تازہ ترین

مزید خبریں

تاریخ    20 جون 2021 (00 : 01 AM)   


جموں وکشمیر نوجوانوں کو فلم صنعت میں شامل ہونے کا موقع

آن لائن ٹیلنٹ ڈیٹا بیس بنایا جارہا ہے

جموں//جموں وکشمیر فلم پالیسی کی تشکیل سے فلم صنعت میں کام کرنے کے لئے خطے کی صلاحیتوں کو اُبھارنے کے لئے یہ پہلے سے آسان ہوگیا ہے ۔ اِس پالیسی کے تحت نہ صرف جموںوکشمیر کی خوبصورتی کو فروغ دینا ہے بلکہ مقامی صلاحیتوں کو قومی سطح پر اَپنے آپ کو ثابت کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا بھی ہے۔اِس سلسلے میں 10 جولائی 2021ءتک یا اِس سے قبل https://tinyurl.com/jkfilmpolicy پر آن لائن اِندراج کرنے کے لئے جے اینڈ کے کے تجربہ کار مقامی فلم سازوں کو بھی طلب کیا گیا ہے ۔ لنک کو QR کوڈ سکین کر کے کھولا جاسکتا ہے۔فلمی پالیسی میں متعدد فن کاروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے تیار کیا گیا ہے جن میں رقاص ، فیشن ڈیزائنر ، اداکار ، کوریوگرافر ، سنیما نگار ، ساو¿نڈ ریکارڈسٹ ، سیٹ ڈیزائنر اور دیگر شامل ہیں۔
 
 

یوگا کے متعلق جی ایم سی جموں میں لیکچر کا اہتمام 

جموں // گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں نے یوگا کے عالمی دن کے حوالے سے ایک لیکچر کا اہتمام کیا جو ہر سال 21 جون کو منایا جاتا ہے ۔یہ لیکچر ڈاکٹر ٹی آر رینہ سابق پروفیسر اور ہیڈ بلڈ بینک جی ایم سی جموں نے فیکلٹی وپیرامیڈیکل عملے ودیگر افراد کےلئے کےلئے پیش کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ COVID-19 کے معاملات میں اضافے کی وجہ سے یوگا کے علم کو عام کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ روزمرہ کی زندگی میں ہر ایک فرد کو یوگا کی مشق کرنے سے فائدہ ہو گا ۔ اس موقع پر پرنسپل اور ڈین جی ایم سی ایچ ڈاکٹر ششی سدھن شرما نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوگا صحت مند دماغ اور جسم کےلئے اہم ہے ۔
 

جموں میں دن کا درجہ حرارت 37.4ڈگری پہنچ گیا 

 جموں //جموں خطہ میں دن کے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اور جموں شہر میں سنیچر کو دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37.4ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے ۔معلوم رہے کہ جمعہ کو جموں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34ڈگری سلسیش تھا ۔جبکہ حالیہ دنوں جموں میں ریکارڈ توڑ گرمی نے لوگوں کی نیندیں حرام کر دی تھیں اور وہاں درجہ حرارت 47ڈگری تک پہنچ گیا تھا۔اسی طرح بانہال میں سنیچر کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 29.4ڈگری ،بٹوٹ میں 29.0ڈگری ، کٹرہ میں 33.4ڈگری ، اور بھدرواہ میں 28.6ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے ۔اس دوران محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج جموں کے کچھ ایک علاقوں میں شام کے وقت ہلکی بارش ہو سکتی ہے ۔
 
 

مرکزی پینشن یافتگان کاورچوئل اجلاس 

جموں// سلور جوبلی کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر مرکزی پنشنرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (سی جی پی ڈبلیو اے) جے اینڈ کے جموں نے سنیچر کو دو اہم اشاعت جاری کیں۔ سلور جوبلی تقریب کے دوران کویڈ وبائی بیماریوں کے پیش نظر بہت سے ممبروں نے ورچوئل موڈ کے ذریعے حصہ لیا۔جس میں ڈاکٹر اشوک بھان سابق ڈی جی پی بھی شامل تھے، جنہوں نے ورچوئل میٹنگ کی میزبانی کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس انجمن کو فحال بنانے پر سی جی پی ڈبلیو اے کے فعال ممبران کی تعریف کی۔انہوں نے پنشنرز سے متعلق شکایات کا ازالہ کرنے اور ان کے حل کےلئے بانی ممبروں کے مشن کو آگے بڑھانے کےلئے اپنی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور ہمیشہ سماجی اور رفاہی کاموں کے لئے سرگرداں رہے۔جنرل سکریٹری جے کے وید نے جاری کردہ دونوں اشاعتوں کی اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سی جی پی ڈبلیو اے نے ٹینسرٹل گورنمنٹ پنشنرز سے اس سال مارچ تک ممبرشپ بڑھاکر 348 ہوگئی ہے ۔سی جی پی ڈبلیو اے کے نائب صدر بی کے رینا نے وی پی شرما کو یاد کیا جو گذشتہ سال اچانک انتقال کر گئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ وہ ایسوسی ایشن کی تمام سرگرمیوں کے پیچھے محرک رہے ۔کلدیپ کھوڈا نے پنشنرز کی بہبود سی پی پی ڈبلیو آو¿ٹ فارڈ کے ممبروں کے اقدامات کی تعریف کی ۔ڈی آر ڈی او کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سدرشن کمار شرما نے کہا کہ یہ اشاعتیں بے حد اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ بہت ساری نشریات میں متعدد مضامین پر معلومات کا خزانہ ہے۔اس موقع پر تقریر کرنے والوں میں ڈاکٹر اشوک بھان ، کے پی جنڈیا ل ، او این این کول ، سنیل شرما کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔یہ انجمن جولائی 1994 میں قائم کی گئی تھی ۔
 
 

دریا برد ہوئے شخص کی تلاش دوسرے روز بھی جاری 

 کشتواڑ /عاصف بٹ/ ضلع ہیڈکواٹر کشتواڑ سے 20 کلومیٹر دور علاقہ سگدی میں گزشتہ روز نالے میں ڈوب جانے والے معمر شخص کی کافی تلاش کے باوجود لاش بازیاب نہیں ہو سکی ہے ۔اگرچہ مقامی لوگوں، پولیس، ریڈ کراس و ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی جاری رکھی ہے لیکن اس کے باوجود بھی لاش دوسرے روز بھی بازیاب نہیں ہو سکی ہے ۔ضلع انتظامیہ کی جانب سے لاش کی تلاش بڑے پیمانے پر جاری ہے ۔وہیں کل دوپہر ڈول ڈیم کے قریب دریائے چناب سے نکالی گئی لاش کی پہچان بھی ابھی تک نہیں ہو سکی تھی ۔