تازہ ترین

کووِڈ پر قابو،رہنماخطوط پر سختی سے عمل لازمی

سرینگر،کپوارہ اور گاندربل کے ڈپٹی کمشنروں کی میڈیابریفنگ

تاریخ    22 جون 2021 (00 : 01 AM)   


گاندربل//ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل کرتیکا جیوتسنا نے آج کہا کہ وَبائی مرض پر قابو پانے کے لئے کووِڈ رہنما اَصولوں اور ایس او پیز پر سختی سے عمل پیرا رہنے کی ضرورت ہے ۔اِن باتوں کا اِظہار ضلع ترقیاتی کمشنرسرینگر، گاندربل  اور ضلع کمشنر کپوارہ نے میڈیا اَفراد کو کووِڈ تخفیفی اِقدامات کے بارے میں  بریفنگ دینے کے دوران کیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر محمد اعجاز اَسد نے کہا کہ کووِڈ۔19 پر وبائی اَمراض پر قابو پانے کے لئے ہمارے پاس کووِڈ مناسب طرزِ عمل ( سی اے بی) کی سختی سے پابندی اور ٹیکہ لگانا ہی واحد ہتھیار ہے۔اُنہوں نے کہا کہ آج صرف 79 کووِڈ۔19 مثبت معاملات کی رِپورٹ آئی جو اپریل 2021ء کے مہینے کے بعد سب سے کم ہیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر نے کہا کہ اگر چہ سری نگر میں کووِڈ۔19 مثبت معاملات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے تاہم کووِڈ ۔19 وبائی اَمراض کے پھیلائو کو روکنے کے لئے کووِڈ۔19 رہنما خطوط اور ایس اوپیز پر سختی سے عمل کرنا اِنتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اُنہوںنے کہا کہ جیسے ہی تمام اہل اَفراد کووِڈ۔19 حفاظتی ٹیکے لگائیں گے تو ہم ایک محفوظ اور حفاظتی زون کی طرف بڑھیں گے۔اُنہوں کہا کہ سٹیٹ ایگزیکٹیو کمیٹی ( ایس ای سی ) نے کووِڈ مناسب رویے کی سخت تعمیل سے کاروباری اداروں کو کھولنے کے سلسلے میں تازہ ترین رہنما اَصول جاری کئے ہیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل نے موجودہ کووِڈ صورتحال کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ ضلع میں ہفتہ کورونا کرفیو اور دیگر کووِڈ پابندیاں ختم ہوچکی ہیں لیکن شام 8 بجے سے صبح 7 بجے تک رات کا کرفیو مافذ رہے گا۔اُنہوں نے کہا کہ اگر چہ پابندیاں ختم ہوچکی ہیں لیکن کووِڈ ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا ضروری ہے ورنہ پابندی کا منظر نامہ واپس آسکتا ہے اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ ایس او پیز پر عمل کریں اور عوامی اِجتماعات سے اجتناب کریں۔ضلع تریاتی کمشنر نے مثبت معاملات کی شرح کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے ضلع میں 7000ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں اور مثبت معاملات کا تناسب 3.5فیصد تھا اور اِس ہفتے 9300 ٹیسٹ کئے گئے ہیں اور مثبت معاملات کی شرح 1.5فیصد ہے ۔ گزشتہ ہفتے 249 معاملات سرگرم تھے اور اِس ہفتے ضلع میں 133 معاملات سرگر م ہیں۔اُنہوں نے کووِڈ کیئر سینٹروں میں ہونے والے ٹیسٹوں کے بارے میں کہا کہ اِن مراکز پر آج تک لگ بھگ 3,400 ٹیسٹ کئے جاتے ہیں اور اِن مراکز میں کووِڈ ٹیموں سے تعاون کرنے پر لوگوں کی تعریف کی اور کووِڈ ٹیموں سے عوام الناس سے اسی طرح کی تعاون کی اُمید کی ہے۔ڈی سی نے 18برس عمر سے 44برس عمر تک کے گروپوں کی ٹیکہ کاری مہم کے بارے میں کہا کہ ضلع میں 12,000 اَفراد کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگائے گئے ہیں۔اُنہوں نے امرناتھ یاترا سروس فراہم کرنے والوں بشمول پونی والا ، پالکی والوں ، ڈنڈی والا اور دیگر مزدوروں بالخصوص سونہ مرگ علاقے کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ویکسی نیشن مراکز پر جاکر کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگائیں۔ادھرضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ اِمام الدین نے کہاکہ ضلع میں اِنتظامیہ اور محکمہ صحت کی مشترکہ کوششوں کی وجہ سے مثبت معاملات کی شرح کم ہو کر 1.61 فیصد رہ گئی ہے جو ضلع کپواڑہ کے لئے کووِڈکے حوالے سے اچھی علامت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ضلع کپواڑہ میں مجموعی طور پر 13,579مثبت معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے 12,875شفایاب ہوچکے ہیں اور اس وقت صرف ضلع میں 545 مثبت معاملات سرگرم ہیں ۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہاکہ ضلع میں کووِڈ مہلک بیماری کی وجہ سے اب تک 159 اَفراد کی موت واقع ہوئی ہے۔ڈی سی نے ٹیکہ کاری مہم کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ 45 برس عمر سے زیادہ عمر کے کل 1,13,354اَفراد کو کووِڈ ۔19 حفاظتی ٹیکے لگائے گئے ہیں جو ہدف کا 55.26 فیصد ہے جبکہ ابھی تک 18 برس عمر سے 44 برس عمر تک کے گروپوں کے 23,074اَفراد کو کووِڈ مخالف ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے کہاکہ ٹیکے لگانے کے صد فیصد ہدف حاصل کرنے کے لئے کوششیں جاری ہیں جس کے لئے ویکسی نیشن ٹیمیں بھی شدو مد سے کام کر رہی ہیں۔
 

بچوں کو کورونا کی ممکنہ تیسری لہر سے نہیں ڈرانا چاہئے : ڈاکٹر دیبہ نذیر

سری نگر//یواین آئی// سری نگر کے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیرو سائنسز میں ماہر نفسیات کی حیثیت سے تعینات ڈاکٹر دیبہ نذیر کا کہنا ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کو کورونا کی ممکنہ تیسری لہر سے ڈرانا نہیں چاہئے کیونکہ اس سے ان کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو ذہنی دباؤ میں مبتلا ہونے سے بچانے کے لئے انہیں مختلف سرگرمیوں خاص کر کھیلوں کے ساتھ مصروف رکھا جانا چاہئے ۔ان کا کہنا تھا کہ میاں بیوی کو بچوں کے سامنے گرم بحث و تکرار سے احتراز کرنا چاہئے کیونکہ اس سے ان پر براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔موصوف ماہر نفسیات نے ان باتوں کا اظہار محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے ہفتہ وار خصوصی ویڈیو پروگرام ’سکون‘کے دوران کیا ہے ۔ انہوں نے کہا: 'بچوں کو کورونا کی ممکنہ تیسری لہر سے نہیں ڈرانا ہے اس سے ان کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اپنی دلچسپی کی ٹی وی چینلز کو دیکھنا ہے صرف کووڈ نیوز نہیں دیکھنی ہے باقی دلچسپ پروگرام دیکھنے ہیں'۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی بچہ زیادہ غصہ کر رہا ہے تو اس کے غصے کو ایک مثبت رخ دینا چاہئے ۔ڈاکٹر دیبہ نذیر نے کہا کہ میاں بیوی کو بچوں کے سامنے جھگڑنے سے احتراز کرنا چاہئے کیونکہ بچے پر اس کے براہ راست اثرات پڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو مختلف کھیلوں کے ساتھ مصروف رکھنا چاہئے اور اگر ان سے موبائل فون واپس لینا ہے تو انہیں اس کے بدلے ایک موثر چیز فراہم کرنی چاہئے ۔موصوفہ نے کہا کہ اگر بچے میں ذہنی دباؤ کی علامات پائی جائیں تو اس کے لئے فور ی طور اس کی کونسلنگ کرانی چاہئے ۔نوجوانوں میں خود کشی کا رجحان بڑھنے کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا: 'کسی فلمی اداکار نے خود کشی کی تو میڈیا میں کئی دنوں تک یہ خبریں چلیں نوجوان سوچتے جب اس اداکار نے سب کچھ میسر ہونے کے باوجود خودکشی کی تو ایسے واقعات ان کے لئے رول ماڈل بن جاتے ہیں یہ ایک وجہ ہے نوجوانوں میں خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہونے کا۔انہوں نے کہا کہ جب ہمیں لگے کہ کوئی الگ تھلگ بیٹھ رہا ہے یا کوئی بار بار یہ کہتا ہے کہ میری زندگی بے مقصد ہے تو ہمیں ایسے افراد پر کڑی نظر رکھنی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ کورونا سے ہو رہی غیر متوقع اموات سے لواحقین کو شدید صدمہ پہنچتا ہے وہ معمول کی بات ہے لیکن اگر یہ صدمہ طول پکڑے تو اس کے لئے مدد طلب کرنی چاہئے ۔