پینے کے صاف پانی کی قلت ، ڈوڈہ کے فنگوٹا گاﺅں کے لوگ سراپا احتجاج

تاریخ    20 جون 2021 (00 : 01 AM)   


اشتیاق ملک
ڈوڈہ // ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ کے دفتر سے چند کلومیٹر کی دوری پر وا قع گاﺅں فنگوٹا پنچایت ریواڑہ ڈوڈہ کے مکینوں نے پینے کے پانی کی شدید قلت کے خلاف محکمہ پی ایچ ای ڈوڈہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے ایک مہینے سے پینے کے پانی کے بغیر ہیں اور محکمہ پی ایچ ای ڈوڈہ کے اہلکاروں اور افیسران کے کان پر جون تک نہیں رینگ رہی ہے۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں مستقل بنیادوں پرپینے کا پانی فراہم کیا جائے اور اپنے فرض میں کوتاہی برتنے والے محکمہ صحت عامہ ڈوڈہ کے ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔فنگوٹا ڈوڈہ کے ایک سابق ایگریکلچر افسر پرتھوی راج بھگت نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ پی ایچ ا ی ڈوڈہ کا عملہ جان بوجھ کرا±ن کے علاقے کو نظرانداز کر رہا ہے جس کی وجہ سے پینے کے پانی کی شدید قلت کی وجہ سے گاﺅں کے درجنوں کنبوں کو ناقابل بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ متعددبار محکمہ پی ایچ ای کے لائین مینوں ، سپروائزروں اور جونیئر انجینئروں کی نوٹس میں لایا گیا لیکن پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے کسی بھی قسم کے اقدامات نہیں کئے گئے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور گرمی کی شدت میں عوام کے مصائب میں مزید اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ فنگوٹا کے مقامی لوگ پینے کے پانی کی فراہمی میں ناکامی کے خلاف محکمہ پی ایچ ای ڈوڈہ کے خلاف ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرے کرنے پر مجبور کئے جارہے ہیں اور اس صورتحال میں امن وقانون کی کسی بھی صورتحال کی تمام تر زمہ داری محکمہ پی ایچ ای کے عہدیداروں پر عائید ہوگی۔پرتھوی راج بھگت نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اس معاملے میں زاتی مداخلت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ کے ایسے افسروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے جو لوگوں کو پینے کے پانی کی بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے اور لوگوں کو ہراساں کرنے پر پر ت±لے ہوئے ہیں۔
 
 

تازہ ترین