عقل بہترین رفیق کار

نقل پستی ورُسوائی ہے

تاریخ    19 جون 2021 (00 : 01 AM)   


اے مجید وانی
انسان کا اپنی خصوصیات سے نکلنا اور ایسے ذہنی و نفسیاتی مزاج سے علاحیدہ ہونا جس میں کوئی کجی نہ ہو ،انسان کی زندگی خراب کردیتا ہے اور اس کے طرز عمل میں انتشار پیدا کردیتا ہے۔کوّاجب ہنس کی چال چلنے لگتا ہے تو وہ نہ تو زمین پر ہی چل پاتا ہے اور نہ ہی آسمان میں اُڑپاتا ہے۔انسان کچھ اور بن جائے یہ تو بہت دشوار چیز ہے خواہ وہ کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرلے۔ماہرین نفسیات کے حساب سے جو کچھ ہمیں ہونا چاہئے تھا اگر ہم اپنے آپ کو اس معیار پر جانچیں تو صاف نظر آئے گا کہ ہم نصف زندہ ہیں کیونکہ ہم اپنے جسمانی و ذہنی وسایل کا بہت کم حصہ استعمال کرتے ہیں یعنی ہم میں سے ہر شخص اُن تنگ حدوں میں زندگی گذارتا ہے جو اُس نے اپنی حقیقی حدوں کے اندر بنا رکھی ہیں۔وہ مختلف طرح کی بہت سی صلاحیتیں رکھتا ہے لیکن عام طور پر اُن کا احساس نہیں کرتا یا اُن کا بھرپور استعمال نہیں کرتا ۔ہماری تخلیق اتنی باریکی سے کی گئی ہے کہ ہم دہشت زدہ اور ششدرہ جائیں،اپنے اجسام اور طبعی خصوصیات کی لحاظ سے تمام انسان ایک جیسے نہیں ہوتے،چھوٹے بڑے قد،موٹا اور دُبلا پَن ،طاقتور و کمزور اور صحت و مرض کے لحاظ سے ،آنکھ ،کان ،ناک ،پیشانی اور چہرے کے لحاظ سے سب ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ۔ایک ہی سانچے میں ڈھالے ہوئے نہیں لگتے ،چھوٹی چھوٹی چیزیں تک مختلف ہوتی ہیں جیسے کروڑوں انسانوں کے انگوٹھوں کے نشانات تک الگ الگ ہوتے ہیں ،جن کی بِنا ء پر مجرموں کی پہچان کرنے میں قانون کے رکھوالوں کو مدد ملتی ہے۔اسی طرح مزاجی کیفیات ،جذبات و افکار اور اعلیٰ نفسیاتی حالات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور یہ سب عجیب و غریب اور حیرت انگیز خالق کی قدرت ِ بے پایاں پر دلالت کرتا ہے۔
جس طرح جہالت اور ھسد کی آگ میں جل کر انسان اپنا وجود ہی مِٹا دیتا ہے اُسی طرح نقل اور کسی کی مشابہت اختیار کرنا خود کشی کے مترادف ہے۔انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی خامیوں کو تسلیم کرے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اُس کے لئے مقرر کردیا ہے اُس پر خوش رہے۔بے کار نقل کی فضا میں ہماری غلاموں کی اس بستی کا صدق و اخلاص ،پیداواری صلاحیت ،خیر خواہی اور حقیقت سب کچھ برباد ہوچکے ہیں ۔نقل کی بیماری نے وبائی صورت اختیار کرکے زندگی کے ہر شعبے کو اپنے شکنجے میں کچھ اس طرح کَس لیا ہے کہ اس سے آزادی اب محال لگتی ہے۔بے جا نقل کی اس وباء کے کارن ہی اس بستی کی دنیا بھر میں مشہور کتنی صنعتیں اور دستکاریاں دَم توڑ چکی ہیں ۔حد تو یہ ہے کہ نقل اور ایک دوسرے کا پیچھا کرتے ہوئے اب یہاں نیک کام بھی حقیر دنیاوی مقاصد کے لئے کئے جاتے ہیں ،یہی یہاں کے اکثر لوگوں کا مزاج ہے اور پھر جب حقیر مقاصد کارفرمان نہیں ہوتے تو ایسے لوگ کوئی نیک کام نہیں کرسکتے بلکہ بڑے بڑے جرائم کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔فیشن کے پس ِ پردہ اور مغرب کی اندھی تقلید میں یہاں کے آدم و حوا نے جیسے کسی بند کمرے میں ایک دوسرے کی مشابہت اختیار کرنے کا کوئی خفیہ معاہدہ کررکھا ہے ۔آج کے نوجوان پر ایک بھرپور نگاہ ڈالتے ہیں تو وہ مرد کم اور ہیچڑہ زیادہ لگتا ہے۔بالوں کا عجیب و غریب انداز ،گلے میں سونے کی زنجیر ،ہاتھ میں کنگن ،انگلیوں میں رنگدار انگوٹھیاں ،اُس کے یہ رنگ ڈھنگ دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ناک چھید کر اور اس میں نَتھ چڑھاکر وہ ایک مکمل عورت کا روپ اختیار کرے گا ۔نقل کی اس بیماری میں مبتلا ہمیں یہاں کے باغوں اور پارکوں میں بے سُدھ پڑے ایسے نوجوان بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو مغرب کے مفلوک الحال نوجوانوں کی تقلید کرتے ہوئے بالآخر اپنے آپ کو فنا کے گھاٹ اتارتے ہیں کہ اُن کے سامنے کوئی نصب العین اور کوئی مقصدِ حیات ہی نہیں ہوتا ہے۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ چاول پیدا کرنے والی زمین اگرچہ بھلائیوں سے بھری پڑی ہے ،بغیر محنت انہیں چاول کا ایک دانہ بھی نہیں دے گی ،وہ محنر و مشقت سے جی چرا کر نشیلی اور زہریلی دوائوں کا استعمال کرکے نہ صرف اپنے عزیز و اقارب بلکہ پورے معاشرے کے لئے وبال ِ جان بن جاتے ہیں۔نقالی کے فن اور مشابہت اختیار کرنے کے اس طرز عمل میں اس بستی کی عورت ذات یہاں کے مردوں سے کوسوں آگے نکل چکی ہے ۔پردہ کرنا تو خیر دور کی بات ہے اُس کا لباس اب اتنا باریک ،چُست اور مختصر ہوکے رہ گیا ہے کہ دیکھ کر شیطان بھی مارے شرم کے پانی پانی ہوجائے اور آج اس مختصر سے لباس سے بھی وہ باہر آنا چاہتی ہے۔مسرت و شادمانی کی محفل ہو یا کوئی تعزیتی مجلس ،اس بستی کی عورت ذات نقل کرنے اور ایک دوسرے پر سبقت لینے میں ایک ایسا رُخ اختیار کرچکی ہے جس کی بدولت لاتعداد بُرائیوں نے جنم لے کر معاشرے کی پوری عمارت کو ہِلاکے رکھ دیا ہے۔
معیشت کے میدان میں پلٹ کر دیکھتے ہیں تو وہ پہلے ہی یہاں کے غیر یقینی سیاسی حالات کا شکار ہوچکی تھی اور اُسے زمین برد کرنے کی باقی رہی سہی کسر یہاں کے مال و زَر کے بھوکے پیاسے نقالوں نے پوری کردی۔کتنی ہی صنعتیں اور دستکاریاں جن کی باعث دنیا بھر میں ہمارا ایک خاص مقام تھا آج اس بستی سے ناپید ہوچکی ہیں کہ ہم نے اصل کی بجائے اُن کی نقل بناکر خود اپنی روزی روٹی پر لات ماردی۔کسی صنعت کو جب دیکھا کہ اُسے دوام ملنے لگا ہے اور کسی دستکاری کی جب مانگ بڑھنے لگی تو بغیر کوئی مہارت رکھے اور اس میں بے جا مداخلت کرکے جب تک نہ ہم نے اُسے دفن کردیا ،ہم چین سے نہ بیٹھیاور نتیجتاً بے کاری جیسی اذیت ناک آفت اس بستی میں آج پوری طرح لنگر انداز ہوچکی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ انسان اپنے دکھوں سے اتنا پریشان نہیں ہوتا ہے جتنا دوسروں کو سُکھی دیکھ کر اپنے دِل میں تکلیف محسوس کرتا ہے ،یہ انسانی فطرت ہے جو ہمیشہ یوں ہی رہے گی اور شائد کبھی نہ بدلے گی ۔
نقل کرنا اور شخصیت کو مِٹادینے کی بیماریاں جتنی قابل مذمتِ دین کے میدان میں ہیں کسی اور میدان میں نہیں کیونکہ کوئی شخص تقویٰ کے مرتبہ تک پہنچ ہی نہیں سکتا ،جب تک اس کا کردار اور عادتیں دُرست نہ ہوں۔اس بنیاد سے محرومی کے بعد ہر ظاہر داری انسان کو صرف مسخ ہی کرسکتی ہے۔کاش! ہمارے سربراہاں اور لیڈران اس حقیقت کو جانتے اور مانتے کہ پاکیزہ خصلتوں اور خود دارانہ اور صاف ستھری عادتوں کے ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس لوگ جمع ہوتے تھے اور خدا کے رسول ؐ اپنے ساتھیوں سے مشورہ فرماتے تھے اور اُسے مان بھی لیتے تھے،مگرہمارے راہنما اور لیڈر صاحبان ایسے لوگوں کو ترجیح دیتے ہیں جو نااہلہ کے باوجود اپنے آپ کو اُن کے سامنے مِٹادیں اور آزادانہ ضمیر رکھنے والوں کو پیچھے دھکیل دیتے ہیں چاہے اُن میں کام کو آگے بڑھانے کی کتنی ہی صلاحیت ہو اور یہی اس بستی میں بسنے والی قوم کی بدنصیبی اور سب سے بڑی مصیبت ہے۔
رابطہ۔احمد نگر،سرینگر کشمیر
فون نمبر۔9696334305
 

تازہ ترین