تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    20 جون 2021 (00 : 01 AM)   


چلن عشق کا ہے وفا کیجیے
ہے جب حُسن کہتا جفا کیجیے
ہے یہ موت اور زندگی کا سوال
کبھی دل نہ دل سے جدا کیجیے
دکھاوا کہاں اور محبت کہاں
نہ ہم سے یہ مکر و ریا کیجیے
خدا کا بھی دیکھا طریقہ یہی
کہ خلوت میں اُس سے ملا کیجیے
کھٹکتا جو غم آپ کے دل میں ہے
وہ غم کچھ ہمیں بھی عطا کیجیے
مجھے آپ کا غم گوارا نہیں
خدارا سدا خوش رہا کیجیے
کوئی چارہ گر ہو نہ جب اے بشیرؔ
تو اپنے خدا سے دعا کیجیے
 
بشیر احمد بشیرؔ (ابن نشاطؔ) کشتواڑی
کشتواڑ، موبائل نمبر؛7006606571
 
 
نظر کر رہی ہے اثر رفتہ رفتہ
اٹھی ہیں ہمیں پر نظر رفتہ رفتہ
ذرا تم کرو دل کی باتیں او جاناں
کسی دم بھی کرلو مگر رفتہ رفتہ
پرندوں کو گھر میں جگہ دے دو یارو
کہ کم ہو رہے ہیں شجر رفتہ رفتہ
نشے میں گزاری گئی ہیں جو راتیں
وہ راتیں گئی ہیں گذر رفتہ رفتہ 
دہن صد ہزاراں گلابوں کی تمثیل
چمن میں تو جاناں اُتر رفتہ رفتہ
نقابوں میں چہرہ چھپایا ہے تُو نے
کہ زخمی ہوا ہے جگر رفتہ رفتہ
اگر تو نے دل کو لگایا نہیں ہے
تو طغیانیوں میں اُتر رفتہ رفتہ
یہ راتیں، یہ باتیں۔ یہ نغمے، ہوائیں
کہ آئی نظر ہے سحر رفتہ رفتہ
اِدھر سے اُدھر تم گزرتے نہیں ہو
اِدھر سے اُدھر کو گزر رفتہ رفتہ
وہ کہتے ہیں ساگرؔ کہ کہنا یہی ہے
اثر کر رہی ہے نظر رفتہ رفتہ
 
ساگر سلام
کوکرناگ اننت ناگ
موبائل نمبر؛6006829932
 
 
در در مارا پھرتا چاند
دیکھو پھر سے نکلا چاند
 
جانے کس کو ڈھونڈ رہا ہے
جنگل جنگل صحرا چاند
 
رات کسی کو بیچ رہے تھے
ایک ہزار میں پورا چاند
 
خوب ہنسا تھا پہلے لیکن 
بعد اذاں پھر رویا چاند 
 
جانے کس کی سوچ میں ڈوبا 
آج بچارا تنہا چاند 
 
دل نے میرے خواہش کی تھی
بِالکل تیرے جیسا چاند
 
نیل گگن سے لایا تھا میں 
سویا تھا جب ننھا چاند 
 
خود کو ساتھ اِندرؔ کے پایا 
صبح کو جوں ہی جاگا چاند 
 
 اِندرؔ سرازی
پریم نگر، ضلع ڈوڈہ
موبائل نمبر؛ 7006658731
 
 
ہے شہرِ خموشاں کی جائے مرا دل
تو کیا سوچ کر مسکرائے مرا دل
جدا ہو گئے ہم جو اک دوسرے سے
ہوا کتنا مجبور ہائے مرا دل
محبت کی قسمت میں رسوائیاں ہیں
کسے قصہء غم سنائے  مرا دل
کوئی  بات ایسی نہ کرنا کبھی تم
کہ برسوں مجھے پھر رُلائے مرا دل
مرا گلشنِ دل ہے ویران کب سے
تبسم ، نے لب پہ کھلائے مرا دل
فقط، مٹھی بھر گوشت کا لوتھڑا یہ
مگر، سب کو پاگل بنائے مرا دل
کسی آئینے کی طرح خوب ، انجمؔ
ہر اک میری حسرتِ دُکھائے مرا دل
 
فریدہ انجمؔ
پٹنہ سٹی، بہار
anjum.fareeda786@gmail.com@
 
 
ہم نے پھر تعمیر کیا اِک بُت خانہ
اور سجالی اُس میں تصویرِ جانانہ
 
دب رہا تھا اور اب بھی دب رہا میں
دبتے دبتے بن جائوں گا خزانہ
 
تم کو ڈر ہے چمن ہے جلتاجلنے دو
میں تو ہوا ہوں نہیں ہے کوئی ٹھکانہ
 
عبس ہے تم سے ملنا اب اِس موڑ پر
دو پل مل کے پھر سے ہوگا پچھتانہ
 
عمر تو گزری آتے جاتے اِس بستی میں
اب نہ چھوڑا جائے گا مُجھ سے میخانہ
 
ٹوٹ کے تم کوچاہا تھا اور چاہیں گے
تم رمیضؔسمجھو ہمیں ہی بیگانہ
 
  رمیضؔ بٹونی
بٹونہ، گاندربل کشمیر
موبائل نمبر؛9419629933
 
مختصر اس قدر تھا ہمارا سفر
ساتھ رہ کر بھی ہم تم جدا سے رہے
 
دشمنی تھی کوئی اور نہ رنجش مگر
دونوں ایسے میں پھر کیوں خفا سے رہے؟
 
تذکرہ کر رہے تھے وفاؤں کا وہ
زندگی بھر جو خود بے وفا سے رہے
 
زندگانی بسر محفلوں میں ہوئی
رونقوں میں بھی کچھ غم زدہ سے رہے
 
کیا بتاؤں نسیمؔ کتنے فنکار تھے
زخم جو دے گئے اور دوا سے رہے
 
 
نسیمؔ اختر
روپ نگر چنور جموں
 
 
 

تازہ ترین