اللہ تعالیٰ کی رضاہی اصل کامیابی ہے

نوبہ نو

تاریخ    17 جون 2021 (00 : 01 AM)   


سفیہ یوسف
اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ایسی ہے جو تن تنہا اس دنیا کا خالق وحدہ لاشریک اور مالک ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی عظیم الشان ذات ہے جس کی نہ کوئی ابتداء ہے، نہ ہی کوئی انتہا ہے۔ وہ ایسی ذات اقدس ہے جو دایمی ہے۔ جیساکہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا  ہے’’ کہو کہ وہ (ذات پاک جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔معبود برحق جو بے نیاز ہے۔ نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا اور کوئی اس کا ہمسر نہیں‘‘۔
اللہ تعالیٰ ایسی ذات اقدس ہے جسکا کوئی کنارہ نہیں۔ اس کو نہ زمین کی ضرورت ہے اور نہ آسمانوں کی، نہ وہ انسانوں کا محتاج ہے، نہ ہی فرشتوں کا، نہ نبیوں کا، نہ رسولوں کا، نہ جنت کا اور نہ جہنم کا، نہ وہ کھانے کا محتاج ہے،نہ پینے کا، نہ اسکو تھکن ہوتی ہے، نہ اونگھ آتی ہے،نہ نیند آتی ہے۔ وہ ہر رشتے سے پاک ہے۔ یہ ساری ضروریات ایک انسان کی ہے۔ انسان ہر رشتے کا محتاج ہے۔ وہ تن تنہا اتنے بڑے نظام کا خالق ہے۔ وہ اس سب کا ذرہ برابر بھی غافل نہیں ۔وہ ایسی ذات اقدس ہے جو دلوں کے پوشیدہ راز تک جانتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس زمین کے اتنے بڑے گولے کو بنایا۔ بڑے بڑے پہاڑ بنائے، کیسے کیسے سرسبز درخت بنائے۔ ٹھنڈی اور گرم ہواؤں کا نظام چلایا۔ کالے، سفید اور سرخ بادلوں کو بنایا، بڑے بڑے دریا چلائے،سمندر بنائے، چشمے پیدا فرمائے۔ میٹھااور کڑوا دونوں طرح کا پانی بنایا۔ سورج اور چاند کو بنایا۔ انکے نظام کو چلایا۔ دن کو اجالا دیا، رات کو اندھیرا دیا اور چاند کو روشنی دی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا نظام تخلیق ہے۔ بغیر کسی چیز کے سب کچھ بنایا ،یہ نظام بھی بنایا اور پھر ہمیں بھی بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے سارے پر قابو رکھا لیکن انسان وہ واحد ذات ہے جسکو اللہ تعالیٰ نے تھوڑی سی آزادی دی ہے۔ 
اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزادی اسلئے دی تاکہ ہم دن رات اسکا شکر ادا کریں، اسکی مرضی کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ اسکی رضا ہر انسان کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ اسکی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے جو اس نے ہمارے لئے بنائی ہیں۔ اس دنیا کو آخر فنا ہونا ہیں۔یہاں کوئی بھی چیز باقی نہیں رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اسی لیے بنایا تاکہ وہ اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق گزارے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں فرمایا ہے’’ میں نے اسی لیے پیدا کیا ہے کہ صبح وشام میرے بن کے زندگی گزارو، میری اتباع میں زندگی گزارو‘‘۔
یہ دنیا آخر فنا ہونے والی ہے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا سوائے ایک اللہ تعالیٰ کی ذات کے اور ہم سب کو انکی صرف لوٹایا جائے گا ۔تو ہمیں چاہیے کہ مرنے سے پہلے اپنے دل میں اپنے ربّ کی محبت کو بسا لیں، اسکی عظمت اور کبریائی ،اس کی جبروت اور وحدانیت کو دل میں اتار لیں، صرف اس ایک اللہ تعالیٰ کو راضی کرلیں۔ اللہ تعالیٰ کی چاہت کو پورا کرنا اپنی زندگی کا مقصد بنالیں، اللہ تعالیٰ راضی ہوگئے تو سارے کام بن گئے۔ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو پالیا وہ دونوں جہانوں میں کامیاب ہوگیا۔
(مضمون نگار جامعتہ البنات سرینگرکی طالبہ ہیں)
ای میل۔ Sofisufaya1999@gmail.com
 
 

تازہ ترین