صفحۂ کاغذ پر جب موتی لٹا تا ہے قلم

تاریخ    19 جون 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر فلک فیرو ز
کانپتے ہیں اس کی ہیبت سے سلاطین زمین 
دبدبہ فرمان رواؤں پر بٹھاتا ہے قلم
جب قلم فیصلہ صادر کرنے والے لوگوں کے ہاتھ میں آتا ہے توموت اور زندگی کا تعین کرتاہے ۔یہی قلم جب حساب لکھنے والے فرشتوں کے ہاتھ آتا ہے تو آدمی گناہ اور ثواب کے ترازو میں لٹک جاتا ہے اور آخرت کے لئے قلمبند ہو جاتا ہے ۔ ایک طالب علم دنیا کے تمام علوم کو جب حاصل کر لیتا ہے ،پڑھ لیتا ہے ، جان لیتا ہے اور دماغ میں ان علوم کے حاصل شدہ مقاصد کو محفوظ رکھتا ہے تو اس کاابتدائی سفر قلم کی سیاہی سے ہی شروع ہو جاتا ہے ۔اس طرح طالب علم اور قلم کے درمیان گہرا رشتہ پیدا ہو جاتا ہے ۔یہ وہ رشتہ ہوتا ہے جس کا خون سے بھی عزیز تر ہونا لازم ہے کیونکہ اسی سے علوم کودوام حاصل ہے کہ وہ رقم ہو رہا ہے ۔ 
شاعر اور ادیب تب نام حاصل کرتے ہیں جب ان کا کلام ،کام تحریری صورت میں عوام یا قاری تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ رشتہ شاعر اور قاری کے درمیان قائم کرنے کا سہرا صرف قلم کو ہی جاتا ہے ۔ عام یا خاص لفظوں میں علم ِ فلسفہ، علم ریاضی ، علم شعریات کو بہترین اداکاری سے رَشحات کرنے کا ہنر صرف قلم کو ہی ہے ۔ انسان کو ذلت، پستی، بربادی سے کامیابی اور روشنی کی طرف لے جانے کا کام بھی قلم حاصل ہے ۔
بے نام موت کی تحقیق او رتفتیش شروع ہو جاتی ہے تو سارا کام قلم سے کیا جاتا ہے جس کی تحقیقی لہریں اپنے اندر لاکھ اشکالات رکھتی ہیں جس کی بنیاد پر موٹی فائلیں وجود میں آتی ہیں اور اس سے کام آگے بڑتا ہے جس میں قلم کی سیاہی نہایت اہم رول نبھاتی ہے ۔ قلم کو شرف حاصل ہے کہ یہ اعلیٰ شئے گردانی جاتی ہے جو ہزار طرح کے روپ اختیار کرتا ہے۔ جس سے چاہئے عزت عطا کرتا ہے اور جس سے چاہئے بربادی کی طرف لے جاتا ہے اور جس ہاتھ سے قلم چھوٹ جاتا ہے وہ ہمیشہ کے لئے خالی رہتا ہے۔ قلم کے اہدف کسی بھی صورت میں مقرر نہیں ہیں بلکہ اس کے اہداف لامحدود ہیں ۔قلم کسی کے سر کو قلم کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے اور کسی کے خطاؤں کو سر قلم کرنے کا وصف بھی رکھتا ہے ۔
کلام الٰہی کو بندوں تک تحریری صورت میںپہنچانے کاکام بھی اسی مقدس قلم کو سونپا گیا ۔ دنیا میں جب قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا جاتا ہے اور لاکھوں لوگوں کے سر سرعام قلم کیے جاتے ہیں ،کچھ لوگوں کو پھانسی دی جاتی ہے ،بچوں کو بے رحمی سے قتل کیا جاتا ہے تو اس کا حکمنامہ بھی قلم سے ہی قلمبند کیا جاتا ہے۔ گویا اس سے شرف دونوں طرح کے حاصل ہیں ۔ اس بات کا وعدہ ازل سے مقرر ہے کہ قلم کی طاقت کو کسی بھی صورت میں کم ہونے نہیں دیا جائے گا کیونکہ یہ ایک ایسی قیمت بے بہا ہے جس کا نعم البدل ممکن نہیں۔ اللہ پاک قلم کی قسم لیکر خود اس کی اہمیت واضح کرتے ہیں ’’قسم ہے قلم کی‘‘ /’’جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا‘‘ ۔
مطلب صاف ہے کہ قلم علم سکھانے کا مالک ہے جس نے علم و عقل کی فراوانی سے لوگوں کو منور کیا، جس نے عالم تحلیل سے خیالات کو پکڑ کر انہیں صفحہ قرطاس پر رقم کیا اور تلاش و جستجو کی نئی راہیں مسخر کیں، جہاں نئے علوم کو حاصل کرنے کاطریقہ تحقیق دانوں نے قائم کیا۔ تاریخی اوراق گواہ ہے کہ بنی آدم نے پہلے پہل لکھنے کا فن جب سیکھ لیا تو پتھروں پر چھوٹے اوزاروں سے تحریریں کنند کیں اور بعضے ریت پر اپنی انگلیوں سے کام کی باتیں رقم کیں ۔نیز درختوں کے پتوں پر بھی تحریریں درج کی گئیں۔یہ ترقی کا عمل آگے بڑھتا گیا اور آدمی نے چاند پر اپنی کمندیں ڈال دیں ۔ یہ سفر یا اس سے متعلق سب علم قلم کی سیاہی سے ہی سب محفوظ ہوچکا ہے۔ تاریخی واقعات گویاہیں جہاں جنگ و جدل سے راستے نہیں نکلے ،وہاں وہاں قلم سے کام لیا گیا اور دشمنوں کے دل پگل گئے ،دوستی کی فضائیں قائم ہوئیں بقول شاعر  ؎
صفحۂ کاغذ پر جب موتی لٹاتا ہے قلم
ندرت افکار کے جوہر دکھاتا ہے قلم 
( شورش کاشمیری) 
مختلف سطحوں پر قلم کیمرے کا کام کرتا ہے اور قلم کار کی تخلیقی کاوشوں سے کھینچی گئی قلمی تصویر دفعتاً کیمرے سے لی گئی تصویر سے عمدہ اور بہترین ہوتی ہے جس میں فرد کا حلیہ الفاظ کی بہترین ترتیب میں تشکیل دیا جاتا ہے اور سچی تصویر سے بھی زیادہ اچھی لفظی تصویر بن جاتی ہے ۔ پڑھنے والے کے سامنے شخص کا حلیہ حسین پیرایوں میں کھل کر رکھ دیتی ہے اور شخص کی رگ رگ سے قاری نہ صرف واقف ہوجاتا ہے بلکہ تمام تر سوانحی کوائف سے بھی آشنا ہوجاتا ہے ۔اکثر علمی ،ادبی اور سماجی حلقوں میں یہ بحثیں عام رہتی ہیں کہ قلم کی طاقت تلوار سے زیادہ ہے یا تلوار قلم سے زیادہ طاقت ور ہے ۔یوں تو بحث اپنی جگہ مقرر بھی ہے اور مقدم بھی لیکن انسانی تہذیب ان ہزار واقعات سے بھی ناواقف نہیں ہے جن واقعات میں تلوار ہار گئی اور قلم نے اپنی جیت قائم کی ۔ہاںفرق ضرور واضح ہے کہ تلوار نے کروڑوں نہتوں کو بے گناہی کی پاداش میں موت کی آغوش میں سلا دیا لیکن سچ یہ بھی ہے کہ قلم کی تحریر نے نسلوں کی نسلوں کو تلوار کے ایک وار کے مقابلے میں کمزور ثابت کیا اور قلم سے کام لینے والے حضرات کو محفوظ کیا ۔سقراط نے سچائی کی خاطر زہر پی لیا اور اس سچائی کو قلمبند کر کے قلم نے تاریخ رقم کی ، جن ممبرا ن نے فیصلہ سنایا وہ تلوار کا وار تھا لیکن اس تلوار کے وار میں کون شامل تھے، کسی نے یاد نہیں رکھا مگر قلم کی سیاہی نے سقراط کو حیات بخشی   ؎
قلم کو اس لیے تلوار کرنا 
کہ بڑ ھ کے ظلم پر ہے وار کرنا
(صبیح صباؔ)
قلم اور اس کی صحت کے متعلق بہت سارے محاورے ضرب الامثال موجود ہیں جن کا آئے روز عام گفتگو میں استعمال کیا جاتا ہے جن سے کام بھی نکل جاتا ہے اور صحت زبان پر عبور حاصل ہو جاتا ہے ۔ مثلاً قلم چلانا، قلم توڑنا، قلم زنی کرنا، قلم بند کرنا، قلم کی سیاہی، قلم کا سپاہی، قلم کا مزدور، قلم کارہونا، قلم چھوڑ جانا، سر قلم کرنا، بیک جنبش قلم، جلی قلم سے لکھنا، دو قلم کرنا، زبان قلم ہونا ۔قلم نے ایک جہان سے لڑائی باندھ رکھی ہے ۔ جس کا قلم چلتا ہے وہ چمکتا ہے، دنیا اس کی داد دیتی ہے اور اس کی تقدیر کا قلم بھی صاف صاف لکھتا ہے جس سے شاعر نے یوں قلمبند کیاہے   ؎
میرے قلم پر ہوئی جس گھڑی نظر تیری 
میرے سخن کو ، مجھے، ذی وقار تو نے کیا
قلم زنی کرنے کا فن چالاک لوگوں کو آتا ہے ۔خاص طور سے ان افراد کو جو سرکاری نوکری کے تئیں پانچوں انگلیاں گھی میں رکھنا چاہتے ہیں اور سبکدوش ہونا ہی نہیں چاہتے ہیں ۔خود کی تاریخ پیدائش کو سرکاری ریکارڈ میں کم دکھانے کے لیے بہت سارے سرکاری آفیسر سروس ریکارڈ میں قلم زنی کرتے ہیں تاکہ اپنی عمر سے زائد سرکاری خزانے کو لوٹا جاسکے ۔ویسے بھی قلم زنی ہر شعبے میں کی جاتی ہے ۔ڈاکٹر صاحبان مریض کی موت کی سند میں بھی اصلی حقائق کو چھپا کر قلم زنی سے کام لیتے ہیں ۔ممتحن صاحبان ناکام ہوئے طلاب کو کامیاب کرنے کے معاملے میں بھی قلم زنی کے شوق کو عملا کر اپنی جیبیں گرم کرنے کا ہنر جانتے ہیں لیکن تمام حضرات اس خبر سے بے خبر ہیں کہ اگر کبھی اللہ نے ان کی عمروں اور کامیابیوں کو لے کر کے قلم زنی شروع کر لی تو کیا ہو گا ؟ ۔
اکثر و بیشتر دوستوں کو قلم تحفے میں دئے جاتے ہیں ۔ان تحائف کی نوعیت تحائف دینے والے اور لینے والے اشخاص کی محبت، دوستانہ تعلقات ، علمی یا ادبی قد سے متعلق ضرور ہوتی ہے۔ اب اگر عاشق معشوق بھی علمی ذوق سے بھرے ہوئے ہوں تو ان کے درمیان بھی محبت کی نشانی کے طور پر قلم ہی کام آتا ہے جو محبت میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ لکھاوٹ میں بھی دلچسپی پیدا کرتا ہے ۔کچھ عاشق حضرات قلم کے اندرونی خول حصے میں اپنے اور محبوب کے نام کی پرچی پلس نشان کے ساتھ رکھ لیتے تاکہ چوری ہونے کی صورت میں آسانی سے پہچانا جا سکے ۔ قلم کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں دوست اور دشمن کی کوئی تمیز نہیں بلکہ یہ ہمیشہ غیر جانب دارانہ انداز تحریر روا رکھتا ہے ۔ دوست کو پیار بھرا پیغام لکھنا ہو تو قلم مرکزی کردار کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔ دشمن کو پروانہ روانہ کرنا ہو تو پروانہ کو زبان قلم دیتا ہے ۔اس طرح سے قلم اس تمیز سے بالکل پاک ہے ۔ قلم کا اعجاز یہ بھی ہے   ؎
تیرے کہے ہوئے لفظوں کی راکھ کیا چھڑیں 
ہمارے اپنے قلم کی صداقتیں بھی گئیں
مجھ سے کیا بات لکھانی ہے کہ اب میرے لیے 
کبھی سونے کبھی چاندی کے قلم آتے ہیں
قلم چلاتے چلاتے لکھے جانے والے الفاط انسان کے تخیل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجاتے ہیں ۔اس طرح سے انسانی ذہن کی ڈکشنری میں لفظوں کا ایک انبار جمع ہوجاتا ہے جن سے ضرورت کے مطابق تقریری یا تحریری صورت میں کام لیا جاتا ہے ۔اس سے انسان کے لیے ترسیل اور مفاہیم کی راہیں نہایت آسان ہوجاتی ہیں ۔ نیز خیالات واضح لیکن عہد جدید یا الٹرا ٹکنالوجی دور جس میں قلم کا استعمال مفقود ہے جہاں سب کام ای ٹکنالوجی کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ نہ صرف قلم کا استعمال کم ہوگیا ہے بلکہ کاغذ پر لکھائی کا کلچر بھی اب ختم ہوگیا ،یوں کہیں کہ اب انسان کا رشتہ کتاب ، قلم اور کاغذ سے مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔ اب ان کی جگہ سمارٹ فون ، کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کے کی بورڈ نے لے رکھی ہے ۔ ـاس تناظر میں ادیب کا وہ اسلوب خاص خلط ملط ہو کر رہ گیا ہے جس کے تناظر میں شاعر نے کہا تھا ۔
خط ان کا بہت خوب عبارت بہت اچھی 
اللہ کرے زورقلم اور زیادہ 
(مضمون نگار ڈگری کالج حاجن کے شعبہ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)
 

تازہ ترین