محکمہ جل شکی اقبالِ جرم کرے

جل جیون مشن کامیاب کیوں نہیں ہوا؟

تاریخ    19 جون 2021 (00 : 01 AM)   


عبدالقیوم شاہ
پینے کے پانی کی قلّت سے متعلق سالہاسال سے خبریں اور مضامین شایع ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں شایع شدہ مضامین اور خبروں کی چند جھلکیاں: 
* مضمون : ضلع پونچھ کے سیڑھی چوہانہ علاقے میں 35 سالہ خاتون سلمیٰ بانو کی کہانی کشمیر عظمیٰ میں ہی چھپی تھی۔ سلمیٰ نے پینے کے پانی کی قلّت کے باعث تعلیم کو ترک کردیا ہے کیونکہ پینے کا پانی لانے کے لئے اْسے روزانہ تین کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے اور اس مہم میں تین گھنٹے صرف ہوتے ہیں۔ اْن کا کہنا تھا: ’’میں بچپن سے ہی کھانے پینے اور نہانے دھونے کے لئے پانی سر پر اْٹھا رہی ہوں۔ گھر میں مہمان ہوں تو اْنہیں تین گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے، دریا سے پانی لاتی ہوں پھر جاکے اْن کی تواضع کرتی ہوں۔ سیڑھی چوہانہ کی کئی بستیوں کا یہی حال ہے۔
* خبر:  پٹن کے گھاٹ علاقے میں سرپنچ کے گھر سے لاکھوں روپے مالیت کی پانی کی سپلائی پائپیں ضبط کی گئیں اور محکمہ جل شکتی کے افسران کو سب ڈویژنل مجسٹریٹ نے طلب کیا۔ پینے کے پانی کی شدید ترین قلّت کے بعد عوام کی شکایت پرہی یہ کاروائی کی گئی تھی۔
ٔ* انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر میں گزشتہ ماہ کشتواڑ سے کولگام اور اننت ناگ سے باندی پورہ کے آرگام تک کے علاقوں کی روداد سامنے آئی جس میں لوگوں نے پینے کے پانی کی سخت قلّت کا رونا رویا تھا۔ 
* آل انڈیا ریڈیو کے سرینگر سٹیشن سے نشر ہونے والے مقبول پروگرام ’’شہربین‘‘ میں جب براڈکاسٹر نے جل شکتی محکمہ کے چیف انجینئر سے جگہ جگہ پینے کے پانی کی قلّت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے گول مول جواب دیتے ہوئے بتایا:I will look into itیعنی’’اگر ایسا ہے تو میں دیکھ لوں گا‘‘۔ 
محکمہ جل شکتی کے یہ اعلانات ریکارڈ پر ہیں کہ گزشتہ مالی سال کے دوران مرکزی حکومت کی ’’جل جیون مِشن‘‘ سکیم کے تحت ابتدائی طور پر سرینگر، گاندربل اور رِیاسی کے اضلاع میں گھر گھر پینے کے پانی کی سو فی صد سہولت کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیراعظم نریندر مودی کی اس اہم سکیم کے تحت جموں کشمیر کے تقریباً اْنیس لاکھ گھرانوں میں سے پانچ ہزار گھرانوں کو یہ فائدہ پہنچانا مطلوب تھا، لیکن 680 کروڑ روپے فنڈ کی دستیابی کے باوجود یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ 
پورے ملک کی آبادی کو نل کے ذریعہ پینے کا صاف پانی مہیا کرنے کی یہ مہم وزیراعظم نریندر مودی نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ شروع کی ہے۔ 
مجموعی طور پر اس ’جل جیون مِشن‘ کے لئے ایک لاکھ کروڑ روپے کا سرمایہ خرچ کیا جارہا ہے اور اسی سلسلے میں جموں کشمیر کے محکمہ جل شکتی کے لے تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے کی رقم منظور کی گئی۔ اس حوالے سے مرکزی حکومت کے افسران نے کئی مرتبہ کشمیر اور جموں کے افسران کا آن لائن احتساب بھی کرنا چاہا، لیکن کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر اور دیگر اضلاع کے ساتھ ساتھ جموں صوبے کے دْور دراز دیہات میں گزشتہ چند برسوں سے پینے کی پانی کی قلّت نے بحران کی صورت اختیار کرلی ہے۔ 
دیہات میں لوگ ویسے بھی پانی سمیت طرح طرح کی قلّتوں کا شکار ہیں، لیکن سرینگر شہر کو سمارٹ سِٹی کا درجہ دینے کے لئے جو زرِکثیر خرچ کیا جارہا ہے، کیا اْس میں پینے کے پانی کی کوئی اہمیت نہیں؟ سرینگر کے آلوچہ باغ منٹوسرکل کالونی، ڈاکٹرس لین اونتہ بھون صورہ، بٹہ مالو، نٹی پورہ، مہجور نگر، سونہ وار، قمرواری، مگر مل باغ وغیرہ میں کئی سال سے پینے کے پانی کی قلّت نے بحران کی صورت اختیار کرلی ہے۔ 
گزشتہ ہفتے سرینگر میونسپل کارپوریشن کے میئیر جْنید عظیم متو نے چیف انجینئر سمیت محکمہ جل شکتی کے کئی افسران کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں سرینگر میں پینے کے پانی کی بلاناغہ سپلائی کو یقینی بنانے کے لئے ایک علیحدہ ماسٹر پلان بنانے کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں پانی کی سپلائی کے بارے میں ماہانہ بلیٹن کی بات کی گئی جسکی نگرانی خود چیف انجینئر کو کرنا ہوگی۔ لیکن زمینی صورتحال جوں کی توں ہے۔ نہ پونچھ کے سیڑھی چوہانہ کی سلمیٰ بانو نے گھڑا توڑ کر کتابیں تھام لی ہیں، نہ گائوں والوں کے مسائل ہوئے ہیں اور ’’سمارٹ سٹی‘‘ کی بستیاں ابھی بھی محکمہ جل شکتی کے ٹینکرز کے انتظار میں ہیں۔
اہم سوالات
وزیراعظم نریندر مودی کا ’’جل جیون مشن‘‘ اگر ابھی تک اخباری سْرخیوں تک محدود ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر مل شاہی باغ سے نوشہر تک کی 120 سال پرانی بوسیدہ سپلائی لائن اب تک نہ بدلی گئی تو اس کا ذمہ دار کون؟ اگر سلمیٰ بانو جیسی سینکڑوں خواتین تعلیم ترک کرکے دریا سے پانی لاتی ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر اینٹ بھٹوں کے مالکان براہ راست سپلائی سکیموں پر موٹر فِٹ کرکے جل شکتی ملازمین کی مْٹھی گرم کرتے ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر پورے جنوب ایشیا میں سب سے زیادہ پانی کے ذخائر والے کشمیر میں بھی پینے کے لئے بوند تک نہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر وزیراعظم مودی کی اہم ترین عوام دوست سکیم پر جل شکتی کے 150 ماہر انجینئر اور سینکڑوں معاونین بھی پانی کی تقسیم کاری کا بوسیدہ نظام ٹھیک نہیں کر پاتے ہیں ذمہ دار کون ہے؟ اگر پچھلے 17 سال کے دوران 6000 کروڑ روپے سے زائد رقم مرکزی سرکار سے واگذار ہوئی اور تقسیم کاری کے نظام کو بہتر نہ کیا گیا تو ذمہ دار کون ہے؟ محکمہ جل شکتی کے افسران کس مْنہ سے پانی کا ٹیکس وصولنے کی اپیل کرتے ہیں؟ 
ای میل۔ abdulqayoomshah57@gmail.com
فون نمبرات۔ 9469679449، 7780882411
������

تازہ ترین