کورونا کی لہر میں ٹھہرائو،71روز بعداموات 5سے کم | 75روز بعد 600سے کم متاثر،نئے521کیسز ، 4فوت، متوفین 4238

تاریخ    20 جون 2021 (00 : 01 AM)   


پرویز احمد
سرینگر /جموں و کشمیر میں 75دنوں کے بعد کورونا وائرس سے روزانہ متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 600سے کم ہوگئی ہے۔سنیچر کو 16سفر کرنے والوں سمیت مزید 521افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں( اس سے قبل 6اپریل کوجموں و کشمیر میں 24گھنٹوں کے دوران 561افراد متاثر ہوئے تھے)۔متاثرین کی مجموعی تعداد 3لاکھ 11ہزار 209ہوگئی ہے۔ اس دوران 71دنوں کے بعد اموات کی تعداد 5سے کم ہوگئی ہے۔یاد رہے کہ 9اپریل کو 4اموات ریکارڈ کی گئی تھیں۔ سنیچر کو جموں و کشمیر میں مزید 4متاثرین وائرس کا شکار ہوگئے اور اسطرح متوفین کی مجموعی تعداد 4238ہوگئی ہے۔ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے 47ہزار 616ٹیسٹ کئے گئے جن میں 521افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں جن میں 175جموں جبکہ 346کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے 346متاثرین میں 2بیرون ریاستوں سے سفر کرکے کشمیر پہنچے جبکہ 344افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ کشمیر میں متاثر ہونے والے 346افراد میں سرینگر میں117، بارہمولہ میں20، بڈگام میں44 ,پلوامہ میں33، کپوارہ میں24، اننت ناگ میں49، بانڈی پورہ میں22،گاندربل میں16،کولگام میں18 اور شوپیان میں صرف3متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرین کی مجموعی تعداد1لاکھ93ہزار54ہوگئی ہے۔ اس دوران کشمیر میں مزید2فراد وائرس سے فوت ہوگئے۔ مرنے والوں میں ایک ضلع اسپتال پلوامہ اور ایک سکمز صورہ میں فوت ہوا ہے۔ کشمیر صوبے میں متوفین کی مجموعی تعداد2174ہوگئی ہے۔ جموں میںسنیچر کو175فراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں جن میں سے14بیرون ریاستوں سے جموں پہنچے جبکہ161فراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ جموں صوبے کے175متاثرین میں جموں میں26، ادھمپور میں19، راجوری میں17، ڈوڈہ میں39، کٹھوعہ میں16، سانبہ میں14کشتواڑ میں12، پونچھ میں22 رام بن میں5اور ریاسی میں5افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ جموں صوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد118155ہوگئی ہے۔ اس دوران مزید2فراد جموں میں فوت ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں جی ایم سی راجوری میں1،جبکہ1شخص  جی ایم سی جموں میں فوت ہوا ہے۔ جموں صوبے میں متوفین کی مجموعی تعداد2064ہوگئی ہے۔ 
 
لاپرواہی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے:وزارت داخلہ
 چیف سیکریٹریوں کو مؤثر اقدامات کے حوالے سے مکتوب 
یو این آئی
 
نئی دہلی// مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کو آگاہ کیا ہے کہ پورے ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں کمی کے پیش نظر کیے جانے والے اَن لاک کے دوران کسی بھی طرح کی لاپرواہی یا نرمی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے لہٰذا مناسب کووڈ برتاؤ کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ، ٹریک، ٹریٹمنٹ اور ٹیکہ کاری کی پانچ نکاتی پالیسی کو مکمل طور پر اختیار کیے جانے کی سخت ضرورت ہے ۔ مرکزی ہوم سکریٹری اجے بھلّا نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہفتے کے روز خط لکھ کر کہا ہے کہ کورونا وائرس کے کیسز میں کمی کے پیش نظر مختلف شعبوں کو کھولا جانا جتنا ضروری ہے ’ اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ اس دوران مکمل احتیاط برتی جائے اور زمینی صورتحال کے اندازے کی بنیاد پر ہی فیصلے کیے جائیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اَن لاک کے دوران پانچ نکاتی پالیسی کو سختی سے اختیار کیے جانے کی ضرورت ہے ۔ اس میں مناسب کووڈ برتاؤ کے ساتھ ساتھ کورونا ٹیسٹ، متاثرہ شخص کے رابطوں کا پتہ لگانا، متاثرین کا علاج اور ٹیکہ کاری ضروری ہے ۔کووڈ برتاؤ کی تعمیل کی بہ ضابطہ نگرانی کرنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ یقینی کیا جانا چاہیے کہ عوام ماسک کا استعمال کریں، ہاتھوں کو صاف کریں، سماجی دوری قائم رکھیں اور بند مقامات میں روشن دان کے ذریعے ہوا کی آمد و رفت کا انتظام ہو۔ہوم سکریٹری نے کہا کہ تمام ضلع اور متعلقہ افسران کو یہ ہدایت جاری کی جانی چاہیے کہ اَن لاک کے دوران کسی طرح کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وائرس پر ٹھوس ڈھنگ سے پابندی لگانے کے لیے ٹیسٹ، ٹریس کا پتہ لگانے اور ٹریٹمنٹ کی پالیسی کو بدستور جاری رکھنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹنگ ریٹ میں کمی نہیں آنی چاہیے اور ساتھ ہی فعال کیسز میں تیزی آنے یا پوزیٹیوِٹی ریٹ کے بڑھنے پر سخت نظر رکھا جانا چاہیے ۔مائیکرو لیول پر اس طرح کا انتظام ہونا چاہیے کہ چھوٹے مقامات پر اضافے کے پیش نظر مرکزی صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کی ہدایات کے مطابق مقامی کنٹرول تدابیر سے ہی روک دیا جائے ۔ موجودہ حالات میں ٹیکہ کاری کو بے حد اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیکہ کاری بہت ضروری ہے لہذا ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ٹیکہ کاری کی رفتار بڑھا کر زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹیکہ لگایا جانا چاہیے ۔

تازہ ترین