دھت تیری کووڈ جی

طنز و مزاح

تاریخ    13 جون 2021 (00 : 12 AM)   


محمد‌یوسف شاہین
کل رات بجلی رانی کی غیر حاضری میں"الہ ھچہ، مونگہ دال و زومبرہ ٹھول" (سُکھائے کدو، مونگ کی دال اور تلے ہوئے اُبلے انڈے)کے ساتھ کینڈل لنچ، میرا مطلب ہے ڈنر کرنے کے فورا بعد ہی مجھے نیند کی دیوی نے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا۔ بس پھر کیا تھا، اسکی آغوش میں آتے ہی میں خوابوں کی  طلسماتی دنیا میں پہنچ گیا۔ میں نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا۔ کیا دیکھا کہ میری"حرفس گواہ تہ مینڈس شریک" (ہربات کی گواہ اور ہر لقمے کی شریک)یعنی کہ میری شریک حیات نے مجھے بازار سے چکن، گوشت، پنیر، دہی، پیاز وغیرہ لانیکا فوری حکم نامہ جاری کیا۔ اتنی ڈھیر سارے چیزوں کا نام سنتے ہی میرے دل میں خوشی کے مارے لڈو پھوٹنے لگے اور میں خوش ہوا‌کہ چلو آج پچھلی عید کے بعد پہلی بار اتنی ساری ضیافتیں کھانے کو مل جائیں گی لیکن میری خوشیوں پر اس وقت ’’سرہ دگ‘‘ مطلب اوس پڑگئی جب بیگم صاحبہ نے یہ کہا کہ یہ سب پکوان انکے برادر اکبر کےلئے ہیں، جو میرے ہی گھر میں، میری ہی نیک کمائی یعنی میری ہی جیب پر شب خون کر اپنے بھاری بھر کم پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے ہمارے دولت خانہ پر تشریف اشرف لارہے ہیں۔میں نے جونہی اوبجکشن می لارڈ کے لئے برسوں سے تالہ بند  ہونٹوں کو کھولنے کی کوشش کی تو بیگم صاحبہ اپنے نازک ہاتھوں میں ایک بیلن لیے ہویے ایک پرانی فلم‌کا گانا گنگنانے لگی۔ "مجھے دیکھکر ت ذرا مسکرادو، نہیں تو میں سمجھوں گی کہ مجھ سے خفا ہو۔" اور آخری جملے پر جب‌میری نظر میری طرف آتے ہوئے بیلن پر پڑی تو مجبوراً مجھے اپنے لبوں پر پھر سے تالا لگانا پڑا اور چہرے پر ایک نقلی مسکراہٹ سجانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ میں بازار کیطرف سے چل پڑا۔
بازار پہونچ کر میں‌نے ایک نہایت ہی عجیب‌منظر دیکھا۔ لوگ ایک نظم و ضبط کے ساتھ ایک دوسرے سے دور دور رہ کر قطار میں چل رہے تھے۔ ہر شخص اپنی ہی دھن میں مگن ہوکر چل رہا تھا۔ نہ کوئی بات چیت، نہ گلے ملنا، نہ ہاتھ ملانا اور نہ ہی کوئی علیک سلیک۔ جیسے ایک دوسرے کو پہچانتے ہی نہیں تھے۔ کشمیر میں اس طرح کا نظم و ضبط اپنی عمر کی ستّر سے زیادہ بہاریں اور خزان دیکھنے والی زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا۔ میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ میرے سامنے ٹائیروں سے لیکر چھت تک آسمانی رنگ کی ایک گاڑی رکی اور رُکتے ہی اس میں سے کنڑکٹر نیچے اترا۔ مجھے تو وہ ایک بریم بریم چوک جیسا‌لگا۔ چہرہ بند، ناک بند، ہونٹ بند، بس دو آنکھیں ایک غریب کے گھر میں جلتےہویے لالٹین کی طرح نظر‌آتی تھیں‌۔ نیچے آتے ہی کنڈکٹر نے زور زور سے آواز دینی شروع کی۔ کرونا چوک، کرونا چوک۔ چلو چلو جلدی، سیٹیں خالی۔۔ایں کورونا چوک، اما یہ کونسا چوک ہے۔ میں شاید غلط راستے پر آیا ہوں۔ میں واپس ہی چلا جاتا‌مگر بیگم صاحبہ کا حکم اور ہاتھ میں بیلن یاد آتے ہی میں گاڑی میں چڑھ گیا۔ بازار پورا کھلا‌نہیں تھا اسلئے سوچا کہ چلو ایک تیر سے دو شکار کرونگا۔ ایک تو کرونا چوک دیکھوں گا اور تھوڑی سیر بھی کرونگا۔ گاڑی کے اندر کا‌منظر بھی دیکھنے لائق تھا۔ دو ‌اور تین‌سیٹوں والی کرسیاں سرے سے ہی غایب تھیں۔ صرف ایک سیٹ والی کرسیاں لگی تھیں۔‌کچھ مسافر بیٹھے تھے۔‌میں حیران‌ہوا‌کیونکہ نہ کوئی اوور لوڑ، نہ کوئی دھکم پیل‌،نہ بچوں کے رونے کی چیخیں، نہ مستورات کا‌موبائیل فون‌پر اپنی سہیلی یا بہن کو گُل بقاولی سنانے کا جھنجٹ بلکہ ایک پر سکون سا ماحول لگ رہا تھا۔ مسافروں کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے۔ ہر طرف خاموشںی اور سناٹا۔ سب مسافر اپنے موبائیلوں کے ساتھ چپکے ہوئے تھے۔ سب سے الگ تھلگ میں نے بھی ایک خالی سیٹ پر قبضہ جمالیا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد گاڑ ی بڑے آرام کے ساتھ چل پڑی۔ ارے یہ کیا نہ کہیں ٹریفک جام نہ شور شرابہ، نہ پیں پیں نہ پاں پاں۔ تھوڑے ہی وقفے کے بعد کنڈکٹر نے کرایہ لینا شروع کیا۔ مگر حیرانی کی بات یہ تھی کہ وہ اپنی ہی جگہ بیٹھ کر لکڑی کا ایک بڑا "چونچہ" (کفگیر)جیسی کوئی چیز سواریوں کی طرف بڑھاکر اسی سے کرایہ لینے لگا۔ خیر ایک جگہ پہونچکر گاڑی رک گئی اور کنڈکٹر نے آواز دی، چلو جی کرونا چوک آگیا۔ سواریاں چپ چاپ اُترگئیں اور میں بھی اُتر گیا۔‌گھنٹہ گھر کو دیکھکر میں حیران ہوا اور دل ہی دل میں کہا کہ ارے یہ تو اپنا لال چوک ہے۔پھر یہ کنڈکٹر اسے کرونا چوک کیوں کہتا تھا۔ میں نے گھنٹہ گھر کے چار کلاکوں کیطرف غور کی دیکھا مگر ان‌چاروں کلاکوں کا ٹایم آج بھی ویسا ہی غلط تھا جیسا پچھلے دس سالوں سے چلا‌آرہا ہے یعنی   چاروں کلاکوں کا ٹایم الگ الگ تھا جیسے اسکی روایت رہی ہے۔  میں ابھی اسی شش و پنج میں تھا کہ میری نظر ساتھ ہی ایک مشہور سائیکل کی دکان پر پڑی۔‌دکان‌کے ساین بورڑ پر لکھا تھا کیپ ڈسٹنس ساییکل(Keep Distance Cycles)، دوسری دکان‌پر نگیٹیو کلاتھس(Negative Cloths)، تیسری دکان‌پر لکھا تھا سینی ٹائزرڈرگ سٹور، لاک ڈاؤن موٹرس، کورینٹاین واچ ہاوس،ہینڈ واش ڈرائی کلینرس، ماسک گارمینٹس، گلوز سویٹس، پازٹیو ڈاییگنوسس سینٹر، پینڈمک ٹیلرس، ویکسین سکول آف ہائر ایجوکیشن، کووند بوٹیک، وُہان آٹو سٹینڈ، ریڈ زون ریسٹورنٹ،  اورینج زون ہوٹل، ایمونٹی فارموسیویکلز، ڈیتھ ٹول بیکریز،نگیٹیو سینما، سلنڈر جیولریز۔‌میں ابھی یہ گتھی سلجھا ہی رہا تھا کہ ایک پنجابی بھکاری نے مجھے آواز دی، او بابو جی ایک سینٹیزر دیدو نا، بھگوان‌آپکا نگیٹیو کریگا۔‌میں نے کہا‌ معاف کرو تو وہ بولا تو بابو جی ایک ماسک ہی دے دونا۔
میں پریس کالونی کیطرف چل پڑا تو وہاں ریڈ زون‌کالونی کا ساین‌بورڑ لگا تھا۔ ریزیڈنسی روڑ کا‌نام‌ سٹے ہوم رکھا گیا تھا، پرتاپ پارک کا نام اب‌اپیڈمک پارک تھا۔مولانا‌آزاد روڑ کا‌نام  اب فسٹ ڈوز روڑ رکھا گیا تھا۔‌عجیب منظر تھا۔ میں نے  مہاراجہ بازار کیطرف رخ کیا تو راستے میں جتنی بھی دکانیں یا ہوٹل تھے سبھوں کے  نام تبدیل کئے گئے تھے۔ امیرا‌کدل بالکل صاف و شفاف تھا، نہ کوئی ٹھیلے والا، نہ چارپائی والا، نہ زنانہ مچھلی فروشوں کی لمبی لاین۔ہری سنگھ ہائی سٹریٹ اب بالکل بدلا ہوا اور تمام بھیڑ بھاڈ سے ڈسچارج ہوکر نرس جیسا پاک و صاف دکھایی دیتا تھا۔پھولوں پر سجے کباب، نہ رستے، نہ گوشتابے، نہ تِکے، نہ چکن کباب والے، نہ سبزی فروشوں کی چیخ و پکار، نہ بنگلہ دیشی سپیشل گارمینٹس والوں کی بیچ سڑک میں چار پائیاں، نہ میوہ فروشوں کی ٹھیلے۔ مسافر گاڑیوں کی تعداد بھی بہت کم‌تھی۔ البتہ پولیس والے جگہ جگہ پر سیٹیاں بجا بجا کر اپنے آن‌ڈیوٹی ہونیکا اعلان کر رہے تھے۔ ارے یہ کیا کورینٹاین فروٹس، ہینڈ واش فش شاپ، کووند 19 ڈھابا، ارے واہ پازٹیو ویجٹیبلز، انفیکشن میٹ شاپ، ڈسٹنس موٹرس، آکسیجن‌ پراویجن سٹور، ٹیسٹڈ میڈسنز، ڈبل‌ڈوز ہارڈوئر شاپ، پازٹیو چکن شاپ، نگیٹیو پازٹیو کوچنگ سینٹر، ڈسٹنس ٹیوشن سنٹر، انجکشن ٹوایز۔‌سچ پوچھو تو میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا تھا کہ میں کس دیش کا واسی ہوں۔ اتنے میں موبائل پر بیگم صاحبہ کی دھمکی بھری مسیج پڑھکر مجھے دن‌میں ہی تارے نظر‌آنے لگے۔ لکھا تھا۔‌میرے بھایی صاحب کو کچھ پازیٹیو ہوگیا ہے۔ اسے کووڈ ہسپتال میں ایڈمٹ کیا گیا ہے، ڈاکٹر، نرس، اور خدمتگار انکا ٹیسٹ کرنے میں لگے ہیں۔‌لیکن ‌آپ نے بھی جان بوجھ کر بہت دیر کردی۔ آپ‌ آجاؤ میں سٹیل بیلن لیکر دروازے پر آپکی تشریف آوری کا‌بے صبری سے انتظار کر رہی ہوں۔ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔‌مگر میں نے بھی پہلی بار بیگم کو سامنے نہ پاکر اپنی مردانگی کا ثبوت دیکر واپس مسیج کی کہ میں گھر آنے کی بجائے کورینٹاین سینٹر میں رہنا بہتر سمجھتا ہوں۔ خدا حافظ۔ مگر کل شام کو" زومبرہ ٹھول" کھانیکی وجہ سے میری پیٹ میں زبردست مروڑ آنےکی وجہ سے میں گہری نیند سے بیدار ہوا تو بیگم کو گھوڑے بیچ کر سوتے اور کس کے خراٹے لیتے ہویے پاکر رب کا شکر ادا کیا اور پسینہ پونچھ کر سوگیا۔
 
آزادی بستی غوثیہ سیکٹر نٹی پورہ،موبائل نمبر؛9140484453
 

تازہ ترین