نکاح کی ضرورت و اہمیت

رشتہ ازدواج

تاریخ    18 جون 2021 (00 : 01 AM)   


پرے ممتاز
اﷲ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے سرفراز کیاہے۔ ان نعمتوں میں ایک خاص نعمت نکاح  ہے ۔ نکاح ایک ایسی دولت ہے جس کی خواہش بچپن سے ہی ایک انسان کے اندر جلوہ گر ہوتی ہے ۔ایک انسان بچپن سے ہی اس فکر میں مبتلا ہوتاہے کی مجھے اچھی گاڑی،اچھابنگلہ اور اچھی بیوی مل جائے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک انسان کے اندر فطری طور پر بیوی کی خواہش رکھی گئی ہے۔ اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے ایک جائز طریقہ بھی واضع کیا گیا ہے یعنی وہ نکاح ہے۔ نکاح کے بغیرانسان کی زندگی مکمل نہیں ہے۔یہ ایک قدرتی اور فطری عمل ہے کہ ایک عورت میں مرد کا سکون چھپا ہوا ہے۔ اس صورت میں ایک انسان اس سے قطعاََ انکار نہیں کر سکتا۔ حالانکہ نکاح کے بغیر بھی زندگی کی گاڑی چل سکتی ہے۔ لیکن ایک وقت ایسا آتا جب انسان کو اپنے ایک ساتھی کی ضروقت محسوس ہوتی ہے۔ اس وقت نکاح ہی ایک ایسا عمل ہے جس کا بدل دنیا میں کسی چیز سے ممکن نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان بغیر پانی اور ہوا کے زندہ نہیں رہ سکتا تو ٹھیک اسی طرح بغیر نکاح کے زنااور دوسری قسم کی مہلک برائیوں سے بچ نہیں سکتا۔
نکاح انسان کے دل و دماغ کو پُر سکون اور زندگی کو پاک دامن بنانے کے ساتھ ساتھ اُسکی آنکھوں کو بھی با حیا بنا دیتا ہے۔ نکاح کی نعمت انسان کو انسانیت پر قائم رکھنے میں ایک قلیدی رول ادا کرتا ہے۔ بے حیائی ،فحاشی،زناکاری،بدکاری وغیرہ سے اگر ایک انسان مکمل طورپر بچ رہا ہے تو اسمیں نکاح کا ایک اہم اور منفرد کردار ہے۔دنیا کا کوئی بھی مذہب نکاح کامنکرنہیں ہے ۔انہیںاس بات کا احساس ہے کہ اسی سے معاشرے میں بدکاری کا خاتمہ کیا جاسکتاہے ۔حدیث میں آیا ہے۔
’’حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا ’’اے نوجوانو !تم میں سے جو نکاح کی ذمہ داریوں کو اٹھا نے کی طاقت رکھتا ہے اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچا رکھتا ہے اور شرمگارہ کی حفاظت کرتا ہے (یعنی نظر کو بہکنے سے اور جذبات کو بے لگام ہونے سے بچاتا ہے) اور جو نکاح کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا ہے اسے چاہئے کہ شہوت کا زور توڑنے کے لیے وقتاً فوقتاً روزے رکھے ۔‘‘ (صحیح بخاری ،حدیث نمبر  5066)
انسان کے ساتھ بہت سارے رشتے جھڑے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اُن میںمیاں بیوی کا رشتہ اتنا قریب ہے کہ اس کی مثال اﷲ تعالیٰ نے لباس کے مانند قرار دیا ہے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کیلئے لباس کی طرح ہے جس طرح سے ایک لباس انسان کے جسم کو ڈھانکنے کے ساتھ ساتھ پردہ کرتا ہے ٹھیک اُسی طرح میاں بیوی کا رشتہ ایک دوسرے کے دکھ درد اور عیبوں ایک حسین سنگم ہوتا ہے ۔ نکاح میں تاخیر کرنا خود اپنے ہاتھوں برائیوں اور گندگیوں کو دعوت کے مترادف ہیں۔ اس کی تاخیر انسان کو اُن برائیوں اور بدکاریوں کے اور دھکیل دیتا ہے کہ جن سے پھر واپس نکالنادشوارامر بن جاتا ہے۔اسی کے ذریعے انسان کی روزی میں برکت آجاتی ہے ،دل کو سکون اور بدن کو راحت میسر ہوتی ہے ۔ 
نکاح سے انسانی نسل کو فروغ مل جاتا ہے اور اسی کی وجہ سے دُنیا میں بڑے بڑے سائنسداں ،اسکالر ،انجینئر وغیرہ جنم لیتے ہیں اگر ایسا فعل نہیں ہوتا تو انسانی نسل کا وجود ہی اس دُنیا سے مٹ گیا ہوتا۔ اس میں اﷲ تعالیٰ نے اتنے برکات رکھیں ہیں کہ اس کی برکت نسلوں تک قائم رہتی ہے ۔سب سے بڑی برکت یہ کہ دو اجنبی شخص جن کی نکاح سے پہلے کوئی جان پہچان نہیں ہوتی اور جونہی نکاح کا پیغام دیا جاتا ہے تو افراد تو کیا گھروں کے گھر ایک دوسرے سے ایسے مل جاتے ہیں کہ جس کی مثال ملنی محال ہے۔ رشتہ قائم ہوجاتا ہے، نزدیکیاں بڑجاتی ہیں اور ایک ایسا آپسی بھائی چارہ قائم ہوتا ہے کہ صدیاں گزر جاتی ہے لیکن اس پیار محبت میں کمی محسوس نہیں ہوتی ۔ اس سے پوری دُنیا کے اندر یہ پیغام چلا جاتا ہے کہ نکاح انسانیت کو گناہوں سے بچانے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ ایک دوسرے کو نزدیک لانے کا ایک بہت بڑا آلا ہے۔  
 آخر کار میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایک انسان کو نکاح میں پہل کرنی چاہئے کیونکہ اسکے بغیر زندگی کے سارے عیش و آرام اُدھورے اور بے سکون ہیں۔ آجکل کے والدین اپنے اولاد کو ڈاکٹر ،پروفیسر،انجنیئروغیرہ بنانے میں اتنے مگن اور مصروف ہوچکے ہیں کہ نکاح کی اہمیت ختم ہو چکی ہے۔حالانکہ اسلام ہمیں عصری تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکتا ہے اور نہ ہی علماء اس سے دور رہنے کی ترغیب دیتے ہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ ہمیںاپنے اولاد کو ڈاکٹر،پروفیسر،انجینیئر وغیرہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کا وقت پر نکاح کرنے کی فکر کرنی چاہئے۔نکاح کسی بھی کام میں ہمیں رکاوٹ پیدا نہیں کرتا بلکہ زندگی میں ہمارے شانہ بہ شانہ ایک اور ساتھی کھڑا ہوجاتا ہے۔ نکاح کو سستہ اور آسان بنائوجیسے کہ صحابہؓ کے زمانے میں نکاح آسان ہوا کرتا تھا لیکن آج بدقسمتی کی وجہ سے موجودہ معاشرے میں نکاح اتنا مہنگا اور مشکل کام بن چکا ہے کہ بڑے سے بڑا آدمی بھی اس کے نزدیک جانے سے گھبرا جاتا ہے ، ایک غریب اور پسماندہ افراد کی تو بات ہی نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات لڑکے اور لڑکیاں خودکشی اور زناکاری کا شکار ہوجاتے ہیں ۔نکاح کی مہنگائی انسان کا دُنیا ہی نہیں بلکہ اُس کے آخرت کو بھی خراب کر کے رکھ دیتا ہے ۔ اسے دُنیا میں رسوائی اور آخرت میں جہنم میں لے جانے کا سبب بن جاتا ہے ۔ اپنی شادیوں کو  نبی ﷺ کی سنت طریقے پر لائیے اوراپنے آپ پر رحم کھا کر خودکو اور دوسروں کو بھی نکاح میں ہونے والے ر سم و رواج سے بچنے کی ترغیب دیجئے۔  الغرض نکاح ایک تحفہ ہے جسے انکار کرنا یا اس کے بدلے کوئی اور راستہ اختیار کرنا انسانیت کے خلاف ہے ۔ 
 

تازہ ترین