات سے قبل امریکی ٹی وی چینل NBCکو دیے گئے انٹرویو میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا، اس سے امید کی جارہی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان سرد مہری ختم ہوسکتی ہے۔ دونوں رہنما ایک دوسرے سے گرم جوشی سے ملے اور چار گھنٹے تک مختلف باہمی اور عالمی مسائل پر گفت و شنید کی۔ ملاقات کے بعد اعلان کیا گیا کہ دونوں ملک اپنے سفرا کو واپس تعینات کریں گے اور جوہری ہتھیاروں سے متعلق اعلیٰ احکام کی سطح پر بات چیت شروع کریں گے۔ اس کے علاوہ Cyber Security کے موضوع پر اشتراک کی بات بھی کی گئی جس میں روسی ماہرین، امریکی ماہرین سے تکنیکی طور پر کافی آگے ہیں۔
صدر بائیڈن کے یوروپ دورے کے دوران وہ اپنے حلیف مغربی رہنماؤں کو یہ باور کرانے میں کافی حد تک کامیاب نظر آئے کہ اب امریکہ دوبارہ عالمی سطح پر ایک سپر پاور کا کردار سنجیدگی سے ادا کرے گا۔ ساتھ ہی جس طریقے سے انھوں نے اور بورس جانسن نے ہندوستان کو جی -۷ کے اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کروایا اسے سے جمہوریت کے تئیں ان کے عزائم واضح ہوتے ہیں اور اس میں دیگر پیش رفت نومبر میں امریکہ میں منعقد ہونے والے جمہوری ملکوں کے اجلاس کے دوران متوقع ہے۔ مجموعی طور پر صدر بائیڈن کے دورئہ یورپ کو ایک کامیاب دورہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ 
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں)