کورونا کا وار،اوپر سے بے روزگاری کی مار

’وشو گرو‘بھارت کے روبرو ایک اور مہاماری

تاریخ    16 جون 2021 (00 : 01 AM)   


شہاب حمزہ
ہر سمت گلستاں میں غمِ روز گار  ہے 
سانسوں کی طرح تھمتا یہاں کاروبار ہے 
میرے  وطن کا ایسا ابھی حال ہو گیا 
دلّی کی طرح میر کا  اجڑا دیار ہے
سینٹر فار مونیٹرنگ انڈین اکانومی کی رپورٹ کے مطابق کرونا کی دوسری لہر کے دوران ایک کروڑ سے زائد لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں اور 97  فیصد خاندانوں کی آمدنی میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔جب کہ مئی 2021 کے اخیر تک بے روزگاری کی شرح تقریباً 12 فیصد ہوگئی ہے اور شہری علاقوں میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 18 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار جہاں ایک طرف بے روزگاری کی خوفناک تصویریں عیاں کرتے ہیں وہیں دوسری جانب بے شمار خاندانوں کے زبو ںحالی کی داستان بھی بیان کرتے ہیں۔ بے روزگاری اچانک کی پیداوار نہیں بلکہ آزاد ہندوستان میں روز اول سے ہی ملک کا عظیم ترین مسئلہ ہے۔ ملک کی تمام مرکزی و ریاستی حکومتوں کے روبرو جو سب سے بڑا چیلنج رہا ہے وہ بے روزگاری کا ہی رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ ملک کی بدلتی حکومتوں نے ہمیشہ روزگار کو حاشئے پر رکھا ،وطن کے نوجوانوں کو ان کی قسمت کے بھروسے چھوڑ دیا گیا۔ پلاننگ کمیشن میں کبھی بھی ایماندارانہ طور پر بے روزگاروں کو ترجیح نہیں دی گئی، انفراسٹرکچر اور فوجی صلاحیتوں میں اضافہ اور بہتری کو ہی ترقی سے تعبیر کرنے کی عظیم الشان خطا کی گئی ہے اور افسوس کا مقام ہے کہ آج آزادی کے سات دہائی کے بعد بھی ہمارا ملک خطاؤں کے انہی راستوں پر چل کر ملک کی خوشحالی اور ترقی تلاش کر رہا ہے۔
 ہم نے یہ نہیں سوچا کہ فی کس آمدنی میں کیسے اضافہ کیا جائے۔کیسے لوگوں کے حال کو بہتر بنایا جائے۔ کس طرح غریبی اور بیروزگاری سے شہریوں کو نجات دی جائے۔ اس بات کی فکر نہیں رہی کہ ملک کا ہر شہری خوشحال کیسے ہو۔ کسانوں کو کس طرح اس لائق بنایا جائے کہ بغیر قرض لئے کاشت کاری کا کام انجام دے سکیں۔ کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت دینے کے لیے کبھی بھی حکومت ریاستی ہو یا مرکزی، کسانوں کے ساتھ انصاف نہ کر سکی۔ وہ نسخے نہیں تلاش کیے گئے کہ کسانوں کی آمدنی کو اس لائق کیسے بنایا جائے کہ وہ خودکشی کرنے پر مجبور نہ ہوں۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ ملک کے موجودہ حالات اور لاک ڈاؤن سمیت دیگر وبا کی احتیاطی تدابیر نے کسانوں کو بھی بے روز گار بنانے کا کام کیا ہے۔ لاک ڈاؤن جیسے حالات کے سبب گزشتہ برس اور امسال بھی پیداوار کی بہتر قیمت نہ ملنے کے خوف سے بہت سارے کسان کاشت کاری کی ہمت نہیں جٹا سکے جس کے سبب کسانوں میں بھی بے روزگاری کی ایک نئی بیماری شروع ہورہی ہے جو ملک کی معیشت کے لیے اچھی علامت نہیں ہے۔ 
سنٹر فار مونیٹرنگ انڈین اکانومی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق کرونا کے موجودہ دور میں جہاں ایک جانب بڑے پیمانے پر بے روزگاری بڑھی ہے وہیں حکومت کے پاس ان حالات کا مقابلہ کیلئے کوئی منصوبہ نہیں۔ یہی سبب ہے کہ ہمارا ملک نئے مسائل کی جانب رواں ہے۔ وبا کی زد میں جہاں ایک جانب ہوٹل کی تجارت دم توڑ چکی ہے ،دوسری طرف سیاحت ،جسے بہتر کمائی کا موثر ذریعہ مانا جاتا ہے، بھی اپنی ہی تربت پر آنسو بہا رہی ہے۔ جبکہ ایئر لائنز کی تجارت بھی موت کی ہچکیوں کے ساتھ زندگی کی امیدیں تلاش کر رہی ہے۔ چھوٹی صنعتوں میں گزشتہ برس جو حالات کے تالے لگائے گئے تھے، وہ وبا کے بے رحم موسم میں اتنے زنگ آلود ہو چکے ہیں کہ انہیں دوبارہ کھول پانا موجودہ حالات میں شاید ممکن نہ ہو۔ سی ایم آئی ای کی رپورٹ کے مطابق موجودہ حالات میں نہ صرف  بے روزگاری کی شرح زیادہ رہ سکتی ہے بلکہ مین پاور کی حصہ داری کی شرح میں بھی مزید کمی آنے کا خطرہ بھی بنا ہوا ہے۔
کووڈ -19 وبا نے ملک کو اپنے سب سے بدترین اور چیلنجنگ عہد میں پہنچا دیا ہے۔ نہ صرف بیماری اور موت کے نظارے ہیں بلکہ طبی خدمات کی دم توڑ تی تصویریں بھی ہیں۔ وبا کے ایک پہلو میں اگر نازک حالات ہیں تو دوسری جانب روزگار کے بڑھتے مسائل بھی ہیں۔ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی اپنے گھروں پر سمٹ کر رہ گئی ہے۔ لوگ ان حالات میں جان کی فکر کر رہے ہیں، سلامتی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ غریبوں نے ضروریات زندگی بھی بے بسی کے حوالے کردی ہے۔ گزشتہ دنوں ہم نے دیکھا کہ کس طرح سڑک پر خراب پڑے ٹرک سے لوگ اناج کی بوریاں لے اڑے۔ اگر حالات ایسے ہی رہے اور روزگار کے لیے منظم طریقے سے ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو کرائیم میں اضافے سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔آج بڑے پیمانے پر چوری کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ بہت ممکن ہے کل ملک میں جرم کی بڑی دنیا آباد ہو جائے۔ 
بے روزگاری کے سبب غریبی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ عام لوگوں کی بے بسی بڑھی ہیں۔ محتاجی اور مجبوریوں کا گراف نئی اونچائیوں کو چھو رہا ہے۔ زندگی ہی نہیں انسانی حالات بھی کروٹ لے رہے ہیں۔ وقت کا پہیہ مخالف سمت میں رواں ہے۔ حکومت کے ہاتھوں سے ریت کے ذروں کی طرح حالات پھسل رہے ہیں۔ ابھی بھی وطن عزیز کی تمام تر صلاحیتیں ویکسین کاری پر صرف ہو رہی ہیں۔ ویکسی نیشن ملک کی عظیم ترین ترجیح ہے۔ ایسی صورت حال میں بے روزگاری پر توجہ مرکوز ہو، ایسا ہرگز ممکن نہیں ہے۔ جب کہ تجارت ہو ، ملازمت ہو یا مزدوری ہو گویا کہ کوئی ایسا شعبہ باقی نہیں جہاں سے بڑی تعداد میں لوگ بیروزگار نہ ہوئے ہوں۔ بے روزگاری کی فہرست میں بہت سارے ایسے عمر دراز مزدور ہیں جن کا دوبارہ کام پر لوٹ آنا شاید ممکن نہیں جس طرح ملک کے بے شمار غریب بچے شاید کبھی دوبارہ اسکول نہ جا سکیں گے۔ 
سینٹر فار مونیٹرنگ انڈین اکانومی کی رپورٹ کے مطابق ہر برس تقریباً ایک کروڑ بے روزگاروں کی فوج تیار ہوجاتی ہے۔ موجودہ حالات میں بے روزگاری کے نہ صرف بڑھتے ہوئے گراف کا اندازہ لگانا بلکہ ملک جس سنگین حالات کی جانب رواں ہے، اُسے سمجھنا دشوار نہیں۔ بیروزگاری کی شکل میں وطن عزیز ایک نئے وبائی دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں ہر ہاتھوں کو کام اور مناسب اجرت کا انتظام کرنا ہی ہو گا۔اس کے سوا اس وبا کی کوئی اور دوا نہیں کیونکہ یہاں بیروزگاری کے ان مریضوں کو محض کسی ویکسی نیشن کے ذریعے زندگی کی امید نہیں دلائی جا سکتی ہے۔
 رابطہ۔ 8340349807

تازہ ترین