تازہ ترین

کورنا کا خوف دل ودماغ پر حاوی

رحمت میں شُکراورزحمت میں صبرکی ضرورت

تاریخ    23 جون 2021 (00 : 01 AM)   


محمدتوحیدرضاعلیمی
عالمی مہلک وباکورونا وائرس پوری دنیا میں وحشت برپاکررکھی ہے اس کی پہلی اور دوسری لہرمیں لاکھوں انسان لقمہ اجل بن گئے اور لاکھوں بیمارہیں ابھی دوسری لہرکا خاتمہ تک نہیں ہوا ماہرینِ امراض نے تیسری لہرکی اطلاع دے دی اور آگاہ کیا کہ ’تیسری لہر‘سے بچے زیادہ متاثرہونگے اب انسان خوف زدہ ہیں کہ کہیں ہم یاہماری اولادکورونا کی شکار نہ ہو جائے اس لیے کہ اب یہ گھرگھرکی کہانی ہوگئی ہے وائرس سے کسی کے دادا دادی نانا نانی ماں باپ بھائی بہن رشتہ داروں میں کسی نہ کسی کا انتقال ہورہاہےاور مصیبت زدہ بیمار سے لیکرغسل کفن دفن تک کی صعوبتوں کو دیکھ رہے ہیں اس لئے انسان لفظِ کورونا سےخوف زدہ ہیں سب اپنی اپنی جگہ ضرور پریشان وخوف زدہ ہیں جن کے پاس عیش وعشرت اور مال ومتاع کاکامل انتظام ہے وہ اور زیادہ ڈرخوف کےشکارہیں کہیں کچھ ہوگیا تومیری اٰل واولاد۔دکان مکان گاڑی بنگلہ اور جمع پونجی کاکیاہوگا
کوروناکا اتناڈر کہاں سے شروع ہوا
چین کا مشہور شہر اوہان سے ہم تک یہ خبر سوشل میڈیا کے ذریعےپہنچی دیکھتے ہی دیکھتےشہر اوہان سے نکل کر ساری دنیامیں کورونا وباپہنچی کورونا سے لاکھوں اموات ہوئیں لاکھوں شفایاب ہوئے اور لاکھوں بیماری میں مبتلا ہیں الغرض شروع سے اب تک یہ ساری خبریں سوشل میڈیا الیکٹرانک میڈیا پرنٹ میڈیاسے موصول ہوئیں اب حال یہ ہےکہ صبح نیوز چینل چلاؤ تو کورونا رات بند کروتو کورونا اخبار بینی کروتوکورونا فیس بک واٹس اپ یوٹیوب پر کورونا کورونا کورونا کی خبریں وہ بھی سرخیوں میں ایک ہی نام لفظِ کوروناجملہ ذرائع سے روزانہ انسان کے دل ودماغ تک پہنچایاجارہاہےاب انسان خبروں سے آشنائی حاصل کرتے کرتے کورونا سے خوف زدہ ہوگیاساتھ ہی ساتھ دل ودماغ میں بھی کورونا کاڈرسماگیا اسی لیے خوفزدہ مہلک وباسے ڈررہے ہیں جتنا ڈر دل ودماغ میں سمائے گا اتنی بیماریاں بھی جنم لیں گی ڈرخوف منفی سوچ سے اکثر وبیشتر حرکتِ قلب رُکنے کاقوی خدشہ ہے اوردیگرامراض بھی خود بخود جنم لیں گی اسی لیے ڈراورخوف اور منفی سوچ سے باہرآنے کےلئے مثبت سوچ پیدا کریں ڈرانے والوں سے دوری اختیار کر تے ہوئے خالقِ کائنات سے ڈریں سورہ توبہ آیت نمبر 119میں اللہ پاک نے فرمایا اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجائو جس دل میں خوفِ خدا ہوگا اس دل ودماغ پر کسی کاخوف نہیں ہوگا۔ہم کارسازسےامیدلگاکراپنے دل کو تسلی اس طرح دیں کہ اےدل ایک طرف جان لیوا کورونا مہلک وباہے تو دوسری طرف اللہ وحدہ لاشریک بچانے والاہے۔ ایک طرف کورونا وائرس ۔بلیک فنگس۔ وائٹ فنگس جیسی متعددامراض کاوجودہے توان امراض کودورکرنے والاحقیقی شفا دینے والااللہ رب العالمین ہے۔ شیخ سعدی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور کتاب بوستاں میں تحریر فرماتے ہیں 
بنامِ جہاندارجاں آفریں حکیمے سخن بر زباں آفریں۔
اللہ کے نام سے شروع جو دنیا کو باقی رکھنے والا۔ جان کو پیدا کرنے والا ہے ۔جوایسا داناہے کہ زبان میں بولنے کی قوت پیدا کرنے والا ہے
شیخ سعدی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا اللہ ہی جان کو پیدا کرنے والازبان میں بولنے کی قوت پیدا کرنے والا ہے یقیناً اسی کے چاہنے سے سب کچھ ہوتا ہے جب تک اللہ پاک نہ چاہے تب تلک ہم بیمار نہیں ہوسکتے جب وہ چاہے توہی بیمار ہوتےہیں اللہ تعالیٰ خالق ہے جب اپنے بندےکاصبرکاامتحان لینا چاہے توکسی نہ کسی بیماری یامصیبت میں مبتلا کردیتاہے کہ میرابندہ عیش وعشرت میں مجھے یادکیا کرتااب بیماری میں مصیبت میں زبان پرشکوہ شکایت لاتاہے یاہماوقت صبروشکرکےدامن کوتھام کرمیری رضاحاصل کرتاہے اللہ پاک نےسورہ بقرہ آیت نمبر 152میں فرمایا۔تم مجھے یادکرو میں تمہاراچرچاکروں گا اور میراحق مانواور میری ناشکری نہ کرو۔
بیماری غم تکلیف سےگناہ مٹتے ہیں
 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہے کہ رسول اعظم ﷺ نےارشادفرمایا.مسلمان کو تھکاوٹ.بیماری.غم.تکلیف حتیٰ کہ کانٹا چبھ جائےتواللہ تعالیٰ اس کے بدلےاس کےگناہ مٹادیتاہےاور دوسری روایت میں ہےکہ مسلمان کوکانٹاچبھے یااس سےزیادہ مصیبت میں مبتلا ہوتواللہ تعالیٰ اس کےگناہ معاف فرماتا ہےاوراس کےگناہ درخت کے پتوں کی طرح جھڑ تے ہیں(بخاری و مسلم) جب کوئی مصیبت آجائےتواس پرصبر کرناچاہیےاس لیےکہ اللہ تبارک و تعالٰی جب کسی سے کسی بھلائی کا ارادہ فرماتاہےتواسے مصیبت میں ڈال کراس کی آزمائش کرتاہےاگروہ مصیبت میں شکوہ شکایت کرےتو اس کوملنے والااجرختم ہوجاتاہے لہذاشکایت کرکےاپنی نیکیوں کو ضائع نہ کریں۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ محبوبِ خداﷺ نے ارشاد فرمایااللہ تعالیٰ جس سے بھلائی کاارادہ فرماتا ہے اس کو مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہیں کہ مصطفٰی جانِ رحمتﷺنے فرمایا کسی تکلیف کے آنےپرکوئی شخص ہرگزموت کی تمنا نہ کرےاگرضروری ہوتو یہ کلمات کہے 
یا اللہ۔ مجھےاس وقت تک زندہ رکھ جب تک میرے لئےزندہ رہنابہتر ہے اورجب میرامرنابہترہوتومجھےموت دیدے (بخاری و مسلم)
مصیبت میں زیادہ شکر گزار
مصیبت اورتکلیف بڑی اچھی چیز ہےجوانسان کوگناہوں سےپاک کرتی ہےاورگناہوں کاکفارہ بن جاتی ہے حضرتِ رابعہ بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہاکی یہ عادت تھی کہ بڑی خواہش اورچاہت سےبیماری اوردرد کی التجا کرتیں اورجس روزبخار درداورتکلیف میں مبتلا نہ ہوتیں تو بارگاہ الٰہی میں عرض کرتیں
 اے پروردگار۔ شایدتواس بڑھیاکو بھول گیاہے جوآج تکلیف نازل نہیں ہوئی۔حضرتِ خواجہ جنید بغدادی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ جس دن کسی دردیاتکلیف یاکسی مصیبت میں مبتلاہوتےتوشکرانے میں اس روزہزار رکعت نمازاداکرتے(اسرار الاولیاء)کیمیائے سعادت میں ہے ایک شخص سرورِکونینﷺکی خدمت میں حاضرہوا اورعرض کیاکہ چور میراتمام مال چراکرلےگیا ۔حضورﷺ نے فرمایا جس کامال ضائع نہ ہو اوربیمار نہ ہواس میں بھلائی نہیں۔ اس کوآخرت کاثواب حاصل نہیں ہوگا اللہ تبارک و تعالیٰ جس بندے کو دوست رکھتا ہے تو اس پر بلا نازل فرماتا ہے۔
رحمت میں شکرزحمت میں صبر
اللہ پاک کی انگنت نعمتوں میں جوبھی نعمت حاصل ہوفوراً اللہ کا شکراداکریں جب مصیبت نازل ہوفوراً صبرکے دامن کو تھام لیں۔ اللہ پاک سورہ بقرہ آیت نمبر 153میں فرمایا۔بیشک اللہ صابروں کےساتھ ہے۔ہمیں چاہئے کہ صبرو شکرکےدامن کوتھامِ رہیں 
حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا۔مومن کتنااچھا ہے کہ اس کےتمام کام خیروبرکت کےباعث ہیں اور یہ صرف ایمان والوں ہی کوحاصل ہے کہ اگر انہیں کوئی خوشی حاصل ہو تو اللہ تعالیٰ کاشکر ادا کرتے ہیں اور یہ ان کےلئے بہترہے اوراگر انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے توصبر کرتے ہیں یہ بھی ان کے حق میں بہتر ہے۔سیدنا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب میں کسی بندے کواس کی دومحبوب چیزوں میں مبتلاکردوں اور وہ ان پرصبر کرے تو میں اس کےبدلے اسے جنت عطا کردوں گا۔وہ دوچیزوں سے مرادآنکھیں ہیں یعنی وہ نابینا ہو کر صبر کرے(ریاض الصالحین) کوئی بھی لفظِ کورونا سے نہیں ۔اللہ رب العالمین سے ڈریں جواللہ سے ڈرے اللہ اس کےلئے کافی ہے اور اللہ ہی موت وحیات کامالک ہے۔
رابطہ ۔9886402786