والدین کی عظمت کو سلام

ماں باپ کا دنیا میں کوئی نعم البدل نہیں

تاریخ    17 جون 2021 (00 : 01 AM)   


محمد صالح انصاری
اس دنیا میں بہت ساری شخصیتوں نے ولادت پائی جن میں سے بہت ساری شخصیتوں نے بنا کچھ کیے یوں ہی زندگی کے دن گزار دیے تو ان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ لیکن جن شخصیتوں نے اپنے زندگی کے ہر دن اور ہر لمحہ قدر کی اور اْسکا ٹھیک طریقے سے استعمال کیا اور اپنی زندگیوں کو سنوارا ،اْنہوںنے لوگوں کے سامنے ایک بہترین آئیڈیل پیش کیا۔ اس سفر میں سارا کا سارا کردار اْنکا ہی نہیں ہوتا ہے، اْسکا سب سے بڑا حصہ اْنکے اپنے گھر خاندان اور ماحول کا ہوتا ہے۔ 
جس ماں کی گود میں وہ ولادت پاتا ہے اگر وہ ماں نیک دیندار اور باعزت ہے تو بچے میں بھی وہ سارے اثرات وقت کے ساتھ نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ جس والد کے سر کی چھانو میں وہ بڑا ہوتا ہے اگر وہ والد ایماندار، انصاف پسند اور حق شناس ہے تو وہ سارے افعال اس بچے میں بھی آ جائیںگے جو اس والد میں ہیں۔
لیکن اگر پرورش کرنے والی ماں دیندار نہیں ہے اسکو اسلامی احکام کی سمجھ نہیں ہے کہ کیسے اسلامی طریقے پر بچے کو پرورش کرنی ہے، اگر صحیح معنوں میں اس بات کا صحیح علم نہیں ہے تو ایسا نہیں ہوگا کہ وہ بچہ بڑا نہیں ہوگا، وہ بول نہیں پائیگا، وہ کچھ سمجھ نہیں پائیگا۔ وہ بولیگا بھی، وہ سمجھے گا بھی اور وہ ہر چیز کا جائزہ بھی لیگا لیکن بچہ جیسے جیسے بڑا ہوتا جائیگا اْسکے اندر سے ماں کی محبت کم ہوتی جائیگی اْسکے اندر سے ماں سے حقیقی پیار کا جذبہ کہیں گم ہوتا جائیگا۔ کیونکہ اس کو اس وقت صرف ماں سے جذباتی محبت ہوگی نہ کہ حقیقی۔
یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کی جذباتی اور حقیقی محبت میں کیا فرق ہوتا ہے۔ جذباتی محبت ایسی محبت ہوتی ہے جو ایک بچے کو ماں کے ساتھ یا ہر کسی کے ساتھ ہوتی ہے۔ لیکن ماں کے ساتھ یہ راستہ کچھ زیادہ ہی مضبوط ہوتا ہے اور دوسروں کے ساتھ کمزور۔ جیسے اگر ماں کی طبیعت خراب ہو جائے یا ماں کو چوٹ لگ جائے تو بچہ بھی غمگین ہو جاتا ہے اور ماں سے ہمدردی دکھانے لگتا ہے اْسکی باتوں کو کچھ وقت کے لیے ماننے لگتا ہے اور دھیرے دھیرے یہ رستہ کمزور ہوتا جاتا ہے کیونکہ اس کو صرف اتنا ہی معلوم ہوتا ہے کی یہ میری ماں ہے جس نے ہم کو پیدا کیا جو اللہ کے حکم سے تھا۔ 
دوسری چیز ہوتی ہے حقیقی محبت یا جذباتی محبت جو کچھ عمر کے بعد بچے کے دل میں پیدا ہوتی جاتی ہے جیسے جیسے بچا بڑا ہوتا ہے تو ماں باپ اسکو رشتوں کی قدر کرنی سکھاتے ہیں، اسکو بھائی، بہن، چاچا، دادا اور دادی کے رشتے کا احساس دلاتے ہیں۔ یہی رشتوں کی پہچان اور اسکی سمجھ پیدا کرنا ہی حقیقی محبت کو بچے کے اندر پیدا کرتی ہے۔ جیسے جیسے بچہ بڑا ہوگا اْسکا دماغی توازن بڑھیگا سوچنے غور کرنے اور فکر کرنے کی صلاحیت بڑھتی جائیگی یہ حقیقی محبت کا جذبہ بڑھتا اور بڑھتا ہی جائیگا۔
سوال یہ ہے کی یہ حقیقی محبت پیدا کیسے ہوگی۔ کیا یہ خود بخود پیدا ہوگی یہ اس کو کسی طریقے سے بچے کے اندر سے ابھارا جاتا ہے۔جی! ہاں یہ حقیقی جذبہ عشق جو ایک بچے میں کسی رشتے کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اسکو ابھارنے کی ضرورت پڑتی ہے، اْسکا احساس دلانے کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ کام تب آسان ہوتا ہے جب ایک ماں تعلیم یافتہ اور باصلاحیت ہو۔ کیونکہ اگر ماں کو اپنے بچے کے اندر حقیقی عشق پیدا کرنے کا ہنر ہے تو اس بچے کو ایک عظیم اور عالیشان شخصیت بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ،دنیا کی کوئی طاقت اسکو اس کام سے نہیں روک سکتی۔
اگر دنیا میں علامہ اقبال، صلاح الدین ایوبی اور عمر فاروق اعظم جیسی عظیم شخصیت نے دنیا کو کچھ کر کے دکھایا ،کچھ نیا دیا تو اْن میں ایک بہت بڑا کردار انکے اپنے والدین کی پرورش تھی جس نے ان کے اندر رشتوں کی قدر اور انکے پہچان کرنے کی صلاحیت کو پیدا کیا۔
یہاں ہم والدین کے رشتوں کی اہمیت پر خاص توجہ دینگے اور اسی کو لیکر بات کرینگے۔ ہم یہ مان کر چل رہے ہیں کہ بچے میں رشتوں کی قدر کرنا ایک ماں سے اچھا کوئی اور نہی ابھار سکتا۔
ماں کو کیا کرنا چاہیے؟
 بچے کے اندر حقیقی عشق کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے ماں کو گھر باہر ہر رشتے کے اصلی حالت سے بچے کو واقف کرانا لازم ہے۔ اور وہ اس طریقے سے ہوگا کہ بچے کے کو بتایا جائے کہ "ماں صرف ماں نہیں ہوتی ، وہ آپکا پورا وجود ہوتی ہے۔ جب تم ماں کے پیٹ میں ہوتے ہو تو ماں کے قطرے قطرے خون سے تمہارا لوتھڑا بنتا ہے اور پھر دھیرے دھیرے ماں کے خون سے ہی تمہارا وجود بننا شروع ہوتا ہے۔ ماں کوئی کام اس وجہ سے نہیں کرتی تھی کہ کہیں بچے کو تکلیف نہ ہو۔ ماں کو کوئی ایسی چیز جو اسکو پسند تھی اور وہ کھانا چاہتی تھی لیکن بس اس وجہ سے نہیں کھائی کہ کہیں بچے کو نقصان نہ پہنچ جائے اور اسکی نش ونما میں کوئی بگاڑ نا پیدا ہو جائے۔جب تم پیٹ میں تھے تو آپکی ماں باہر کہیں اس لیے نہیں جاتی تھی کی کہیں اگر میں بیمار ہوئی تو میرا بچہ میرا جگر کا ٹکڑا بیمار پڑ جائیگا اسکو تکلیف ہوگی وہ پریشان ہو جائیگا۔ اور یہ کام کوئی ایک دن دو دِن یہ ایک مہینہ یہ دو مہینہ نہیں بلکہ پورے نو مہینے برداشت کیا۔ اس ماں نے آپکی وجہ سے اپنے بھوک کو برداشت کیا اپنے خوشیوں کا گلا گھونٹا، اپنی چاہت کو پیچھے کیا ۔صرف اور صرف اس وجہ سے کی میرے بچے کو کوئی تکلیف نا ہو۔اور ایسا بھی نہیں تھا کہ تمہارے پیدا ہوتے ہے یہ سارا کام ختم ہو گیا اور تم آزاد ہو گئے اور ماں آزاد ہو گئی۔ نہیں ایسا بالکل بھی نہیں تھا ۔ابھی اس ماں کو تمہیں دودھ پلانا تھا ،اس ماں کو تمہاری دیکھ بھال اور پرورش کرنی تھی، تم کو راتوں کو چار چار پانچ پانچ مرتبہ اٹھا کر پیشاب کرانا تھا، ذرا سوچو کیا وہ ماں سو پاتی ہوگی ،اگر وہ نہیں سو سکتی تھی تو کیوں؟ صرف آپکی وجہ سے۔ پھر دن بھر تم ماں کی گود میں بیٹھے رہتے تھے اور اس ماں کے علاوہ کسی کے گود میں جانا تمہیں پسند نہیں تھا۔ بس اتنا ہی نہیں تھا اور بھی سارے کام گھر کے کرنے ہوتے تھے وہ تم کو اپنی گود میں لیکر کیا کرتی تھی اور تمہارے ساتھ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی تمہارے لیے وہ ماں کبھی تھکن نہیں محسوس کرتی تھی ،اگر کبھی تم سو جایا کرتے تھے اور ماں جھولے میں ڈال کر کسی کام میں مشغول ہو جاتی تھی تو وہ پوری توجہ کے ساتھ کام اس وجہ سے نہیں کر سکتی تھی کی کہیں بچہ رونے تو نہیں لگا، کہیں وہ جاگ تو نہیں گیا کہیں اْسنے جھولے میں پیشاب تو نہیں کر دیا۔ان سب احساس اور جذبے کے ساتھ ایک ماں نے آپکو کو ایک دن، دو دن، چار دن نہیں بلکہ جب تک آپ بڑے نہیں ہو جاتے ،جب تک آپ خود سے کام کرنا نہیں سیکھ جاتے، جب تک آپ خود سے چلنا نہیں سیکھ جاتے، یہاں تک کہ ہر کام آپ خود سے نہیں کرنے لگتے ،چاہئے وہ چار سال کا وقفہ ہو یا دس سال اور بیس سال کا، ماں اس وقت تک آپکا ساتھ دیتی ہے۔ ہر قدم آپ پر اپنا جان قربان کرتی ہی اور ہر سانس آپکے ساتھ جیتی ہے ہر مشکل آپکے ساتھ بانٹتی ہے‘‘۔
ماں یہ ہو تی ہے ،ماں ایسی ہوتی ہے، ماں مکمل آپکی وجود ہوتی ہے ،اگر ماں ہے تو آپ ہیں ،اگر ماں نہیں ہے تو آپ نہیں ہیں، اگر ماں ناراض ہے تو آپ خوش کیسے ہیں، اگر ماں تکلیف میں ہے تو آپ آرام کیسے کر رہے ہیں۔اگر آپکی ماں اس طرح آپ سے محبت کرتی ہے آپ کے ہر درد کو اپنا بناتی ہے، آپکی ہر مصیبت کو اپنا سمجھتی ہے تو پھر آپ کیوں اس ماں سے آواز اونچی کرکے بات کرتے ہیں، آپ کیوں بات بات میں اسکو ٹوکتے ہیں ،آپ کیوں بات بات میں اسکو اذیت پہنچاتے ہیں۔ ابھی آپ بڑے بھی نہیں ہوئے کہ آپ اس ماں کو گالیاں تک دینے لگتے ہیں جس ماں نے آپکو بولنا سکھایا۔ اس ماں کو اسی کی زبان سے آپکو گالی دینے میں، اونچی آواز میں بات کرنے میں، انکو اذیت دینے میں، شرم نہیں آتی۔
اس طرح ایک بچے کے ذہن میں جب اس طرح کی باتیں پہنچیںگی وہ سمجھے گا تو اسکی اس عظیم شخصیت جسے ماں کہتے ہیں،اس ماں کے لئے احترام کا احساس ہوگا ۔وہ سوچے گا کچھ بولنے سے پہلے، وہ غور کریگا کچھ کہنے سے پہلے، اسکو فکر ہوگی کسی بات پر ٹوکنے سے پہلے۔ٹھیک اسی طرح سے بچے کو یہ بھی بتایا جائے کہ ایک والد کیا ہوتا ہے وہ کیا کرتا ہے اْسکے ساتھ اْسکا رشتہ کیسا ہونا چاہیے۔
آپکو بچے کے ساتھ اس بات کاحساس دلانا ہوگا کہ ایک والد صرف اس وجہ سے والد نہیں بن جاتا کیونکہ اسکی وجہ سے آپ دنیا میں آئے ہیں بلکہ آپکی ماں کے ذریعے سے جتنا سکون، آرام، راحت اور چین ملا ہے، اْسکا پورا دارومدار اس والد پر تھا جو آپکو ماں کے ذریعے سے ملا جو آپکو ہر پل ماں محسوس کراتی تھی۔اگر ماں آپکو سیدھے طور پر راحت وسکون اور آرام پہنچاتی تھی تو آپکے والد بھی بذریعہ ماں کے راحت سکون اور آرام دلاتے تھے۔ ذرا سوچو اگر آپکے والد ایک دن باہر روزی حاصل کرنے نہ جائیں تو گھر میں روزی کا بندوبست اور کون ہے جس کے ذریعے ہو سکتا تھا۔ کون تھا جو آپکے لیے جب آپ ماں کی گود میں تھے تو آپکے ہر ضرورت کی چیز باہر سے لیکر آپکی ماں کو مہیا کراتا تھا تاکہ آپ اس سے مستفید ہو سکیں۔ذرا سوچو گرمی کا مہینہ اور دھوپ کی شدت میں باپ کے سوا اور کون ہے جو آپکے لیے باہر سے قسم قسم کی چیز لاکر رکھتا تھا اور آپ کی ہر فرمائش پوری کرتا تھا۔جب آپ گھر پر سکون سے سو رہے ہوتے تھے تو وہ کون ہوتا ہے جو پہلے آپکو محبت بھری نظروں سے دیکھتا ہے اور پھر انہی محبت بھاری نظروں سے آپ کی پیشانی کو چوم لیتا ہے۔ سوچو ذرا وہ والد کے سوا اور کون ہو سکتا ہے۔وہ والد ہی تو ہوتا ہے جس کی جیب میں پیسہ نہ ہونے کے باوجود آپکی ہر فرمائش پوری کرتا رہتا ہے۔وہ کون ہے جو آپکو اپنی حیثیت سے زیادہ اچھا کھانے ،پہننے اور پڑھانے لکھانے کی کاوش کرتا ہے۔ کون ہوتا ہے ایک ذرا سے بخار پر اپنے سارے آرام کو چھوڑکر سب سے پہلے دواخانہ آپکو لے جاتا ہے، کون ہو جو سکتا ہے بتاؤ ذرا، آخر وہ آپکے والد کے سوا اور کوئی ہو سکتا ہے کیا؟اگر نہیں تو پھر کیوں بات بات میں اْن سے بدزبانی کرتے ہو، بات بات میں اْن پر ہی سوال کر دیتے ہو، بات بات میں اپنی ایک خواہش پوری نہ ہونے پر زندگی بھر کی پرورش پر سوال اٹھا دیتے ہو؟کیا ہوا اگر ایک والد کی حیثیت سے بول دیا یا ایک طمانچہ مار دیا ہوگا؟ اس میں بھی غلطی آپکی ہی رہی ہوگی۔ اور اگر آپکے والد نہیں ماریں گے تو ہے دنیا کی کوئی طاقت جو آپکی طرف انگلی بھی اٹھا دے۔اگر ایسا نہیں ہے تو آپکو اپنے والد سے ناراض ہونے، ان سے غلط طریقے سے بات کرنے ،انکو اپنی باتوں سے نقصان پہنچانے، انکو تکلیف دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔
اس طرح کے احساس کے ساتھ جب ایک ننھا بچہ اپنے گھر میں پرورش پائیگا تب وہ رشتوں کی قدر کو پہنچانے گا اور ہر ایک رشتے کو جان کر پہچان کو اْنکے ادب و احترام کا لحاظ رکھے گا۔آگے چل کر یہی رشتوں کی قدر اسکو دنیا کی ہر مشکل سے لڑنے کی قوت دینگے، ہر پریشانی کو حل کرنے کی صلاحیت دینگے اور ساتھ ہی ساتھ آنے والی نسلوں میں، آنے والے خاندانوں میں ایسی محبت اور رشتوں کی اہمیت برقرار رہ سکے گی اور ایک بہترین مثالی گھر اور خاندان وجود میں آئیگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں رشتوں کو پہچاننے اوراْنکی قدر کرنے کی توفیق دے۔ آمین ثم آمین
 

تازہ ترین