تازہ ترین

غیرمقامی افسروں سے متعلق تبصرہ پرشہری کو جیل بھیجے کا معاملہ

تاریخ    16 جون 2021 (00 : 01 AM)   


بے ضررتبصرہ پر کیس دائر کرنابلا جواز:مسعودی

سرینگر//نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان ریٹائرڈ جسٹس حسنین مسعودی نے صفاپورہ کے سجاداحمد ریشی نامی شہری ،جس نے غیرمقامی افسروں کے متعلق تبصرہ کیاتھا،کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں لیفٹینٹ گورنرکے مشیر ،جو ایک مقا می ہے،سے کافی توقعات تھیںاورایسی توقعات کسی غیرمقامی افسر سے نہیں کی جاسکتی۔ایک بیان میں مسعودی نے کے این ایس کو بتایا کہ ایساتبصرہ کرنے پرایک غیرمقامی افسر نے اعتراض کیااور نفرت انگیزی کے طور اُس کے خلاف’’دشمنی کو فروغ‘‘دینے کا ایک کیس دائر کیاگیا۔ متاثرہ کواگرچہ عدالت نے ضمانت پررہا کردیالیکن اس کے خلاف مزید کیس دائر کئے گئے اور پولیس تھانہ میں اس کی اسیری کوطول دیاگیا۔بیان میں مسعودی نے سجاد رشید کے خلاف متواترکیس رجسٹر کرنے کو ردکرتے ہوئے کہا کہ ان کے بے ضررتبصرہ پران سے ان کی ذاتی آزادی چھین لی گئی ۔انہوں نے حکام کو یاد دلایا کہ آئین میں  ضمانت دی گئی آزادی تقریراوررائے بنیادی حقوق ہیں اور سرکاری غرور یااَنا اس کے خلاف ورزی کاجواز نہیں بخشتا۔مسعودی نے اس  شہری کی گرفتاری اور اُسے ہراساں کئے جانے کے ذمہ دارتمام افسروںکے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
 

قانون کی صریحاً خلاف ورزی: تاریگامی

سری نگر//صفاپورہ گاندربل کے ایک شہری کوغیر مقامی افسروں سے متعلق تبصرہ کرنے کی پاداش میں جیل بھیج دیئے جانے کو بلاجوازقرار دیتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ رہنمایوسف تاریگامی نے کہا کہ یہ قانون کی صریحاًخلاف ورزی ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صفا پورہ کے پچاس سالہ ساجد رشید صوفی کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان کے ساتھ مقامی لوگوں سے بات چیت کے دوران دیئے گئے اپنے تبصرے کے لئے  اترپردیش کیڈر کے  آئی اے ایس افسر ڈپٹی کمشنر گاندربل کی ہدایت پر مبینہ طور پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ساجد رشید صوفی ایک وفد کا حصہ تھے ،جو صفا پورہ میں ڈگری کالج کے مطالبے کے لئے لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر سے ملنے گیا تھا۔ تاریگامی نے کہا کہ اگر ایل جی انتظامیہ کے عوامی پروگرام کے دوران اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں تو اس سے لوگوں میں ان کی شکایات کو دور کرنے کے بجائے خوف کے احساسات پیدا ہوسکتے ہیں۔ افسر کا ایسا طرز عمل نہ صرف لوگوں، بلکہ انتظامیہ کے ہی مفادات کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ اس سے افسر کی نمائندگی کرنے والے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔پولیس نے اسے اس وقت بھی رہا نہیں کیا جب عدالت نے اس کی عبوری ضمانت منظور کی تھی کیونکہ مبینہ طور پر اس پر آئی پی سی کی دفعہ 107 اور 151 کے تحت اور ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ کسی شہری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کے علاوہ طاقت اور اختیار کا بے دریغ  استعمال ہے۔تاریگامی نے لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں ذاتی طور پر مداخلت کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس شخص کو نہ صرف فوری طور پر رہا کیا جائے، بلکہ طاقت اور اختیار کے ناجائز استعمال پر غلطی کرنے والے افسر کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔
 

شدید نوعیت کے مقدمے درج کرنا غیر جمہوری: پیپلز کانفرنس

سرینگر//غیرمقامی افسر سے متعلق تبصرہ کرنے پر گاندربل کے ایک شہری کو جیل بھیج دیئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے پیپلزکانفرنس نے کہا کہ اس سے جموں کشمیر کے حالات کی عکاسی ہوتی ہے اور لیفٹینٹ گورنر پرزوردیا کہ وہ جموں کشمیرمیں جمہوریت کو مضبوط بنائیں۔ایک بیان میں پارٹی کے ترجمان عدنان اشرف میرنے کہا کہ اپنے مشکلات جن کا لوگوں کو سامنا ہے،کو بیان کرنے کی پاداش میں جیل بھیج دینافضول اورہولناک طور غیرجمہوری ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ ایسے اقدام براہ راست جمہوری اصولوں پرحملہ ہیں اورحالات کے نااُمید اورخوفناک ہونے کی تصویربیان کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک شخص کو انتظامیہ سے متعلق اپنی رائے دینے اوراس کے خلاف شدیدنوعیت کے مقدمات درج کرناجمہوری اداروں کو مسمار کرنے  اورلوگوں کی آوازکا گلاکھونٹنے کی طر ف ایک قدم ہے،جوزمینی حقائق کے بارے میں کافی کچھ بیان کرتا ہے۔ عدنان نے کہا کہ اس واقعہ کو الگ طور نہیں دیکھا جانا چاہیے کیوں کہ یہ ان پالیسیوں کا حصہ ہے جن کا مقصدانصاف کے اداروں کو ریز کرنا ہے۔انہوں نے لیفٹینٹ گورنر پرزوردیا کہ وہ جموں کشمیرمیں جمہوریت کو برقراررکھیں ۔انہوں نے کہا کہ کچھ واقعات قابل غور ہوتے ہیں اور کچھ واقعات سے تاریخ بنتی ہے ،ہوسکتا ہے کہ یہ وہ ہی لمحہ ہو۔ہوسکتا ہے کہ یہ لیفٹینٹ گورنر کو بیدارکرنے کی آوازہو،کہ وہ اپنے کام کاج میں جمہوریت پرعمل کریں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ وہ افسر کون ہے اور نہ ہی ہم جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کون ہے۔اب یہ لیفٹینٹ گورنر کی ذمہ داری ہے کہ وہ جموں کشمیرمیں جمہوریت کو بلند رکھیں ۔انہوں نے افسروں کویاددلانا ہوگاکہ جمہوریت میں عوام ہی طاقت کاسرچشمہ ہیں۔