تازہ ترین

کنکریاں

پہاڑی افسانہ

تاریخ    20 جون 2021 (00 : 01 AM)   


راجہ شاہد شجاعت۔۔بجہامہ اوڑی، حال سرینگر، 9419000996
پری کنکریوں کو ہاتھوں میں لے کر کھیل شروع کرنے لگی۔ ’’اِکّا۔۔۔ دُکا۔۔۔ تِکا۔۔۔‘‘ اوہ کمال ہے دیدی! تجھے ایک بھی کنکری نہیں لگتی۔ کیا جادو کررکھا ہے تو نے اِن کنکریوں پر؟ لیکن آج تو میں بھی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ تجھے ہرا کر ہی دم لوں گی۔چلو تیری باری ہے اب۔۔۔ مگر ۔۔۔۔ مگر میں پہلے بھیڑ بکریوں کو موڑ کر لاتی ہوں‘‘۔
شیرین نے کنکریاں ہاتھ میں اُٹھا لیں اور ان گول گول سی کنکریوں کو ہاتھ میں لیتے ہی اُسکی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ وہ ایک دم اپنے پُرپیچ ماضی کے رستے پر قدم بڑھاتی گئی۔ جہاں ہر ہر قدم پر کوئی نہ کوئی خاص یاد تازہ ہوتی گئی۔ سب سے پہلے تو اُس کی شادی کا وہ منظر اُبھرنے لگا جب اُسے ڈولی میں بٹھایا گیا تھا اور ڈولی اُٹھتے وقت ہی اُس کی خاص اور اکلوتی سہیلی پردہ ہٹاتے ہوئے اُس کے ہاتھوںمیں چند کنکریاں تھما گئی تھی۔ اُس نے کہا تھا ۔۔۔۔
’’میری بچپن کی پیاری سہیلی! یہ لے کنکریاں۔۔۔ میں اس خاص موقعے پر تمہیں کوئی اور تحفہ تو نہیں دے سکتی لیکن ان کو ہی رکھ لو۔ ان کے ساتھ تیرے میرے بچپن کی کئی یادیں جڑی ہوئی ہیں۔ یہ تمہیں میری یاد دلاتی رہیں گی۔‘‘
یہ کہتے ہوئے وہ بے تحاشہ روئی تھی اور شیریں بھی ڈھاریں مار کر رونے لگی تھی۔ تب اُسے پہلی بار یہ احساس ہوگیا تھا کہ اُسکی شادی ہوگئی تھی اور یہ کہ وہ سب قرابت داروں سے جُدا ہوکر جارہی تھی۔
شیریں نے ریشما کی کنکریاں خوب سنبھال کر رکھیں۔ گھر کے کام کاج سے فارغ ہوکر وہ اکثر اوقات ان کنکریوں کو لیکر کھیلتی رہتی اور ایک خاص طرح کی مسرت حاصل کیا کرتی۔ 
ایک دن انکے گھر پیر صاحب آگئے اور یہ کنکریاں دیکھ کر بول پڑے ’’بیٹی! تو نے یہ کنکریاں کس لئے سنبھال کے رکھی ہوئی ہیں۔۔۔ ہا۔۔ ہا۔۔۔ہا۔ افسوس اگر یہ یا ایسی ہی گول گول کنکریاں حج کے دوران مجھے منیٰ کے میدان میں مل گئی ہوتیں تو شیطان پر کس کس کے مارنے کا مزا آجاتا‘‘۔
’’پیر صاحب! کیا حج کے دوران شیطان پر کنکریاں چلائی جاتی ہیں؟‘‘
’’ہاں بیٹی ہاں! سات کنکریاں ماری جاتی ہیں، نہیں تو حج کا فریضہ پورا نہیںہوجاتا ہے‘‘۔
اب اس کے دل میں ان کنکریوں کی عزت اور بھی بڑھ گئی۔ اُسی روز وہ حسب معمول گھر کا کام کاج کرنے کے بعد اپنے کمرے میں ان کنکریوں کے ساتھ کھیل رہی تھی کہ اچانک اُسکی ساس کمرے میں آ داخل ہوگئی۔ اُس نے آتے ہی آسمان سر پر اُٹھالیا اور آگ برسانے لگی۔
’’توبہ ! توبہ!۔۔۔ ایسی کوتوت والی لڑکی تو کبھی دیکھی ہی نہیں تھی۔ جبھی تو میں سوچتی رہتی تھی کہ یہ شہزادی اندر سے دروازہ بند کرکے کیا کرتی رہتی ہے۔۔۔ بول! کدھر گیا وہ جس کے ساتھ تو کھیلتی تھی؟‘‘
’’ماسی! ماں! یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں! کون؟۔۔۔‘‘
’’اچھا تو اب زبان بھی لڑا رہی ہے۔۔۔ میں کئی دنوں سے تاڑ رہی تھی کہ ۔۔۔ مگر قصور بھی کس کا ہے؟ یہ سب تو میرا اپنا کیا کرایا ہی ہے۔ نجانے میرے بیٹے میں قسمت کی کیاخرابی تھی جو اُس کے پلّو میں یہ مصیبت بندھ گئی۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ مٹی کا ڈھیلا بھی اُٹھائو تو بڑے والے ڈھیر سے ہی اُٹھائو۔۔۔ خیر! آج تیرا شوہر آجائے تو میں تیرا فیصلہ کروا کر ہی رہوں گی۔‘‘
وہ بہت روئی مگر اُس کی کسی نے نہ سُنی۔ سب دوسری طرف ہوگئے۔ شام گئے جب اُس کا شوہر گھر آگیا تو ماں نے مرچی مصالحہ لگا کر قصّہ سُنالیا۔ وہ آپے سے باہر ہوکر شیرین کے کمرے کی طرف دوڑ پڑا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی ’’طلاق‘‘ بولدیا اور شیرین پر ایک کنکری ماردی۔۔۔ پھر دوسری کنکری مارتے ہوئے بھی ’’طلاق‘‘ کہہ دیا اور اُس کے بعد تیسری کنکری بھی ماردی اور ’’طلاق‘‘ بول دیا۔
’’میں کوئی شیطان تھوڑی ہوں جو میرے اوپر کنکریاں مارتے ہو؟‘‘۔ پھر اُسی اثناء میں پیچھے سے اُسکی ساس بھی آگئی اور کہنے لگی۔۔۔
ابھی تو صرف زبان چلاتی ہے۔ آگے نجانے کیا کیا اور گُل کھلائے گی! اس کلموہی کو اب اس گھر میں پل بھر رہنے کا بھی شرعی حق نہیں ہے۔۔۔ نِکل جائو یہاں سے۔۔۔‘‘
بس پھر کیا تھا۔ سب لوگوں نے مل کر اُسے گھر سے باہر نکال ہی دیا۔
۔۔۔ ہائے ان کنکریوں کی قسمت تو دیکھو!۔ کبھی جہیز اور تحفے کی صورت میں مل گئیں۔ کبھی کہیںپر اِن ہی کو شیطان کے مارنے کے لئے چلایا جاتا ہے۔۔۔ اور کبھی ’’طلاق‘‘۔۔۔ ’’طلاق‘‘۔۔۔ ’’طلاق‘‘ بولتے ہوئے کسی بے زبان پر مادری جاتی ہیں۔ بیچاری کنکریاں!!!
’’دیدی!۔۔۔ نیند تو نہیں آئی؟۔۔۔ میں سب بھیڑ بکریوں کو سمیٹ کر لے بھی آگئی اور تو نے بازی شروع تک نہیں کی۔۔۔‘‘
وہ اُس کو کیسے بتاپاتی کہ اُس نے تو اصل بازی پہلے ہی ہار رکھی ہے۔
���
پہاڑی     سے ترجمہ
حسن انظرؔ
بمنہ سرینگر،کشمیر