تازہ ترین

بی جے پی کی قیادت میں جموں وکشمیر خوشحالی کی طرف گامزن :رینہ

تاریخ    20 جون 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
جموں // بی جے پی جموں وکشمیر یونٹ کے صدر رویندر رینہ نے کہا کہ جموں وکشمیر بی جے پی کی سربراہی والی حکومت کی قیادت میں خوشحالی کی طرف گامزن ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے بلائے جانے والے اجلاس کے متعلق رینہ نے کہا کہ یہ ملاقات مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی خواہشات کے مطابق ہے ،جو ان سے وقت مانگ رہے تھے اور ایک طویل عرصے سے اس طرح کے اجلاس کا مطالبہ کررہے ہیں۔24 جون کو نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی زیرصدارت اس اجلاس کےلئے جموں و کشمیر کے 14 قائدین جن میں سابق ریاست کے چار سابق وزرائے اعلیٰ بھی شامل ہیں کو مدعو کیا گیا ہے۔اگست 2019 میں مرکز کی طرف سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے اور مرکزی علاقوں میں تقسیم کرنے کے اعلان کے بعد سے یہ اجلاس پہلی بار بلایا جا رہا ہے جس میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور دیگر مرکزی رہنماو¿ں کے شریک ہونے کا امکان ہے ۔رینہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما 24 جون کو دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کر رہے ہیں اور مجھے وزیر اعظم کے دفتر سے بھی دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔ تمام جماعتوں کا اجلاس خصوصی حالات میں بلایا جارہا ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں نے اس کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ رینہ نے بتایا کہ ہم اس طرح کا اجلاس منعقد کرانے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہیں ،کیونکہ انہوں نے نہ صرف جموں وکشمیر میں پنچایتی راج اداروں کو مظبوط کیا بلکہ مغربی پاکستان کے مہاجرین کے علاوہ معاشرے کے مختلف طبقات کو حقوق دلانے میں نئے مرحلے کا اغاز کیا ۔رینہ نے کہا کہ بلاک ڈویلپمنٹ کونسل اور ضلعی ترقیاتی کونسل کے انتخابات 70 سالوں میں پہلی بار ہوئے اور پی آر آئی کو زیادہ اختیارات اور فنڈز دیئے گئے اور جموں و کشمیر مودی کی قیادت میں خوشحالی کی طرف گامزن ہے۔بی جے پی رہنما نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما حصہ لیں گے۔انہوں نے کہا ”جموں و کشمیر کے بہتر مستقبل کےلئے تمام مدعوں کو اس اہم اجلاس میں حصہ لینا چاہئے۔ وزیر اعظم ان کی بات سننے کے لئے موجود ہیں”۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ اس اجلاس کے ایجنڈے سے آگاہ نہیں ہیں لیکن کوئی عوامی مسائل اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر میں ریاست کی بحالی کا پابند ہے ” انہوں نے کہا کہ حد بندی کی مشق جاری ہے اور ایک بار جب کمیشن اپنی رپورٹ پیش کرے گا تو الیکشن کمیشن جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے بارے میں فیصلہ لے گا۔ ہمارا جمہوری ملک ہے اور منتخب حکومت کی اپنی ایک اہمیت ہے کیونکہ وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہے۔