تازہ ترین

قریب 2برس بعدجموں وکشمیر کی سیاسی جماعتوں سے مرکز کا رابطہ | آئندہ ہفتے کل جماعتی اجلاس

نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کی الگ الگ میٹنگیں آج،منگل کو گپکار اتحاد کا اجلاس طلب

تاریخ    20 جون 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر //5 اگست ، 2019 کودفعہ 370 منسوخ کرنے کے بعد پہلی بار ، نئی دہلی نے جموں کشمیر کی مین سٹریم پارٹی لیڈروں کو24جون کو ہونے والی کل جماعتی میٹنگ میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے زیر صدارت ہونے والے اس اہم اجلاس میں شرکت کیلئے باقاعدہ طور پر 14لیڈران کو آگاہ کیا گیا ہے۔جموں کشمیر کے 4سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، غلام نبی آزاد اور محبوبہ مفتی کے علاوہ سبھی سیاسی پارٹیوں کے صدور اورجموں و کشمیر کے نائب وزرائے اعلیٰ کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ہوم سیکریٹری اجے بھلہ نے 17 جون کو ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور غلام نبی آزاد سے فوج پر رابطہ قائم کیا اور کل جماعتی میٹنگ کے بارے میں انکی رائے طلب کی۔ معلوم ہوا ہے کہ مثبت رائے سامنے آنے کے بعد ہی کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور سینچر کی شام تک سبھی 14لیڈران کو دعوت دی گئی۔ جموں کشمیر کی سب سے بڑی پارٹی نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، سی پی آئی ایم، عوامی نیشنل کانفرنس، پنتھرس پارٹی، کانگریس، بھا جپا، پیپلز کانفرنس اور اپنی پارٹی کو کل جماعتی میٹنگ میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس آج ہونے والے پارٹی اجلاسوں میں دعوت نامے پر غور کریں گے جبکہ منگل کو گپکار اتحاد کی میٹنگ منعقد ہونے جارہی ہے۔نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی ، کانگریس ، پیپلز کانفرنس ، سی پی آئی (ایم) اور اے این سی نے تصدیق کی ہے کہ انہیں 24 جون کو نئی دہلی میں ہونے والے اہم اجلاس میں شرکت کے لئے نئی دہلی سے باضابطہ دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔  وزیر اعظم نریندر مودی کی زیرصدارت دہلی اجلاس شام 3 بجے شروع ہوگا جبکہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اس اجلاس کی شریک صدارت کریں گے۔نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے بتایا کہ انہیں 24 جون کو ہونے والی ملاقات کی دعوت موصول ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا ، "ہم نے اتوار کو دعوت نامے پر تبادلہ خیال کرنے اور ایجنڈا تیار کرنے کے لئے اجلاس طلب کیا ہے۔"پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو بھی نئی دہلی سے دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ، "مجھے دہلی سے فون آیا  مجھ سے 24 جون کی میٹنگ میں شرکت کے لئے کہا گیاہے۔"پی ڈی پی ترجمان سہیل بخاری نے کہا کہ پارٹی کی سیاسی امور کی کمیٹی میٹنگ اتوار کو ہونے جارہی ہے جس میں دعوت نامے پر تبادلہ خیال کیا جائیگا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ پردیش کانگریس  غلام احمد میر کو بھی اجلاس کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔ اسی طرح پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ مرکز نے کانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد کو بھی مدعو کیا ہے۔ جموں و کشمیر پی سی سی کے ترجمان رویندر شرما نے کہا کہ وہ اس دعوت نامے پر تبادلہ خیال کریں گے اور دو دن میں اس پرفیصلہ کیا جائیگا۔سی پی آئی (ایم) کے ایم وائی تاریگامی نے کہا کہ انہیں نئی دہلی میں 24 جون کی میٹنگ میں شرکت کے لئے مرکزی سکریٹری برائے داخلہ کا فون آیا۔ جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے سربراہ الطاف بخاری نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مسائل کا حل نئی دہلی میں ہے۔ ‘‘ہم کھلے عام دعوی کرتے ہیں کہ دہلی کے ساتھ ہمارا رشتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی 24 جون کو نئی دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کے لئے دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔ ادھر بی جے پی کے جے کے یونٹ کے سربراہ رویندر راینہ کو بھی اجلاس کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔اسکے علاوہ نرمل سنگھ اور کوندر گپتا بھی مدعو کئے گئے ہیں۔پنتھرس پارٹی کے سرپرست پروفیسر بھیم سنگھ کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ 24 جون کو ہونے والا اجلاس، 5 اگست ، 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد پہلا ہوگا۔ مرکز کے فیصلے سے UT میں سیاسی خلا پیدا ہو گیا تھا کیونکہ مرکزی دھارے میں شامل اکثر رہنما ، جو دہلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے ، کو نظربندکیا گیا۔