ترقی کے نام پر صرف انتظار ملتا ہے دیہی عوام کو

صدائے سرحد

تاریخ    16 جون 2021 (00 : 01 AM)   


یار محمد تانترے، منڈی پونچھ
حکومت ہند نے ہر شہری کو رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت حق دیا ہے کہ وہ متعدد محکمہ جات سے مختلف قسم کی کارکردگی سے متعلق جانکاری حاصل کر سکتا ہے۔ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کو ملک کی دوسری ریاستوں کے علاوہ یوٹی جموں و کشمیر میں بھی لاگو کیا گیا ہے۔ یہ قانون حکومت و عوام کے لیے مشترکہ طور پر سود مند ثابت ہوا ہے۔جہاں اس قانون کے لاگو ہونے سے جموں و کشمیر کے کئی اضلاع گاؤں دیہات میں زمینی سطح پر ہورہے ترقیاتی کاموں میں بہتری آئی ہے وہیں اس ترقی یافتہ دور میں کئی علاقہ جات میں اس قانون کا کوئی خاص اثر نہ ہوا۔ضلع پونچھ کے کئی علاقہ جات ایسے بھی ہیں جہاں ذاتی مفاد پرستوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ دور حاضر میں بھی یہ ذاتی مفاد پرست ملی بھگت کر کے نہ صرف سرکاری خزانے کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ غریب عوام کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ زمینی سطح پر ترقیاتی کاموں میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
 اگر ہم ضلع پونچھ کے منڈی بلاک کی بات کریں تو یہاں بھی ملی بھگت عروج پر ہے۔ مختلف پنچایتوں میں نومنتخب پنچایت عہدیداران کے علاوہ محکمہ ملازمین بھی اپنی جیب گرم کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔نیا پنچایتی راج وجود میں آنے سے لے کر آج تک بلاک منڈی کی متعدد پنچایتوں میں ملی بھگت،رشوت خوری اور حق تلفی کے بہت سارے معاملات سامنے آئے ہیں۔لیکن محکمہ کے اعلی افسران نے کوئی توجہ نہ دی اور نہ ہی ضلع انتظامیہ نے کوئی مثبت قدم اٹھایا۔
منڈی بلاک کی متعدد پنچایتوں میں گذشتہ چند سال سے ذاتی مفاد پرست لوگ مختلف ترقیاتی کاموں پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں۔جیسے پی ایم آواس یوجنا،سوچھ بھارت مشن اور بیک ٹو ولیج اسکیم کے تحت تمام تر کام یا تو سرپنچ حضرات خود کرواتے ہیں یا بغیر کام کیے ملی بھگت کر کے رقو مات نکال لیتے ہیں۔کئی بار اپنے کسی آدمی کو ڈھال بنا کر اپنا ذاتی مفاد حاصل کرتے ہیں اور باقی کام اپنے منظور نظر یا اثر رسوخ رکھنے والے اشخاص یا پھر اپنے رشتے داروں کو دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے گاؤں کی عام عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہوتی چلی جارہی ہے۔دیکھنے والی بات یہ ہے کہ عام عوام کے لیے منریگا اسکیم ہے لیکن اب اس اسکیم کے تحت بھی کام کرنے والے عام عوام کو کام کرنے کے بعد ہجرت مزدوری نہیں ملتی ہے۔ اس میں بھی اثر و رسوخ والوں کو مزدوری کی رقم دی جاتی ہے۔گذشتہ کئی سال سے منریگاا سکیم کے تحت کام کرکے غریب عوام اجرت مزدوری حاصل کرنے کے لیے دفتروں کے چکر کاٹ رہی ہے۔
بلاک منڈی کے حلقہ پنچایت شام برکناری سے تعلق رکھنے والے غلام محی الدین لون نے مورخہ 25 اکتوبر 2020 کو بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر منڈی کو ایک درخواست ترقیاتی کاموں سے متعلق جانکاری لینے کی غرض سے پیش کی۔ ان کے مطابق بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر نے ریکارڈ دینے سے صاف انکار کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ آپ صرف آرٹی آئی ایکٹ کے تحت ہی ریکارڈ طلب کر سکتے ہیں۔ غلام محی الدین نے کہا کہ میں نے بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر منڈی کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے مورخہ 03/11/2020 کو RTI Act کے تحت درخواست جمع کروائی۔ لیکن تب سے لے کر آج تک دفتر کے چکر کاٹ رہا ہوں،لیکن ریکارڈ حاصل نہ کر سکا۔انہوں نے کہا کہ میں حلقہ پنچایت چھمبر کناری وارڈ نمبر4 کا رہنے والا ہوں۔ میری پنچایت میں پردھان منتری آواس یوجنا اسکیم میں وسیع تر دھاندلی ہوئی ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس اسکیم سے کن لوگوں کو آشیانہ بنانے کے لیے رکومات فراہم کی گئی ہیں؟؟اس کے علاوہ منریگا کے کام کن لوگوں کو دیے گئے ہیں اور زمینی سطح پر کہاں کا م ہوئے ہیں؟ اس کے علاوہ بیک ٹو ویلیج کی رقومات کہاں خرچ کی گئی ہے؟ غلام محی الدین نے مزید بتایا کہ مجھے معلومات حاصل کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ بلاک ڈویلپمنٹ آفیسر کے ٹال مٹول اور سیکرٹری پنچایت کی دھمکیوں سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ حلقہ پنچایت میں ان لوگوں نے پنچایت عہدیداران کے ساتھ مل کر سرکاری رقومات کا ناجائز استعمال کیا ہے۔
اس حوالے سے جب پنچایت حلقہ چھمر کناری صادق لون سے بات کی گئی تو ان کا کہناتھاکہ غلام محی الدین انتخابات کے دوران سے رنجش رکھتے ہیں۔ کیوں کہ پنچائیت انتخاب میں بطور وارڈ پنچ امیدوار کھڑے ہوئے تھے۔لوگوں نے ان کو ووٹ نہیں دیا اور وہ ہار گے۔جس کے بعد یہ اپنی دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے آر ٹی آئی یا دوسرے طرح سے محکمہ کو پریشان کررہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ غلام محی الدین عوام کے ترقیاتی کاموں کو ہوتادیکھ برداشت نہیں کرپا رہے ہیں۔ البتہ آج تک جو بھی کام سرکار کی طرف سے منظور ہوئے۔وہ زمینی سطح پر ہوئے ہیں۔اور عوام سے دریافت کیا جاسکتا ہے۔ آر ٹی آئی کے کاغذات یا ریکارڈ محکمہ پنچائیت کے پاس موجود ہیں۔ اور جو بھی کام چھمر میں ہوے  ہیں۔ چاہے 14/15FC،چاہے نریگا،چاہے بیک ٹوولیج کے کا م ہوں یاپھر نریگا،وغیرہ پلان بھی عوام کے سامنے بنائے گئے ہیں۔ لیکن پلان بنانے کے وقت غلام محی الدین کہیں بیرون ملک تھے۔کسی قسم کی اعتراض کی گنجائش نہیں ہے۔
ہماری ملاقات جب حلقہ پنچایت بیدار کے رہنے والے شکیل احمد تانترے سے ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے بھی بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر منڈی کے پاس آرٹی آئی ایکٹ کے تحت ترقیاتی کاموں سے متعلق جانکاری حاصل کرنے کی غرض سے ایک درخواست جمع کروائی ہے، لیکن عرصہ6 ماہ سے دفتروں کے چکر کاٹ رہا ہوں۔تاحال مجھے ریکارڈ نہ دیا گیا۔جبکہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت ریکارڈ وا گزار کرنے کی مدت کم سے کم 15 دن اور زیادہ سے زیادہ 30دن مقرر کی گئی ہے۔ شکیل احمد کا کہنا ہے کہ میری پنچایت میں پنچایت عہدے داران نے محکمہ ملازمین کے ساتھ مل کر ایسا کل وار کیا ہے جس کی مثال ضلع پولیس کے کسی بھی پنچایت میں نہیں ملتی۔جس پنچایت کی پرائم منسٹر آواس یوجنا لسٹ میں موجودہ سرپنچ کے اپنے گھر کے چار نام درج ہوں،غریب و مستحق عوام اپنے حقوق سے محروم ہوں، چاروں طرف رشوت خوری کی آوازیں گونج رہی ہوں، منریگا ا سکیم کی بقایاجات اجرت مزدوری کام کرنے کے بعد میں ملے۔جہاں موجودہ سر پنچ کے کنبہ کے پاس بی پی ایل اور اے پی ایل اور تینوں قسم کے راشن کارڈ موجود ہوں اور ایک ہی چولہے پر تینوں قسم کے راشن کارڈ سے حاصل کیا گیا راشن ایک ہی پتیلے میں پک رہا ہو۔جہاں 14thFC و دیگر تمام سرکاری ا سکیموں کے کام پنچ حضرات و اثر رسوخ رکھنے والے اور اپنے رشتے داروں کو دیئے جائیں،جہاں زیادہ تر کام سرپنچ کے گھر کے 150فٹ کے دائرے میں کروائے جائیں۔وہاں بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آخر کیا ہو رہا ہے۔ 
رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت ریکارڈ واگزار کرنے میں تاخیر کے حوالے سے جب ہماری بات بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر منڈی مظہر علی جعفری سے ہوئی تو انہوں نے کوئی مثبت جواب نہ دیا۔اور ہر سوال پر اپنا پہلو جھڑنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے انفارمیشن ایک ماہ قبل بذریعہ ڈاک ارسال کی تھی لیکن مذکورہ درخواست دہندگان نے وصول نہیں پائی۔جبکہ درخواست دہندگان اشخاص بار بار دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔انہیں یہ ریکارڈ دفتر میں بیٹھ کر بھی واگزار کیا جا سکتا تھا۔ ریکارڈ وا گزار نہ کرنے کی اصل وجہ متعلقہ بلاک ڈویلپمنٹ آفیسر سے معلوم نہ ہو سکی۔ متعلقہ آفیسر سے مبلغ 19 ہزار 600سو روپے فی کس بابت فوٹوسٹیٹ ریکارڈ طلب کرنے اور وصول نہ کرنے کے بارے میں پوچھا گیا۔تو انہوں نے کہا ہم یہ رقم وصول نہیں کر سکتے۔کیونکہ یہ اسٹیٹمینٹ پنچایت سیکٹری صاحبان نے غلط بتایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے سارا ریکارڈ آن لائن کردیا ہے۔ یہ ریکارڈ ہر جگہ آن لائن مل سکتا ہے۔ متعلقہ آفیسر نے یہ بھی کہا کہ درخواست دہندگان دفتر میں آکر بتائیں کہ ان کو کون کون سا ریکارڈ چاہیے؟جب کہ درخواست دہندگان نے اپنی درخواستوں میں ان کاموں کے بارے میں صاف صاف لکھا ہے جن کاموں ریکارڈ انہیں ضرورت ہے۔ 
بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر منڈی کی جانب سے آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت کا ریکارڈ و گزار نہ کرنا۔ اس بات کو صاف ظاہر کرتا ہے کہ مختلف پنچایتوں میں ترقیاتی کاموں میں کچھ تو غلط ہوا ہے۔ اس پورے معاملے کو دیکھتے ہوئے کسی انسان کے دل میں بھی ہزاروں سوال پیدا ہو سکتے ہیں۔ آخر کب ختم ہوگی یہ ملی بھگت اور رشوت خوری؟اور کب ملے گا غریب عوام کو انصاف؟ اس طرح کے سینکڑوں ہزاروں سوالات بلاک منڈی کی عوام کے دل و دماغ میں گردش کر رہے ہیں۔کیا ذاتی مفاد پرست ہمیشہ غریب عوام کے بنیادی حقوق اور سرکاری خزانے کو لوٹتے رہیں گے؟ کیا کوئی ایسی چارہ جوئی ہے،جس سے زمینی سطح پر ترقیاتی کاموں میں بہتری آ سکے؟جس سے رشوت خوری کا خاتمہ ہو اورغریب مستحقین کو ان کا حق مل سکے۔ (چرخہ فیچرس)
 

تازہ ترین